<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 20:55:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 20:55:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’صدارتی آرڈیننسز کے خلاف درخواست کے التوا کے دوران 18 آرڈیننس جاری کیے گئے‘
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1151772/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ایک قانون ساز نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ ’ضرورت سے زیادہ‘ صدارتی آرڈیننسز کے خلاف ان کی درخواست کے زیر التوا کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے 18 آرڈیننس نافذ کردیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1601961/18-ordinances-issued-during-plea-pendency-ihc-told"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق رکن قومی اسمبلی محسن نواز رانجھا نے بیرسٹر عمر گیلانی کے توسط سے دائر درخواست میں پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کرنے کے بجائے حکومتی امور چلانے کے آرڈیننسز جاری کرنے کے صدر ڈاکٹر عارف علوی کے اختیارات کو چیلنج کیا تھا، ابتدائی طور پر اس میں 8 آرڈیننس چیلنج کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست گزار کا کیس یہ ہے کہ آرڈیینس کا اختیار ایک ہنگامی طریقہ کار ہے اور یہ معمول کی قانون سازی کے لیے نہیں ہے، مزید یہ کہ یہ آئین کے آرٹیکل 89 سے واضح ہے جس میں آرڈیننس بنانے کے اختیار پر سخت شرائط لاگو کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1120932"&gt;آرڈیننس کے نفاذ کا صدارتی اختیار محدود کرنے کا بل سینیٹ میں جمع&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کا استعمال صرف اس وقت ہوتا ہے جب کسی ایسی ہنگامی صورتحال (جیسے جنگ، قحط، وبا یا بغاوت) کے لیے ردعمل دینا ضروری ہو جو پارلیمنٹ کے ایک اجلاس کے بعد پیدا ہوئی ہو اور دوسرے اجلاس کے لیے انتظار پاکستان کے عوام کے لیے ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن رہا ہو۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست میں کہا گیا کہ اس حوالے سے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بدقسمتی سے آرڈیننس کے استعمال کی طاقت کو یکے بعد دیگرے حکومتوں کی جانب سے مسلسل غلط استعمال کیا گیا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 1947 کے بعد سے پاکستان کے صدور نے 2 ہزار 500 سے زائد آرڈیننس نافذ کیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ یہ عمل جو ایگزیکٹو کی جانب سے مقننہ کے دائرہ کار میں مداخلت کے مترادف ہے پاکستان میں جاری ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست گزار نے 30 اکتوبر 2019 کو صدر کی جانب سے جاری 8 آرڈیننس کو چیلنج کیا اور 13 نومبر 2019 کے جاری حکم میں درخواست کو منظور کرتے ہوئے نوٹسز جاری کیے گئے، جس کے بعد سے مختلف تاریخ پر اس کیس کی کئی سماعتیں ہوچکی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست کے مطابق حکومت درخواست کے زیر التوا ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہے اور یہ عام قانون سازی کے معاملے سے متعلق نئے آرڈیننس جاری کر رہی ہے جبکہ پارلیمنٹ کو سائڈ لائن کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس درخواست کے زیر التوا کے دوران جن آرڈیننس کو نافذ کیا گیا ان میں اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی آرڈیننس 2020، فیڈرل میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ آرڈیننس 2020، پاکستان آئی لینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2020، انٹرنیشنل کورڈ آف جسٹس (ریویو اینڈ ری کنسڈریشن) آرڈیننس 2020، کمپنیز (ترمیم) آرڈیننس 2020، کارپوریٹ ری اسٹرکچرنگ کمپنیز (ترمیم) آرڈیننس 2020، کمپنیز (دوسری ترمیم) آرڈیننس 2020م پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (ترمیم) آرڈیننس 2020، پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (ترمیم) آرڈیننس 2020 شامل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح کووڈ 19 (ذخیرہ اندوزی کی روک تھا) آرڈیننس 2020، ٹیکس لاز (ترمیم) آرڈیننس 2020، کووڈ 19 (اسمگلنگ کی روک تھام) آرڈیننس 2020 ( III  آف 2020)، فنانشل انسٹی ٹیوشن (سیکیورڈ ٹرانسزیکشنز) (ترمیم) آرڈیننس 2020 (IV   آف 2020)، پاکستان پینل کوڈ (ترمیم) آرڈیننس 2019 (نمبر 25 آف 2019)، ٹیکس لاز (دوسری ترمیم) آرڈیننس 2019، انفارسمنٹ آف وومن پراپرٹی رائٹس (ترمیم) آرڈیننس 2019، نیشنل اکاؤنٹیبلٹی (دوسری ترمیم) آرڈیننس 2019، چین پاکستان اقتصادی راہ داری اتھارٹی آرڈینن 2019 بھی انہیں آرڈیینس میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143641"&gt;سندھ حکومت نے جزائر سے متعلق وفاقی حکومت کا صدارتی آرڈیننس مسترد کردیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس میں کہا گیا کہ یہ تمام آرڈیننس ہنگامی قانون سازی کے طور پر تصور نہیں کیے جاسکتے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست میں کہا گیا کہ صدر کو آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت آرڈیننس نافذ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے جو عارضی قانون سازی کی شکل ہے اور اس میں 2 شرائط واضح ہیں کہ آیا سینیٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں ہورہا ہو اور ایسی صورتحال ہو جس پر فوری کارروائی کی ضرورت ہو۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں مذکورہ معاملے پر سینیٹر رضا ربانی نے رپورٹ میں کہا کہ پارلیمنٹ کے سیشن میں نہ ہونے کے دوران آرڈیننس صدر کی جانب سے عارضی قانون سازی ہے اور اسے آئین سے متصادم پانے پر ختم بھی کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ایک قانون ساز نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ ’ضرورت سے زیادہ‘ صدارتی آرڈیننسز کے خلاف ان کی درخواست کے زیر التوا کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے 18 آرڈیننس نافذ کردیے۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1601961/18-ordinances-issued-during-plea-pendency-ihc-told"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق رکن قومی اسمبلی محسن نواز رانجھا نے بیرسٹر عمر گیلانی کے توسط سے دائر درخواست میں پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کرنے کے بجائے حکومتی امور چلانے کے آرڈیننسز جاری کرنے کے صدر ڈاکٹر عارف علوی کے اختیارات کو چیلنج کیا تھا، ابتدائی طور پر اس میں 8 آرڈیننس چیلنج کیے گئے تھے۔</p>

