<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 00:46:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 00:46:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اے جی پی دفتر نے ڈھائی سال میں مختلف محکموں سے 490 ارب روپے برآمد کرلیے
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1152689/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کے دفتر نے جولائی 2018 سے دسمبر 2020 کے درمیان مختلف سرکاری محکموں سے 490 ارب 47 کروڑ روپے برآمد کرلیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع ایک &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1604047/rs490bn-recovered-from-departments-in-30-months-agp-office"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق اس حوالے سے جاری ایک سرکاری بیان میں کہا گیا رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران بڑی تعداد میں وصولیاں کی گئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک بیان میں آڈیٹر جنرل کے دفتر نے کہا کہ محکمہ کے کارکردگی خاص طور پر آڈٹ ورک کی کوالٹی کو بہتر کرنے کے لیے گزشتہ 3 برسوں میں اصلاحات متعارف کروائی گئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس میں کہا گیا کہ کووڈ 19 وبا کی وجہ سے عائد پابندیوں کے باعث گزشتہ مالی سال میں برآمد کی گئی رقم بنیادی طور پر کم رہی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1151476/"&gt;آڈیٹر جنرل پاکستان کے دفتر میں 180 ارب روپے کی کرپشن کا پتا لگا لیا، وزیراعظم&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اے جی پی دفتر میں جو چیزیں متعارف کروائی گئی ان میں آڈیٹرز اور متعلقہ محکموں کے درمیان براہ راست رابطے کے امکانات کو کم سے کم کرکے کرپشن روکنے کے مقصد سے ایک کمپیوٹر پر مبنی نظام بھی شامل تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ اے ایم ایس (آڈٹ منیجمنٹ سسٹم) کی وجہ سے آڈیٹر آڈٹ پیراز طے کرانے کے لیے آڈٹ کرنے والے دفتر کے حکام سے رابطہ کرنے سے قاصر ہوں گے، ای جی پی کے ان اصلاحی اقدامات کی مدد سے محکمے کی کارکردی سمیت شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ بیان کے مطابق اے جی پی دفتر نے پروفیشنل اور کمپیٹننگ پروفیشنلز کی بھرتیوں کے لیے اسپیشلائزڈ آڈٹ یونٹ بھی قائم کیا ہے، فرانزک اور مسئلے پر مبنی آڈٹ محکمے کی اولین ترجیح ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں اے جی پی دفتر نے 353 ارب روپے سے زائد کی ریکارڈ رقم برآمد کی، اس کے برعکس وفاقی حکومت کے محکموں سے مالی سال 19-2018 کے دوران 84 ارب 70 کروڑ اور مالی سال 20-2019 میں 39 ارب 80 کروڑ روپے کی وصولیاں کی گئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بیان کے مطابق مالی سال 19-2018 میں صوبائی اور ضلعی محکموں سے 6 ارب 60 کروڑ روپے جبکہ مالی سال 20-2019 میں 6 ارب 19 کروڑ روپے کی ریکوریز کی گئیں تاہم رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں محکموں سے وصولیاں 5 ارب 72 کروڑ روپے رہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1138478"&gt;اکاؤنٹس کے آڈٹ پر اے جی پی اور انجینئرنگ کونسل کے مابین تنازع&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سب سے زیادہ وصولیاں ڈائریکٹر جنرل آف آڈٹ (ڈی جی اے) برائے لاہور کی جانب سے کی گئی جنہوں نے 19-2018 میں 160 ارب 36 کروڑ، 20-2019 میں 8 ارب 85 کروڑ اور جولائی سے دسمبر کے دوران 307 ارب 14 کروڑ روپے برآمد کیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ ڈی جی اے برائے کراچی کی جانب سے 19-2018 میں 42 ارب، 20-2019 میں 10 ارب 28 کروڑ اور 21-2020 کے پہلے 6 ماہ میں 30 ارب 31 کروڑ روپے وصول کیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح ڈی جی اے برائے خیبرپختونخوا نے 19-2018 میں 20 لاکھ 8 ہزار روپے، 20-2019 میں 24 کروڑ 40 لاکھ 30 ہزار روپے اور جولائی سے دسمبر تک 29 کروڑ 84 لاکھ 70 ہزار روپے برآمد کیے۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 28 جنوری 2021 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کے دفتر نے جولائی 2018 سے دسمبر 2020 کے درمیان مختلف سرکاری محکموں سے 490 ارب 47 کروڑ روپے برآمد کرلیے۔</p>

