<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech - Mobilephones</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 11:14:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 11:14:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شیاؤمی نے انقلابی وائرلیس ٹیکنالوجی تیار کرلی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1152929/</link>
      <description>&lt;p&gt;پیڈز اور کوائل کے ذریعے کام کرنے والی انڈکٹیو وائرلیس چارجنگ ہر جگہ یا ہر ڈیوائس کے لیے دستیاب نہیں، مگر شیاؤمی نے اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایکس ڈی اے کی ایک &lt;a href="https://www.xda-developers.com/xiaomi-mi-air-charge-wireless-charging/"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt; کے مطابق شیاؤمی کی جانب سے ریموٹ وائرلیس چارجنگ کو متعارف کرایا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسے می ایئر چارج ٹیکنالوجی کا نام دیا گیا ہے جو کئی میٹر دوری سے بھی ڈیوائسز کو وائرلیس چارج کرسکے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شیاؤمی کی جانب سے اس کی دستیابی کی تاریخ یا اس پر کام کرنے والے ہارڈویئر کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/Xiaomi/status/1354982631411052544"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق می ایئر چارج ٹیکنالوجی ایک 5 واٹ چارجنگ سسٹم ہوگا، جس کے بیس اسٹیشن کے لیے 144 انٹینا استعمال کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ انٹینا ملی میٹر وائیڈ ویوز فون کی جانب بھیجیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی کوئی سائنس فکشن نہیں بلکہ اس سے متعدد ڈیوائس کو بیک وقت چارج کرنا ممکن ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان ڈیوائسز میں تمام چھوٹی برقی مصنوعات یعنی اسمارٹ فونز، واچز سے لے کر اسیکرز تک شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل 2020 کی آخری سہ ماہی کے دوران شیاؤمی نے دنیا کی تیز ترین وائرلیس چارجنگ ٹیکنالوجی کو بھی متعارف کرایا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس مقصد کے لیے ایک 80 واٹ وائرلیس چارجر پیش کیا گیا تھا جو 4000 ایم اے ایچ بیٹری کو محض 19 منٹ میں سوفیصد چارج کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شیاؤمی کے بقول یہ وائرلیس چارجر نہ صرف اس وقت دستیاب ہر وائرلیس سسٹم کو شکست دے سکتا ہے بلکہ بیشتر وائر چارجنگ سسٹم بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شیاؤمی کے بقول یہ وائرلیس چارجر نہ صرف اس وقت دستیاب ہر وائرلیس سسٹم کو شکست دے سکتا ہے بلکہ بیشتر وائر چارجنگ سسٹم بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم اس وائرلیس چارجر کو بھی اب تک فروخت کے لیے پیش نہیں کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پیڈز اور کوائل کے ذریعے کام کرنے والی انڈکٹیو وائرلیس چارجنگ ہر جگہ یا ہر ڈیوائس کے لیے دستیاب نہیں، مگر شیاؤمی نے اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔</p>

<p>ایکس ڈی اے کی ایک <a href="https://www.xda-developers.com/xiaomi-mi-air-charge-wireless-charging/">رپورٹ</a> کے مطابق شیاؤمی کی جانب سے ریموٹ وائرلیس چارجنگ کو متعارف کرایا جارہا ہے۔</p>

<p>اسے می ایئر چارج ٹیکنالوجی کا نام دیا گیا ہے جو کئی میٹر دوری سے بھی ڈیوائسز کو وائرلیس چارج کرسکے گی۔</p>

<p>شیاؤمی کی جانب سے اس کی دستیابی کی تاریخ یا اس پر کام کرنے والے ہارڈویئر کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/Xiaomi/status/1354982631411052544"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>کمپنی کے مطابق می ایئر چارج ٹیکنالوجی ایک 5 واٹ چارجنگ سسٹم ہوگا، جس کے بیس اسٹیشن کے لیے 144 انٹینا استعمال کیے گئے ہیں۔</p>

<p>یہ انٹینا ملی میٹر وائیڈ ویوز فون کی جانب بھیجیں گے۔</p>

<p>کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی کوئی سائنس فکشن نہیں بلکہ اس سے متعدد ڈیوائس کو بیک وقت چارج کرنا ممکن ہوگا۔</p>

<p>ان ڈیوائسز میں تمام چھوٹی برقی مصنوعات یعنی اسمارٹ فونز، واچز سے لے کر اسیکرز تک شامل ہوں گے۔</p>

<p>اس سے قبل 2020 کی آخری سہ ماہی کے دوران شیاؤمی نے دنیا کی تیز ترین وائرلیس چارجنگ ٹیکنالوجی کو بھی متعارف کرایا تھا۔</p>

<p>اس مقصد کے لیے ایک 80 واٹ وائرلیس چارجر پیش کیا گیا تھا جو 4000 ایم اے ایچ بیٹری کو محض 19 منٹ میں سوفیصد چارج کرسکتا ہے۔</p>

<p>شیاؤمی کے بقول یہ وائرلیس چارجر نہ صرف اس وقت دستیاب ہر وائرلیس سسٹم کو شکست دے سکتا ہے بلکہ بیشتر وائر چارجنگ سسٹم بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔</p>

<p>شیاؤمی کے بقول یہ وائرلیس چارجر نہ صرف اس وقت دستیاب ہر وائرلیس سسٹم کو شکست دے سکتا ہے بلکہ بیشتر وائر چارجنگ سسٹم بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔</p>

<p>تاہم اس وائرلیس چارجر کو بھی اب تک فروخت کے لیے پیش نہیں کیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1152929</guid>
      <pubDate>Sun, 31 Jan 2021 20:06:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/01/6016c5ee1e559.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/01/6016c5ee1e559.jpg"/>
        <media:title>— فوٹو بشکریہ شیاؤمی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
