<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 03:20:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 03:20:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیاسی امور میں فوج کی مداخلت پر عوام خفا ہیں، سابق سربراہ آئی ایس آئی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1148231/</link>
      <description>&lt;p&gt;انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی نے ملک کے سیاسی معاملات میں فوج کی مداخلت کا اقرار کیا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بی بی سی &lt;a href="https://www.bbc.com/urdu/pakistan-55139121"&gt;&lt;strong&gt;اردو&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے ناصرف اس امرکی تصدیق کی کہ فوج کی ملکی سیاست میں مداخلت ایک حقیقت ہے بلکہ یہ بھی کہ فوج کا مذکورہ عمل ملکی ترقی کے لیے نقصان دہ ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزیدپڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1079369"&gt;اسد درانی کی کتاب: فوج کا معاملے کی تحقیقات کا اعلان&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی نے کہا کہ ’سیاسی معاملات میں فوج کی مداخلت پر عوام خفا ہیں‘۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جنرل (ر) اسد درانی کی نئی تصنیف ’اونر امنگسٹ سپائیز‘ کی شاعت کے بعد ان کا تفصیلی انٹرویو دیا ہے جبکہ کہا جارہا ہے کہ مذکورہ تصنیف گزشتہ چھپنے والی کتاب ’اسپائی کرونیکلز‘ کے سلسلے کی دوسری کتاب ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئی ایس آئی کے سابق سربراہ نے کہا کہ فوج کی مداخلت ہونے یا نا ہونے سے متعلق بحث کسی سمت نہیں بیٹھی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئی ایس آئی کے سابق سربراہ نے تاریخی حوالے پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایوب خان نے ذوالفقار علی بھٹو، ضیا الحق کے بعد بے نظیر بھٹو، مشرف کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) جماعتیں باہر واپس آکر دوبارہ منتخب ہوئیں جس کا مطلب ہوا کہ جن سیاسی جماعتوں کو باہر رکھنے کی کوشش کی گئی وہ دوبارہ سیاست کے  میدان میں نظر آئیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک موقع پر انہوں اسد درانی نے کہا کہ آئی ایس آئی غیرملکی انٹیلی جنس کو کاونٹر کرنے کے لیے لیکن اگر سیاسی انجینیئرنگ کا کام مل جائے تو وہ بھی کرسکتے ہیں لیکن جب کسی سیاسی معاملے میں فوج نہیں ہوتی تب بھی ایسا لگتا ہے کہ فوج کا کوئی کردار ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزیدپڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1079245"&gt;کتاب پر پوزیشن واضح کرنے کیلئے اسد درانی کو طلب کرلیا،آئی ایس پی آر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) سے متعلق سوال کے جواب  میں آئی  ایس آئی کے سابق سربراہ نے اعتراف کیا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا تجربہ بہت زیادہ ہے اور دھرنے کے لیے آئی ایس آئی کی بات کیوں خاطر میں لائیں گے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ عام خیال ہے کہ آئی ایس آئی کے بغیر دھرنا نہیں ہوسکتا لیکن ماضی میں کہا جاتا تھا کہ امریکی ایما کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب  میں اسد درانی نے اس تاثر کو مسترد کردیا کہ بھارت اب پاکستان کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ضمن میں اسد درانی نے مزید وضاحت کی کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کو الحاق کرنے سے ان کے داخلی مسائل میں اس قدر اضافہ ہوگیا ہے کہ وہ اب ہمارے لیے خطرہ نہیں لیکن پھر بھی نئی دہلی بالا کوٹ جیسا حملہ کرنے کی دوبارہ سعی کرے تو اس کے لیے تیاری مکمل رکھی جائے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی نے بلوچستان سمیت دیگر علاقوں کے تناظر میں کہا کہ ملک کی اندورنی سلامتی کو لاحق خطرات اس وقت ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مزید برآں انہوں نے ملک میں معیشت، سیاسی عدم استحکام اور سماجی ہم آہنگی کو بڑے مسائل قرار دیے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسدر درانی نے بیرونی چیلنجز کے تناظر میں کہا کہ ایران، ترکی اور سعودی عرب کو بڑے اور نئے چیلنجز قرار دیے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزیدپڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1079151"&gt;بھارت: اپوزیشن کا کشمیر میں حکومتی مظالم بند کرنے کا مطالبہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ اس سے قبل لیفٹننٹ جنرل (ر) اسد درانی اور بھارت کے ریسرچ اینالسز ونگز (را) کے سابق سربراہ اے ایس دولت کی جانب سے مشترکہ طور پر تحریر کردہ کتاب ’دی اسپائی کرونیکلز‘ کی اشاعت کی گئی تھی، جس میں کئی متنازع موضوعات پر بات کی گئی تھی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کتاب میں جو موضوعات زیر بحث آئے ہیں ان میں کارگل آپریشن، ایبٹ آباد میں امریکی نیوی سیلز کا اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کا آپریشن، بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری، حافظ سعید، کشمیر، برہان وانی اور دیگر معاملات شامل تھے۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی نے ملک کے سیاسی معاملات میں فوج کی مداخلت کا اقرار کیا ہے۔ </p>

<p>بی بی سی <a href="https://www.bbc.com/urdu/pakistan-55139121"><strong>اردو</strong></a> کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے ناصرف اس امرکی تصدیق کی کہ فوج کی ملکی سیاست میں مداخلت ایک حقیقت ہے بلکہ یہ بھی کہ فوج کا مذکورہ عمل ملکی ترقی کے لیے نقصان دہ ہے۔ </p>

