<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 12:25:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 12:25:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی آئی، درخواستیں طلب کیے بغیر سینیٹ اُمیدواروں کا حتمی فیصلہ کرے گی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1153717/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: دیگر سیاسی جماعتوں کے برعکس حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آئندہ سینیٹ انتخابات کے لیے پارٹی کے ٹکٹ کے خواہش مند افراد سے باقاعدہ درخواستیں طلب نہیں کیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان کو یہ معلوم ہوا ہے کہ پی ٹی آئی نے آئندہ سینیٹ انتخابات کے لیے پارٹی ٹکٹس کے خواہش مند افراد سے باضابطہ طور پر درخواستیں وصول نہیں کیں اور اُمیدواروں کو مکمل طور پر وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں حال ہی بننے والے پارلیمانی بورڈ کے اراکین کی ’سفارشات‘ پر حتمی شکل دی جائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1606698/pti-to-finalise-senate-candidates-without-inviting-applications"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق پارٹی میں موجود ذرائع کا کہنا تھا کہ بورڈ کا پہلا اجلاس آج (جمعرات) کو ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پارلیمانی بورڈ کے دیگر اراکین میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، پنجاب کے گورنر چوہدری محمد سرور اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار، خیبرپختوبخوا کے گورنر شاہ فرمان اور وزیراعلیٰ محمود خان، سندھ کے گورنر عمران اسمٰعیل، وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر ترقی و منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر تعلیم شفقت محمود اور پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل عامرکیانی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1152951"&gt;تحریک انصاف سینیٹ میں سب سے بڑی جماعت بننے کو تیار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا تھا کہ ہر صوبے سے تعلق رکھنے والے بورڈ کے اراکین سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے متعلقہ صوبوں سے ممکنہ اُمیدواروں کے نام تجویز کریں جبکہ اسد عمر کی یہ مرکزی ذمہ داری تھی کہ وہ اسلام آباد سے اُمیدواروں کے لیے تجاویز کو تیار کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ان رپورٹس کے کہ قیادت کچھ ایسے لوگوں کو جو ’باہر والے‘ تصور کیے جاتے ہیں ٹکٹ دینے کے لیے تیار ہے پر  پی ٹی آئی کی صفوں خاص طور پر پنجاب اور اسلام آباد میں ناراضی پائی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ادھر اسلام آباد سے پی ٹی آئی کے عہدیداران اور کارکنوں کے ایک گروپ نے بدھ کو ایک اجلاس منعقد کیا اور یہ اعلان کرکے کہ اسلام آباد کے لیے مختص سینیٹ کی نشستوں پر کوئی ’درآمدی امیدوار‘ تسلیم نہیں کیا جائے گا اپنے تحفظات کو سامنے رکھ دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق مذکورہ ردعمل ان رپورٹس پر آیا کہ اسلام آباد سے جنرل نشست پر انتخاب کے لیے قیادت وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو پارٹی ٹکٹ دینے پر غور کر رہی ہے، یہی نہیں بلکہ ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ قیادت وزیراعظم کے 3 مشیران بابر اعوان، شہزاد اکبر اور عبدالرزاق داؤد کو بھی پارٹی ٹکٹس دینے پر غور کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسلام آباد کے قومی اسمبلی کے 3 حلقوں سے تعلق رکھنے والے پارٹی عہدیداران اور کارکنان کے اجلاس کے بعد پی ٹی آئی کا ایک کارکن اور پاکستان بیت المال کے رکن سردار زاہد اختر کا کہنا تھا کہ صرف مقامی شخص کو اسلام آباد سے سینیٹ انتخاب لڑنے کا حق ہے اور ’درآمدی اُمیدواروں‘ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پی ٹی آئی کے ایڈیشنل ریجنل سیکریٹری جنرل مصطفیٰ کیانی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے کارکنان کسی دوسرے صوبے سے اُمیدورار کو دارالحکومت سے پارٹی کا ٹکٹ دینے کو برداشت نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ اجلاس دراصل پی ٹی آئی کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل عامر مغل کے اُمیدوار کی حمایت کے لیے منعقد