<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 20:43:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 20:43:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم کا پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ روکنے کیلئے کارروائی کا حکم
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1150695/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: تیل کی اسمگلنگ کے خلاف بڑا قدم اٹھاتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے 3 صوبوں میں 2 ہزار 94 غیرقانونی پیٹرول آؤٹ لیٹس کے خلاف اور بلوچستان میں سرحدی اسٹیشنز پر پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے ایک جامع ایکشن پلان منظور کرلیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1599346/pm-orders-action-against-fuel-smuggling-across-iran-border"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ایک پریزینٹیشن کے دوران کسٹمز حکام نے وزیراعظم کو بتایا کہ پیٹرولیم  مصنوعات کی غیرقانونی فروخت سے قومی خزانے کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ 100 سے 150 ارب روپے سالانہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم اب اس آپریشنز میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں محکمہ کسٹمز اس ایجنسی کی سربراہی کرے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایکشن پلان میں پنجاب، خیبرپختونخوا اور سندھ میں غیرقانونی پیٹرولیم آؤٹ لیٹس کے خلاف کریک ڈاؤن شامل ہے، اس کے علاوہ ان کے مالکان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی جبکہ آئل اسٹیشنز اور مالک کی دیگر جائیداد کو وفاقی حکومت کے حق میں ضبط کرنے کی کارروائی شروع کی جائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1149180"&gt;پیٹرولیم بحران رپورٹ: کمیشن کی اوگرا تحلیل کرنے کی سفارش&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم بلوچستان میں غیرقانونی پیٹرولیم آؤٹ لیٹس کے خلاف کارروائی بعد میں کی جائے گی، مزید یہ اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے وزارت پیٹروم، وزارت خارجہ کے ساتھ ایران سے تیل، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قانونی درآمد کے امکانات کو بھی تلاش کرے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اندازے کے مطابق پنجاب میں سب سے زیاد غیرقانونی پیٹرولیم آؤٹ لیٹس ہیں جس کی تعداد ایک ہزار 317 ہے، اس کے بعد خیبرپختونخوا میں 343، سندھ میں 336 اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری اور راولپنڈی ڈویژن میں 98 ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کراچی میں 68 غیرقانونی پیٹرولیم آؤٹ لیٹس اسمگل پیٹرول فروخت کرتے ہیں، جس کے بعد پشاور میں ایسے آؤٹ لیٹس کی تعداد 55 ہے تاہم لاہور میں ایسے کوئی غیرقانونی پیٹرولیم آؤٹ لیٹ کی اطلاع نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک سرکاری ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ کچھ معاملات میں پیٹرولیم آؤٹ لیٹس خاص طور پر سندھ میں بیوروکریٹس کی ملکیت ہیں اور صوبائی چیف سیکریٹریز، انسپکٹرز جنرل پولیس کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیرقانونی پیٹرولیم آؤٹ لیٹس کی اصل تعداد محکمہ کسٹمز سے شیئر کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عہدیدار نے بتایا کہ بلوچستان کو ان آؤٹ لیٹس کو اسمگل پیٹرولیم مصنوعات کے بڑے سپلائی روٹس میں سے ایک کے طور پر دیکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ آپریشن کی نگرانی پاکستان کسٹمز کے ذریعے سینٹرل کنٹرول روم سے کی جائے گی جو وزارت داخلہ میں ہے اور متعلقہ صوبوں کے چیف سیکریٹریز کے دفاتر میں صوبائی کنٹرول رومز ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مزید یہ کہ قریبی رابطے کے لیے صوبائی کنٹرول رومز میں کسٹمز، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر ایجنسیز سے 19 ویں گریڈ کے افسران کو فوکل پرسنز مقرر کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان کے پاس دستیاب ایکشن پلان کے مطابق غیرقانونی آؤٹ لیٹس کے خلاف آپریشن کو 2 مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے، ابتدائی مرحلہ تین صوبوں پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا میں ان غیرقانونی پیٹرولیم آئل لبریکنٹس (پی او ایل) ریٹیل آؤٹ لیٹس کے خلاف بیک وقت کارروائی پر مشتمل ہوگا، جس کی کسمٹرز کی جانب سے جیو میپنگ پہلے ہی کرلی گئی ہے اور بلوچستان سے ملک بھر میں پی او ایل مصنوعات کی اسمگلنگ کے سپلائی روٹس کو بند کیا جارہا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسرے مرحلے میں بلوچستان میں پی او ایل مصنوعات کی ضروریات کی نقشہ سازی، اسمگل شدہ تیل کی کمی کو قانونی ریٹیل آؤٹ لیٹس سے تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی اور بلوچستان کی بین الاقوامی سرحد پر پی او ایل اسمگلنگ کو روکنے کی حکمت عملی مرتب کرنا شامل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان کسٹمز اس آپریشن کو کرنے کے لیے سب سے اہم ایجنسی ہوگی جسے متعلقہ وزارتوں، محکموں، صوبائی حکومتوں اور دیگر حکومتی اداروں کی حمایت حاصل ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ کسٹمز کی جانب سے اچھی طرح سے وضع کردہ ایس او پیز کے بعد تینوں صوبوں میں یکساں اور مؤثر آپریشن کیا جائے گا، مزید یہ کہ کسٹمز، ضلعی انتظامیہ، پولیس، رینجرز کے افسران پر مشتمل عملدرآمد ٹیمیں اور میں مشترکہ طور پر تمام غیرقانونی آؤٹ لیٹس کے خلاف آپریشن کروں گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بھی بتایا گیا کہ اگر پیٹرول اسٹیشن کا مالک یا منیجر آئل مارکیٹنگ کمپنی کی تصدیق اور ڈپارٹمنٹ آف ایکسپلوزو کے فارم-کے پر سی آئی ای کا لائسنس پیش کرنے میں ناکام رہتا ہے تو یہ ریٹیل اسٹور ’غیرقانونی‘ تصور کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;غیرقانونی آؤٹ لیٹ میں پی او ایل مصنوعات کی ایک تفصیلی انوینٹری بنائی جائے گی، مزید یہ کہ ذخیرہ کرنے والے ٹینکس اور ڈسپینسرز کے نوزلز کو کسٹمز اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مشترکہ طور پر سیل کیا جائے گا اور اسے پولیس کی حفاظت میں دے دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1026299"&gt;’ایرانی تیل کی اسمگلنگ میں پولیس افسران ملوث‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ کسٹمز کی جانب سے کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت غیرقانونی پیٹرول اسٹیشنز کے مالک یا منیجر کو ضروری نوٹسز جاری کیے جائیں گے، جس کے بعد 7 دن میں مالک کی جانب سے کوئی دستاویزات پیش نہ کرنے کی صورت میں مالک کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی اور آئل اسٹیشن اور مالک کی دیگر جائیداد کو کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعات کے تحت حکومت کے حق میں ضبط کرنے کی کارروائی شروع ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں بلوچستان سے ملک بھر کو پی او ایل کی اسمگلنگ کے راستوں کی نگرانی کی جائے گی اور کسٹم کی چیک پوسٹس کو مضبوط کرنے کے علاوہ اہم مقامات جیسے گڈانی-کراس، بیرونی خضدار ایم-8، کول پور، رکھنی، منی خاوا اور دریا خان پل پر ایف سی، پولیس/لیویز اور آئی ایس آئی کے نمائندوں کی مدد سے اسے روکا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مزید برآں بلوچستان میں چلنے والے دیگر ٹینکرز اور پی ایس او کے تمام ٹینکرز میں ٹریکرز نصب کیے جائیں گے تاکہ ریئل ٹائم ڈیٹا اور الرٹس مل سکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: تیل کی اسمگلنگ کے خلاف بڑا قدم اٹھاتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے 3 صوبوں میں 2 ہزار 94 غیرقانونی پیٹرول آؤٹ لیٹس کے خلاف اور بلوچستان میں سرحدی اسٹیشنز پر پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے ایک جامع ایکشن پلان منظور کرلیا۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1599346/pm-orders-action-against-fuel-smuggling-across-iran-border"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ایک پریزینٹیشن کے دوران کسٹمز حکام نے وزیراعظم کو بتایا کہ پیٹرولیم  مصنوعات کی غیرقانونی فروخت سے قومی خزانے کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ 100 سے 150 ارب روپے سالانہ ہے۔</p>

