<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 19:12:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 23 Jun 2026 19:12:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میگھن مارکل برطانوی اخبار کے خلاف مقدمہ جیت گئیں
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1153832/</link>
      <description>&lt;p&gt;لندن ہائی کورٹ نے برطانوی اخبار دی میل اور ان کی ذیلی ویب سائٹ دی میل آن سنڈے کے خلاف میگھن مارکل کے دائر کردہ مقدمے کا فیصلہ برطانوی شہزادی کے حق میں سنادیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میگھن مارکل نے اکتوبر 2019 میں برطانوی اخبار دی میل اور ان کی ذیلی ویب سائٹ دی میل آن سنڈے کے خلاف والد کو لکھے گئے ذاتی خط کو شائع کرنے پر ہرجانے کا &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1111949"&gt;مقدمہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; دائر کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دی میل آن سنڈے نے میگھن مارکل کی جانب سے 2018 میں اپنے والد کو لکھے گئے خط کو شائع کیا تھا، جس پر شہزادی نے اخبار کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ کیس کی ابتدائی سماعتیں 2020 کے وسط اور آغاز میں لندن ہائی کورٹ میں ہوئی تھیں تاہم ابتدائی سماعتوں میں عدالت نے برطانوی اخبار کے حق میں ریمارکس دیے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='60268f16e8950'&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1128489/"&gt;میگھن مارکل کی جانب سے برطانوی اخبار کے خلاف دائر مقدمے کا آغاز&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;عدالت نے قرار دیا تھا کہ اخبار کی جانب سے شائع کیا گیا خط غیر قانونی یا سائبر کرائم کی خلاف ورزی نہیں تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالتی ریمارکس کے بعد میگھن مارکل کا کیس کمزور پڑ گیا تھا اور انہیں ابتدائی سماعتوں کے دوران وکلا کی خدمات حاصل کرنے کی مد میں برطانوی اخبار کو معاوضہ بھی ادا کرنا پڑا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5ea6cff180dac.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5ea6cff180dac.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5ea6cff180dac.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5ea6cff180dac.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="میگھن مارکل نے برطانوی اخبار کے خلاف اکتوبر 2019 میں مقدمہ دائر کیا تھا&amp;mdash;فائل فوٹو: اے پی" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;میگھن مارکل نے برطانوی اخبار کے خلاف اکتوبر 2019 میں مقدمہ دائر کیا تھا—فائل فوٹو: اے پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس کے بعد گزشتہ ماہ جنوری میں میگھن مارکل نے مذکورہ عدالت میں درخواست دائر کی تھی کہ فیصلے کا خلاصہ ان کے حق میں دے کر مقدمے کو ختم کردیا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی مقدمے کا باضابطہ ٹرائل مئی 2021 میں شروع ہونا تھا مگر برطانوی شہزادی نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی کہ فیصلے کا خلاصہ ان کے حق میں دے کر مقدمے کو باضابطہ ٹرائل سے قبل ہی ختم کردیا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='60268f16e89af'&gt;# مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1129134/"&gt;میگھن مارکل و برطانوی اخبار کے درمیان مقدمہ، عدالت کے اخبار کے حق میں ریمارکس&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;اور اب لندن ہائی کورٹ کے جج مارک واربی نے میگھن مارکل کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ برطانوی اخبار نے شہزادی کا ذاتی خط لکھ کر برطانوی اشاعت کے قوانین کی خلاف ورزی کی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5ea6d13b437ee.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5ea6d13b437ee.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5ea6d13b437ee.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5ea6d13b437ee.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="مذکورہ کیس کی ابتدائی سماعتوں میں عدالت نے برطانوی اخبار کے حق میں ریمارکس دیے تھے&amp;mdash;فائل فوٹو: اے ایف پی" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;مذکورہ کیس کی ابتدائی سماعتوں میں عدالت نے برطانوی اخبار کے حق میں ریمارکس دیے تھے—فائل فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس &lt;a href="https://apnews.com/article/meghan-markle-privacy-lawsuit-fa0f447e403e0df077ea60af7ba0f071"&gt;&lt;strong&gt;(اے پی)&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق 11 فروری کو جج مارک واربی نے میگھن مارکل کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ اخبار نے ایک بیٹی کی جانب سے والد کو لکھے گئے خط کو شائع کرکے ان کی پرائیویسی پر حملہ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جج نے میگھن مارکل کے حق میں خلاصہ دیتے ہوئے کہا کہ خط کی اشاعت سے برطانوی اشاعتی قوانین کی خلاف ورزی بھی ہوئی۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='60268f16e89d6'&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1152051/"&gt;میگھن مارکل برطانوی اخبار کے خلاف مقدمہ ختم کرانے کی خواہاں&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;عدالت کی جانب سے اپنے حق میں فیصلہ دیے جانے پر میگھن مارکل نے خوشی کا اظہار کیا جب کہ برطانوی اخبار کی انتظامیہ نے اس پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ممکنہ طور پر وہ فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ کیس فوجداری نہیں بلکہ سول تھا، جس وجہ سے کسی کو مجرم قرار نہیں دیا گیا اور نہ ہی کسی کو سزا سنائی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/03/5e67633e3bbe1.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/03/5e67633e3bbe1.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/03/5e67633e3bbe1.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/03/5e67633e3bbe1.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="گزشتہ ماہ میگھن مارکل نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ان کے حق میں فیصلہ دے کر کیس ختم کیا جائے&amp;mdash;فوٹو: رائٹرز" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;گزشتہ ماہ میگھن مارکل نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ان کے حق میں فیصلہ دے کر کیس ختم کیا جائے—فوٹو: رائٹرز&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لندن ہائی کورٹ نے برطانوی اخبار دی میل اور ان کی ذیلی ویب سائٹ دی میل آن سنڈے کے خلاف میگھن مارکل کے دائر کردہ مقدمے کا فیصلہ برطانوی شہزادی کے حق میں سنادیا۔</p>

