<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 21:28:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 21:28:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈنمارک کی وزیر اعظم کسانوں سے معافی مانگتے وقت رو پڑیں
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1147836/</link>
      <description>&lt;p&gt;یورپی ملک ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فیڈرکسن کورونا کی وبا کے باعث لاکھوں نیولوں کو مارنے کے حکومتی حکم پر کسانوں اور تاجروں سے معافی مانگتے ہوئے رو پڑیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈنمارک کی حکومت نے رواں ماہ کے آغاز میں ہی نیولوں کی افزائش کرنے والے کسانوں اور تاجروں کو انہیں جلد سے جلد مارنے کا حکم دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکومت نے نیولوں کو مارنے کا حکم اس وقت دیا تھا جب بعض تحقیقات میں ثابت ہوا تھا کہ وہ ڈنمارک کے نیولوں میں کورونا وائرس منتقل ہوچکا ہے اور وہ نیولے وائرس کو تیزی سے انسانوں میں منتقل کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایسی تحقیقات کے بعد ڈنمارک کی حکومت نے نیولوں کی افزائش کرنے والے کسانوں اور تاجروں کو سختی سے تاکید کی تھی کہ انہیں جلد سے جلد ہلاک کرکے تلف کیا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکومتی احکامات کے بعد وہاں کے کسانوں اور تاجروں نے صحت مند نیولوں کو بھی مار دیا تھا تاہم اب وہاں کی وزیر اعظم نے حکومت کے غلط احکامات پر معافی مانگ لی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ایجنسی فرانس پریس &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1592631/in-tears-danish-pm-apologises-for-handling-of-mink-crisis"&gt;&lt;strong&gt;(اے ایف پی)&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فیڈرکسن نے نیولوں کی افزائش کرنے والے ایک فارم ہاؤس کے دورے کے دوران معافی مانگتے ہوئے رو پڑیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیر اعظم میٹے فیڈرکسن نے فارم ہاؤس کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ حکومت کی جانب سے نیولوں کو مارنے کے احکامات درست نہیں تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میڈیا سے بات کرنے کے دوران میٹے فیڈرکسن متعدد بار خاموش ہوگئیں اور انہوں نے اپنے آنسوں پونچھے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/11/5fc0f1157e5b9.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/11/5fc0f1157e5b9.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/11/5fc0f1157e5b9.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/11/5fc0f1157e5b9.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="وزیر اعظم معافی مانگنے کے دوران جذباتی ہوکر متعدد بار خاموش ہوگئیں&amp;mdash;فوٹو: رائٹرز" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;وزیر اعظم معافی مانگنے کے دوران جذباتی ہوکر متعدد بار خاموش ہوگئیں—فوٹو: رائٹرز&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کسانوں اور تاجروں سے معافی مانگتے ہوئے میٹے فیڈرکسن نے کہا کہ ڈنمارک کے کسانوں اور تاجروں کی کئی نسلیں یہ کام کرتے گزریں اور ان کے پاس اچھا تجربہ بھی ہے، تاہم حکومت نے انہیں زندگی کی جمع پونجی یعنی تیار نیولوں کو مارنے کا حکم دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ احکامات نیولوں سے کورونا کے پھیلنے کی باتیں سامنے آنے کے بعد دیے گیے تھے، تاہم وہ لاکھوں کی تعداد میں نیولوں کی ہلاکت پر آبدیدہ ہوگئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکومت کی جانب سے مستند تحقیقات کے بغیر نیولوں کو مارنے کے احکامات دیے جانے کے بعد حکومت کو اپوزیشن کے سخت احتجاج کا بھی سامنا کرنا پڑا اور حزب اختلاف نے وزیر اعظم میٹے فیڈرکسن کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی حوالے سے خبر رساں ادارے &lt;a href="https://www.reuters.com/article/us-health-coronavirus-denmark-mink-idUSKBN2861YM"&gt;&lt;strong&gt;رائٹرز&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے ایسے احکامات مستند تحقیقات کے بغیر دیے جانے پر وہاں کے وزیر زراعت کو بھی استعفیٰ دینا پڑا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈنمارک کو نیولوں کی افزائش کے بڑے ملک کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو دنیا کے متعدد ممالک کو نیولے فروخت کرتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکومت نے نومبر کے آغاز میں بتایا تھا کہ ملک میں ڈیڑھ کروڑ نیولے موجود ہیں، جنہیں حذف کردیا جائے گا، ساتھ ہی حکومت نے ایسی تجویز بھی دی تھی کہ ممکنہ طور 2020 تک ان کی افزائش پر بھی پابندی عائد کی جائے تاہم تاحال ایسی پابندی نہیں لگائی گئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیولوں کی افزائش کرنے والے تاجروں اور کسانوں کی تنظیم کے سربراہ کے مطابق ان کی انڈسٹری ملک بھر میں 6 ہزار لوگوں کو روزگار دیتی ہے اور سالانہ حکومت کو اربوں ڈالرز کا فائدہ بھی دیتی ہے تاہم اب ان کی انڈسٹری ختم ہوچکی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ نیولے چوہوں کی طرح دکھانے والے جاندار ہیں اور ان کی متعدد اقسام ہوتی ہیں، یورپین نیولوں کی بہترین قسم ڈنمارک میں ہی پائی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item  media__item--relative  media__item--facebook  '&gt;            &lt;div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/NewsVideoz/videos/422336805458821" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یورپی ملک ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فیڈرکسن کورونا کی وبا کے باعث لاکھوں نیولوں کو مارنے کے حکومتی حکم پر کسانوں اور تاجروں سے معافی مانگتے ہوئے رو پڑیں۔</p>

