<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 17:51:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 17:51:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملک میں 2 ماہ میں کورونا کے فعال کیسز 20 ہزار تک کم
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1153645/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: ملک بھر میں گزشتہ 2 ماہ کے دوران کورونا وائرس کے فعال کیسز میں تقریباً 20 ہزار تک کی کمی ہوگئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1606502/active-covid-cases-drop-by-20000-in-two-months"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق فعال کیسز جو نومبر 2020 کے آخر تک 50 ہزار تک پہنچ گئے تھے وہ گزشتہ روز تک 31 ہزار 510 ہوگئے، یہ دوسری مرتبہ ہے کہ فعال کیسز میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کووڈ 19 کی پہلی لہر کے دوران گزشتہ سال جون میں فعال کیسز 50 ہزار سے زائد ہوچکے تھے، جس میں بعد ازاں کمی آنا شروع ہوئی تھی اور تمبر میں یہ کم ہوکر 6 ہزار سے بھی کم رہ گئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1153628/"&gt;نیا کورونا وائرس انسانی دماغ میں بھی داخل ہوسکتا ہے، تحقیق&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم بعد ازاں فعال کیس دوبارہ بڑھنا شروع ہوئے تھے اور 27 اکتوبر کو 11 ہزار 190 اور 18 نومبر تک 30 ہزار 362 تک پہنچ گئے تھے، جس کے بعد حکومت کی جانب سے باقاعدہ طور پر ملک میں وبا کی دوسری لہر کے شروع ہونے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم نومبر کے آخر تک یہ تعداد 50 ہزار تک جاپہنچی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق منگل کو فعال کیسز 31 ہزار 510 پر موجود تھے جبکہ 5 لاکھ 12 ہزار 943 افراد صحتیاب بھی ہوچکے تھے، تاہم ملک بھر کے ہسپتالوں میں 2 ہزار 219 مریض داخل تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;این سی او سی کے مطابق ملک بھر میں 254 وینٹی لیٹرز زیراستعمال تھے جس میں 35 فیصد ملتان، 33 فیصد لاہور، 27 فیصد اسلام آباد اور پشاور  میں 26 فیصد تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پشاور میں آکسیجن کے ساتھ موجود بستر 41 فیصد، ملتان میں 32 فیصد، راولپنڈی میں 25 فیصد اور کراچی میں 24 فیصد زیر استعمال تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='60237ca03d9d1'&gt;کووڈ 19 اقسام&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;دنیا کے مختلف ممالک بشومل جنوبی افریقہ اور برطانیہ میں کووڈ 19 کی نئی اقسام رپورٹ ہوئی ہیں اور کووویکس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر ان کے خلاف مؤثر رہنا ہے تو سائنسی ردعمل اپنانے کی ضرورت ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1153605/"&gt;نیا کورونا وائرس لیبارٹری سے نہیں کسی جانور سے پھیلا، عالمی ادارہ صحت&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک بیان میں کوویکس کا کہنا تھا کہ وائرل کی قسم B.1.351 کی وجہ سے ہلکی سے معتدل کووڈ 19 بیماری سے بچاؤ میں ایسٹرازینیکا/آکسفورڈ ویکسین کی کم افادیت سے متعلق ابتدائی اعداد و شمار کے حوالے سے حالیہ نیوز اسٹوریز کی روشنی یہ بات اہم ہے کہ اس قسم کے بغیر وائرل سیٹنگز کے تناظر میں اب تک فیز 3 ٹرائلز کے اعداد و شمار کا بنیادی جائزہ دکھایا گیا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ ایسٹرازینیکا/آکسفورڈ ویکسین مختلف بیماریوں، ہسپتال میں داخل ہونے اور موت سے بچاؤ کی پیشکش کرتی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ جب B.1.351 قسم سے ہونے والی مختلف شدید بیماریوں سے بچاؤ کی بات آتی ہے تو ویکسین تاثیر کا تعین کرنا انتہائی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ کوویکس ایک بین الاقوامی اتحاد ہے جو کووڈ 19 ویکسین کی 2 ارب خواراکیں حاصل/ بک کرے گا اور اس اتحاد نے پاکستان کی 20 فیصد آباد کے لیے مفت خوراک کا وعدہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ حکومتیں اور عطیات دہندگان سمیت ترقیاتی بینکوں کو مساوی رسائی اور ترسیل کے ساتھ ساتھ آئندہ جنریشن کی ویکسین کے لیے جاری تحقیق اور ترقیاتی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے کوویکس کی مزید مدد کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: ملک بھر میں گزشتہ 2 ماہ کے دوران کورونا وائرس کے فعال کیسز میں تقریباً 20 ہزار تک کی کمی ہوگئی۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1606502/active-covid-cases-drop-by-20000-in-two-months"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق فعال کیسز جو نومبر 2020 کے آخر تک 50 ہزار تک پہنچ گئے تھے وہ گزشتہ روز تک 31 ہزار 510 ہوگئے، یہ دوسری مرتبہ ہے کہ فعال کیسز میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔</p>

