<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 22:58:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 22:58:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودیہ میں پہلی بار موسیقی و تھیٹر کی تربیت کیلئے لائسنس کا اجرا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1150464/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلامی دنیا کے اہم ترین ملک سعودی عرب کی حکومت نے پہلی بار مملکت میں موسیقی، تھیٹر اداکاری، پرفارمنگ آرٹ، فیشن، ادب اور میوزیم سمیت فنون لطیفہ کے دیگر شعبہ جات کی تربیت فراہم کرنے کے لیے 2 اداروں کو باضابطہ طور پر لائسنس جاری کردیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگرچہ سعودی عرب میں کئی لوگ سالوں سے گلوکاری، اداکاری، فیشن اور پرفارمنگ آرٹ میں فن کا مظاہرہ کرتے آ رہے ہیں، تاہم چند سال قبل ہی انہیں حکومتی سطح پر باضابطہ طور پر اس کام کی اجازت دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پانچ سال قبل سعودی عرب میں حکومتی سطح پر میوزک، تھیٹر، فیشن اور فنون لطیفہ کے دیگر شعبہ جات کے پروگرامات کو عوامی سطح پر منعقد کرنا نہ صرف جرم تھا بلکہ اسے معیوب بھی سمجھا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='5fedb88c9ad88'&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1073270"&gt;سعودی عرب کی پہلی تھیٹر ادکارہ نجات مفتاح&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;تاہم گزشتہ 5 سال میں سعودی عرب میں نمایاں تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں اور اب وہاں پر نہ صرف اداکاری، فیشن اور گلوکاری کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے بلکہ اب وہاں خواتین کو غیر محرم مرد حضرات کے ساتھ بھی ان شعبوں میں پرفارمنگ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی سلسلے کے تحت اب سعودی عرب کی وزارت ثقافت نے 2 مختلف اداروں کو موسیقی، تھیٹر، پرفارمنگ آرٹ، میوزیم اور فیشن سمیت اسی طرح کے دیگر شعبوں کی تربیت فراہم کرنے کے لیے باضابطہ طور پر لائسنس جاری کردیے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/12/5fed6f76adef4.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/12/5fed6f76adef4.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/12/5fed6f76adef4.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/12/5fed6f76adef4.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="اب سعودی عرب میں خواتین کو غیر محرم مرد حضرات کے ساتھ کام کرنے کی بھی اجازت ہے&amp;mdash;فائل فوٹو: گلف نیوز" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;اب سعودی عرب میں خواتین کو غیر محرم مرد حضرات کے ساتھ کام کرنے کی بھی اجازت ہے—فائل فوٹو: گلف نیوز&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عرب اخبار &lt;a href="https://saudigazette.com.sa/article/601901/SAUDI-ARABIA/Saudi-Arabia-issues-licenses-for-two-music-training-institutes"&gt;&lt;strong&gt;سعودی گزٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق وزیر ثقافت نے اپنی ٹوئٹ میں تصدیق کی کہ حکومت نے دی انٹرنیشنل میوزک ٹریننگ سینٹر اور میوزک ہاؤس انسٹی ٹیوٹ فار ٹریننگ کو تربیت کے لائسنس جاری کردیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان نے بتایا کہ حکومت نے سرکاری، نیم سرکاری اور نجی اداروں سے مذکورہ شعبہ جات میں تربیت فراہم کرنے سے متعلق لائسنس حاصل کرنے کے لیے درخواستیں جمع کروانے کی ہدایت کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکومتی اعلان کے بعد متعدد اداروں اور شخصیات نے لائسنس کے حصول کے لیے درخواستیں جمع کرائیں، جن میں سے دو اداروں کو تربیت دینے کے لیے لائسنس کا اجرا کردیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='5fedb88c9ade3'&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1069525"&gt;سعودی عرب میں پہلی بار خواتین کا کنسرٹ&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;حکومت کے مطابق لائسنس حاصل کرنے والے دونوں اداروں کو 90 دن کے اندر بطور ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ سرگرمیوں کا آغاز کرنا ہوگا اور ابتدائی طور پر دونوں ادارے کورونا کے پیش نظر آن لائن تربیت کا آغاز کریں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لائسنس حاصل کرنے والے دونوں ادارے اب مشترکہ طور پر مرد و خواتین کو میوزک، تھیٹر، پرفارمنگ آرٹ اور فیشن سمیت دیگر شعبہ جات کی تربیت دیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/12/5fed70148b1f3.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/12/5fed70148b1f3.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/12/5fed70148b1f3.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/12/5fed70148b1f3.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="اب تک سعودی افراد انفرادی طور پر یا انٹرنیٹ کی مدد سے موسیقی سیکھتے آر رہے تھے&amp;mdash;فوٹو: شٹر اسٹاک" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;اب تک سعودی افراد انفرادی طور پر یا انٹرنیٹ کی مدد سے موسیقی سیکھتے آر رہے تھے—فوٹو: شٹر اسٹاک&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلامی دنیا کے اہم ترین ملک سعودی عرب کی حکومت نے پہلی بار مملکت میں موسیقی، تھیٹر اداکاری، پرفارمنگ آرٹ، فیشن، ادب اور میوزیم سمیت فنون لطیفہ کے دیگر شعبہ جات کی تربیت فراہم کرنے کے لیے 2 اداروں کو باضابطہ طور پر لائسنس جاری کردیے۔</p>

