<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 08:52:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 08:52:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آذربائیجان کی فوج آرمینیا کے واپس کیے گئے پہلے شہر میں داخل
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1147238/</link>
      <description>&lt;p&gt;آذربائیجان کی فوج نیگورنو-کاراباخ میں آرمینیا کی جانب سے واپس کیے گئے پہلے علاقے ضلع اغدام میں داخل ہوگئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبر ایجنسی 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق آذربائیجان کا کہنا تھا کہ روس کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کے تحت آرمینیائی علیحدگی پسندوں کی جانب سے نیگورنو-کاراباخ میں ضلع اغدام کا قبضہ واپس کیا گیا جہاں آذربائیجان کی فورسز داخل ہوگئی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آذربائیجان کی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ آذربائیجان کو واپس ملنے والے تین علاقوں میں سے ایک اغدام میں فوج پہنچ گئی ہے جبکہ ایک روز قبل ہی آرمینیا کی فوج اور سپاہی علاقے کو خالی کرچکے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1146349/"&gt;آرمینیا، آذربائیجان اور روس نے نیگورنو۔کاراباخ میں لڑائی کے خاتمے کے معاہدے پر دستخط کردیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آرمینیا 25 نومبر کو نیگورنو-کاراباخ کا ایک اور ضلع کلبجر اور یکم دسمبر کو تیسرا ضلع لاچین آذربائیجان کو واپس کرے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اغدام میں مقیم آرمینیائی افراد علاقے کو خالی کرتے وقت درختوں پر لگے پھل اور دیگر اشیا گاڑیوں میں لاد کر لے گئے اور پہاڑی سلسلے سے ڈھکے صوبے کو خالی کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق آرمینیائی افراد نے علاقہ چھوڑنے سے گھنٹوں قبل اپنے گھروں کو آگ لگا دی اور آذربائیجان کے لیے کچھ بھی ثابت نہیں چھوڑا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے ٹی وی پر خطاب میں کہا کہ آرمینیائی افراد علاقے خالی کرتے وقت تمام چیزوں کو نذرآتش کر رہے ہیں، وہ خود کو دنیا کے سامنے بدنام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دارالحکومت باکو میں گزشتہ روز شہریوں نے فتح کا زبردست جشن منایا تھا جہاں گاڑیوں کی قطاریں لگی تھیں اور آذربائیجان کے قومی پرچم کے ساتھ ساتھ ترکی اور روس جیسے اتحادیوں کے پرچم بھی لہرائے جارہے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے اغدام کے شہریوں کو ان کی آبائی زمینیں واپس کرنے کا وعدہ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے معاہدے کے تحت آرمینیا نے نیگورنو-کاراباخ میں آذربائیجان سے حاصل کیے گئے 15 سے 20 فیصد علاقے کو خالی کرنے کی حامی بھری تھی جس میں تاریخی شہر شوشا بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1146876/"&gt;ترک پارلیمنٹ میں آذربائیجان میں فوج کی تعیناتی کیلئے بل پیش&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جنگ بندی معاہدے کے تحت نیگورنو-کاراباخ میں روس اور ترک افواج نگرانی کریں گی جبکہ آرمینیائی افراد متنازع خطہ چھوڑ دیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;روس اور ترک وزرائے دفاع نے ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے اور طے پایا تھا کہ آذربائیجان میں مشترکہ طور پر نگرانی کے لیے ایک سینٹر قائم کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جنگ بندی معاہدے کے بعد آرمینیا میں وزیراعظم نیکول پاشینیان کے خلاف شدید احتجاج ہوا تھا اور مظاہرین ان کو غدار قرار دیتے ہوئے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مظاہرین سے مسلح احتجاج سے گریز کرنے پر زور دیا اور توقع ظاہر کی کہ اپوزیشن بھی اس اقدام کی نفی کرے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آرمینیا اور آذربائیجان نے بدترین لڑائی کے بعد 10 نومبر کو جنگ بندی معاہدے کا اعلان کیا تھا اور آذربائیجان میں اس کو فتح کے طور پر منایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آرمینیا کے وزیراعظم نے اس کو سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ شکست کے آثار کو دیکھتے ہوئے اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جنگ بندی معاہدے کے بعد عالمی سطح پر تسلیم شدہ آذربائیجان کے علاقے نیگورنو-کاراباخ میں لڑائی ختم ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5fb820e9e45ec'&gt;نیگورنو-کاراباخ تنازع&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان 1990 میں سوویت یونین سے آزادی کے ساتھ ہی کاراباخ میں علیحدگی پسندوں سے تنازع شروع ہوا تھا اور ابتدائی برسوں میں 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دونوں ممالک کے درمیان 1994 سے حالیہ لڑائی تک تنازع کے حل کے لیے مذاکرات میں واضح پیش رفت نہیں ہوسکی تھی تاہم جنگ بندی کے متعدد معاہدے ہوتے رہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آرمینیا کے پشت پناہی کے ساتھ آرمینیائی نسل کے علیحدگی پسندوں نے 1990 کی دہائی میں ہونے والی لڑائی میں نیگورنو-کاراباخ خطے کا قبضہ باکو سے حاصل کرلیا تھا لیکن نیگورنو-کاراباخ کو بین الاقوامی سطح پر آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143830"&gt;آذربائیجان، آرمینیا کے درمیان ثالثی کی پہلی کوشش، لڑائی بدستور جاری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں فرانس، روس اور امریکا نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا لیکن 2010 میں امن معاہدہ ایک مرتبہ پھر ختم ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیگورنو-کاراباخ میں تازہ جھڑپیں 27 ستمبر کو شروع ہوئی تھیں اور پہلے روز کم ازکم 23 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ فوری طور پر روس اور ترکی کشیدگی روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیگورنو-کاراباخ کا علاقہ 4 ہزار 400 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور 50 کلومیٹر آرمینیا کی سرحد سے جڑا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آذربائیجان کی فوج نیگورنو-کاراباخ میں آرمینیا کی جانب سے واپس کیے گئے پہلے علاقے ضلع اغدام میں داخل ہوگئی۔</p>

