<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 03:56:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 03:56:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قندیل بلوچ کی زندگی پر بنی دستاویزی فلم امریکی فیسٹیول میں پیش
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1148669/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے شہر ملتان میں 2016 میں بھائی کے ہاتھوں غیرت کے نام پر قتل ہونے والی سوشل میڈیا اسٹار قندیل بلوچ کی زندگی پر بنی دستاویزی فلم کو امریکی فلم فیسٹیول میں پیش کردیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ساز شرمین عبید چنائے (ایس او سی) کی فیس بک پوسٹ میں بتایا گیا کہ قندیل بلوچ کی زندگی پر بنائی گئی دستاویزی فلم کو امریکی شہر نیویارک کے فلم فیسٹیول میں پیش کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قندیل بلوچ کی زندگی پر بنائی گئی فلم کی ہدایات بی بی سی پشتو کے صحافی سعد زبیری اور پاکستانی نوجوان فلم میکر صفیہ عثمانی نے دی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قندیل بلوچ کی زندگی پر بنائی گئی دستاویزی فلم کا نام ‘اے لائف ٹو شارٹ‘ تھا، جسے مذکورہ فلم فیسٹیول سے قبل کہیں بھی نہیں دکھایا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item  media__item--relative  media__item--facebook  '&gt;            &lt;div class="fb-post" data-href="https://www.facebook.com/socfilms/posts/4225747647441634" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='5fcf7e5e3af80'&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1148240/"&gt;شرمین عبید چنائے کی فلم ہوم 1947 نے بہترین فلم کا ایوارڈ جیت لیا&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;فلم کو مشترکہ طور پر شرمین عبید چنائے اور ایم ٹی وی ڈاکیومینٹری فلم نامی پروڈکشن کمپنیوں نے پروڈیوس کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قندیل بلوچ کی زندگی پر بنائی گئی 35 منٹ دورانیے کی فلم میں حقیقی واقعات کو بھی دکھایا گیا ہے اور ڈاکیومینٹری میں قندیل بلوچ کی شہرت اور اس کے قتل کے اسباب کو بھی دکھایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item  media__item--relative  media__item--facebook  '&gt;            &lt;div class="fb-post" data-href="https://www.facebook.com/socfilms/posts/4225747647441634" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فلم کو ہر سال نیویارک میں ہونے والے امریکا کے بڑے فلم فیسٹیول ‘ڈاکیو نیویارک‘ میں 8 دسمبر کو دکھایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فلم فیسٹیول کی &lt;a href="https://www.docnyc.net/about-us/"&gt;&lt;strong&gt;ویب سائٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق 8 دسمبر کو قندیل بلوچ کی زندگی پر بنی دستاویزی فلم کے علاوہ دیگر ڈاکیومینٹریز کو بھی دکھایا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکا کے سب سے بڑے دستاویزی فلم میلے کا آغاز گزشتہ ماہ نومبر کے آخر میں ہوا تھا اور فیسٹیول کے اختتامی دنوں میں پاکستانی فلم کو پیش کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فیسٹیول میں مجموعی طور دنیا بھر کی 100 سے زائد دستاویزی فلموں اور فیچر فلموں کو دکھایا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکی فلم فیسٹیول میں دکھائے جانے کے بعد اب خیال کیا جا رہا ہے کہ قندیل بلوچ کی زندگی پر بنی دستاویزی فلم کو پاکستان میں بھی آن لائن ریلیز کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم اس حوالے سے فلم کی ٹیم نے کوئی وضاحت نہیں کی اور بعض فلمی مبصرین کے مطابق فلم کو مزید عالمی فیسٹیولز میں پیش کیے جانے کے بعد پاکستان میں ریلیز کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d8c84afb8894.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/09/5d8c84afb8894.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2019/09/5d8c84afb8894.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d8c84afb8894.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="سوشل میڈیا اسٹار کہلائی جانے والی قندیل بلوچ کو 2016 میں بھائی نے غیرت کے نام پر قتل کردیا تھا&amp;mdash;فائل فوٹو: فیس بک" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;سوشل میڈیا اسٹار کہلائی جانے والی قندیل بلوچ کو 2016 میں بھائی نے غیرت کے نام پر قتل کردیا تھا—فائل فوٹو: فیس بک&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے شہر ملتان میں 2016 میں بھائی کے ہاتھوں غیرت کے نام پر قتل ہونے والی سوشل میڈیا اسٹار قندیل بلوچ کی زندگی پر بنی دستاویزی فلم کو امریکی فلم فیسٹیول میں پیش کردیا گیا۔</p>

