<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 00:41:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 00:41:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانیہ، جنوبی افریقہ سمیت 6 ممالک پر سفری پابندیوں میں 28 فروری تک توسیع
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1152836/</link>
      <description>&lt;p&gt;راولپنڈی: پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (پی سی اے اے) نے کٹیگری سی والے ممالک جنوبی افریقہ، برطانیہ، برازیل، آئرلینڈ، پرتگال اور نیدرلینڈ (ہالینڈ) پر سفری پابنیوں میں 28 فروری تک توسیع کردی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم اگر نیشل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی جانب سے اجازت دی جائے تو ان ممالک سے سفر کرنے والے اب بھی پاکستان آسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پی سی اے اے نے بی اور سی کٹیگری میں موجود ممالک کے لیے پی سی آر ٹیسٹ کی شرط کو بھی 96 گھنٹے سے کم کرکے 72 گھنٹے کردیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مزید یہ کہ دسمبر اور جنوری میں پی سی اے اے کی جانب سے جاری کردہ سفر سے متعلق اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) میں بھی 28 فروری تک توسیع کردی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1152282/"&gt;برطانیہ، جنوبی افریقہ سے آنے والی پروازوں کے عملے کیلئے نئے ایس او پیز جاری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکام کی جانب سے 24 ممالک کو کٹیگری اے اور 6 کو کٹیگری سی میں رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پی سی اے اے کا کہنا تھا کہ کٹیگری اے میں شامل ممالک سے آنے والے بین الاقوامی مسافروں کے لیے پاکستان میں داخلے سے کووڈ 19 پی سی آر ٹیسٹ ضرورت نہیں، تاہم کٹیگری بی میں شامل ممالک کے لیے پاکستان سفر کرنے سے (زیادہ سے زیادہ 72 گھنٹے قبل) کووڈ 19 ٹیسٹ کرانا ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مزید یہ کہ سی کٹیگری والے ممالک کے مسافروں کو محدود اور صرف این سی او سی کی فراہم کردہ گائڈلائنز کے مطابق اجازت دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کٹیگری سی والے ممالک سے مسافروں پر پابندی میں توسیع کووڈ 19 کی دوسری لہر کے دوران کیسز میں اضافے کے بعد کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='6014e941071f0'&gt;پی آئی اے کے طیارے کی واپسی&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کا طیارہ جو لیز کے تنازع پر برطانوی عدالت کے فیصلے کے باعث 2 ہفتے قبل ملائیشیا میں روک لیا گیا تھا اسے واپس اسلام آباد لے آیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ طیارہ بدھ کو ریلیز کرکے پی آئی اے کے حوالے کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پی آئی اے کا بوئنگ 777 کوالالمپور سے 173 مسافروں کو لے کر اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر جمعہ کی سہ پہر لینڈ کیا۔
واضح رہے کہ بدھ کو پی آئی اے عملے کے اراکین طیارے کو واپسی لانے کے لیے کراچی سے ملائیشیا گئے تھے جہاں بعد ازاں طیارہ مسافر پرواز کے طور پر لایا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1152614/"&gt;لیز کا تنازع، ملائیشین عدالت کا پی آئی اے کا طیارہ ریلیز کرنے کا حکم&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ لیزنگ کمپنی سے تنازع پر مقامی عدالت کے حکم کے بعد 15 جنوری کو ملائیشین حکام نے طیارے کو اپنی تحویل میں لے لیا تھا، مذکورہ تنازع پر کمپنی نے ملائیشین عدالتمیں درخواست دی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں قومی ایئرلائن نے ٹی ایم ایس مشینز پر بائیومیٹرک حاضری کو فعال کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ حاضری کووڈ 19 کے پھیلاؤ کو روکنے اور ملازمین کو ممکنہ خطرے سے تحفظ دینے کے لیے نومبر 2020 میں پورے پی آئی اے کے نیٹ ورک میں معطل کردی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ خبر 30 جنوری 2021 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>راولپنڈی: پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (پی سی اے اے) نے کٹیگری سی والے ممالک جنوبی افریقہ، برطانیہ، برازیل، آئرلینڈ، پرتگال اور نیدرلینڈ (ہالینڈ) پر سفری پابنیوں میں 28 فروری تک توسیع کردی۔</p>

