<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 22:25:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 22:25:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دسمبر میں پاکستان کے تجارتی خسارے میں 32 فیصد اضافہ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1151118/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: ادارہ شماریات پاکستان (پی بی ایس) کی جانب سے جاری حالیہ اعداد و شمات کے مطابق پاکستان کا تجارتی خسارہ 32.04 فیصد بڑھ کر 2 ارب 63 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا جو گزشتہ مالی سال میں اس ماہ تک 2 ارب 3 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1600318/december-trade-deficit-widens-by-32pc"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ملکی درآمدات ماہ ستمبر سے ہی اضافے کی جانب تھی تاہم برآمدات میں کمی کے باوجود درآمدات میں کمی کی وجہ سے حکومت کو بیرونی اکاؤنٹس سنبھالنے میں سکون کا سانس ملا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم اب امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ پاکستان کی درآمدات میں آنے والے چند ماہ کے دوران خام مال اور نیم تیار مصنوعات کی درآمدات پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے خاتمے کے بعد اس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1149998"&gt;جولائی سے اکتوبر کے دوران مالی خسارہ 189 ارب روپے تک بڑھ گیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رواں مالی سال کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران ملکی تجارتی خسارے میں 6.44 فیصد اضافہ ہوا ہے جو 11 ارب 67 کروڑ 10 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 12 ارب 42 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تک نہیں گیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ مالی سال کے دوران تجارتی خسارہ 31 ارب 82 کروڑ ڈالر سے کم ہوکر 23 ارب 9 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ہوگیا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح دسمبر میں درآمدات میں سالانہ بنیاد پر 25.25 فیصد اضافہ ہوا ہے جو گزشتہ برس کے 4 ارب 2 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر اب 5 ارب 3 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہوگئی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ جون 2018 کے بعد اسے یہ پاکستانی برآمدات میں اب تک کا سب سے بڑا اضافہ ہے جبکہ اگر صرف ماہانہ بنیاد پر بات کی جائے تو نومبر کے مقابلے میں دسمبر کے دوران درآمدات میں 16.69 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رواں مالی سال کے ابتدائی 6 ماہ کی بات کی جائے تو پاکستان کی درآمدات میں 5.72 فیصد اضافہ ہوا ہے جو گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی کے 23 ارب 19 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر 24 ارب 52 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح اگر مالی سال 20-2019 کی بات کی جائے تو اُس سے گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں اِس سال درآمدات میں 18.78 فیصد حوصلہ افزا کمی دیکھنے میں آئی تو جو 54 ارب 79 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سے کم ہوکر 44 ارب 50 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ہوگئی تھی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تمام تر صورتحال کے باوجود وزارت تجارت یا وزارت خزانہ کی جانب سے اب تک اس پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے تاہم وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں خطے کے دیگر ممالک بھارت اور بنگلہ دیش کی برآمدات سے متعلق بیان دیا جس میں کہا گیا کہ ان ممالک کی نومبر اور دسمبر 2020 میں برآمدات کی شرح منفی رہی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143598"&gt;ستمبر کے مہینے میں تجارتی خسارہ 19.5 فیصد بڑھ گیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان کی برآمدات میں 18.30 فیصد اضافے کے مقابلے میں بھارت کی منفی 0.8 فیصد اور بنگلہ دیش کی 6.11 فیصد برآمدات رہیں، جس پر وزیراعظم نے وزارتِ تجارت اور برآمد کنندگان کو مبارکباد بھی دی۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ff8157a82bd9'&gt;برآمدات میں اضافے کا امکان&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;دریں اثنا وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف نے اسلام آباد میں قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی رسائی کو بریفنگ دی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اجلاس کی صدارت وزیر اعظم عمران خان کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈاکٹر معید یوسف نے اجلاس کو بریفنگ میں بتایا کہ متعلقہ سرکاری وزارتوں، صوبوں اور نجی شعبے کے مشورے سے سامان اور خدمات کی برآمدی صلاحیت کے بارے میں وسیع پیمانے پر نقشہ سازی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیکسٹائل، زراعت، گوشت، چمڑے، مٹی اور سیرامکس کے برتن، مشینری اور آٹو پارٹس، دھاتیں اور سرجیکل آلات 31 ارب ڈالر کی اضافی برآمدی صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ طبی اور مذہبی سیاحت، نقل و حمل خدمات، افرادی قوت، دواسازی، ماربل اور گرینائٹ اور نمک کی مصنوعات سے اضافی 2 ارب ڈالر حاصل کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے آگاہ کیا کہ متحدہ عرب امارات، امریکا، چین، جرمنی، برطانیہ، فرانس، انڈونیشیا، اسپین، الجزائر اور ملائیشیا کو 16 ارب 70 کروڑ امریکی ڈالر کی اضافی برآمدات کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: ادارہ شماریات پاکستان (پی بی ایس) کی جانب سے جاری حالیہ اعداد و شمات کے مطابق پاکستان کا تجارتی خسارہ 32.04 فیصد بڑھ کر 2 ارب 63 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا جو گزشتہ مالی سال میں اس ماہ تک 2 ارب 3 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھا۔ </p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1600318/december-trade-deficit-widens-by-32pc"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ملکی درآمدات ماہ ستمبر سے ہی اضافے کی جانب تھی تاہم برآمدات میں کمی کے باوجود درآمدات میں کمی کی وجہ سے حکومت کو بیرونی اکاؤنٹس سنبھالنے میں سکون کا سانس ملا تھا۔ </p>

