<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 19:12:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 19:12:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغانستان: آسٹریلیا کی فوج کے ہاتھوں 39 غیر مسلح شہریوں کی ہلاکت کا انکشاف
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1147155/</link>
      <description>&lt;p&gt;افغانستان میں تعینات آسٹریلیا کی فورسز کی چار سالہ تفتیشی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سینیئر کمانڈرز کے جبری احکامات پر جونیئر سپاہیوں نے 39 غیر مسلح قیدی اور افغان شہریوں کو قتل کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبر ایجنسی 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا نے کہا ہے کہ 19 موجودہ اور سابق سپاہیوں کو ممکنہ طور پر افغانستان میں 39 مقامی افراد کی مبینہ ہلاکت پر کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلیا کے جنرل جان کیمبل نے 2005 سے 2016 تک اسپیشل فورسز کی افغانستان میں موجودگی کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ افغانستان میں آسٹریلیا کے اسپیشل فورسز کے 25 جوانوں کی جانب سے 23 مختلف واقعات میں 39 مقامی افراد کو ہلاک کرنے کی قابل اعتبار معلومات ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1101316"&gt;عالمی عدالت نے افغانستان میں جنگی جرائم کی تحقیقات کا مطالبہ مسترد کردیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ان تمام افراد کو جنگ کے میدان کے باہر مارا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دارالحکومت کینبرا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جنرل جان کیمبل نے کہا کہ ‘یہ رپورٹ مبینہ طور پر فوجی قواعد اور پیشہ ورانہ اقدامات کی خلاف ورزی ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ‘شہریوں اور قیدیوں کی غیر قانونی ہلاکتیں کسی صورت قابل قبول نہیں ہیں’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قتل ہونے والوں کی اکثریت ایسے مقامی افراد کی تھی جو قیدی اور کسان تھے اور انہیں بین الاقوامی قوانین کے تحت حاصل استثنیٰ کے تحت مارا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جنرل جان کیمبل نے رپورٹ کی تجاویز کے حوالے سے کہا کہ آسٹریلیا کے 19 موجودہ اور سابق فوجیوں جلد ہی خصوصی تفتیش کار کے سامنے پیش کیا جائے گا جس میں تعین ہوگا کہ ان کو سزا دینے کے لیے ثبوت کافی ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلیا کے وزیر دفاع لینڈا رینولڈ کا کہنا تھا کہ کینبرا کو گزشتہ ہفتے بتایا گیا تھا کہ مقامی سطح پر سزاؤں سے ہیگ میں قائم عالمی عدالت میں پیشی سے بچا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ 4 سالہ انکوائری رپورٹ نیو ساؤتھ ویلز کے ریاستی جج پال بریریٹن نے تیار کی ہے جن کو 2016 میں انسپکٹر جنرل آف ڈیفنس نے 2003 سے 2016 کے دوران افغانستان میں جنگی جرائم سے متعلق افواہوں کی تحقیقات کے لیے تعینات کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1138593"&gt;افغانستان: خیر سگالی کے تحت 'اضافی' 500 طالبان قیدیوں کی رہائی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کی تیاری کے لیے 20 ہزار سے زائد دستاویزات اور 25 ہزار تصاویر کا جائزہ لیا گیا اور 423 گواہوں کا حلف پر انٹرویو کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ آسٹریلیا متاثرہ خاندانوں کو مقدمے کی کامیابی کے بغیر بھی معاوضہ ادا کرے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جنرل جان کیمبل کا کہنا تھا کہ وہ 2007 سے 2013 کے دوران افغانستان میں خدمات انجام دینے والے اسپیشل فورسز کے گروپ کی رپورٹس کو منسوخ کریں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلیا کے فوج کے جنگی جرائم سے متعلق رپورٹ آسٹریلیا کے وزیراعظم اسکاٹ موریسن کی افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اشرف غنی نے ٹوئٹر بیان میں کہا کہ ‘آسٹریلیا کے وزیر اعظم نے ان کے فوجیوں کی جانب سے افغانستان میں قواعد کی خلاف ورزی کرنے پر انتہائی دکھ کا اظہار کیا ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ آسٹریلیا کی فوج 2002 سے افغانستان میں موجود ہے جو امریکا کی سربراہی میں طالبان کے خلاف جنگ کے لیے اتحادی افواج کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;افغانستان میں آسٹریلیا کے تقریباً ایک ہزار 500 فوجی موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>افغانستان میں تعینات آسٹریلیا کی فورسز کی چار سالہ تفتیشی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سینیئر کمانڈرز کے جبری احکامات پر جونیئر سپاہیوں نے 39 غیر مسلح قیدی اور افغان شہریوں کو قتل کیا۔</p>

