<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 19:44:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 19:44:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سپریم کورٹ: آشیانہ ہاؤسنگ کیس میں مرکزی ملزم احد چیمہ کی ضمانت منظور
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1147620/</link>
      <description>&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکینڈل میں مرکزی ملزم اور سابق ڈی جی لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) احد چیمہ اور شریک ملزم شاہد شفیق کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت عظمیٰ میں جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکینڈل کے مرکزی ملزم احمد چیمہ اور شریک ملک شاہد شفیق کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوران سماعت قومی احتساب بیورو (نیب) کے وکیل کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ احد چیمہ کیس کے مرکزی ملزم ہیں لہٰذا ان کی ضمانت منظور نہ کی جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1115909"&gt;نیب نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم میں شہباز شریف کے خلاف درخواست واپس لے لی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس پر احد چیمہ کے وکیل اشتر اوصاف نے کہا کہ ان کے موکل 2 سال 9 ماہ سے جیل میں ہیں، اتنی تاخیر پر ضمانت قانونی ہوجاتی ہے، اس پر جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ ایسا نہ کریں، ہر کیس میں یہ چیزیں ہو رہی ہیں، جس پر اشتر اوصاف کا کہنا تھا کہ میں عدالت کو صرف حقائق بتا رہا ہوں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس پر جسٹس سردار طارق مسعود نے پوچھا کہ کیا یہ ہارشپ کا کیس نہیں بنتا؟ نیب بتائے ملزم 2 سال 9 ماہ سے حراست میں ہے، ان حالات میں ہارڈ شپ کی بنیاد پر ضمانت کیوں نہ دی جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالتی ریمارکس پر وکیل نے کہا کہ ایک ملزم شاہد شفیق کو فروری 2018 میں گرفتار کیا گیا، بعد ازاں دسمبر 2018 میں ریفرنس دائر ہوا جبکہ فرد جرم فروری 2019 میں عائد کی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی دوران وکیل شاہد شفیق نے کہا کہ آشیانہ ہاوسنگ سے خزانہ کو کوئی نقصان نہیں ہوا جبکہ میرے موکل کا کوئی مالی فائدہ بھی ثابت نہیں ہوا جبکہ صوبائی حکومت کو کوئی مالی نقصان نہیں ہوا لیکن میرا موکل 3 سال سے قید ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد 10، 10 لاکھ روپے کے مچلکے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض احد چیمہ اور شاہد شفیق کی ضمانت منظور کرلی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم ملزم احد چیمہ آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں بھی زیرحراست ہیں جس کے باعث وہ ضمانت کے باوجود رہا نہیں ہوسکیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ 21 فروری 2018 کو نیب نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سوسائٹی اسکینڈل میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر ایل ڈی اے کے سابق سربراہ احد خان چیمہ کو پوچھ گچھ کے لیے گرفتار کیا تھا، جس کے بعد اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے حلقے میں ہلچل مچ گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1141876"&gt;نیب کی درخواست منظور، ایل ڈی اے سٹی کیس میں احد چیمہ بری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں احد چیمہ کے ریمانڈ میں عدالت کی جانب سے متعدد بار توسیع کی گئی اور انہیں تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ  پیراگون سٹی کی ذیلی کمپنی بسم اللہ انجینئرنگ کے مالک شاہد شفیق کو جعلی دستاویزات کی بنیاد پر آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کا ٹھیکہ لینے کے الزام میں 24 فروری 2018 کو نیب نے گرفتار کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ نیب کے مطابق بسم اللہ انجینئرنگ کمپنی کی نااہلی کی وجہ سے حکومت کو 100 کروڑ روپے کا نقصان ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سپریم کورٹ نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکینڈل میں مرکزی ملزم اور سابق ڈی جی لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) احد چیمہ اور شریک ملزم شاہد شفیق کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔</p>

<p>عدالت عظمیٰ میں جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکینڈل کے مرکزی ملزم احمد چیمہ اور شریک ملک شاہد شفیق کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔</p>

