<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 20:27:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 20:27:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان: ڈیڑھ ماہ میں کورونا کے فعال کیسز میں 15 ہزار تک کی کمی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1151388/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: ملک بھر میں جہاں کورونا وائرس کی دوسری لہر جاری ہے وہی ڈیڑھ ماہ کے دوران اس وبا کے فعال کیسز 15 ہزار تک کم ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1601020/number-of-active-covid-19-cases-coming-down"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق نومبر 2020 میں مجموعی کیسز کی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کرگئی تھی تاہم اس کے بعد اس میں کمی آنا شروع ہوئی اور پیر تک ملک بھر میں فعال کیسز 35 ہزار 246 تک پہنچ گئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے قومی ادارہ صحت کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’یہ دوسری مرتبہ ہے کہ کیسز کی تعداد کم ہونا شروع ہوئی ہے، اس سے قبل فروری کے آخری ہفتے میں آنے والے کووڈ 19 کے کیسز بڑھنا شروع ہوئے تھے اور فعال کیسز 50 ہزار سے تجاوز کر گئے تھے تاہم جولائی میں اس میں کمی آنا شروع ہوئی تھی اور 13 ستمبر 2020 تک صرف 5 ہزار 831 فعال کیسز رہ گئے تھے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’تاہم اکتوبر میں کیسز ایک مرتبہ پھر بڑھنا شروع ہوئے اور نومبر کے آخری ہفتے میں یہ ایک مرتبہ پھر 50 ہزار کی تعداد کو عبور کرگئے جبکہ دسمبر میں دوبارہ ان میں کمی دیکھی گئی اور یہ 40 ہزار تک پہنچ گئے، مزید یہ کہ ہمیں اُمید ہے کہ یہ مزید کم ہوں گے اور 15 ہزار سے کچھ زائد تک پہنچ جائیں گے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے بتایا کہ پیر تک ملک بھر میں 294 وینٹی لیٹرز زیر استعمال تھے تاہم آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور بلوچستان میں کوئی بھی مریض وینٹی لیٹر پر نہیں تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ ملتان میں 45 فیصد وینٹی لیٹرز زیر استعمال تھے، جس کے بعد بہاولپور میں بھی 45 فیصد تھے، مزید یہ کہ اسلام آباد میں 34 اور لاہور میں 32 فیصد وینٹی لیٹرز پر مریض موجود تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آکسیجن بیڈز سے متعلق اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ پشاور میں 53 فیصد بستر زیر استعمال ہیں، جس کے بعد ملتان میں 36 فیصد، کراچی میں 35 فیصد اور اسلام آباد میں 29 فیصد زیر استعمال ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ وائرس دسمبر 2019 میں چین میں پایا گیا تھا اور پھر اس نے پوری دنیا میں پھیلنا شروع کیا تھا، پاکستان نے اس وائرس کو روکنے کے لیے اپنی سرحدیں بند کرنے کے علاوہ مختلف دیگر اقدامات اٹھائے تھے جس کی بدولت پاکستان میں اس کا پہلا کیس فروری 2020 کے آخری ہفتے میں سامنے آیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں 13 مارچ اعلیٰ سول اور عسکری قیادت پر مشتمل قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کا پہلا اجلاس ہوا تھا جس میں اس بحران کا جائزہ لیا گیا تھا جسے بعد ازاں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے عالمی وبا قرار دے دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیراعظم عمران خان نے اس این ایس سی اجلاس کی صدارت کی تھی اور متعلقہ حکام کو ہدایت دی تھی کہ وائرس کی روک تھام کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کی جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم 16 مارچ کو لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا گیا تھا اور کنسٹرکشن سمیت مختلف صنعتیں، تعلیمی ادارے، ریسٹورنٹس، شادل ہالز وغیرہ بند کردیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تمام صورتحال میں نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) میڈیکل آلات اور صحت سے متعلق سپلائیز کی دستیابی کو جلد یقینی بنانے میں پیش پیش رہا جس کی وجہ سے صوبوں کے ساتھ تعاون میں بہتری آئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان نے افغانستان اور ایران کے ساتھ اپنی مغربی سرحد کو سیل کردیا تھا یہاں تک کہ کرتارپور کو بھی مقامی لوگوں کے لیے بند کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں کووڈ 19 سے متعلق قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی) نے 7 اگست سے تعمیراتی صنعت کو کھول دیا تھا جبکہ 8 اگست سے سیاحت کے شعبے اور 10 اگست سے ریسٹورنٹ اور ٹرانسپورٹ کے شعبے پر عائد پابندیوں کو ہٹا دیا گیا تھا تاہم تعلیمی ادارے اور شادی ہالز 15 ستمبر سے کھولے گئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مزید برآں چونکہ سیاحتی مقام کے کھولنے سے لوگوں کی بڑی تعداد آرہی تھی تاہم ایس او پیز کا خیال نہیں رکھا جارہا تھا جس کی وجہ سے گلگت بلتستان نے اپنے سیاحتی مقامات کو بند کردیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 12 جنوری 2021 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: ملک بھر میں جہاں کورونا وائرس کی دوسری لہر جاری ہے وہی ڈیڑھ ماہ کے دوران اس وبا کے فعال کیسز 15 ہزار تک کم ہوئے ہیں۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1601020/number-of-active-covid-19-cases-coming-down"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق نومبر 2020 میں مجموعی کیسز کی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کرگئی تھی تاہم اس کے بعد اس میں کمی آنا شروع ہوئی اور پیر تک ملک بھر میں فعال کیسز 35 ہزار 246 تک پہنچ گئے تھے۔</p>