کیا گیا تھا جو پارٹی ٹکٹ کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے عامر مغل نے تصدیق کی کہ وہ پارٹی کا ٹکٹ حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ وہ مذکورہ معاملے پر پارٹی کی صفوں میں ناراضی سے متعلق رپورٹس پر تبصرہ نہیں کرسکتے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر سمجھتے ہیں کہ ٹکٹ تمام صوبوں اور اسلام آباد میں مقامی لوگوں کو دینے چاہئیں جو آئینی و قانونی ذمہ داری بھی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلام آباد کی نشستوں پر موجود دونوں سینیٹر، جو 11 مارچ کو اپنی مدت پوری کرنے کے بعد ریٹائر ہورہے ہیں، ان دونوں کا تعلق وفاقی دارالحکومت سے نہیں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;راحیلہ مگسی کا تعلق سندھ اور سردار یعقوب ناصر بلوچستان سے ہیں جو دونوں نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کی نمائندگی کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ صورتحال پر جب اسد عمر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس حقیقت کے باوجود کہ ہم نے خواہش مند اُمیدواروں سے درخواستیں وصول نہیں کیں، پارلیمانی بورڈ کے اراکین کے ٹیلی فونز پر ٹکٹس کے لیے پیغامات اور درخواستوں کا سیلاب آیا ہوا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ پارٹی کی سینئر قیادت بشمول وزیراعظم عمران خان نچلی سطح پر پارٹی کارکنان کو جانتے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ اس بات کا امکان ہے کہ وہ ایسے لوگوں میں سے کچھ کو ٹکٹس دینے کا کہہ سکتے ہیں جنہوں نے پارٹی ٹکٹ کے لیے درخواست تک نہیں کی لیکن قیادت سمجھتی ہے کہ یہ سینیٹ کے لیے بہترین شخص ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جب ان سے اسلام آباد میں پارٹی کی صفوں میں ناراضی سے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ایسے مواقع پر ایسی چیزیں ہوتی ہیں تاہم اب تک ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے اسلام آباد سے سینیٹ ٹکٹ کے لیے کوئی درخواست نہیں کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے خواہش مند افراد سے ایک لاکھ روپے کے بینک ڈرافٹ کے ساتھ درخواستیں طلب کی تھیں جس کے جمع کرانے کی آخری تاریخ 8 فروری تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح مسلم لیگ (ن) نے بھی پارٹی ٹکٹس کے لیے 15 فروری تک درخواستیں طلب کی ہیں اور ہر اُمیدوار کے لیے درخواست کے ساتھ 50 ہزار روپے کا بینک ڈرافٹ جمع کرانا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1149080/"&gt;مارچ میں ریٹائر ہونے والے سینیٹرز میں 65 فیصد اپوزیشن اراکین شامل&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسد عمر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے سینیٹ ٹکٹ کے لیے کبھی رقم کے لیے نہیں کہا کیونکہ پارٹی کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کی طرح کسی مہم کو چلانے کی ضرورت نہیں تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ مارچ میں آنے والے انتخابات کے بعد حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سینیٹ میں اکیلی سب سے بڑی پارٹی بننے کو تیار ہے تاہم یہ یقینی طور پر پارلیمنٹ کے ایوان بالا کا کنٹرول حاصل کرنے کے قابل نہیں ہوگی اور اسے معمولی قانون سازی کے لیے بھی اپنے اتحادیوں اور اپوزیشن جماعتوں پر ہی انحصار کرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایوان بالا کے اراکین کے انتخابات کے لیے حلقہ بندیاں تشکیل دینے والی قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں پارٹی پوزیشن کی بنیاد اور اگر تمام قانون ساز پالیسی کے مطابق ووٹ اپنی متعلقہ پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں تو ایک محتاط اندازے کے مطابق حکمران پی ٹی آئی کو 20 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جس کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) اور بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) 6، 6 نشستیں اور مسلم لیگ (ن) 5 نشستیں جیت سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: دیگر سیاسی جماعتوں کے برعکس حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آئندہ سینیٹ انتخابات کے لیے پارٹی کے ٹکٹ کے خواہش مند افراد سے باقاعدہ درخواستیں طلب نہیں کیں۔</p>

