<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 22:25:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 22:25:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فرانس میں 'محرم رشتوں' کے جنسی حملوں کے خلاف مہم
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1152456/</link>
      <description>&lt;p&gt;یورپی ملک فرانس میں محرم یعنی اپنے ہی اہل خانہ اور قریبی رشتے داروں کی جانب سے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے خلاف شروع ہونے والی سوشل میڈیا کی مہم نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فرانسیسی خبر رساں ادارے &lt;a href="https://www.france24.com/en/france/20210117-french-incest-affair-sparks-hundreds-of-metooinceste-testimonies-on-twitter"&gt;&lt;strong&gt;فرانس 24&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق فرانسیسی لکھاری و قانون دان Camille Kouchner کی کتاب سامنے آنے کے بعد فرانس میں محرم کی جانب سے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے واقعات کو سامنے لانے کا سلسلہ شروع ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ لکھاری کی حال ہی میں ایک کتاب سامنے آئی، جس میں انہوں نے سوتیلے والد کی جانب سے اپنے بھائی کو کم عمری میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعے سے پردہ اٹھایا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لکھاری Camille Kouchner نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ ان کے سوتیلے والد نے ان کے بھائی کو محض 14 برس کی عمر میں جنسی طور پر ہراساں کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/01/600ed144a9348.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/01/600ed144a9348.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/01/600ed144a9348.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/01/600ed144a9348.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="مذکورہ مہم کا آغاز ایک کتاب سامنے آنے کے بعد ہوا&amp;mdash;فوٹو: ٹوئٹر" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;مذکورہ مہم کا آغاز ایک کتاب سامنے آنے کے بعد ہوا—فوٹو: ٹوئٹر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لکھاری نے کتاب میں اپنے اور جڑواں بہن کے ساتھ بھی سوتیلے والد کے برے سلوک کا ذکر کیا ہے تاہم انہوں نے خود کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی بات نہیں کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لکھاری Camille Kouchner کے سوتیلے والد معروف فرانسیسی ماہرِ سیاست ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کی مذکورہ کتاب سامنے آنے کے بعد ٹوئٹر پر می ٹو طرز کا فرانیسی زبان میں (می ٹو انسیسٹ) کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے ہزاروں افراد نے اپنے ساتھ ہونے والے واقعات بیان کیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی حوالے سے &lt;a href="https://www.euronews.com/2021/01/22/metooinceste-french-share-stories-of-sexual-abuse-in-their-families"&gt;&lt;strong&gt;یورو نیوز&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ می ٹو انسیسٹ کا مطلب محرم یا اپنے قریبی اہل خانہ کی جانب سے جنسی حملے کیے جانا یا پھر جنسی طور پر ہراساں کیا جانا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہزاروں نوجوان فرانسیسی مرد و خواتین نے مذکورہ ہیش ٹیگ کا استعمال کرتے ہوئے بچپن میں اپنے ساتھ ہونے والے واقعات کا ذکر کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فرانس 24 کے مطابق ایک خاتون نے لکھا کہ جب وہ محض 5 سال کی تھیں تو ان کے ماموں نے ان کا بچپن ان سے چھین لیا اور انہیں اس وقت ایسا لگا کہ وہ بچی نہیں بلکہ 100 سالہ خاتون ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح ایک اور خاتون نے لکھا کہ جب وہ بچپن میں لیگو گیم کھیل رہی تھیں تو انہیں ان کے خاندان کے شخص نے آکر نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک اور صارف نے لکھا کہ انہیں 3 سال کی عمر میں 14 سال کے کزن نے نشانہ بنایا اور باقی زندگی انہوں نے ڈر، خوف اور بیماری میں گزاری۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح ہزاروں مرد و خواتین نے اپنے ساتھ ہونے والے جنسی حملوں کو بیان کرکے فرانسیسی معاشرے کو ہلاکر رکھ دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یورو نیوز کے مطابق فرانس میں اہل خانہ یا قریبی رشتہ داروں کی جانب سے نوجوانوں اور خصوصی طور پر لڑکیوں کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی چہ مگوئیاں کافی عرصے سے ہو رہی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم 20 جنوری 2021 کے بعد اس معاملے پر سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگز کے ساتھ ہلا دینے والی مہم کا آغاز ہوا، جس سے سیاسی، سماجی و حکومتی حلقوں میں بھی نئی بحث چھڑ گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ادھر لکھاری Camille Kouchner کی کتاب سامنے آنے کے بعد پیرس پولیس نے ان کے سوتیلے والد اور سیاسیات کے استاد و سماجی رہنما کے خلاف تفتیش کا آغاز کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یورو نیوز کے مطابق جہاں پیرس پولیس نے سیاسیات کے استاد کے خلاف تفتیش شرع کردی، وہیں بعض سیاستدانوں نے سوشل میڈیا پر جنسی ہراسانی کے خلاف سخت قوانین بنانے کی یقین دہانی بھی کروائی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ حال میں فرانس میں ایک ادارے کی جانب سے کرائے گئے &lt;a href="https://verietyinfo.com/chileeng/metooinceste-victims-of-incest-in-france-report-abuse-through-social-networks-society/"&gt;&lt;strong&gt;سروے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے دوران انکشاف ہوا تھا کہ فرانس کے ہر 10 نو عمر افراد میں سے ایک شخص کم عمری میں اپنے قریبی رشتہ داروں کے ہاتھوں جنسی ہراسانی کا شکار بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/01/600ed4263867a.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/01/600ed4263867a.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/01/600ed4263867a.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/01/600ed4263867a.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="سوشل میڈیا پر مہم شروع ہونے کے بعد مظاہرے بھی شروع ہوگئے&amp;mdash;فوٹو: verietyinfo" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;سوشل میڈیا پر مہم شروع ہونے کے بعد مظاہرے بھی شروع ہوگئے—فوٹو: verietyinfo&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یورپی ملک فرانس میں محرم یعنی اپنے ہی اہل خانہ اور قریبی رشتے داروں کی جانب سے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے خلاف شروع ہونے والی سوشل میڈیا کی مہم نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔</p>

