<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 19:13:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 19:13:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس میں فلم آرکائیو بنانے کا آغاز
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1149103/</link>
      <description>&lt;p&gt;ملک میں بننے والی فیچر فلمز کو محفوظ کرنے کے لیے پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس (پی این سی اے) نے فلم آرکائیو کے قیام کے عمل کا آغاز کردیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے انڈیپنڈنٹ اردو کو دیے گئے &lt;a href="https://www.independenturdu.com/node/54746"&gt;&lt;strong&gt;انٹرویو&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں پی این سی اے کے فلم ڈویژن کے سربراہ اعجاز گل نے بتایا کہ آرکائیو کے لیے سن 1947 کے بعد سے پاکستان میں بننے والی ہر زبان کی فیچر فلم کو جمع کیا جا رہا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے آرکائیو کے لیے فلمز جمع کرنے میں عوام سے بھی مدد کی درخواست کی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیشنل فلم آرکائیو کے قیام کا مقصد بتاتے ہوئے اعجاز گل نے کہا کہ نیشنل فلم آرکائیو میں ہم تمام فیچر فلمز کو محفوظ کر لیں گے جو پاکستانی قوم کے لیے تاریخی اثاثہ ثابت ہو گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1142415"&gt;وزیراعظم نے فلم انڈسٹری کی بحالی کے اقدامات کی منظوری دے دی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اعجاز گل نے بتایا کہ آرکائیو میں شامل کی جانے والی فلمز کو پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کی ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہوں گی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایسا کرنے سے یہ آرکائیو فلم بینوں کے علاوہ فلمز پر تحقیق کرنے والوں کے لیے بھی سود مند ثابت ہوگا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں اعجاز گل نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں بہت اچھی فیچر فلمز نہیں بنیں اس کے باوجود یہ ہماری قوم کا تاریخی اثاثہ ہیں اور انہیں ایک جگہ پر محفوظ کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فلم ڈویژن کے سربراہ نے اس ضمن میں عوام سے مدد کی اپیل کی اور کہا کہ کسی شہری کے پاس کوئی بھی پاکستانی فیچر فلم، کسی بھی شکل میں موجود ہے تو وہ اس کی کاپی پی این سی اے کو ارسال کردے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آرکائیو کے لیے صرف اردو فلمز جمع نہیں کی جارہیں بلکہ وہ پنجابی، پشتو اور سندھی فیچر فلمز بھی ڈھونڈ رہے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اعجاز گل کا کہنا تھا کہ آرکائیو کے لیے فلمز جمع کرنے کے مقصد سے ہدایت کاروں، پروڈیوسرز، تقسیم کاروں اور سنیما مالکان سے رابطے کیے جارہے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ پاکستان میں بننے والی زیادہ سے زیادہ فلمیں جمع کرکے انہیں محفوظ کیا جائے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: '&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1121873/"&gt;حکومت نے فلم انڈسٹری کو صنعت کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے'&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے ساتھ ہی فلم ڈویژن کے سربراہ نے یہ بھی 50 اور 60 کی دہائی میں بننے والی کئی فلمز ضائع ہوچکی ہیں اور شاید آرکائیو کے لیے ان کی کوئی کاپی نہ مل سکے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اعجاز گل کا کہنا تھا کہ فیچر فلمز کے علاوہ، انہی فلمز کے پوسٹرز، تصاویر، اسکرپٹ اور دیگر متعلقہ مواد بھی نیشنل فلم
 آرکائیو میں شامل کیے جائیں گے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ قیام پاکستان سے اب تک، ان  73 برسوں میں ملک میں مختلف زبانوں کی مجموعی طور پر 6 ہزار فیچر فلمز بنائی گئیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اعجاز گل نے کہا کہ اس طرح پاکستان میں ہر سال 82 فیچر فلمز بنائی جاتیں تھی اور ایک مہینے میں 7 فلمز ریلیز ہوتی تھیں۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ملک میں بننے والی فیچر فلمز کو محفوظ کرنے کے لیے پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس (پی این سی اے) نے فلم آرکائیو کے قیام کے عمل کا آغاز کردیا۔ </p>