<p>آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ساز شرمین عبید چنائے (ایس او سی) کی فیس بک پوسٹ میں بتایا گیا کہ قندیل بلوچ کی زندگی پر بنائی گئی دستاویزی فلم کو امریکی شہر نیویارک کے فلم فیسٹیول میں پیش کیا گیا۔</p>

<p>قندیل بلوچ کی زندگی پر بنائی گئی فلم کی ہدایات بی بی سی پشتو کے صحافی سعد زبیری اور پاکستانی نوجوان فلم میکر صفیہ عثمانی نے دی ہیں۔</p>

<p>قندیل بلوچ کی زندگی پر بنائی گئی دستاویزی فلم کا نام ‘اے لائف ٹو شارٹ‘ تھا، جسے مذکورہ فلم فیسٹیول سے قبل کہیں بھی نہیں دکھایا گیا۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item  media__item--relative  media__item--facebook  '>            <div class="fb-post" data-href="https://www.facebook.com/socfilms/posts/4225747647441634" data-width="auto"></div></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<h6 id='5fcf7e5e3af80'>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1148240/">شرمین عبید چنائے کی فلم ہوم 1947 نے بہترین فلم کا ایوارڈ جیت لیا</a></h6>

<p>فلم کو مشترکہ طور پر شرمین عبید چنائے اور ایم ٹی وی ڈاکیومینٹری فلم نامی پروڈکشن کمپنیوں نے پروڈیوس کیا ہے۔</p>

<p>قندیل بلوچ کی زندگی پر بنائی گئی 35 منٹ دورانیے کی فلم میں حقیقی واقعات کو بھی دکھایا گیا ہے اور ڈاکیومینٹری میں قندیل بلوچ کی شہرت اور اس کے قتل کے اسباب کو بھی دکھایا گیا ہے۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item  media__item--relative  media__item--facebook  '>            <div class="fb-post" data-href="https://www.facebook.com/socfilms/posts/4225747647441634" data-width="auto"></div></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>فلم کو ہر سال نیویارک میں ہونے والے امریکا کے بڑے فلم فیسٹیول ‘ڈاکیو نیویارک‘ میں 8 دسمبر کو دکھایا گیا ہے۔</p>

<p>فلم فیسٹیول کی <a href="https://www.docnyc.net/about-us/"><strong>ویب سائٹ</strong></a> کے مطابق 8 دسمبر کو قندیل بلوچ کی زندگی پر بنی دستاویزی فلم کے علاوہ دیگر ڈاکیومینٹریز کو بھی دکھایا گیا۔</p>

<p>امریکا کے سب سے بڑے دستاویزی فلم میلے کا آغاز گزشتہ ماہ نومبر کے آخر میں ہوا تھا اور فیسٹیول کے اختتامی دنوں میں پاکستانی فلم کو پیش کیا گیا۔</p>

<p>فیسٹیول میں مجموعی طور دنیا بھر کی 100 سے زائد دستاویزی فلموں اور فیچر فلموں کو دکھایا گیا۔</p>

<p>امریکی فلم فیسٹیول میں دکھائے جانے کے بعد اب خیال کیا جا رہا ہے کہ قندیل بلوچ کی زندگی پر بنی دستاویزی فلم کو پاکستان میں بھی آن لائن ریلیز کیا جائے گا۔</p>

<p>تاہم اس حوالے سے فلم کی ٹیم نے کوئی وضاحت نہیں کی اور بعض فلمی مبصرین کے مطابق فلم کو مزید عالمی فیسٹیولز میں پیش کیے جانے کے بعد پاکستان میں ریلیز کیا جائے گا۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d8c84afb8894.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/09/5d8c84afb8894.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2019/09/5d8c84afb8894.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d8c84afb8894.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="سوشل میڈیا اسٹار کہلائی جانے والی قندیل بلوچ کو 2016 میں بھائی نے غیرت کے نام پر قتل کردیا تھا&mdash;فائل فوٹو: فیس بک" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">سوشل میڈیا اسٹار کہلائی جانے والی قندیل بلوچ کو 2016 میں بھائی نے غیرت کے نام پر قتل کردیا تھا—فائل فوٹو: فیس بک</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1148669</guid>
      <pubDate>Tue, 08 Dec 2020 18:23:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/12/5fcf703f04e54.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/12/5fcf703f04e54.jpg"/>
        <media:title>اے لائف ٹو شارٹ کا دورانیہ 35 منٹ ہے—فوٹو: شرمین عبید چنائے فلم فیس بک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