<p>فرانسیسی خبر رساں ادارے <a href="https://www.france24.com/en/france/20210117-french-incest-affair-sparks-hundreds-of-metooinceste-testimonies-on-twitter"><strong>فرانس 24</strong></a> کے مطابق فرانسیسی لکھاری و قانون دان Camille Kouchner کی کتاب سامنے آنے کے بعد فرانس میں محرم کی جانب سے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے واقعات کو سامنے لانے کا سلسلہ شروع ہوا۔</p>

<p>مذکورہ لکھاری کی حال ہی میں ایک کتاب سامنے آئی، جس میں انہوں نے سوتیلے والد کی جانب سے اپنے بھائی کو کم عمری میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعے سے پردہ اٹھایا۔</p>

<p>لکھاری Camille Kouchner نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ ان کے سوتیلے والد نے ان کے بھائی کو محض 14 برس کی عمر میں جنسی طور پر ہراساں کیا۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/01/600ed144a9348.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/01/600ed144a9348.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/01/600ed144a9348.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/01/600ed144a9348.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="مذکورہ مہم کا آغاز ایک کتاب سامنے آنے کے بعد ہوا&mdash;فوٹو: ٹوئٹر" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">مذکورہ مہم کا آغاز ایک کتاب سامنے آنے کے بعد ہوا—فوٹو: ٹوئٹر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>لکھاری نے کتاب میں اپنے اور جڑواں بہن کے ساتھ بھی سوتیلے والد کے برے سلوک کا ذکر کیا ہے تاہم انہوں نے خود کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی بات نہیں کی۔</p>

<p>لکھاری Camille Kouchner کے سوتیلے والد معروف فرانسیسی ماہرِ سیاست ہیں۔</p>

<p>ان کی مذکورہ کتاب سامنے آنے کے بعد ٹوئٹر پر می ٹو طرز کا فرانیسی زبان میں (می ٹو انسیسٹ) کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے ہزاروں افراد نے اپنے ساتھ ہونے والے واقعات بیان کیے۔</p>