<p>ڈان کو یہ معلوم ہوا ہے کہ پی ٹی آئی نے آئندہ سینیٹ انتخابات کے لیے پارٹی ٹکٹس کے خواہش مند افراد سے باضابطہ طور پر درخواستیں وصول نہیں کیں اور اُمیدواروں کو مکمل طور پر وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں حال ہی بننے والے پارلیمانی بورڈ کے اراکین کی ’سفارشات‘ پر حتمی شکل دی جائے گی۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1606698/pti-to-finalise-senate-candidates-without-inviting-applications"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق پارٹی میں موجود ذرائع کا کہنا تھا کہ بورڈ کا پہلا اجلاس آج (جمعرات) کو ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔</p>

<p>پارلیمانی بورڈ کے دیگر اراکین میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، پنجاب کے گورنر چوہدری محمد سرور اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار، خیبرپختوبخوا کے گورنر شاہ فرمان اور وزیراعلیٰ محمود خان، سندھ کے گورنر عمران اسمٰعیل، وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر ترقی و منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر تعلیم شفقت محمود اور پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل عامرکیانی شامل ہیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1152951">تحریک انصاف سینیٹ میں سب سے بڑی جماعت بننے کو تیار</a></strong></p>

<p>ذرائع کا کہنا تھا کہ ہر صوبے سے تعلق رکھنے والے بورڈ کے اراکین سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے متعلقہ صوبوں سے ممکنہ اُمیدواروں کے نام تجویز کریں جبکہ اسد عمر کی یہ مرکزی ذمہ داری تھی کہ وہ اسلام آباد سے اُمیدواروں کے لیے تجاویز کو تیار کریں۔</p>

<p>ذرائع کے مطابق ان رپورٹس کے کہ قیادت کچھ ایسے لوگوں کو جو ’باہر والے‘ تصور کیے جاتے ہیں ٹکٹ دینے کے لیے تیار ہے پر  پی ٹی آئی کی صفوں خاص طور پر پنجاب اور اسلام آباد میں ناراضی پائی جاتی ہے۔</p>

<p>ادھر اسلام آباد سے پی ٹی آئی کے عہدیداران اور کارکنوں کے ایک گروپ نے بدھ کو ایک اجلاس منعقد کیا اور یہ اعلان کرکے کہ اسلام آباد کے لیے مختص سینیٹ کی نشستوں پر کوئی ’درآمدی امیدوار‘ تسلیم نہیں کیا جائے گا اپنے تحفظات کو سامنے رکھ دیا۔</p>

<p>ذرائع کے مطابق مذکورہ ردعمل ان رپورٹس پر آیا کہ اسلام آباد سے جنرل نشست پر انتخاب کے لیے قیادت وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو پارٹی ٹکٹ دینے پر غور کر رہی ہے، یہی نہیں بلکہ ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ قیادت وزیراعظم کے 3 مشیران بابر اعوان، شہزاد اکبر اور عبدالرزاق داؤد کو بھی پارٹی ٹکٹس دینے پر غور کر رہی ہے۔</p>

<p>اسلام آباد کے قومی اسمبلی کے 3 حلقوں سے تعلق رکھنے والے پارٹی عہدیداران اور کارکنان کے اجلاس کے بعد پی ٹی آئی کا ایک کارکن اور پاکستان بیت المال کے رکن سردار زاہد اختر کا کہنا تھا کہ صرف مقامی شخص کو اسلام آباد سے سینیٹ انتخاب لڑنے کا حق ہے اور ’درآمدی اُمیدواروں‘ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔</p>

<p>پی ٹی آئی کے ایڈیشنل ریجنل سیکریٹری جنرل مصطفیٰ کیانی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے کارکنان کسی دوسرے صوبے سے اُمیدورار کو دارالحکومت سے پارٹی کا ٹکٹ دینے کو برداشت نہیں کریں گے۔</p>

<p>مذکورہ اجلاس دراصل پی ٹی آئی کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل عامر مغل کے اُمیدوار کی حمایت کے لیے منعقد کیا گیا تھا جو پارٹی ٹکٹ کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔</p>

<p>اس حوالے سے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے عامر مغل نے تصدیق کی کہ وہ پارٹی کا ٹکٹ حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ وہ مذکورہ معاملے پر پارٹی کی صفوں میں ناراضی سے متعلق رپورٹس پر تبصرہ نہیں کرسکتے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر سمجھتے ہیں کہ ٹکٹ تمام صوبوں اور اسلام آباد میں مقامی لوگوں کو دینے چاہئیں جو آئینی و قانونی ذمہ داری بھی ہے۔</p>

