<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 14:07:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 14:07:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف بی آر قابل ٹیکس آمدنی وصول کرے تو قرضوں کی ضرورت نہیں ہوگی، عشرت حسین
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1147220/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیر اعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا ہے کہ اگر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) قابل ٹیکس آمدنی وصول کرنا شروع کرے تو ہمیں قرضے لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے مشیر ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ میڈیا سے بات کرنے کا مقصد مختلف اداروں کے سربراہوں کی تعیناتی اور ری اسٹرکچرنگ کس سطح پر ہے اس سے آگاہ کرنا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ایسا اسٹرکچر بنایا جائے جو وقت کے تقاضوں کے مطابق ہوں اور اپنا کام بڑی مستعدی سے کر سکیں اور اس کے لیے کام جاری ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143247"&gt;حکومت ستمبر میں ریونیو کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس موقع پر ڈاکٹر عشرت حسین کا کہنا تھا کہ کچھ ادارے ہماری معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی طرح کام کرتے ہیں اور ان میں سب سے بڑا ادارہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اگر ایف بی آر ہماری قابل ٹیکس آمدنی جمع کرنا شروع کرے تو پھر ہمیں قرضوں کی ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ اس وقت ہم قرضوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ اداروں کو گرانا یا کمزور کرنا بہت آسان ہے، اداروں کا زوال بہت جلدی ہوتا ہے لیکن اداروں کو مضبوط کرنا، ان کی بنیاد اور اسٹرکچر کو مضبوط کرنا بہت وقت طلب کام ہوتا ہے اور بڑا وقت لگتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی پہلی ترجیح تھی کہ ہم اداروں  کے سربراہوں کی جتنی بھی تعیناتیاں کریں وہ شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر ہونی چاہیے، جس کے لیے کابینہ میں ایک سمری لے کر گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اداروں کے سربراہوں کی درخواستیں آتی ہیں اور ان ناموں کی فہرست مختصر کر دی جاتی ہے اور اس کے بعد 10 یا 12 افراد کا پینل بنا کر آزاد سلیکشن بورڈ کے سامنے بھیج دیا جاتا ہے، جس میں منسٹر انچارج کے علاوہ باہر سے اس فیلڈ کا ماہر بلایا جاتا ہے اور اسٹیبلشمنٹ بورڈ سمیت دیگر لوگ شامل ہوتے ہیں جو انٹرویو کرتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈاکٹر عشرت حسین کا کہنا تھا کہ یہ بورڈ ناموں کی فہرست ترجیحاً ترتیب دیتا ہے جو کابینہ میں جاتی ہے، پہلے اس کا اختیار وزیر اعظم کے پاس تھا لیکن اب انہوں نے کہا کہ ہم کابینہ میں مشترکہ طور پر بحث کرکے منظور کریں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1111643"&gt;ایف بی آر ریونیو کے حصول میں ناکام، شارٹ فال 111 ارب روپے تک پہنچ گیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ اوپن میرٹ کے تحت کام ہوا ہے جس کی وجہ سے اب تک 40 سے 45 لوگ منتخب ہوئے ہیں اور اس کو کسی نے چیلنج نہیں کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مشیر ادارہ جاتی اصلاحات نے کہا کہ ان میں سمندر پار پاکستانی بھی آئے ہیں جو مجھے کہتے تھے کہ ہم نے تو کبھی سوچا نہیں تھا کہ ہم کسی سفارش اور کسی کے کہنے کے بغیر اس نوکری پر آسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس کے نتائج فوراً نہیں ہوں گے کیونکہ وہ لوگ یہاں آئیں گے اور اپنی ٹیم بنائیں گے اور پھر ادارہ کام شروع کرے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ جن افسران کی ترقیاں ہوتی ہیں وہ بھی سینٹرل سلیکشن بورڈ کرتا ہے اور شبلی فراز اس کے رکن ہیں، گریڈ 21 سے 22 کی جو ترقیاں ہوتی ہیں اس کی سربراہی وزیراعظم خود کرتے ہیں اور اب تک میرٹ پر لوگوں کو ترقی دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ سینیارٹی یا کسی کے کہنے کی بنیاد پر کسی کو ترقی نہیں دی گئی، آخری سلیکشن بورڈ کو چیلنج کیا گیا تھا جس پر جسٹس اطہر من اللہ کا بڑا فیصلہ ہے کہ یہ شفاف ہے اور عدلیہ کی مداخلت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جسٹس اطہر من اللہ نے جتنی بھی ترقیاں ہوئی تھیں ان کو برقرار رکھا اور جو سپر سیڈ ہوئے تھے انہیں کہا کہ آپ کا حق نہیں ہے، پاکستان میں یہ ایک نئی فضا ہے، اس میں وقت لگے گا لیکن اس کے نتائج اچھے ہوں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اب لوگوں نے محنت شروع کی ہے کہ اگر ہم محنت نہیں کریں گے تو ہمیں ترقی نہیں ملے گی جبکہ پہلے کوئی تمیز نہیں تھی اور ہر آدمی سنیارٹی کی بنیاد پر ترقی حاصل کرتا تھا چاہے وہ اہل ہو یا نہ ہو اور اس حوالے سے انتہائی اہم قدم اٹھایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیر اعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا ہے کہ اگر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) قابل ٹیکس آمدنی وصول کرنا شروع کرے تو ہمیں قرضے لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔</p>