<p><strong>مزیدپڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1079369">اسد درانی کی کتاب: فوج کا معاملے کی تحقیقات کا اعلان</a></strong></p>

<p>آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی نے کہا کہ ’سیاسی معاملات میں فوج کی مداخلت پر عوام خفا ہیں‘۔ </p>

<p>جنرل (ر) اسد درانی کی نئی تصنیف ’اونر امنگسٹ سپائیز‘ کی شاعت کے بعد ان کا تفصیلی انٹرویو دیا ہے جبکہ کہا جارہا ہے کہ مذکورہ تصنیف گزشتہ چھپنے والی کتاب ’اسپائی کرونیکلز‘ کے سلسلے کی دوسری کتاب ہے۔</p>

<p>آئی ایس آئی کے سابق سربراہ نے کہا کہ فوج کی مداخلت ہونے یا نا ہونے سے متعلق بحث کسی سمت نہیں بیٹھی۔ </p>

<p>آئی ایس آئی کے سابق سربراہ نے تاریخی حوالے پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایوب خان نے ذوالفقار علی بھٹو، ضیا الحق کے بعد بے نظیر بھٹو، مشرف کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) جماعتیں باہر واپس آکر دوبارہ منتخب ہوئیں جس کا مطلب ہوا کہ جن سیاسی جماعتوں کو باہر رکھنے کی کوشش کی گئی وہ دوبارہ سیاست کے  میدان میں نظر آئیں۔ </p>

<p>ایک موقع پر انہوں اسد درانی نے کہا کہ آئی ایس آئی غیرملکی انٹیلی جنس کو کاونٹر کرنے کے لیے لیکن اگر سیاسی انجینیئرنگ کا کام مل جائے تو وہ بھی کرسکتے ہیں لیکن جب کسی سیاسی معاملے میں فوج نہیں ہوتی تب بھی ایسا لگتا ہے کہ فوج کا کوئی کردار ہے۔</p>

<p><strong>مزیدپڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1079245">کتاب پر پوزیشن واضح کرنے کیلئے اسد درانی کو طلب کرلیا،آئی ایس پی آر</a></strong></p>

<p>پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) سے متعلق سوال کے جواب  میں آئی  ایس آئی کے سابق سربراہ نے اعتراف کیا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا تجربہ بہت زیادہ ہے اور دھرنے کے لیے آئی ایس آئی کی بات کیوں خاطر میں لائیں گے۔ </p>

<p>علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ عام خیال ہے کہ آئی ایس آئی کے بغیر دھرنا نہیں ہوسکتا لیکن ماضی میں کہا جاتا تھا کہ امریکی ایما کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا۔ </p>

<p>ایک سوال کے جواب  میں اسد درانی نے اس تاثر کو مسترد کردیا کہ بھارت اب پاکستان کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ </p>

<p>اس ضمن میں اسد درانی نے مزید وضاحت کی کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کو الحاق کرنے سے ان کے داخلی مسائل میں اس قدر اضافہ ہوگیا ہے کہ وہ اب ہمارے لیے خطرہ نہیں لیکن پھر بھی نئی دہلی بالا کوٹ جیسا حملہ کرنے کی دوبارہ سعی کرے تو اس کے لیے تیاری مکمل رکھی جائے۔ </p>

<p>سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی نے بلوچستان سمیت دیگر علاقوں کے تناظر میں کہا کہ ملک کی اندورنی سلامتی کو لاحق خطرات اس وقت ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ </p>

<p>مزید برآں انہوں نے ملک میں معیشت، سیاسی عدم استحکام اور سماجی ہم آہنگی کو بڑے مسائل قرار دیے۔ </p>

<p>اسدر درانی نے بیرونی چیلنجز کے تناظر میں کہا کہ ایران، ترکی اور سعودی عرب کو بڑے اور نئے چیلنجز قرار دیے۔ </p>

<p><strong>مزیدپڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1079151">بھارت: اپوزیشن کا کشمیر میں حکومتی مظالم بند کرنے کا مطالبہ</a></strong></p>

<p>واضح رہے کہ اس سے قبل لیفٹننٹ جنرل (ر) اسد درانی اور بھارت کے ریسرچ اینالسز ونگز (را) کے سابق سربراہ اے ایس دولت کی جانب سے مشترکہ طور پر تحریر کردہ کتاب ’دی اسپائی کرونیکلز‘ کی اشاعت کی گئی تھی، جس میں کئی متنازع موضوعات پر بات کی گئی تھی۔ </p>

<p>کتاب میں جو موضوعات زیر بحث آئے ہیں ان میں کارگل آپریشن، ایبٹ آباد میں امریکی نیوی سیلز کا اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کا آپریشن، بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری، حافظ سعید، کشمیر، برہان وانی اور دیگر معاملات شامل تھے۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1148231</guid>
      <pubDate>Wed, 02 Dec 2020 19:32:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/12/5fc787883383c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/12/5fc787883383c.jpg"/>
        <media:title>اسد درانی نے کہا کہ فوج کی مداخلت ہونے یا نا ہونے سے متعلق بحث کسی سمت نہیں بیٹھی—فائل فوٹو: الجزیرہ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