<p>ڈنمارک کی حکومت نے رواں ماہ کے آغاز میں ہی نیولوں کی افزائش کرنے والے کسانوں اور تاجروں کو انہیں جلد سے جلد مارنے کا حکم دیا تھا۔</p>

<p>حکومت نے نیولوں کو مارنے کا حکم اس وقت دیا تھا جب بعض تحقیقات میں ثابت ہوا تھا کہ وہ ڈنمارک کے نیولوں میں کورونا وائرس منتقل ہوچکا ہے اور وہ نیولے وائرس کو تیزی سے انسانوں میں منتقل کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔</p>

<p>ایسی تحقیقات کے بعد ڈنمارک کی حکومت نے نیولوں کی افزائش کرنے والے کسانوں اور تاجروں کو سختی سے تاکید کی تھی کہ انہیں جلد سے جلد ہلاک کرکے تلف کیا جائے۔</p>

<p>حکومتی احکامات کے بعد وہاں کے کسانوں اور تاجروں نے صحت مند نیولوں کو بھی مار دیا تھا تاہم اب وہاں کی وزیر اعظم نے حکومت کے غلط احکامات پر معافی مانگ لی۔</p>

<p>خبر رساں ادارے ایجنسی فرانس پریس <a href="https://www.dawn.com/news/1592631/in-tears-danish-pm-apologises-for-handling-of-mink-crisis"><strong>(اے ایف پی)</strong></a> کے مطابق ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فیڈرکسن نے نیولوں کی افزائش کرنے والے ایک فارم ہاؤس کے دورے کے دوران معافی مانگتے ہوئے رو پڑیں۔</p>

<p>وزیر اعظم میٹے فیڈرکسن نے فارم ہاؤس کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ حکومت کی جانب سے نیولوں کو مارنے کے احکامات درست نہیں تھے۔</p>

<p>میڈیا سے بات کرنے کے دوران میٹے فیڈرکسن متعدد بار خاموش ہوگئیں اور انہوں نے اپنے آنسوں پونچھے۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/11/5fc0f1157e5b9.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/11/5fc0f1157e5b9.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/11/5fc0f1157e5b9.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/11/5fc0f1157e5b9.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="وزیر اعظم معافی مانگنے کے دوران جذباتی ہوکر متعدد بار خاموش ہوگئیں&mdash;فوٹو: رائٹرز" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">وزیر اعظم معافی مانگنے کے دوران جذباتی ہوکر متعدد بار خاموش ہوگئیں—فوٹو: رائٹرز</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>کسانوں اور تاجروں سے معافی مانگتے ہوئے میٹے فیڈرکسن نے کہا کہ ڈنمارک کے کسانوں اور تاجروں کی کئی نسلیں یہ کام کرتے گزریں اور ان کے پاس اچھا تجربہ بھی ہے، تاہم حکومت نے انہیں زندگی کی جمع پونجی یعنی تیار نیولوں کو مارنے کا حکم دیا۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ یہ احکامات نیولوں سے کورونا کے پھیلنے کی باتیں سامنے آنے کے بعد دیے گیے تھے، تاہم وہ لاکھوں کی تعداد میں نیولوں کی ہلاکت پر آبدیدہ ہوگئیں۔</p>

<p>حکومت کی جانب سے مستند تحقیقات کے بغیر نیولوں کو مارنے کے احکامات دیے جانے کے بعد حکومت کو اپوزیشن کے سخت احتجاج کا بھی سامنا کرنا پڑا اور حزب اختلاف نے وزیر اعظم میٹے فیڈرکسن کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا تھا۔</p>

<p>اسی حوالے سے خبر رساں ادارے <a href="https://www.reuters.com/article/us-health-coronavirus-denmark-mink-idUSKBN2861YM"><strong>رائٹرز</strong></a> نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے ایسے احکامات مستند تحقیقات کے بغیر دیے جانے پر وہاں کے وزیر زراعت کو بھی استعفیٰ دینا پڑا تھا۔</p>

<p>ڈنمارک کو نیولوں کی افزائش کے بڑے ملک کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو دنیا کے متعدد ممالک کو نیولے فروخت کرتا ہے۔</p>

<p>حکومت نے نومبر کے آغاز میں بتایا تھا کہ ملک میں ڈیڑھ کروڑ نیولے موجود ہیں، جنہیں حذف کردیا جائے گا، ساتھ ہی حکومت نے ایسی تجویز بھی دی تھی کہ ممکنہ طور 2020 تک ان کی افزائش پر بھی پابندی عائد کی جائے تاہم تاحال ایسی پابندی نہیں لگائی گئیں۔</p>

<p>نیولوں کی افزائش کرنے والے تاجروں اور کسانوں کی تنظیم کے سربراہ کے مطابق ان کی انڈسٹری ملک بھر میں 6 ہزار لوگوں کو روزگار دیتی ہے اور سالانہ حکومت کو اربوں ڈالرز کا فائدہ بھی دیتی ہے تاہم اب ان کی انڈسٹری ختم ہوچکی ہے۔</p>

<p>خیال رہے کہ نیولے چوہوں کی طرح دکھانے والے جاندار ہیں اور ان کی متعدد اقسام ہوتی ہیں، یورپین نیولوں کی بہترین قسم ڈنمارک میں ہی پائی جاتی ہے۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item  media__item--relative  media__item--facebook  '>            <div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/NewsVideoz/videos/422336805458821" data-width="auto"></div></div>
				
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1147836</guid>
      <pubDate>Fri, 27 Nov 2020 19:10:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/11/5fc0f07fa4fb4.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/11/5fc0f07fa4fb4.jpg"/>
        <media:title>وزیر اعظم میٹے فڈرکسن نے اعتراف کیا کہ حکومتی احکامات درست نہیں تھے—اسکرین شاٹ/ یوٹیوب
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
