<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 07:45:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 07:45:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیگورنو۔کاراباخ لڑائی میں لگ بھگ 2800 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے، آذربائیجان
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1148311/</link>
      <description>&lt;p&gt;آذربائیجان کا کہنا ہے کہ نیگورنو۔کاراباخ کے تنازع میں آرمینیا سے حالیہ لڑائی میں اس کے لگ بھگ 2 ہزار 800 فوجی ہلاک ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آذربائیجان کی طرف سے آرمینیا کی فورسز کے ساتھ حالیہ لڑائی میں ہونے والے فوجی نقصان کے حوالے سے پہلی بار تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق آذربائیجان کی وزارت دفاع سے جاری بیان میں کہا گیا کہ 'حب الوطنی کی جنگ میں آذربائیجان کی مسلح افواج کے 2 ہزار 783 اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ دیگر 100 فوجی لاپتا ہیں'۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قبل ازیں آرمینیا نے اعلان کیا تھا کہ لڑائی میں اس کے 2 ہزار 317 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے، ساتھ ہی دعویٰ کیا تھا کہ آذربائیجان کے کم از کم 93 اور آرمینیا کے 50 شہری بھی ہلاک ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1148242"&gt;آرمینیائی اخبار کا آذربائیجان کے خلاف ایٹم بم استعمال کرنے کا مشورہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان 1990 میں سوویت یونین سے آزادی کے ساتھ ہی کاراباخ میں علیحدگی پسندوں سے تنازع شروع ہوا تھا اور ابتدائی برسوں میں 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دونوں ممالک کے درمیان 1994 سے حالیہ لڑائی تک تنازع کے حل کے لیے مذاکرات میں واضح پیش رفت نہیں ہوسکی تھی تاہم جنگ بندی کے متعدد معاہدے ہوتے رہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آرمینیا کے پشت پناہی کے ساتھ آرمینیائی نسل کے علیحدگی پسندوں نے 1990 کی دہائی میں ہونے والی لڑائی میں نیگورنو-کاراباخ خطے کا قبضہ باکو سے حاصل کرلیا تھا لیکن نیگورنو-کاراباخ کو بین الاقوامی سطح پر آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں فرانس، روس اور امریکا نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا لیکن 2010 میں امن معاہدہ ایک مرتبہ پھر ختم ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیگورنو-کاراباخ میں تازہ جھڑپیں 27 ستمبر کو شروع ہوئی تھیں اور فرانس، روس اور امریکا کی طرف سے سیز فائر کی کوششیں کی جارہی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1147238"&gt;آذربائیجان کی فوج آرمینیا کے واپس کیے گئے پہلے شہر میں داخل&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آرمینیا اور آذربائیجان نے بدترین لڑائی کے بعد 9 نومبر کو &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1146349"&gt;&lt;strong&gt;جنگ بندی معاہدے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کا اعلان کیا تھا اور آذربائیجان میں اس کو فتح کے طور پر منایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;معاہدے کے تحت آرمینیا نے 7 اضلاع کا کنٹرول کھو دیا جو اس نے 1990 کی دہائی میں ہونے والی لڑائی میں قبضے میں لیے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آرمینیا کے وزیراعظم نے اس کو سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ شکست کے آثار کو دیکھتے ہوئے اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جنگ بندی معاہدے کے بعد آرمینیا میں وزیراعظم نیکول پاشینیان کے خلاف شدید احتجاج ہوا تھا اور مظاہرین ان کو غدار قرار دیتے ہوئے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مظاہرین سے مسلح احتجاج سے گریز کرنے پر زور دیا اور توقع ظاہر کی کہ اپوزیشن بھی اس اقدام کی نفی کرے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1146479"&gt;نیگورنو-کاراباخ جنگ بندی: آرمینیا کے وزیراعظم کے خلاف احتجاج، استعفے کا مطالبہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جنگ بندی معاہدے کے تحت نیگورنو-کاراباخ میں روس اور ترک افواج نگرانی کریں گی جبکہ آرمینیائی افراد متنازع خطہ چھوڑ دیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;روس اور ترک وزرائے دفاع نے ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے اور طے پایا تھا کہ آذربائیجان میں مشترکہ طور پر نگرانی کے لیے ایک سینٹر قائم کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ نیگورنو-کاراباخ کا علاقہ 4 ہزار 400 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور 50 کلومیٹر آرمینیا کی سرحد سے جڑا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آذربائیجان کا کہنا ہے کہ نیگورنو۔کاراباخ کے تنازع میں آرمینیا سے حالیہ لڑائی میں اس کے لگ بھگ 2 ہزار 800 فوجی ہلاک ہوئے۔</p>