<p>اگرچہ سعودی عرب میں کئی لوگ سالوں سے گلوکاری، اداکاری، فیشن اور پرفارمنگ آرٹ میں فن کا مظاہرہ کرتے آ رہے ہیں، تاہم چند سال قبل ہی انہیں حکومتی سطح پر باضابطہ طور پر اس کام کی اجازت دی گئی ہے۔</p>

<p>پانچ سال قبل سعودی عرب میں حکومتی سطح پر میوزک، تھیٹر، فیشن اور فنون لطیفہ کے دیگر شعبہ جات کے پروگرامات کو عوامی سطح پر منعقد کرنا نہ صرف جرم تھا بلکہ اسے معیوب بھی سمجھا جاتا تھا۔</p>

<h6 id='5fedb88c9ad88'>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1073270">سعودی عرب کی پہلی تھیٹر ادکارہ نجات مفتاح</a></h6>

<p>تاہم گزشتہ 5 سال میں سعودی عرب میں نمایاں تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں اور اب وہاں پر نہ صرف اداکاری، فیشن اور گلوکاری کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے بلکہ اب وہاں خواتین کو غیر محرم مرد حضرات کے ساتھ بھی ان شعبوں میں پرفارمنگ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔</p>

<p>اسی سلسلے کے تحت اب سعودی عرب کی وزارت ثقافت نے 2 مختلف اداروں کو موسیقی، تھیٹر، پرفارمنگ آرٹ، میوزیم اور فیشن سمیت اسی طرح کے دیگر شعبوں کی تربیت فراہم کرنے کے لیے باضابطہ طور پر لائسنس جاری کردیے۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/12/5fed6f76adef4.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/12/5fed6f76adef4.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/12/5fed6f76adef4.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/12/5fed6f76adef4.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="اب سعودی عرب میں خواتین کو غیر محرم مرد حضرات کے ساتھ کام کرنے کی بھی اجازت ہے&mdash;فائل فوٹو: گلف نیوز" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">اب سعودی عرب میں خواتین کو غیر محرم مرد حضرات کے ساتھ کام کرنے کی بھی اجازت ہے—فائل فوٹو: گلف نیوز</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>عرب اخبار <a href="https://saudigazette.com.sa/article/601901/SAUDI-ARABIA/Saudi-Arabia-issues-licenses-for-two-music-training-institutes"><strong>سعودی گزٹ</strong></a> کے مطابق وزیر ثقافت نے اپنی ٹوئٹ میں تصدیق کی کہ حکومت نے دی انٹرنیشنل میوزک ٹریننگ سینٹر اور میوزک ہاؤس انسٹی ٹیوٹ فار ٹریننگ کو تربیت کے لائسنس جاری کردیے۔</p>

<p>وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان نے بتایا کہ حکومت نے سرکاری، نیم سرکاری اور نجی اداروں سے مذکورہ شعبہ جات میں تربیت فراہم کرنے سے متعلق لائسنس حاصل کرنے کے لیے درخواستیں جمع کروانے کی ہدایت کی تھی۔</p>

<p>حکومتی اعلان کے بعد متعدد اداروں اور شخصیات نے لائسنس کے حصول کے لیے درخواستیں جمع کرائیں، جن میں سے دو اداروں کو تربیت دینے کے لیے لائسنس کا اجرا کردیا گیا۔</p>

<h6 id='5fedb88c9ade3'>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1069525">سعودی عرب میں پہلی بار خواتین کا کنسرٹ</a></h6>

<p>حکومت کے مطابق لائسنس حاصل کرنے والے دونوں اداروں کو 90 دن کے اندر بطور ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ سرگرمیوں کا آغاز کرنا ہوگا اور ابتدائی طور پر دونوں ادارے کورونا کے پیش نظر آن لائن تربیت کا آغاز کریں گے۔</p>

<p>لائسنس حاصل کرنے والے دونوں ادارے اب مشترکہ طور پر مرد و خواتین کو میوزک، تھیٹر، پرفارمنگ آرٹ اور فیشن سمیت دیگر شعبہ جات کی تربیت دیں گے۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/12/5fed70148b1f3.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/12/5fed70148b1f3.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/12/5fed70148b1f3.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/12/5fed70148b1f3.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="اب تک سعودی افراد انفرادی طور پر یا انٹرنیٹ کی مدد سے موسیقی سیکھتے آر رہے تھے&mdash;فوٹو: شٹر اسٹاک" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">اب تک سعودی افراد انفرادی طور پر یا انٹرنیٹ کی مدد سے موسیقی سیکھتے آر رہے تھے—فوٹو: شٹر اسٹاک</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1150464</guid>
      <pubDate>Thu, 31 Dec 2020 16:39:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/12/5fed6ec2a22bc.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/12/5fed6ec2a22bc.jpg"/>
        <media:title>لائسنس حاصل کرنے والے ادارے 90 دن میں کام شروع کردیں گے—فائل فوٹو: دی نیشنل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
