<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 16:55:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 16:55:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم نے نوجوان کے قتل کا نوٹس لے لیا، 24 گھنٹوں میں رپورٹ طلب
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1150757/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں نوجوان اسامہ ستی کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے وزارت داخلہ شیخ رشید احمد کو ہدایت کی ہے کہ وہ 24 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ ہفتے کو اسلام آباد پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے 5 اہلکاروں نے فائرنگ کرکے ایک نوجوان اسامہ ستی کو جاں بحق کردیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1599535/pm-takes-notice-of-mans-killing-in-islamabad-wants-report-in-24-hours"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر معاون خصوصی برائے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سید ذوالفقار عباس بخاری اور وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی نے سیکٹر جی-13 میں متوفی کے گھر کا دورہ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1150718/"&gt;اسامہ قتل کیس: اے ٹی ایس کے 5 اہلکاروں کا 3 روزہ ریمانڈ منظور&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وہیں اتوار کو جوڈیشل مجسٹریٹ نے قتل میں ملوث 5 اہلکاروں کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ واقعے میں اسلام آباد چیف کمشنر عامر علی احمد کی جانب سے جوڈیشل انکوائری کا پہلے ہی حکم دیا جاچکا ہے جبکہ واقعہ کا مقدمہ بھی لڑکے کے والد کی مدعیت میں رمنا تھانے میں درج ہوا ہے، جس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 اور تعزیرات پاکستان کی دفعات 302، 148 اور 149 لگائی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف آئی آر میں والد ندیم ستی نے مؤقف اپنایا ہے کہ قتل سے ایک دن قبل ان کے بیٹے کا سی ٹی ڈی اہلکاروں کے ساتھ جھگڑا ہوا تھا اور پولیس اہلکاروں نے اسے مزہ چکھانے کی دھمکی دی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ ایف آئی آر کے مطابق 2 جنوری کی رات 2 بجے جب اسامہ سیکٹر ایچ-11 میں ایک دوست کو چھوڑ کر واپس آرہا تھا تو پولیس حکام نے اس کی گاڑی کو روکا اور چاروں طرف سے فائر کیے جس سے اس کی موت واقع ہوئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم پولیس کے ترجمان کے بیان میں یہ کہا گیا تھا کہ سیکیورٹی اہلکاروں کو تقریباً ڈیڑھ بجے کال موصول ہوئی کہ سفید گاڑی میں موجود کچھ ڈکیت سیکٹر ایچ-13 تھانہ شمس کالونی کی حدود میں ڈکیتی کرکے آرہے ہیں، اطلاع موصول ہونے پر پیٹرول ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں نے ردعمل دیا اور سیاہ شیشوں والی سوزوکی کار کو روکنے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا تھا کہ تاہم پولیس حکام کی جانب سے متعدد مرتبہ کہنے کے باوجود ڈرائیور نے گاڑی نہیں روکی، جس پر پولیس اہلکاروں نے 5 کلومیٹر تک اس کا پیچھا گیا لیکن ڈرائیور نے گاڑی ہلکی نہیں کی، بالآخر پولیس نے گاڑی پر فائر کیے لیکن بدقسمتی سے وہ ڈرائیور کو لگے اور وہ زخمی ہوگیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) محمد عامر ذوالفقار خان نے فوری طور پر ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی جس کی سربراہی ڈی آئی جی وقار الدین سید کو سونپی گئی اور سب انسپکٹر افتخار احمد اور کانسٹیبلز مدثر مختار، شکیل احمد، سعید احمد اور محمد مصطفیٰ کی گرفتاری کا حکم دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1150641"&gt;اسلام آباد میں پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے نوجوان جاں بحق، دہشتگردی کا مقدمہ درج&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ادھر اتوار کو زلفی بخاری اور شہریار آفریدی، اسامہ ستی مرحوم کے گھر پہنچے اور اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور یقین دلایا کہ ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب پولیس عہدیدار کے مطابق متوفی کے خلاف تو مجرمانہ کیسز رجسٹرڈ تھے، جس میں سے ایک جولائی 2018 میں دھوکا دہی جبکہ دوسرا اکتوبر 2018 میں منشیات ایکٹ کے تحت تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم ایک ریٹائرڈ سینئر پولیس افسر نے ڈان کو بتایا کہ کچھ پولیس حکام کی جانب سے 2018 کی ایک کمپیوٹرائزڈ ایف آئی آر زیرگردش ہے، لہٰذا یہ ’جعلی‘ ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’یہاں تک کہ اگر اعتراض کی خاطر یہ مان بھی لیا جائے کہ یہ ایف آئی آر اصلی ہے، تب بھی پولیس کو متوفی کو گولی مارنے کا کوئی حق نہیں تھا، مزید یہ کہ والد کا بیان اہم ہے کیونکہ انہوں نے کہا ہے کہ ان کے بیٹے کی ایک روز قبل پولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی ہوئی تھی اور بیٹے نے انہیں اس سے متعلق بتایا تھا‘۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں نوجوان اسامہ ستی کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے وزارت داخلہ شیخ رشید احمد کو ہدایت کی ہے کہ وہ 24 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کریں۔</p>