<p>آذربائیجان کی طرف سے آرمینیا کی فورسز کے ساتھ حالیہ لڑائی میں ہونے والے فوجی نقصان کے حوالے سے پہلی بار تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔</p>

<p>غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق آذربائیجان کی وزارت دفاع سے جاری بیان میں کہا گیا کہ 'حب الوطنی کی جنگ میں آذربائیجان کی مسلح افواج کے 2 ہزار 783 اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ دیگر 100 فوجی لاپتا ہیں'۔</p>

<p>قبل ازیں آرمینیا نے اعلان کیا تھا کہ لڑائی میں اس کے 2 ہزار 317 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے، ساتھ ہی دعویٰ کیا تھا کہ آذربائیجان کے کم از کم 93 اور آرمینیا کے 50 شہری بھی ہلاک ہوئے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1148242">آرمینیائی اخبار کا آذربائیجان کے خلاف ایٹم بم استعمال کرنے کا مشورہ</a></strong></p>

<p>واضح رہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان 1990 میں سوویت یونین سے آزادی کے ساتھ ہی کاراباخ میں علیحدگی پسندوں سے تنازع شروع ہوا تھا اور ابتدائی برسوں میں 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔</p>

<p>دونوں ممالک کے درمیان 1994 سے حالیہ لڑائی تک تنازع کے حل کے لیے مذاکرات میں واضح پیش رفت نہیں ہوسکی تھی تاہم جنگ بندی کے متعدد معاہدے ہوتے رہے۔</p>

<p>آرمینیا کے پشت پناہی کے ساتھ آرمینیائی نسل کے علیحدگی پسندوں نے 1990 کی دہائی میں ہونے والی لڑائی میں نیگورنو-کاراباخ خطے کا قبضہ باکو سے حاصل کرلیا تھا لیکن نیگورنو-کاراباخ کو بین الاقوامی سطح پر آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے۔</p>

<p>بعد ازاں فرانس، روس اور امریکا نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا لیکن 2010 میں امن معاہدہ ایک مرتبہ پھر ختم ہوگیا تھا۔</p>

<p>نیگورنو-کاراباخ میں تازہ جھڑپیں 27 ستمبر کو شروع ہوئی تھیں اور فرانس، روس اور امریکا کی طرف سے سیز فائر کی کوششیں کی جارہی تھیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1147238">آذربائیجان کی فوج آرمینیا کے واپس کیے گئے پہلے شہر میں داخل</a></strong> </p>

<p>آرمینیا اور آذربائیجان نے بدترین لڑائی کے بعد 9 نومبر کو <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1146349"><strong>جنگ بندی معاہدے</strong></a> کا اعلان کیا تھا اور آذربائیجان میں اس کو فتح کے طور پر منایا گیا تھا۔</p>

<p>معاہدے کے تحت آرمینیا نے 7 اضلاع کا کنٹرول کھو دیا جو اس نے 1990 کی دہائی میں ہونے والی لڑائی میں قبضے میں لیے تھے۔</p>

<p>آرمینیا کے وزیراعظم نے اس کو سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ شکست کے آثار کو دیکھتے ہوئے اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔</p>

<p>جنگ بندی معاہدے کے بعد آرمینیا میں وزیراعظم نیکول پاشینیان کے خلاف شدید احتجاج ہوا تھا اور مظاہرین ان کو غدار قرار دیتے ہوئے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔</p>

<p>انہوں نے مظاہرین سے مسلح احتجاج سے گریز کرنے پر زور دیا اور توقع ظاہر کی کہ اپوزیشن بھی اس اقدام کی نفی کرے گی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1146479">نیگورنو-کاراباخ جنگ بندی: آرمینیا کے وزیراعظم کے خلاف احتجاج، استعفے کا مطالبہ</a></strong></p>

<p>جنگ بندی معاہدے کے تحت نیگورنو-کاراباخ میں روس اور ترک افواج نگرانی کریں گی جبکہ آرمینیائی افراد متنازع خطہ چھوڑ دیں گے۔</p>

<p>روس اور ترک وزرائے دفاع نے ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے اور طے پایا تھا کہ آذربائیجان میں مشترکہ طور پر نگرانی کے لیے ایک سینٹر قائم کیا جائے گا۔</p>

<p>خیال رہے کہ نیگورنو-کاراباخ کا علاقہ 4 ہزار 400 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور 50 کلومیٹر آرمینیا کی سرحد سے جڑا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1148311</guid>
      <pubDate>Thu, 03 Dec 2020 20:18:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/12/5fc8da5901e4f.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/12/5fc8da5901e4f.png"/>
        <media:title>آذربائیجان کی وزارت دفاع نے کہا کہ دیگر 100 فوجی لاپتا ہیں — فائل فوٹو / اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
