<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 20:18:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 20:18:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کووڈ 19 درمیانی عمر کے افراد کے لیے بھی بہت خطرناک، تحقیق
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1152387/</link>
      <description>&lt;p&gt;کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کو عام طور پر معمر افراد کے لیے زیادہ خطرناک سمجھا جاتا ہے مگر یہ درمیانی عمر کے لوگوں کے لیے بھی اتنی ہی جان لیوا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی &lt;a href="https://www.sciencedaily.com/releases/2021/01/210121131806.htm"&gt;تحقیق&lt;/a&gt; میں سامنے آئی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1149579' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈارٹ ماؤتھ کالج کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ درمیانی عمر کے افراد کے لیے کووڈ 19 سے موت کا خطرہ کسی گاڑی کے حادثے کے مقابلے میں 100 گنا زیادہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق اس بیماری سے بچوں اور نوجوانوں کی اموات بہت کم ہیں، تاہم درمیانی عمر اور معمر افراد میں اس بیماری سے موت کا خطرہ بہت زیادہ برھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;طبی جریدے یورپین جرنل آف ایپیڈیمولوجی میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ 25 سال سے کم عمر افراد میں کووڈ سے موت کا امکان ہر 10 ہزار میں سے ایک کو ہوتا ہے جبکہ 60 سال کے ہر سو میں سے ایک ایک، 70 سال کی عمر کے ہر 40 میں سے ایک جبکہ 80 سال کی عمر کے ہر 1 میں سے ایک فرد کو یہ خطرہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق میں کووڈ 19 کے حوالے سے ایک ہزار سے زائد تحقیقی مقالوں کا تجزیہ کیا گیا جو 18 ستمبر تک شائع ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے دیکھا کہ 27 تحقیقی رپورٹس کو سروے کی شکل میں ڈیزائن کرکے عام آبادی کو نمائندگی دی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کووڈ 19 سے ہلاک ہونے والے افراد کی عمروں کی جانچ پڑتال کی گئی اور ایک واضح تعلق دریافت کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق کے ابتدائی نتائج جولائی 2020 میں آن لائن شائع ہوئے تھے اور اب اسے باقاعدہ طبی جریدے میں شائع کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1145955' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/11/5faa85a7620f2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/11/5faa85a7620f2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2020/11/5faa85a7620f2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2020/11/5faa85a7620f2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کا کہنا تھا کہ امریکا میں لگ بھگ 40 فیصد ہلاکتیں 40 سے 74 سال کی عمر کے افراد کی تھیں جبکہ 60 فیصد 75 سال سے زائد عمر کے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے مقابلے میں بچوں اور نوجوانوں کی ہلاکتوں کی شرح 3 فیصد سے بھی کم تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے کہا کہ اگرچہ کووڈ 19 کی ویکسینز اب تقسیم ہونا شروع ہوگئی ہین، مگر ہر ایک تک ان کو پہنچنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں، اس عرصے کے دوران جس حد تک احتیاط کی جاسکتی ہے، کی جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ فیس ماسک کا استعمال، سماجی دوری کی مشق اور ہاتھوں کو اکثر دھونا ضروری ہے، تاکہ اپنے ساتھ ساتھ خاندان، دوستوں اور دیگر کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کو عام طور پر معمر افراد کے لیے زیادہ خطرناک سمجھا جاتا ہے مگر یہ درمیانی عمر کے لوگوں کے لیے بھی اتنی ہی جان لیوا ہے۔</p>

<p>یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی <a href="https://www.sciencedaily.com/releases/2021/01/210121131806.htm">تحقیق</a> میں سامنے آئی۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1149579' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ڈارٹ ماؤتھ کالج کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ درمیانی عمر کے افراد کے لیے کووڈ 19 سے موت کا خطرہ کسی گاڑی کے حادثے کے مقابلے میں 100 گنا زیادہ ہوتا ہے۔</p>

<p>تحقیق کے مطابق اس بیماری سے بچوں اور نوجوانوں کی اموات بہت کم ہیں، تاہم درمیانی عمر اور معمر افراد میں اس بیماری سے موت کا خطرہ بہت زیادہ برھ جاتا ہے۔</p>

<p>طبی جریدے یورپین جرنل آف ایپیڈیمولوجی میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ 25 سال سے کم عمر افراد میں کووڈ سے موت کا امکان ہر 10 ہزار میں سے ایک کو ہوتا ہے جبکہ 60 سال کے ہر سو میں سے ایک ایک، 70 سال کی عمر کے ہر 40 میں سے ایک جبکہ 80 سال کی عمر کے ہر 1 میں سے ایک فرد کو یہ خطرہ ہوتا ہے۔</p>

<p>اس تحقیق میں کووڈ 19 کے حوالے سے ایک ہزار سے زائد تحقیقی مقالوں کا تجزیہ کیا گیا جو 18 ستمبر تک شائع ہوئے تھے۔</p>

<p>محققین نے دیکھا کہ 27 تحقیقی رپورٹس کو سروے کی شکل میں ڈیزائن کرکے عام آبادی کو نمائندگی دی گئی۔</p>

<p>انہوں نے کووڈ 19 سے ہلاک ہونے والے افراد کی عمروں کی جانچ پڑتال کی گئی اور ایک واضح تعلق دریافت کیا۔</p>

<p>اس تحقیق کے ابتدائی نتائج جولائی 2020 میں آن لائن شائع ہوئے تھے اور اب اسے باقاعدہ طبی جریدے میں شائع کیا گیا ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1145955' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/11/5faa85a7620f2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/11/5faa85a7620f2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2020/11/5faa85a7620f2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2020/11/5faa85a7620f2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>محققین کا کہنا تھا کہ امریکا میں لگ بھگ 40 فیصد ہلاکتیں 40 سے 74 سال کی عمر کے افراد کی تھیں جبکہ 60 فیصد 75 سال سے زائد عمر کے تھے۔</p>

<p>اس کے مقابلے میں بچوں اور نوجوانوں کی ہلاکتوں کی شرح 3 فیصد سے بھی کم تھی۔</p>

<p>محققین نے کہا کہ اگرچہ کووڈ 19 کی ویکسینز اب تقسیم ہونا شروع ہوگئی ہین، مگر ہر ایک تک ان کو پہنچنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں، اس عرصے کے دوران جس حد تک احتیاط کی جاسکتی ہے، کی جانی چاہیے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ فیس ماسک کا استعمال، سماجی دوری کی مشق اور ہاتھوں کو اکثر دھونا ضروری ہے، تاکہ اپنے ساتھ ساتھ خاندان، دوستوں اور دیگر کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1152387</guid>
      <pubDate>Sun, 24 Jan 2021 22:38:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/01/600db012b9fff.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/01/600db012b9fff.jpg"/>
        <media:title>یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی— شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