<p>اس حوالے سے قومی ادارہ صحت کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’یہ دوسری مرتبہ ہے کہ کیسز کی تعداد کم ہونا شروع ہوئی ہے، اس سے قبل فروری کے آخری ہفتے میں آنے والے کووڈ 19 کے کیسز بڑھنا شروع ہوئے تھے اور فعال کیسز 50 ہزار سے تجاوز کر گئے تھے تاہم جولائی میں اس میں کمی آنا شروع ہوئی تھی اور 13 ستمبر 2020 تک صرف 5 ہزار 831 فعال کیسز رہ گئے تھے‘۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ’تاہم اکتوبر میں کیسز ایک مرتبہ پھر بڑھنا شروع ہوئے اور نومبر کے آخری ہفتے میں یہ ایک مرتبہ پھر 50 ہزار کی تعداد کو عبور کرگئے جبکہ دسمبر میں دوبارہ ان میں کمی دیکھی گئی اور یہ 40 ہزار تک پہنچ گئے، مزید یہ کہ ہمیں اُمید ہے کہ یہ مزید کم ہوں گے اور 15 ہزار سے کچھ زائد تک پہنچ جائیں گے‘۔</p>

<p>علاوہ ازیں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے بتایا کہ پیر تک ملک بھر میں 294 وینٹی لیٹرز زیر استعمال تھے تاہم آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور بلوچستان میں کوئی بھی مریض وینٹی لیٹر پر نہیں تھا۔</p>

<p>اس اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ ملتان میں 45 فیصد وینٹی لیٹرز زیر استعمال تھے، جس کے بعد بہاولپور میں بھی 45 فیصد تھے، مزید یہ کہ اسلام آباد میں 34 اور لاہور میں 32 فیصد وینٹی لیٹرز پر مریض موجود تھے۔</p>

<p>آکسیجن بیڈز سے متعلق اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ پشاور میں 53 فیصد بستر زیر استعمال ہیں، جس کے بعد ملتان میں 36 فیصد، کراچی میں 35 فیصد اور اسلام آباد میں 29 فیصد زیر استعمال ہیں۔</p>

<p>یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ وائرس دسمبر 2019 میں چین میں پایا گیا تھا اور پھر اس نے پوری دنیا میں پھیلنا شروع کیا تھا، پاکستان نے اس وائرس کو روکنے کے لیے اپنی سرحدیں بند کرنے کے علاوہ مختلف دیگر اقدامات اٹھائے تھے جس کی بدولت پاکستان میں اس کا پہلا کیس فروری 2020 کے آخری ہفتے میں سامنے آیا تھا۔</p>

<p>بعد ازاں 13 مارچ اعلیٰ سول اور عسکری قیادت پر مشتمل قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کا پہلا اجلاس ہوا تھا جس میں اس بحران کا جائزہ لیا گیا تھا جسے بعد ازاں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے عالمی وبا قرار دے دیا گیا تھا۔</p>

<p>وزیراعظم عمران خان نے اس این ایس سی اجلاس کی صدارت کی تھی اور متعلقہ حکام کو ہدایت دی تھی کہ وائرس کی روک تھام کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کی جائے۔</p>

<p>تاہم 16 مارچ کو لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا گیا تھا اور کنسٹرکشن سمیت مختلف صنعتیں، تعلیمی ادارے، ریسٹورنٹس، شادل ہالز وغیرہ بند کردیے گئے تھے۔</p>

<p>اس تمام صورتحال میں نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) میڈیکل آلات اور صحت سے متعلق سپلائیز کی دستیابی کو جلد یقینی بنانے میں پیش پیش رہا جس کی وجہ سے صوبوں کے ساتھ تعاون میں بہتری آئی۔</p>

<p>پاکستان نے افغانستان اور ایران کے ساتھ اپنی مغربی سرحد کو سیل کردیا تھا یہاں تک کہ کرتارپور کو بھی مقامی لوگوں کے لیے بند کردیا گیا تھا۔</p>

<p>بعد ازاں کووڈ 19 سے متعلق قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی) نے 7 اگست سے تعمیراتی صنعت کو کھول دیا تھا جبکہ 8 اگست سے سیاحت کے شعبے اور 10 اگست سے ریسٹورنٹ اور ٹرانسپورٹ کے شعبے پر عائد پابندیوں کو ہٹا دیا گیا تھا تاہم تعلیمی ادارے اور شادی ہالز 15 ستمبر سے کھولے گئے تھے۔</p>

<p>مزید برآں چونکہ سیاحتی مقام کے کھولنے سے لوگوں کی بڑی تعداد آرہی تھی تاہم ایس او پیز کا خیال نہیں رکھا جارہا تھا جس کی وجہ سے گلگت بلتستان نے اپنے سیاحتی مقامات کو بند کردیا تھا۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 12 جنوری 2021 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1151388</guid>
      <pubDate>Tue, 12 Jan 2021 15:02:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اکرام جنیدی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/01/5ffd1f9ec3aca.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/01/5ffd1f9ec3aca.png"/>
        <media:title>فعال کیسز میں دوسری مرتبہ کمی دیکھی جارہی ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