<p>خبر ایجنسی 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق آذربائیجان کا کہنا تھا کہ روس کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کے تحت آرمینیائی علیحدگی پسندوں کی جانب سے نیگورنو-کاراباخ میں ضلع اغدام کا قبضہ واپس کیا گیا جہاں آذربائیجان کی فورسز داخل ہوگئی ہیں۔</p>

<p>آذربائیجان کی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ آذربائیجان کو واپس ملنے والے تین علاقوں میں سے ایک اغدام میں فوج پہنچ گئی ہے جبکہ ایک روز قبل ہی آرمینیا کی فوج اور سپاہی علاقے کو خالی کرچکے تھے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1146349/">آرمینیا، آذربائیجان اور روس نے نیگورنو۔کاراباخ میں لڑائی کے خاتمے کے معاہدے پر دستخط کردیے</a></strong></p>

<p>آرمینیا 25 نومبر کو نیگورنو-کاراباخ کا ایک اور ضلع کلبجر اور یکم دسمبر کو تیسرا ضلع لاچین آذربائیجان کو واپس کرے گا۔</p>

<p>اغدام میں مقیم آرمینیائی افراد علاقے کو خالی کرتے وقت درختوں پر لگے پھل اور دیگر اشیا گاڑیوں میں لاد کر لے گئے اور پہاڑی سلسلے سے ڈھکے صوبے کو خالی کردیا۔</p>

<p>رپورٹ کے مطابق آرمینیائی افراد نے علاقہ چھوڑنے سے گھنٹوں قبل اپنے گھروں کو آگ لگا دی اور آذربائیجان کے لیے کچھ بھی ثابت نہیں چھوڑا۔</p>

<p>آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے ٹی وی پر خطاب میں کہا کہ آرمینیائی افراد علاقے خالی کرتے وقت تمام چیزوں کو نذرآتش کر رہے ہیں، وہ خود کو دنیا کے سامنے بدنام کر رہے ہیں۔</p>

<p>دارالحکومت باکو میں گزشتہ روز شہریوں نے فتح کا زبردست جشن منایا تھا جہاں گاڑیوں کی قطاریں لگی تھیں اور آذربائیجان کے قومی پرچم کے ساتھ ساتھ ترکی اور روس جیسے اتحادیوں کے پرچم بھی لہرائے جارہے تھے۔</p>