<p>واضح رہے کہ ہفتے کو اسلام آباد پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے 5 اہلکاروں نے فائرنگ کرکے ایک نوجوان اسامہ ستی کو جاں بحق کردیا تھا۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1599535/pm-takes-notice-of-mans-killing-in-islamabad-wants-report-in-24-hours"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر معاون خصوصی برائے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سید ذوالفقار عباس بخاری اور وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی نے سیکٹر جی-13 میں متوفی کے گھر کا دورہ کیا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1150718/">اسامہ قتل کیس: اے ٹی ایس کے 5 اہلکاروں کا 3 روزہ ریمانڈ منظور</a></strong></p>

<p>وہیں اتوار کو جوڈیشل مجسٹریٹ نے قتل میں ملوث 5 اہلکاروں کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔</p>

<p>مذکورہ واقعے میں اسلام آباد چیف کمشنر عامر علی احمد کی جانب سے جوڈیشل انکوائری کا پہلے ہی حکم دیا جاچکا ہے جبکہ واقعہ کا مقدمہ بھی لڑکے کے والد کی مدعیت میں رمنا تھانے میں درج ہوا ہے، جس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 اور تعزیرات پاکستان کی دفعات 302، 148 اور 149 لگائی گئی ہیں۔</p>

<p>ایف آئی آر میں والد ندیم ستی نے مؤقف اپنایا ہے کہ قتل سے ایک دن قبل ان کے بیٹے کا سی ٹی ڈی اہلکاروں کے ساتھ جھگڑا ہوا تھا اور پولیس اہلکاروں نے اسے مزہ چکھانے کی دھمکی دی تھی۔</p>

<p>مذکورہ ایف آئی آر کے مطابق 2 جنوری کی رات 2 بجے جب اسامہ سیکٹر ایچ-11 میں ایک دوست کو چھوڑ کر واپس آرہا تھا تو پولیس حکام نے اس کی گاڑی کو روکا اور چاروں طرف سے فائر کیے جس سے اس کی موت واقع ہوئی۔</p>

<p>تاہم پولیس کے ترجمان کے بیان میں یہ کہا گیا تھا کہ سیکیورٹی اہلکاروں کو تقریباً ڈیڑھ بجے کال موصول ہوئی کہ سفید گاڑی میں موجود کچھ ڈکیت سیکٹر ایچ-13 تھانہ شمس کالونی کی حدود میں ڈکیتی کرکے آرہے ہیں، اطلاع موصول ہونے پر پیٹرول ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں نے ردعمل دیا اور سیاہ شیشوں والی سوزوکی کار کو روکنے کی کوشش کی۔</p>

<p>بیان میں کہا گیا تھا کہ تاہم پولیس حکام کی جانب سے متعدد مرتبہ کہنے کے باوجود ڈرائیور نے گاڑی نہیں روکی، جس پر پولیس اہلکاروں نے 5 کلومیٹر تک اس کا پیچھا گیا لیکن ڈرائیور نے گاڑی ہلکی نہیں کی، بالآخر پولیس نے گاڑی پر فائر کیے لیکن بدقسمتی سے وہ ڈرائیور کو لگے اور وہ زخمی ہوگیا۔</p>

<p>اس بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) محمد عامر ذوالفقار خان نے فوری طور پر ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی جس کی سربراہی ڈی آئی جی وقار الدین سید کو سونپی گئی اور سب انسپکٹر افتخار احمد اور کانسٹیبلز مدثر مختار، شکیل احمد، سعید احمد اور محمد مصطفیٰ کی گرفتاری کا حکم دیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1150641">اسلام آباد میں پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے نوجوان جاں بحق، دہشتگردی کا مقدمہ درج</a></strong></p>

<p>ادھر اتوار کو زلفی بخاری اور شہریار آفریدی، اسامہ ستی مرحوم کے گھر پہنچے اور اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور یقین دلایا کہ ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔</p>

<p>دوسری جانب پولیس عہدیدار کے مطابق متوفی کے خلاف تو مجرمانہ کیسز رجسٹرڈ تھے، جس میں سے ایک جولائی 2018 میں دھوکا دہی جبکہ دوسرا اکتوبر 2018 میں منشیات ایکٹ کے تحت تھا۔</p>

<p>تاہم ایک ریٹائرڈ سینئر پولیس افسر نے ڈان کو بتایا کہ کچھ پولیس حکام کی جانب سے 2018 کی ایک کمپیوٹرائزڈ ایف آئی آر زیرگردش ہے، لہٰذا یہ ’جعلی‘ ہوسکتی ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ’یہاں تک کہ اگر اعتراض کی خاطر یہ مان بھی لیا جائے کہ یہ ایف آئی آر اصلی ہے، تب بھی پولیس کو متوفی کو گولی مارنے کا کوئی حق نہیں تھا، مزید یہ کہ والد کا بیان اہم ہے کیونکہ انہوں نے کہا ہے کہ ان کے بیٹے کی ایک روز قبل پولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی ہوئی تھی اور بیٹے نے انہیں اس سے متعلق بتایا تھا‘۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1150757</guid>
      <pubDate>Mon, 04 Jan 2021 14:15:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اکرام جنیدی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/01/5ff2a47796958.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/01/5ff2a47796958.png"/>
        <media:title>پولیس اہلکاروں نے گاڑی پر فائرنگ کی تھی—فائل فوٹو: شکیل قرار
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