<p>تاہم اگر نیشل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی جانب سے اجازت دی جائے تو ان ممالک سے سفر کرنے والے اب بھی پاکستان آسکتے ہیں۔</p>

<p>ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پی سی اے اے نے بی اور سی کٹیگری میں موجود ممالک کے لیے پی سی آر ٹیسٹ کی شرط کو بھی 96 گھنٹے سے کم کرکے 72 گھنٹے کردیا ہے۔</p>

<p>مزید یہ کہ دسمبر اور جنوری میں پی سی اے اے کی جانب سے جاری کردہ سفر سے متعلق اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) میں بھی 28 فروری تک توسیع کردی ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1152282/">برطانیہ، جنوبی افریقہ سے آنے والی پروازوں کے عملے کیلئے نئے ایس او پیز جاری</a></strong></p>

<p>حکام کی جانب سے 24 ممالک کو کٹیگری اے اور 6 کو کٹیگری سی میں رکھا گیا ہے۔</p>

<p>پی سی اے اے کا کہنا تھا کہ کٹیگری اے میں شامل ممالک سے آنے والے بین الاقوامی مسافروں کے لیے پاکستان میں داخلے سے کووڈ 19 پی سی آر ٹیسٹ ضرورت نہیں، تاہم کٹیگری بی میں شامل ممالک کے لیے پاکستان سفر کرنے سے (زیادہ سے زیادہ 72 گھنٹے قبل) کووڈ 19 ٹیسٹ کرانا ہوگا۔</p>

<p>مزید یہ کہ سی کٹیگری والے ممالک کے مسافروں کو محدود اور صرف این سی او سی کی فراہم کردہ گائڈلائنز کے مطابق اجازت دی گئی ہے۔</p>

<p>کٹیگری سی والے ممالک سے مسافروں پر پابندی میں توسیع کووڈ 19 کی دوسری لہر کے دوران کیسز میں اضافے کے بعد کی گئی ہے۔</p>

<h3 id='6014e941071f0'>پی آئی اے کے طیارے کی واپسی</h3>

<p>دوسری جانب پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کا طیارہ جو لیز کے تنازع پر برطانوی عدالت کے فیصلے کے باعث 2 ہفتے قبل ملائیشیا میں روک لیا گیا تھا اسے واپس اسلام آباد لے آیا گیا۔</p>

<p>مذکورہ طیارہ بدھ کو ریلیز کرکے پی آئی اے کے حوالے کیا گیا تھا۔</p>

<p>پی آئی اے کا بوئنگ 777 کوالالمپور سے 173 مسافروں کو لے کر اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر جمعہ کی سہ پہر لینڈ کیا۔
واضح رہے کہ بدھ کو پی آئی اے عملے کے اراکین طیارے کو واپسی لانے کے لیے کراچی سے ملائیشیا گئے تھے جہاں بعد ازاں طیارہ مسافر پرواز کے طور پر لایا گیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1152614/">لیز کا تنازع، ملائیشین عدالت کا پی آئی اے کا طیارہ ریلیز کرنے کا حکم</a></strong></p>

<p>یاد رہے کہ لیزنگ کمپنی سے تنازع پر مقامی عدالت کے حکم کے بعد 15 جنوری کو ملائیشین حکام نے طیارے کو اپنی تحویل میں لے لیا تھا، مذکورہ تنازع پر کمپنی نے ملائیشین عدالتمیں درخواست دی تھی۔</p>

<p>علاوہ ازیں قومی ایئرلائن نے ٹی ایم ایس مشینز پر بائیومیٹرک حاضری کو فعال کردیا۔</p>

<p>یہ حاضری کووڈ 19 کے پھیلاؤ کو روکنے اور ملازمین کو ممکنہ خطرے سے تحفظ دینے کے لیے نومبر 2020 میں پورے پی آئی اے کے نیٹ ورک میں معطل کردی گئی تھی۔</p>

<p>یہ خبر 30 جنوری 2021 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1152836</guid>
      <pubDate>Sat, 30 Jan 2021 10:06:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد اصغر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/01/6014e7832841f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1664" width="2772">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/01/6014e7832841f.jpg"/>
        <media:title>پاکستان نے 6 ممالک پر سفری پابندیوں میں توسیع کی—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