<p>انہوں نے اغدام کے شہریوں کو ان کی آبائی زمینیں واپس کرنے کا وعدہ کیا۔</p>

<p>واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے معاہدے کے تحت آرمینیا نے نیگورنو-کاراباخ میں آذربائیجان سے حاصل کیے گئے 15 سے 20 فیصد علاقے کو خالی کرنے کی حامی بھری تھی جس میں تاریخی شہر شوشا بھی شامل ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1146876/">ترک پارلیمنٹ میں آذربائیجان میں فوج کی تعیناتی کیلئے بل پیش</a></strong></p>

<p>جنگ بندی معاہدے کے تحت نیگورنو-کاراباخ میں روس اور ترک افواج نگرانی کریں گی جبکہ آرمینیائی افراد متنازع خطہ چھوڑ دیں گے۔</p>

<p>روس اور ترک وزرائے دفاع نے ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے اور طے پایا تھا کہ آذربائیجان میں مشترکہ طور پر نگرانی کے لیے ایک سینٹر قائم کیا جائے گا۔</p>

<p>جنگ بندی معاہدے کے بعد آرمینیا میں وزیراعظم نیکول پاشینیان کے خلاف شدید احتجاج ہوا تھا اور مظاہرین ان کو غدار قرار دیتے ہوئے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔</p>

<p>انہوں نے مظاہرین سے مسلح احتجاج سے گریز کرنے پر زور دیا اور توقع ظاہر کی کہ اپوزیشن بھی اس اقدام کی نفی کرے گی۔</p>

<p>آرمینیا اور آذربائیجان نے بدترین لڑائی کے بعد 10 نومبر کو جنگ بندی معاہدے کا اعلان کیا تھا اور آذربائیجان میں اس کو فتح کے طور پر منایا گیا تھا۔</p>

<p>آرمینیا کے وزیراعظم نے اس کو سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ شکست کے آثار کو دیکھتے ہوئے اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔</p>

<p>جنگ بندی معاہدے کے بعد عالمی سطح پر تسلیم شدہ آذربائیجان کے علاقے نیگورنو-کاراباخ میں لڑائی ختم ہوگئی ہے۔</p>

<h3 id='5fb820e9e45ec'>نیگورنو-کاراباخ تنازع</h3>

<p>آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان 1990 میں سوویت یونین سے آزادی کے ساتھ ہی کاراباخ میں علیحدگی پسندوں سے تنازع شروع ہوا تھا اور ابتدائی برسوں میں 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔</p>

<p>دونوں ممالک کے درمیان 1994 سے حالیہ لڑائی تک تنازع کے حل کے لیے مذاکرات میں واضح پیش رفت نہیں ہوسکی تھی تاہم جنگ بندی کے متعدد معاہدے ہوتے رہے۔</p>

<p>آرمینیا کے پشت پناہی کے ساتھ آرمینیائی نسل کے علیحدگی پسندوں نے 1990 کی دہائی میں ہونے والی لڑائی میں نیگورنو-کاراباخ خطے کا قبضہ باکو سے حاصل کرلیا تھا لیکن نیگورنو-کاراباخ کو بین الاقوامی سطح پر آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143830">آذربائیجان، آرمینیا کے درمیان ثالثی کی پہلی کوشش، لڑائی بدستور جاری</a></strong></p>

<p>بعد ازاں فرانس، روس اور امریکا نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا لیکن 2010 میں امن معاہدہ ایک مرتبہ پھر ختم ہوگیا تھا۔</p>

<p>نیگورنو-کاراباخ میں تازہ جھڑپیں 27 ستمبر کو شروع ہوئی تھیں اور پہلے روز کم ازکم 23 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ فوری طور پر روس اور ترکی کشیدگی روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔</p>

<p>نیگورنو-کاراباخ کا علاقہ 4 ہزار 400 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور 50 کلومیٹر آرمینیا کی سرحد سے جڑا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1147238</guid>
      <pubDate>Sat, 21 Nov 2020 01:02:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/11/5fb8122b1794a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/11/5fb8122b1794a.jpg"/>
        <media:title>ضلع اغدام میں آذربائیجان کی فوج داخل ہوگئی —فوٹو:رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/11/5fb8122b36829.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/11/5fb8122b36829.jpg"/>
        <media:title>ضلع اغدام میں آذربائیجان کی فوج داخل ہوگئی —فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