<p>درخواست گزار کا کیس یہ ہے کہ آرڈیینس کا اختیار ایک ہنگامی طریقہ کار ہے اور یہ معمول کی قانون سازی کے لیے نہیں ہے، مزید یہ کہ یہ آئین کے آرٹیکل 89 سے واضح ہے جس میں آرڈیننس بنانے کے اختیار پر سخت شرائط لاگو کی گئی ہیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1120932">آرڈیننس کے نفاذ کا صدارتی اختیار محدود کرنے کا بل سینیٹ میں جمع</a></strong></p>

<p>اس کا استعمال صرف اس وقت ہوتا ہے جب کسی ایسی ہنگامی صورتحال (جیسے جنگ، قحط، وبا یا بغاوت) کے لیے ردعمل دینا ضروری ہو جو پارلیمنٹ کے ایک اجلاس کے بعد پیدا ہوئی ہو اور دوسرے اجلاس کے لیے انتظار پاکستان کے عوام کے لیے ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن رہا ہو۔</p>

<p>درخواست میں کہا گیا کہ اس حوالے سے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بدقسمتی سے آرڈیننس کے استعمال کی طاقت کو یکے بعد دیگرے حکومتوں کی جانب سے مسلسل غلط استعمال کیا گیا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 1947 کے بعد سے پاکستان کے صدور نے 2 ہزار 500 سے زائد آرڈیننس نافذ کیے۔</p>