<p>اسی حوالے سے <a href="https://www.euronews.com/2021/01/22/metooinceste-french-share-stories-of-sexual-abuse-in-their-families"><strong>یورو نیوز</strong></a> نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ می ٹو انسیسٹ کا مطلب محرم یا اپنے قریبی اہل خانہ کی جانب سے جنسی حملے کیے جانا یا پھر جنسی طور پر ہراساں کیا جانا ہے۔</p>

<p>ہزاروں نوجوان فرانسیسی مرد و خواتین نے مذکورہ ہیش ٹیگ کا استعمال کرتے ہوئے بچپن میں اپنے ساتھ ہونے والے واقعات کا ذکر کیا۔</p>

<p>فرانس 24 کے مطابق ایک خاتون نے لکھا کہ جب وہ محض 5 سال کی تھیں تو ان کے ماموں نے ان کا بچپن ان سے چھین لیا اور انہیں اس وقت ایسا لگا کہ وہ بچی نہیں بلکہ 100 سالہ خاتون ہیں۔</p>

<p>اسی طرح ایک اور خاتون نے لکھا کہ جب وہ بچپن میں لیگو گیم کھیل رہی تھیں تو انہیں ان کے خاندان کے شخص نے آکر نشانہ بنایا۔</p>

<p>ایک اور صارف نے لکھا کہ انہیں 3 سال کی عمر میں 14 سال کے کزن نے نشانہ بنایا اور باقی زندگی انہوں نے ڈر، خوف اور بیماری میں گزاری۔</p>

<p>اسی طرح ہزاروں مرد و خواتین نے اپنے ساتھ ہونے والے جنسی حملوں کو بیان کرکے فرانسیسی معاشرے کو ہلاکر رکھ دیا۔</p>

<p>یورو نیوز کے مطابق فرانس میں اہل خانہ یا قریبی رشتہ داروں کی جانب سے نوجوانوں اور خصوصی طور پر لڑکیوں کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی چہ مگوئیاں کافی عرصے سے ہو رہی تھیں۔</p>

<p>تاہم 20 جنوری 2021 کے بعد اس معاملے پر سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگز کے ساتھ ہلا دینے والی مہم کا آغاز ہوا، جس سے سیاسی، سماجی و حکومتی حلقوں میں بھی نئی بحث چھڑ گئی۔</p>

<p>ادھر لکھاری Camille Kouchner کی کتاب سامنے آنے کے بعد پیرس پولیس نے ان کے سوتیلے والد اور سیاسیات کے استاد و سماجی رہنما کے خلاف تفتیش کا آغاز کردیا۔</p>

<p>یورو نیوز کے مطابق جہاں پیرس پولیس نے سیاسیات کے استاد کے خلاف تفتیش شرع کردی، وہیں بعض سیاستدانوں نے سوشل میڈیا پر جنسی ہراسانی کے خلاف سخت قوانین بنانے کی یقین دہانی بھی کروائی۔</p>

<p>خیال رہے کہ حال میں فرانس میں ایک ادارے کی جانب سے کرائے گئے <a href="https://verietyinfo.com/chileeng/metooinceste-victims-of-incest-in-france-report-abuse-through-social-networks-society/"><strong>سروے</strong></a> کے دوران انکشاف ہوا تھا کہ فرانس کے ہر 10 نو عمر افراد میں سے ایک شخص کم عمری میں اپنے قریبی رشتہ داروں کے ہاتھوں جنسی ہراسانی کا شکار بن چکا ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/01/600ed4263867a.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/01/600ed4263867a.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/01/600ed4263867a.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/01/600ed4263867a.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="سوشل میڈیا پر مہم شروع ہونے کے بعد مظاہرے بھی شروع ہوگئے&mdash;فوٹو: verietyinfo" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">سوشل میڈیا پر مہم شروع ہونے کے بعد مظاہرے بھی شروع ہوگئے—فوٹو: verietyinfo</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1152456</guid>
      <pubDate>Mon, 25 Jan 2021 20:05:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/01/600ed3d8182ff.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/01/600ed3d8182ff.jpg"/>
        <media:title>خواتین سوشل میڈیا پر اپنے ساتھ ہونے والےواقعات کو بیان کر رہی ہیں—فائل فوٹو: lacroix
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