<p>تاہم اب اس آپریشنز میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں محکمہ کسٹمز اس ایجنسی کی سربراہی کرے گا۔</p>

<p>ایکشن پلان میں پنجاب، خیبرپختونخوا اور سندھ میں غیرقانونی پیٹرولیم آؤٹ لیٹس کے خلاف کریک ڈاؤن شامل ہے، اس کے علاوہ ان کے مالکان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی جبکہ آئل اسٹیشنز اور مالک کی دیگر جائیداد کو وفاقی حکومت کے حق میں ضبط کرنے کی کارروائی شروع کی جائے گی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1149180">پیٹرولیم بحران رپورٹ: کمیشن کی اوگرا تحلیل کرنے کی سفارش</a></strong></p>

<p>تاہم بلوچستان میں غیرقانونی پیٹرولیم آؤٹ لیٹس کے خلاف کارروائی بعد میں کی جائے گی، مزید یہ اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے وزارت پیٹروم، وزارت خارجہ کے ساتھ ایران سے تیل، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قانونی درآمد کے امکانات کو بھی تلاش کرے گی۔</p>

<p>اندازے کے مطابق پنجاب میں سب سے زیاد غیرقانونی پیٹرولیم آؤٹ لیٹس ہیں جس کی تعداد ایک ہزار 317 ہے، اس کے بعد خیبرپختونخوا میں 343، سندھ میں 336 اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری اور راولپنڈی ڈویژن میں 98 ہیں۔</p>

<p>کراچی میں 68 غیرقانونی پیٹرولیم آؤٹ لیٹس اسمگل پیٹرول فروخت کرتے ہیں، جس کے بعد پشاور میں ایسے آؤٹ لیٹس کی تعداد 55 ہے تاہم لاہور میں ایسے کوئی غیرقانونی پیٹرولیم آؤٹ لیٹ کی اطلاع نہیں۔</p>

<p>ایک سرکاری ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ کچھ معاملات میں پیٹرولیم آؤٹ لیٹس خاص طور پر سندھ میں بیوروکریٹس کی ملکیت ہیں اور صوبائی چیف سیکریٹریز، انسپکٹرز جنرل پولیس کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیرقانونی پیٹرولیم آؤٹ لیٹس کی اصل تعداد محکمہ کسٹمز سے شیئر کریں۔</p>

<p>عہدیدار نے بتایا کہ بلوچستان کو ان آؤٹ لیٹس کو اسمگل پیٹرولیم مصنوعات کے بڑے سپلائی روٹس میں سے ایک کے طور پر دیکھا گیا ہے۔</p>

<p>مذکورہ آپریشن کی نگرانی پاکستان کسٹمز کے ذریعے سینٹرل کنٹرول روم سے کی جائے گی جو وزارت داخلہ میں ہے اور متعلقہ صوبوں کے چیف سیکریٹریز کے دفاتر میں صوبائی کنٹرول رومز ہیں۔</p>

<p>مزید یہ کہ قریبی رابطے کے لیے صوبائی کنٹرول رومز میں کسٹمز، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر ایجنسیز سے 19 ویں گریڈ کے افسران کو فوکل پرسنز مقرر کیا جائے گا۔</p>

<p>ڈان کے پاس دستیاب ایکشن پلان کے مطابق غیرقانونی آؤٹ لیٹس کے خلاف آپریشن کو 2 مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے، ابتدائی مرحلہ تین صوبوں پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا میں ان غیرقانونی پیٹرولیم آئل لبریکنٹس (پی او ایل) ریٹیل آؤٹ لیٹس کے خلاف بیک وقت کارروائی پر مشتمل ہوگا، جس کی کسمٹرز کی جانب سے جیو میپنگ پہلے ہی کرلی گئی ہے اور بلوچستان سے ملک بھر میں پی او ایل مصنوعات کی اسمگلنگ کے سپلائی روٹس کو بند کیا جارہا ہے۔ </p>