<p>اس حوالے سے انڈیپنڈنٹ اردو کو دیے گئے <a href="https://www.independenturdu.com/node/54746"><strong>انٹرویو</strong></a> میں پی این سی اے کے فلم ڈویژن کے سربراہ اعجاز گل نے بتایا کہ آرکائیو کے لیے سن 1947 کے بعد سے پاکستان میں بننے والی ہر زبان کی فیچر فلم کو جمع کیا جا رہا ہے۔ </p>

<p>انہوں نے آرکائیو کے لیے فلمز جمع کرنے میں عوام سے بھی مدد کی درخواست کی ہے۔ </p>

<p>نیشنل فلم آرکائیو کے قیام کا مقصد بتاتے ہوئے اعجاز گل نے کہا کہ نیشنل فلم آرکائیو میں ہم تمام فیچر فلمز کو محفوظ کر لیں گے جو پاکستانی قوم کے لیے تاریخی اثاثہ ثابت ہو گا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1142415">وزیراعظم نے فلم انڈسٹری کی بحالی کے اقدامات کی منظوری دے دی</a></strong></p>

<p>اعجاز گل نے بتایا کہ آرکائیو میں شامل کی جانے والی فلمز کو پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کی ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہوں گی۔ </p>

<p>انہوں نے کہا کہ ایسا کرنے سے یہ آرکائیو فلم بینوں کے علاوہ فلمز پر تحقیق کرنے والوں کے لیے بھی سود مند ثابت ہوگا۔ </p>

<p>ایک سوال کے جواب میں اعجاز گل نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں بہت اچھی فیچر فلمز نہیں بنیں اس کے باوجود یہ ہماری قوم کا تاریخی اثاثہ ہیں اور انہیں ایک جگہ پر محفوظ کرنا ضروری ہے۔</p>

<p>فلم ڈویژن کے سربراہ نے اس ضمن میں عوام سے مدد کی اپیل کی اور کہا کہ کسی شہری کے پاس کوئی بھی پاکستانی فیچر فلم، کسی بھی شکل میں موجود ہے تو وہ اس کی کاپی پی این سی اے کو ارسال کردے۔ </p>

<p>انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آرکائیو کے لیے صرف اردو فلمز جمع نہیں کی جارہیں بلکہ وہ پنجابی، پشتو اور سندھی فیچر فلمز بھی ڈھونڈ رہے ہیں۔ </p>

<p>اعجاز گل کا کہنا تھا کہ آرکائیو کے لیے فلمز جمع کرنے کے مقصد سے ہدایت کاروں، پروڈیوسرز، تقسیم کاروں اور سنیما مالکان سے رابطے کیے جارہے ہیں۔ </p>

<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ پاکستان میں بننے والی زیادہ سے زیادہ فلمیں جمع کرکے انہیں محفوظ کیا جائے۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: '<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1121873/">حکومت نے فلم انڈسٹری کو صنعت کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے'</a></strong></p>

<p>اس کے ساتھ ہی فلم ڈویژن کے سربراہ نے یہ بھی 50 اور 60 کی دہائی میں بننے والی کئی فلمز ضائع ہوچکی ہیں اور شاید آرکائیو کے لیے ان کی کوئی کاپی نہ مل سکے۔ </p>

<p>اعجاز گل کا کہنا تھا کہ فیچر فلمز کے علاوہ، انہی فلمز کے پوسٹرز، تصاویر، اسکرپٹ اور دیگر متعلقہ مواد بھی نیشنل فلم
 آرکائیو میں شامل کیے جائیں گے۔ </p>

<p>انہوں نے مزید کہا کہ قیام پاکستان سے اب تک، ان  73 برسوں میں ملک میں مختلف زبانوں کی مجموعی طور پر 6 ہزار فیچر فلمز بنائی گئیں۔ </p>

<p>اعجاز گل نے کہا کہ اس طرح پاکستان میں ہر سال 82 فیچر فلمز بنائی جاتیں تھی اور ایک مہینے میں 7 فلمز ریلیز ہوتی تھیں۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1149103</guid>
      <pubDate>Mon, 14 Dec 2020 14:28:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/12/5fd725666568d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/12/5fd725666568d.jpg"/>
        <media:title>آرکائیو کے لیے فلمز جمع کرنے میں عوام سے بھی مدد کی درخواست کی گئی ہے— فائل فوٹو: اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