<p>خبر ایجنسی 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا نے کہا ہے کہ 19 موجودہ اور سابق سپاہیوں کو ممکنہ طور پر افغانستان میں 39 مقامی افراد کی مبینہ ہلاکت پر کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>

<p>آسٹریلیا کے جنرل جان کیمبل نے 2005 سے 2016 تک اسپیشل فورسز کی افغانستان میں موجودگی کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ افغانستان میں آسٹریلیا کے اسپیشل فورسز کے 25 جوانوں کی جانب سے 23 مختلف واقعات میں 39 مقامی افراد کو ہلاک کرنے کی قابل اعتبار معلومات ہیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1101316">عالمی عدالت نے افغانستان میں جنگی جرائم کی تحقیقات کا مطالبہ مسترد کردیا</a></strong></p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ان تمام افراد کو جنگ کے میدان کے باہر مارا گیا۔</p>

<p>دارالحکومت کینبرا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جنرل جان کیمبل نے کہا کہ ‘یہ رپورٹ مبینہ طور پر فوجی قواعد اور پیشہ ورانہ اقدامات کی خلاف ورزی ہے’۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ‘شہریوں اور قیدیوں کی غیر قانونی ہلاکتیں کسی صورت قابل قبول نہیں ہیں’۔</p>

<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قتل ہونے والوں کی اکثریت ایسے مقامی افراد کی تھی جو قیدی اور کسان تھے اور انہیں بین الاقوامی قوانین کے تحت حاصل استثنیٰ کے تحت مارا گیا۔</p>

<p>جنرل جان کیمبل نے رپورٹ کی تجاویز کے حوالے سے کہا کہ آسٹریلیا کے 19 موجودہ اور سابق فوجیوں جلد ہی خصوصی تفتیش کار کے سامنے پیش کیا جائے گا جس میں تعین ہوگا کہ ان کو سزا دینے کے لیے ثبوت کافی ہیں یا نہیں۔</p>

<p>آسٹریلیا کے وزیر دفاع لینڈا رینولڈ کا کہنا تھا کہ کینبرا کو گزشتہ ہفتے بتایا گیا تھا کہ مقامی سطح پر سزاؤں سے ہیگ میں قائم عالمی عدالت میں پیشی سے بچا جائے گا۔</p>

<p>خیال رہے کہ 4 سالہ انکوائری رپورٹ نیو ساؤتھ ویلز کے ریاستی جج پال بریریٹن نے تیار کی ہے جن کو 2016 میں انسپکٹر جنرل آف ڈیفنس نے 2003 سے 2016 کے دوران افغانستان میں جنگی جرائم سے متعلق افواہوں کی تحقیقات کے لیے تعینات کیا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1138593">افغانستان: خیر سگالی کے تحت 'اضافی' 500 طالبان قیدیوں کی رہائی</a></strong></p>

<p>رپورٹ کی تیاری کے لیے 20 ہزار سے زائد دستاویزات اور 25 ہزار تصاویر کا جائزہ لیا گیا اور 423 گواہوں کا حلف پر انٹرویو کیا گیا۔</p>

<p>رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ آسٹریلیا متاثرہ خاندانوں کو مقدمے کی کامیابی کے بغیر بھی معاوضہ ادا کرے۔</p>

<p>جنرل جان کیمبل کا کہنا تھا کہ وہ 2007 سے 2013 کے دوران افغانستان میں خدمات انجام دینے والے اسپیشل فورسز کے گروپ کی رپورٹس کو منسوخ کریں گے۔</p>

<p>آسٹریلیا کے فوج کے جنگی جرائم سے متعلق رپورٹ آسٹریلیا کے وزیراعظم اسکاٹ موریسن کی افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے۔</p>

<p>اشرف غنی نے ٹوئٹر بیان میں کہا کہ ‘آسٹریلیا کے وزیر اعظم نے ان کے فوجیوں کی جانب سے افغانستان میں قواعد کی خلاف ورزی کرنے پر انتہائی دکھ کا اظہار کیا ہے’۔</p>

<p>یاد رہے کہ آسٹریلیا کی فوج 2002 سے افغانستان میں موجود ہے جو امریکا کی سربراہی میں طالبان کے خلاف جنگ کے لیے اتحادی افواج کا حصہ ہے۔</p>

<p>افغانستان میں آسٹریلیا کے تقریباً ایک ہزار 500 فوجی موجود ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1147155</guid>
      <pubDate>Fri, 20 Nov 2020 01:42:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/11/5fb6b3ab31b98.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/11/5fb6b3ab31b98.jpg"/>
        <media:title>افغانستان میں آسٹریلیا کے 1500 فوجی موجود ہیں—فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