<p>کووڈ 19 کی پہلی لہر کے دوران گزشتہ سال جون میں فعال کیسز 50 ہزار سے زائد ہوچکے تھے، جس میں بعد ازاں کمی آنا شروع ہوئی تھی اور تمبر میں یہ کم ہوکر 6 ہزار سے بھی کم رہ گئے تھے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1153628/">نیا کورونا وائرس انسانی دماغ میں بھی داخل ہوسکتا ہے، تحقیق</a></strong></p>

<p>تاہم بعد ازاں فعال کیس دوبارہ بڑھنا شروع ہوئے تھے اور 27 اکتوبر کو 11 ہزار 190 اور 18 نومبر تک 30 ہزار 362 تک پہنچ گئے تھے، جس کے بعد حکومت کی جانب سے باقاعدہ طور پر ملک میں وبا کی دوسری لہر کے شروع ہونے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم نومبر کے آخر تک یہ تعداد 50 ہزار تک جاپہنچی تھی۔</p>

<p>نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق منگل کو فعال کیسز 31 ہزار 510 پر موجود تھے جبکہ 5 لاکھ 12 ہزار 943 افراد صحتیاب بھی ہوچکے تھے، تاہم ملک بھر کے ہسپتالوں میں 2 ہزار 219 مریض داخل تھے۔</p>

<p>این سی او سی کے مطابق ملک بھر میں 254 وینٹی لیٹرز زیراستعمال تھے جس میں 35 فیصد ملتان، 33 فیصد لاہور، 27 فیصد اسلام آباد اور پشاور  میں 26 فیصد تھے۔</p>

<p>اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پشاور میں آکسیجن کے ساتھ موجود بستر 41 فیصد، ملتان میں 32 فیصد، راولپنڈی میں 25 فیصد اور کراچی میں 24 فیصد زیر استعمال تھے۔</p>

<h3 id='60237ca03d9d1'>کووڈ 19 اقسام</h3>

<p>دنیا کے مختلف ممالک بشومل جنوبی افریقہ اور برطانیہ میں کووڈ 19 کی نئی اقسام رپورٹ ہوئی ہیں اور کووویکس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر ان کے خلاف مؤثر رہنا ہے تو سائنسی ردعمل اپنانے کی ضرورت ہوسکتی ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1153605/">نیا کورونا وائرس لیبارٹری سے نہیں کسی جانور سے پھیلا، عالمی ادارہ صحت</a></strong></p>

<p>ایک بیان میں کوویکس کا کہنا تھا کہ وائرل کی قسم B.1.351 کی وجہ سے ہلکی سے معتدل کووڈ 19 بیماری سے بچاؤ میں ایسٹرازینیکا/آکسفورڈ ویکسین کی کم افادیت سے متعلق ابتدائی اعداد و شمار کے حوالے سے حالیہ نیوز اسٹوریز کی روشنی یہ بات اہم ہے کہ اس قسم کے بغیر وائرل سیٹنگز کے تناظر میں اب تک فیز 3 ٹرائلز کے اعداد و شمار کا بنیادی جائزہ دکھایا گیا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ ایسٹرازینیکا/آکسفورڈ ویکسین مختلف بیماریوں، ہسپتال میں داخل ہونے اور موت سے بچاؤ کی پیشکش کرتی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ جب B.1.351 قسم سے ہونے والی مختلف شدید بیماریوں سے بچاؤ کی بات آتی ہے تو ویکسین تاثیر کا تعین کرنا انتہائی ضروری ہے۔</p>

<p>واضح رہے کہ کوویکس ایک بین الاقوامی اتحاد ہے جو کووڈ 19 ویکسین کی 2 ارب خواراکیں حاصل/ بک کرے گا اور اس اتحاد نے پاکستان کی 20 فیصد آباد کے لیے مفت خوراک کا وعدہ کیا ہے۔</p>

<p>بیان میں کہا گیا کہ حکومتیں اور عطیات دہندگان سمیت ترقیاتی بینکوں کو مساوی رسائی اور ترسیل کے ساتھ ساتھ آئندہ جنریشن کی ویکسین کے لیے جاری تحقیق اور ترقیاتی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے کوویکس کی مزید مدد کرنا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1153645</guid>
      <pubDate>Wed, 10 Feb 2021 11:26:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اکرام جنیدی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/02/60237b0a0a942.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/02/60237b0a0a942.png"/>
        <media:title>پاکستان میں فعال کیسز کم ہوئے ہیں—فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
