<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 15:12:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 15:12:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’جذبہ خیرسگالی کے طور پر اماراتی حکومت کو شاہین برآمد کرنے کا اجازت نامہ جاری کیا‘
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1152280/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: ڈپٹی اٹارنی جنرل (ڈی اے جی) سید محمد طیب نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ پاکستان نے دوستی اور خیرسگالی کے جذبے کے طور پر یو اے ای حکومت کو شاہین برآمد کرنے لیے اجازت نامہ جاری کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1603104/falcons-to-be-exported-to-uae-as-goodwill-gesture-ihc-informed"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق انہوں نے یہ جواب اسلام آباد وائلڈ لائف منیجمنٹ بورڈ (آئی ڈبلیو ایم بی) کے سابق چیئرپرسن ڈاکٹر انیس الرحمٰن کی جانب سے 150 شاہین دبئی برآمد کرنے کے لیے جاری کیے گئے اجازت نامے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوارن دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے 20-2019 کے دوران پاکستان سے 150 نایاب شاہین دبئی برآمد کرنے کے لیے دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کو مبینہ طور پر خصوصی اجازت نامہ جاری کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1147490/"&gt;دبئی کے حکمران کو نایاب نسل کے 150 شاہین 'برآمد' کرنے کی اجازت&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست پر سماعت کی اور ڈپٹی اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ شاہینوں کی برآمدات پر عدالت کو مطمئن کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ یو اے ای حکومت نے شاہینوں کے لیے تحریری درخواست بھیجی تھی اور پاکستانی حکومت نے برادرانہ تعلقات مضبوط کرنے اور وسیع قومی مفاد میں انہیں دوست ملک کو تحفے میں دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ تجارتی سرگرمی نہیں تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس پر درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں یہ مؤقف اپنایا کہ حکومت کو شاہینوں کی برآمدات کے لیے اجازت یا اجازت نامے دینے کا اختیار نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وکیل کا کہنا تھا کہ شاہینوں کو خطرے سے دوچار نوع قرار دیا گیا ہے جبکہ اجازت دینا پاکستان ٹریڈ کنٹرول آف وائلڈ فونا اینڈ فلورا ایکٹ 2012 کی خلاف ورزی ہے، اس کے علاوہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 21 مئی 2020 کے فیصلے میں قانون پر روشنی ڈالی گئی ہے جس میں عدالت نے بری طرح قید جانوروں کو قدرتی رہائش گاہ پر منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس دوران عدالت کی جانب سے پوچھنے پر وزارت موسمیاتی تبدیلی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ 2005 کی شاہینوں کی درآمدات پر پابندی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے آبزرو کیا کہ حکومت نے بادی النظر میں قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اجازت دی، مزید یہ کہ اگر یہ ناگزیر تھا تو حکومت کو پہلے ہی نرمی یا قانون میں ترمیم کرنی چاہیے تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1149283/"&gt;پاکستان سے دبئی شاہین برآمدگی کیس: سیکریٹری خارجہ، چیئرمین ایف بی آر کو نوٹس&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ حکومت خطرے سے دوچار نوع کے تحفظ کی پابند ہے اور یہ معاملہ وفاقی کابینہ کو بھیجا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں عدالت نے شاہینوں کی برآمدات کے خلاف حکم امتناع میں مزید 4 ہفتوں کی توسیع کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ حیوانیات و نباتات کے خطرے سے دوچار نوع سے متعلق بین الاقوامی تجارت پر موجود کنوینشن سمیت مختلف بین الاقوامی سطح تحفظ کنوینشنز کے تحت شاہینوں کو تحفظ حاصل ہے اور جنگی حیات کے تحفظ کے مقامی قوانین کے تحت اس کی تجارت پر پابندی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 23 جنوری 2021 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: ڈپٹی اٹارنی جنرل (ڈی اے جی) سید محمد طیب نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ پاکستان نے دوستی اور خیرسگالی کے جذبے کے طور پر یو اے ای حکومت کو شاہین برآمد کرنے لیے اجازت نامہ جاری کیا۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1603104/falcons-to-be-exported-to-uae-as-goodwill-gesture-ihc-informed"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق انہوں نے یہ جواب اسلام آباد وائلڈ لائف منیجمنٹ بورڈ (آئی ڈبلیو ایم بی) کے سابق چیئرپرسن ڈاکٹر انیس الرحمٰن کی جانب سے 150 شاہین دبئی برآمد کرنے کے لیے جاری کیے گئے اجازت نامے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوارن دیا۔</p>