<p>دوران سماعت قومی احتساب بیورو (نیب) کے وکیل کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ احد چیمہ کیس کے مرکزی ملزم ہیں لہٰذا ان کی ضمانت منظور نہ کی جائے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1115909">نیب نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم میں شہباز شریف کے خلاف درخواست واپس لے لی</a></strong></p>

<p>اس پر احد چیمہ کے وکیل اشتر اوصاف نے کہا کہ ان کے موکل 2 سال 9 ماہ سے جیل میں ہیں، اتنی تاخیر پر ضمانت قانونی ہوجاتی ہے، اس پر جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ ایسا نہ کریں، ہر کیس میں یہ چیزیں ہو رہی ہیں، جس پر اشتر اوصاف کا کہنا تھا کہ میں عدالت کو صرف حقائق بتا رہا ہوں۔</p>

<p>جس پر جسٹس سردار طارق مسعود نے پوچھا کہ کیا یہ ہارشپ کا کیس نہیں بنتا؟ نیب بتائے ملزم 2 سال 9 ماہ سے حراست میں ہے، ان حالات میں ہارڈ شپ کی بنیاد پر ضمانت کیوں نہ دی جائے۔</p>

<p>عدالتی ریمارکس پر وکیل نے کہا کہ ایک ملزم شاہد شفیق کو فروری 2018 میں گرفتار کیا گیا، بعد ازاں دسمبر 2018 میں ریفرنس دائر ہوا جبکہ فرد جرم فروری 2019 میں عائد کی گئی۔</p>

<p>اسی دوران وکیل شاہد شفیق نے کہا کہ آشیانہ ہاوسنگ سے خزانہ کو کوئی نقصان نہیں ہوا جبکہ میرے موکل کا کوئی مالی فائدہ بھی ثابت نہیں ہوا جبکہ صوبائی حکومت کو کوئی مالی نقصان نہیں ہوا لیکن میرا موکل 3 سال سے قید ہے۔ </p>

<p>بعد ازاں عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد 10، 10 لاکھ روپے کے مچلکے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض احد چیمہ اور شاہد شفیق کی ضمانت منظور کرلی۔</p>

<p>تاہم ملزم احد چیمہ آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں بھی زیرحراست ہیں جس کے باعث وہ ضمانت کے باوجود رہا نہیں ہوسکیں گے۔</p>

<p>خیال رہے کہ 21 فروری 2018 کو نیب نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سوسائٹی اسکینڈل میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر ایل ڈی اے کے سابق سربراہ احد خان چیمہ کو پوچھ گچھ کے لیے گرفتار کیا تھا، جس کے بعد اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے حلقے میں ہلچل مچ گئی تھی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1141876">نیب کی درخواست منظور، ایل ڈی اے سٹی کیس میں احد چیمہ بری</a></strong></p>

<p>بعد ازاں احد چیمہ کے ریمانڈ میں عدالت کی جانب سے متعدد بار توسیع کی گئی اور انہیں تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کیا گیا تھا۔</p>

<p>یاد رہے کہ  پیراگون سٹی کی ذیلی کمپنی بسم اللہ انجینئرنگ کے مالک شاہد شفیق کو جعلی دستاویزات کی بنیاد پر آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کا ٹھیکہ لینے کے الزام میں 24 فروری 2018 کو نیب نے گرفتار کیا تھا۔</p>

<p>واضح رہے کہ نیب کے مطابق بسم اللہ انجینئرنگ کمپنی کی نااہلی کی وجہ سے حکومت کو 100 کروڑ روپے کا نقصان ہوا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1147620</guid>
      <pubDate>Wed, 25 Nov 2020 18:10:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکحسیب بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/11/5fbe3a8a9ccc7.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/11/5fbe3a8a9ccc7.jpg"/>
        <media:title>سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی—فائل فوٹو: عدالت عظمیٰ ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