<p>تاہم اب امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ پاکستان کی درآمدات میں آنے والے چند ماہ کے دوران خام مال اور نیم تیار مصنوعات کی درآمدات پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے خاتمے کے بعد اس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1149998">جولائی سے اکتوبر کے دوران مالی خسارہ 189 ارب روپے تک بڑھ گیا</a></strong> </p>

<p>رواں مالی سال کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران ملکی تجارتی خسارے میں 6.44 فیصد اضافہ ہوا ہے جو 11 ارب 67 کروڑ 10 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 12 ارب 42 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تک نہیں گیا۔ </p>

<p>گزشتہ مالی سال کے دوران تجارتی خسارہ 31 ارب 82 کروڑ ڈالر سے کم ہوکر 23 ارب 9 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ہوگیا تھا۔ </p>

<p>اسی طرح دسمبر میں درآمدات میں سالانہ بنیاد پر 25.25 فیصد اضافہ ہوا ہے جو گزشتہ برس کے 4 ارب 2 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر اب 5 ارب 3 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہوگئی ہے۔ </p>

<p>واضح رہے کہ جون 2018 کے بعد اسے یہ پاکستانی برآمدات میں اب تک کا سب سے بڑا اضافہ ہے جبکہ اگر صرف ماہانہ بنیاد پر بات کی جائے تو نومبر کے مقابلے میں دسمبر کے دوران درآمدات میں 16.69 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ </p>

<p>رواں مالی سال کے ابتدائی 6 ماہ کی بات کی جائے تو پاکستان کی درآمدات میں 5.72 فیصد اضافہ ہوا ہے جو گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی کے 23 ارب 19 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر 24 ارب 52 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ </p>

<p>اسی طرح اگر مالی سال 20-2019 کی بات کی جائے تو اُس سے گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں اِس سال درآمدات میں 18.78 فیصد حوصلہ افزا کمی دیکھنے میں آئی تو جو 54 ارب 79 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سے کم ہوکر 44 ارب 50 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ہوگئی تھی۔ </p>

<p>اس تمام تر صورتحال کے باوجود وزارت تجارت یا وزارت خزانہ کی جانب سے اب تک اس پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے تاہم وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں خطے کے دیگر ممالک بھارت اور بنگلہ دیش کی برآمدات سے متعلق بیان دیا جس میں کہا گیا کہ ان ممالک کی نومبر اور دسمبر 2020 میں برآمدات کی شرح منفی رہی۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143598">ستمبر کے مہینے میں تجارتی خسارہ 19.5 فیصد بڑھ گیا</a></strong> </p>

<p>پاکستان کی برآمدات میں 18.30 فیصد اضافے کے مقابلے میں بھارت کی منفی 0.8 فیصد اور بنگلہ دیش کی 6.11 فیصد برآمدات رہیں، جس پر وزیراعظم نے وزارتِ تجارت اور برآمد کنندگان کو مبارکباد بھی دی۔</p>

<h3 id='5ff8157a82bd9'>برآمدات میں اضافے کا امکان</h3>

<p>دریں اثنا وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف نے اسلام آباد میں قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی رسائی کو بریفنگ دی۔</p>

<p>اجلاس کی صدارت وزیر اعظم عمران خان کر رہے تھے۔</p>

<p>ڈاکٹر معید یوسف نے اجلاس کو بریفنگ میں بتایا کہ متعلقہ سرکاری وزارتوں، صوبوں اور نجی شعبے کے مشورے سے سامان اور خدمات کی برآمدی صلاحیت کے بارے میں وسیع پیمانے پر نقشہ سازی کی گئی ہے۔</p>

<p>انہوں نے بتایا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیکسٹائل، زراعت، گوشت، چمڑے، مٹی اور سیرامکس کے برتن، مشینری اور آٹو پارٹس، دھاتیں اور سرجیکل آلات 31 ارب ڈالر کی اضافی برآمدی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>

<p>انہوں نے مزید کہا کہ طبی اور مذہبی سیاحت، نقل و حمل خدمات، افرادی قوت، دواسازی، ماربل اور گرینائٹ اور نمک کی مصنوعات سے اضافی 2 ارب ڈالر حاصل کیا جاسکتا ہے۔</p>

<p>انہوں نے آگاہ کیا کہ متحدہ عرب امارات، امریکا، چین، جرمنی، برطانیہ، فرانس، انڈونیشیا، اسپین، الجزائر اور ملائیشیا کو 16 ارب 70 کروڑ امریکی ڈالر کی اضافی برآمدات کا امکان ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1151118</guid>
      <pubDate>Fri, 08 Jan 2021 13:19:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/01/5ff80b440cc74.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/01/5ff80b440cc74.jpg"/>
        <media:title>پاکستان کا تجارتی خسارہ 2 ارب 63 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا جو گزشتہ مالی سال میں اس ماہ 2 ارب 3 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھا۔ - فائل فوٹو:رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