<p>واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے 20-2019 کے دوران پاکستان سے 150 نایاب شاہین دبئی برآمد کرنے کے لیے دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کو مبینہ طور پر خصوصی اجازت نامہ جاری کیا تھا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1147490/">دبئی کے حکمران کو نایاب نسل کے 150 شاہین 'برآمد' کرنے کی اجازت</a></strong></p>

<p>اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست پر سماعت کی اور ڈپٹی اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ شاہینوں کی برآمدات پر عدالت کو مطمئن کریں۔</p>

<p>اس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ یو اے ای حکومت نے شاہینوں کے لیے تحریری درخواست بھیجی تھی اور پاکستانی حکومت نے برادرانہ تعلقات مضبوط کرنے اور وسیع قومی مفاد میں انہیں دوست ملک کو تحفے میں دیا۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ یہ تجارتی سرگرمی نہیں تھی۔</p>

<p>اس پر درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں یہ مؤقف اپنایا کہ حکومت کو شاہینوں کی برآمدات کے لیے اجازت یا اجازت نامے دینے کا اختیار نہیں۔</p>

<p>وکیل کا کہنا تھا کہ شاہینوں کو خطرے سے دوچار نوع قرار دیا گیا ہے جبکہ اجازت دینا پاکستان ٹریڈ کنٹرول آف وائلڈ فونا اینڈ فلورا ایکٹ 2012 کی خلاف ورزی ہے، اس کے علاوہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 21 مئی 2020 کے فیصلے میں قانون پر روشنی ڈالی گئی ہے جس میں عدالت نے بری طرح قید جانوروں کو قدرتی رہائش گاہ پر منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔</p>

<p>اس دوران عدالت کی جانب سے پوچھنے پر وزارت موسمیاتی تبدیلی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ 2005 کی شاہینوں کی درآمدات پر پابندی ہے۔</p>

<p>علاوہ ازیں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے آبزرو کیا کہ حکومت نے بادی النظر میں قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اجازت دی، مزید یہ کہ اگر یہ ناگزیر تھا تو حکومت کو پہلے ہی نرمی یا قانون میں ترمیم کرنی چاہیے تھی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1149283/">پاکستان سے دبئی شاہین برآمدگی کیس: سیکریٹری خارجہ، چیئرمین ایف بی آر کو نوٹس</a></strong></p>

<p>اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ حکومت خطرے سے دوچار نوع کے تحفظ کی پابند ہے اور یہ معاملہ وفاقی کابینہ کو بھیجا جاسکتا ہے۔</p>

<p>بعد ازاں عدالت نے شاہینوں کی برآمدات کے خلاف حکم امتناع میں مزید 4 ہفتوں کی توسیع کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔</p>

<p>خیال رہے کہ حیوانیات و نباتات کے خطرے سے دوچار نوع سے متعلق بین الاقوامی تجارت پر موجود کنوینشن سمیت مختلف بین الاقوامی سطح تحفظ کنوینشنز کے تحت شاہینوں کو تحفظ حاصل ہے اور جنگی حیات کے تحفظ کے مقامی قوانین کے تحت اس کی تجارت پر پابندی ہے۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 23 جنوری 2021 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1152280</guid>
      <pubDate>Sat, 23 Jan 2021 11:29:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ملک اسد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/01/600bc0c79f09c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/01/600bc0c79f09c.jpg"/>
        <media:title>پاکستان نے دبئی کے حکمران کو شاہین برآمد کرنے کی اجازت دی تھی—فائل فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