<p>ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ یہ عمل جو ایگزیکٹو کی جانب سے مقننہ کے دائرہ کار میں مداخلت کے مترادف ہے پاکستان میں جاری ہے۔</p>

<p>درخواست گزار نے 30 اکتوبر 2019 کو صدر کی جانب سے جاری 8 آرڈیننس کو چیلنج کیا اور 13 نومبر 2019 کے جاری حکم میں درخواست کو منظور کرتے ہوئے نوٹسز جاری کیے گئے، جس کے بعد سے مختلف تاریخ پر اس کیس کی کئی سماعتیں ہوچکی ہیں۔</p>

<p>درخواست کے مطابق حکومت درخواست کے زیر التوا ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہے اور یہ عام قانون سازی کے معاملے سے متعلق نئے آرڈیننس جاری کر رہی ہے جبکہ پارلیمنٹ کو سائڈ لائن کر رہی ہے۔</p>

<p>اس درخواست کے زیر التوا کے دوران جن آرڈیننس کو نافذ کیا گیا ان میں اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی آرڈیننس 2020، فیڈرل میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ آرڈیننس 2020، پاکستان آئی لینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2020، انٹرنیشنل کورڈ آف جسٹس (ریویو اینڈ ری کنسڈریشن) آرڈیننس 2020، کمپنیز (ترمیم) آرڈیننس 2020، کارپوریٹ ری اسٹرکچرنگ کمپنیز (ترمیم) آرڈیننس 2020، کمپنیز (دوسری ترمیم) آرڈیننس 2020م پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (ترمیم) آرڈیننس 2020، پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (ترمیم) آرڈیننس 2020 شامل ہے۔</p>

<p>اسی طرح کووڈ 19 (ذخیرہ اندوزی کی روک تھا) آرڈیننس 2020، ٹیکس لاز (ترمیم) آرڈیننس 2020، کووڈ 19 (اسمگلنگ کی روک تھام) آرڈیننس 2020 ( III  آف 2020)، فنانشل انسٹی ٹیوشن (سیکیورڈ ٹرانسزیکشنز) (ترمیم) آرڈیننس 2020 (IV   آف 2020)، پاکستان پینل کوڈ (ترمیم) آرڈیننس 2019 (نمبر 25 آف 2019)، ٹیکس لاز (دوسری ترمیم) آرڈیننس 2019، انفارسمنٹ آف وومن پراپرٹی رائٹس (ترمیم) آرڈیننس 2019، نیشنل اکاؤنٹیبلٹی (دوسری ترمیم) آرڈیننس 2019، چین پاکستان اقتصادی راہ داری اتھارٹی آرڈینن 2019 بھی انہیں آرڈیینس میں شامل ہیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1143641">سندھ حکومت نے جزائر سے متعلق وفاقی حکومت کا صدارتی آرڈیننس مسترد کردیا</a></strong></p>

<p>اس میں کہا گیا کہ یہ تمام آرڈیننس ہنگامی قانون سازی کے طور پر تصور نہیں کیے جاسکتے۔</p>

<p>درخواست میں کہا گیا کہ صدر کو آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت آرڈیننس نافذ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے جو عارضی قانون سازی کی شکل ہے اور اس میں 2 شرائط واضح ہیں کہ آیا سینیٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں ہورہا ہو اور ایسی صورتحال ہو جس پر فوری کارروائی کی ضرورت ہو۔</p>

<p>علاوہ ازیں مذکورہ معاملے پر سینیٹر رضا ربانی نے رپورٹ میں کہا کہ پارلیمنٹ کے سیشن میں نہ ہونے کے دوران آرڈیننس صدر کی جانب سے عارضی قانون سازی ہے اور اسے آئین سے متصادم پانے پر ختم بھی کیا جاسکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1151772</guid>
      <pubDate>Sun, 17 Jan 2021 13:15:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ملک اسد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/01/6003bb4015b1e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/01/6003bb4015b1e.jpg"/>
        <media:title>محسن نواز رانجھا نے عدالت عالیہ میں درخواست دائر کی—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