<p>ڈان اخبار میں شائع ایک <a href="https://www.dawn.com/news/1604047/rs490bn-recovered-from-departments-in-30-months-agp-office"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق اس حوالے سے جاری ایک سرکاری بیان میں کہا گیا رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران بڑی تعداد میں وصولیاں کی گئیں۔</p>

<p>ایک بیان میں آڈیٹر جنرل کے دفتر نے کہا کہ محکمہ کے کارکردگی خاص طور پر آڈٹ ورک کی کوالٹی کو بہتر کرنے کے لیے گزشتہ 3 برسوں میں اصلاحات متعارف کروائی گئیں۔</p>

<p>اس میں کہا گیا کہ کووڈ 19 وبا کی وجہ سے عائد پابندیوں کے باعث گزشتہ مالی سال میں برآمد کی گئی رقم بنیادی طور پر کم رہی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1151476/">آڈیٹر جنرل پاکستان کے دفتر میں 180 ارب روپے کی کرپشن کا پتا لگا لیا، وزیراعظم</a></strong></p>

<p>اے جی پی دفتر میں جو چیزیں متعارف کروائی گئی ان میں آڈیٹرز اور متعلقہ محکموں کے درمیان براہ راست رابطے کے امکانات کو کم سے کم کرکے کرپشن روکنے کے مقصد سے ایک کمپیوٹر پر مبنی نظام بھی شامل تھا۔</p>

<p>بیان میں کہا گیا کہ اے ایم ایس (آڈٹ منیجمنٹ سسٹم) کی وجہ سے آڈیٹر آڈٹ پیراز طے کرانے کے لیے آڈٹ کرنے والے دفتر کے حکام سے رابطہ کرنے سے قاصر ہوں گے، ای جی پی کے ان اصلاحی اقدامات کی مدد سے محکمے کی کارکردی سمیت شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا۔</p>

<p>مذکورہ بیان کے مطابق اے جی پی دفتر نے پروفیشنل اور کمپیٹننگ پروفیشنلز کی بھرتیوں کے لیے اسپیشلائزڈ آڈٹ یونٹ بھی قائم کیا ہے، فرانزک اور مسئلے پر مبنی آڈٹ محکمے کی اولین ترجیح ہے۔</p>

<p>رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں اے جی پی دفتر نے 353 ارب روپے سے زائد کی ریکارڈ رقم برآمد کی، اس کے برعکس وفاقی حکومت کے محکموں سے مالی سال 19-2018 کے دوران 84 ارب 70 کروڑ اور مالی سال 20-2019 میں 39 ارب 80 کروڑ روپے کی وصولیاں کی گئیں۔</p>

<p>بیان کے مطابق مالی سال 19-2018 میں صوبائی اور ضلعی محکموں سے 6 ارب 60 کروڑ روپے جبکہ مالی سال 20-2019 میں 6 ارب 19 کروڑ روپے کی ریکوریز کی گئیں تاہم رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں محکموں سے وصولیاں 5 ارب 72 کروڑ روپے رہیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1138478">اکاؤنٹس کے آڈٹ پر اے جی پی اور انجینئرنگ کونسل کے مابین تنازع</a></strong></p>

<p>سب سے زیادہ وصولیاں ڈائریکٹر جنرل آف آڈٹ (ڈی جی اے) برائے لاہور کی جانب سے کی گئی جنہوں نے 19-2018 میں 160 ارب 36 کروڑ، 20-2019 میں 8 ارب 85 کروڑ اور جولائی سے دسمبر کے دوران 307 ارب 14 کروڑ روپے برآمد کیے۔</p>

<p>اس کے علاوہ ڈی جی اے برائے کراچی کی جانب سے 19-2018 میں 42 ارب، 20-2019 میں 10 ارب 28 کروڑ اور 21-2020 کے پہلے 6 ماہ میں 30 ارب 31 کروڑ روپے وصول کیے۔</p>

<p>اسی طرح ڈی جی اے برائے خیبرپختونخوا نے 19-2018 میں 20 لاکھ 8 ہزار روپے، 20-2019 میں 24 کروڑ 40 لاکھ 30 ہزار روپے اور جولائی سے دسمبر تک 29 کروڑ 84 لاکھ 70 ہزار روپے برآمد کیے۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 28 جنوری 2021 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1152689</guid>
      <pubDate>Thu, 28 Jan 2021 13:42:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/01/60125bf373fa2.gif" type="image/gif" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/01/60125bf373fa2.gif"/>
        <media:title>ڈھائی سال میں 490 ارب روپے سے زائد برآمد کیےگئے—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