<p>دوسرے مرحلے میں بلوچستان میں پی او ایل مصنوعات کی ضروریات کی نقشہ سازی، اسمگل شدہ تیل کی کمی کو قانونی ریٹیل آؤٹ لیٹس سے تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی اور بلوچستان کی بین الاقوامی سرحد پر پی او ایل اسمگلنگ کو روکنے کی حکمت عملی مرتب کرنا شامل ہے۔</p>

<p>پاکستان کسٹمز اس آپریشن کو کرنے کے لیے سب سے اہم ایجنسی ہوگی جسے متعلقہ وزارتوں، محکموں، صوبائی حکومتوں اور دیگر حکومتی اداروں کی حمایت حاصل ہوگی۔</p>

<p>انہوں نے بتایا کہ کسٹمز کی جانب سے اچھی طرح سے وضع کردہ ایس او پیز کے بعد تینوں صوبوں میں یکساں اور مؤثر آپریشن کیا جائے گا، مزید یہ کہ کسٹمز، ضلعی انتظامیہ، پولیس، رینجرز کے افسران پر مشتمل عملدرآمد ٹیمیں اور میں مشترکہ طور پر تمام غیرقانونی آؤٹ لیٹس کے خلاف آپریشن کروں گا۔</p>

<p>یہ بھی بتایا گیا کہ اگر پیٹرول اسٹیشن کا مالک یا منیجر آئل مارکیٹنگ کمپنی کی تصدیق اور ڈپارٹمنٹ آف ایکسپلوزو کے فارم-کے پر سی آئی ای کا لائسنس پیش کرنے میں ناکام رہتا ہے تو یہ ریٹیل اسٹور ’غیرقانونی‘ تصور کیا جائے گا۔</p>

<p>غیرقانونی آؤٹ لیٹ میں پی او ایل مصنوعات کی ایک تفصیلی انوینٹری بنائی جائے گی، مزید یہ کہ ذخیرہ کرنے والے ٹینکس اور ڈسپینسرز کے نوزلز کو کسٹمز اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مشترکہ طور پر سیل کیا جائے گا اور اسے پولیس کی حفاظت میں دے دیا جائے گا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1026299">’ایرانی تیل کی اسمگلنگ میں پولیس افسران ملوث‘</a></strong></p>

<p>اس کے علاوہ کسٹمز کی جانب سے کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت غیرقانونی پیٹرول اسٹیشنز کے مالک یا منیجر کو ضروری نوٹسز جاری کیے جائیں گے، جس کے بعد 7 دن میں مالک کی جانب سے کوئی دستاویزات پیش نہ کرنے کی صورت میں مالک کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی اور آئل اسٹیشن اور مالک کی دیگر جائیداد کو کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعات کے تحت حکومت کے حق میں ضبط کرنے کی کارروائی شروع ہوگی۔</p>

<p>علاوہ ازیں بلوچستان سے ملک بھر کو پی او ایل کی اسمگلنگ کے راستوں کی نگرانی کی جائے گی اور کسٹم کی چیک پوسٹس کو مضبوط کرنے کے علاوہ اہم مقامات جیسے گڈانی-کراس، بیرونی خضدار ایم-8، کول پور، رکھنی، منی خاوا اور دریا خان پل پر ایف سی، پولیس/لیویز اور آئی ایس آئی کے نمائندوں کی مدد سے اسے روکا جائے گا۔</p>

<p>مزید برآں بلوچستان میں چلنے والے دیگر ٹینکرز اور پی ایس او کے تمام ٹینکرز میں ٹریکرز نصب کیے جائیں گے تاکہ ریئل ٹائم ڈیٹا اور الرٹس مل سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1150695</guid>
      <pubDate>Sun, 03 Jan 2021 14:03:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/01/5ff171047234c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="609">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/01/5ff171047234c.jpg"/>
        <media:title>پیٹرولیم مصنوعات کی غیرقانونی فروخت سے 150 ارب روپے تک سالانہ نقصان کا تخمینہ ہے—فائل فوٹو: محمد اکبر نوتیزئی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