<p>وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے مشیر ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ میڈیا سے بات کرنے کا مقصد مختلف اداروں کے سربراہوں کی تعیناتی اور ری اسٹرکچرنگ کس سطح پر ہے اس سے آگاہ کرنا ہے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ایسا اسٹرکچر بنایا جائے جو وقت کے تقاضوں کے مطابق ہوں اور اپنا کام بڑی مستعدی سے کر سکیں اور اس کے لیے کام جاری ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143247">حکومت ستمبر میں ریونیو کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام</a></strong></p>

<p>اس موقع پر ڈاکٹر عشرت حسین کا کہنا تھا کہ کچھ ادارے ہماری معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی طرح کام کرتے ہیں اور ان میں سب سے بڑا ادارہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو ہے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ اگر ایف بی آر ہماری قابل ٹیکس آمدنی جمع کرنا شروع کرے تو پھر ہمیں قرضوں کی ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ اس وقت ہم قرضوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔  </p>

<p>وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ اداروں کو گرانا یا کمزور کرنا بہت آسان ہے، اداروں کا زوال بہت جلدی ہوتا ہے لیکن اداروں کو مضبوط کرنا، ان کی بنیاد اور اسٹرکچر کو مضبوط کرنا بہت وقت طلب کام ہوتا ہے اور بڑا وقت لگتا ہے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی پہلی ترجیح تھی کہ ہم اداروں  کے سربراہوں کی جتنی بھی تعیناتیاں کریں وہ شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر ہونی چاہیے، جس کے لیے کابینہ میں ایک سمری لے کر گئے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ اداروں کے سربراہوں کی درخواستیں آتی ہیں اور ان ناموں کی فہرست مختصر کر دی جاتی ہے اور اس کے بعد 10 یا 12 افراد کا پینل بنا کر آزاد سلیکشن بورڈ کے سامنے بھیج دیا جاتا ہے، جس میں منسٹر انچارج کے علاوہ باہر سے اس فیلڈ کا ماہر بلایا جاتا ہے اور اسٹیبلشمنٹ بورڈ سمیت دیگر لوگ شامل ہوتے ہیں جو انٹرویو کرتا ہے۔</p>

<p>ڈاکٹر عشرت حسین کا کہنا تھا کہ یہ بورڈ ناموں کی فہرست ترجیحاً ترتیب دیتا ہے جو کابینہ میں جاتی ہے، پہلے اس کا اختیار وزیر اعظم کے پاس تھا لیکن اب انہوں نے کہا کہ ہم کابینہ میں مشترکہ طور پر بحث کرکے منظور کریں گے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1111643">ایف بی آر ریونیو کے حصول میں ناکام، شارٹ فال 111 ارب روپے تک پہنچ گیا</a></strong></p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ اوپن میرٹ کے تحت کام ہوا ہے جس کی وجہ سے اب تک 40 سے 45 لوگ منتخب ہوئے ہیں اور اس کو کسی نے چیلنج نہیں کیا۔</p>

<p>مشیر ادارہ جاتی اصلاحات نے کہا کہ ان میں سمندر پار پاکستانی بھی آئے ہیں جو مجھے کہتے تھے کہ ہم نے تو کبھی سوچا نہیں تھا کہ ہم کسی سفارش اور کسی کے کہنے کے بغیر اس نوکری پر آسکتے ہیں۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ اس کے نتائج فوراً نہیں ہوں گے کیونکہ وہ لوگ یہاں آئیں گے اور اپنی ٹیم بنائیں گے اور پھر ادارہ کام شروع کرے گا۔</p>

<p>ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ جن افسران کی ترقیاں ہوتی ہیں وہ بھی سینٹرل سلیکشن بورڈ کرتا ہے اور شبلی فراز اس کے رکن ہیں، گریڈ 21 سے 22 کی جو ترقیاں ہوتی ہیں اس کی سربراہی وزیراعظم خود کرتے ہیں اور اب تک میرٹ پر لوگوں کو ترقی دی گئی ہے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ سینیارٹی یا کسی کے کہنے کی بنیاد پر کسی کو ترقی نہیں دی گئی، آخری سلیکشن بورڈ کو چیلنج کیا گیا تھا جس پر جسٹس اطہر من اللہ کا بڑا فیصلہ ہے کہ یہ شفاف ہے اور عدلیہ کی مداخلت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ جسٹس اطہر من اللہ نے جتنی بھی ترقیاں ہوئی تھیں ان کو برقرار رکھا اور جو سپر سیڈ ہوئے تھے انہیں کہا کہ آپ کا حق نہیں ہے، پاکستان میں یہ ایک نئی فضا ہے، اس میں وقت لگے گا لیکن اس کے نتائج اچھے ہوں گے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ اب لوگوں نے محنت شروع کی ہے کہ اگر ہم محنت نہیں کریں گے تو ہمیں ترقی نہیں ملے گی جبکہ پہلے کوئی تمیز نہیں تھی اور ہر آدمی سنیارٹی کی بنیاد پر ترقی حاصل کرتا تھا چاہے وہ اہل ہو یا نہ ہو اور اس حوالے سے انتہائی اہم قدم اٹھایا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1147220</guid>
      <pubDate>Fri, 20 Nov 2020 23:01:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/11/5fb7c7726172a.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/11/5fb7c7726172a.png"/>
        <media:title>عشرت حسین نے کہا کہ افسران کی ترقی میرٹ پر ہوئی ہے—فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