<p>یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلام آباد کی نشستوں پر موجود دونوں سینیٹر، جو 11 مارچ کو اپنی مدت پوری کرنے کے بعد ریٹائر ہورہے ہیں، ان دونوں کا تعلق وفاقی دارالحکومت سے نہیں ہے۔</p>

<p>راحیلہ مگسی کا تعلق سندھ اور سردار یعقوب ناصر بلوچستان سے ہیں جو دونوں نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کی نمائندگی کر رہے ہیں۔</p>

<p>مذکورہ صورتحال پر جب اسد عمر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس حقیقت کے باوجود کہ ہم نے خواہش مند اُمیدواروں سے درخواستیں وصول نہیں کیں، پارلیمانی بورڈ کے اراکین کے ٹیلی فونز پر ٹکٹس کے لیے پیغامات اور درخواستوں کا سیلاب آیا ہوا تھا۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ پارٹی کی سینئر قیادت بشمول وزیراعظم عمران خان نچلی سطح پر پارٹی کارکنان کو جانتے تھے۔</p>

<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ اس بات کا امکان ہے کہ وہ ایسے لوگوں میں سے کچھ کو ٹکٹس دینے کا کہہ سکتے ہیں جنہوں نے پارٹی ٹکٹ کے لیے درخواست تک نہیں کی لیکن قیادت سمجھتی ہے کہ یہ سینیٹ کے لیے بہترین شخص ہے۔</p>

<p>جب ان سے اسلام آباد میں پارٹی کی صفوں میں ناراضی سے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ایسے مواقع پر ایسی چیزیں ہوتی ہیں تاہم اب تک ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے اسلام آباد سے سینیٹ ٹکٹ کے لیے کوئی درخواست نہیں کی۔</p>

<p>دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے خواہش مند افراد سے ایک لاکھ روپے کے بینک ڈرافٹ کے ساتھ درخواستیں طلب کی تھیں جس کے جمع کرانے کی آخری تاریخ 8 فروری تھی۔</p>

<p>اسی طرح مسلم لیگ (ن) نے بھی پارٹی ٹکٹس کے لیے 15 فروری تک درخواستیں طلب کی ہیں اور ہر اُمیدوار کے لیے درخواست کے ساتھ 50 ہزار روپے کا بینک ڈرافٹ جمع کرانا ضروری ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1149080/">مارچ میں ریٹائر ہونے والے سینیٹرز میں 65 فیصد اپوزیشن اراکین شامل</a></strong></p>

<p>اسد عمر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے سینیٹ ٹکٹ کے لیے کبھی رقم کے لیے نہیں کہا کیونکہ پارٹی کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کی طرح کسی مہم کو چلانے کی ضرورت نہیں تھی۔</p>

<p>واضح رہے کہ مارچ میں آنے والے انتخابات کے بعد حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سینیٹ میں اکیلی سب سے بڑی پارٹی بننے کو تیار ہے تاہم یہ یقینی طور پر پارلیمنٹ کے ایوان بالا کا کنٹرول حاصل کرنے کے قابل نہیں ہوگی اور اسے معمولی قانون سازی کے لیے بھی اپنے اتحادیوں اور اپوزیشن جماعتوں پر ہی انحصار کرنا پڑے گا۔</p>

<p>ایوان بالا کے اراکین کے انتخابات کے لیے حلقہ بندیاں تشکیل دینے والی قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں پارٹی پوزیشن کی بنیاد اور اگر تمام قانون ساز پالیسی کے مطابق ووٹ اپنی متعلقہ پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں تو ایک محتاط اندازے کے مطابق حکمران پی ٹی آئی کو 20 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جس کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) اور بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) 6، 6 نشستیں اور مسلم لیگ (ن) 5 نشستیں جیت سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1153717</guid>
      <pubDate>Thu, 11 Feb 2021 13:48:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عامر وسیم)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/02/6024b86715729.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/02/6024b86715729.png"/>
        <media:title>وزیر اعظم عمران خان پارلیمانی بورڈ کے سربراہ ہیں—فائل فوٹو:ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