<p>میگھن مارکل نے اکتوبر 2019 میں برطانوی اخبار دی میل اور ان کی ذیلی ویب سائٹ دی میل آن سنڈے کے خلاف والد کو لکھے گئے ذاتی خط کو شائع کرنے پر ہرجانے کا <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1111949">مقدمہ</a></strong> دائر کیا تھا۔</p>

<p>دی میل آن سنڈے نے میگھن مارکل کی جانب سے 2018 میں اپنے والد کو لکھے گئے خط کو شائع کیا تھا، جس پر شہزادی نے اخبار کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔</p>

<p>مذکورہ کیس کی ابتدائی سماعتیں 2020 کے وسط اور آغاز میں لندن ہائی کورٹ میں ہوئی تھیں تاہم ابتدائی سماعتوں میں عدالت نے برطانوی اخبار کے حق میں ریمارکس دیے تھے۔</p>

<h6 id='60268f16e8950'>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1128489/">میگھن مارکل کی جانب سے برطانوی اخبار کے خلاف دائر مقدمے کا آغاز</a></h6>

<p>عدالت نے قرار دیا تھا کہ اخبار کی جانب سے شائع کیا گیا خط غیر قانونی یا سائبر کرائم کی خلاف ورزی نہیں تھا۔</p>

<p>عدالتی ریمارکس کے بعد میگھن مارکل کا کیس کمزور پڑ گیا تھا اور انہیں ابتدائی سماعتوں کے دوران وکلا کی خدمات حاصل کرنے کی مد میں برطانوی اخبار کو معاوضہ بھی ادا کرنا پڑا تھا۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5ea6cff180dac.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5ea6cff180dac.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5ea6cff180dac.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5ea6cff180dac.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="میگھن مارکل نے برطانوی اخبار کے خلاف اکتوبر 2019 میں مقدمہ دائر کیا تھا&mdash;فائل فوٹو: اے پی" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">میگھن مارکل نے برطانوی اخبار کے خلاف اکتوبر 2019 میں مقدمہ دائر کیا تھا—فائل فوٹو: اے پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>جس کے بعد گزشتہ ماہ جنوری میں میگھن مارکل نے مذکورہ عدالت میں درخواست دائر کی تھی کہ فیصلے کا خلاصہ ان کے حق میں دے کر مقدمے کو ختم کردیا جائے۔</p>

<p>اسی مقدمے کا باضابطہ ٹرائل مئی 2021 میں شروع ہونا تھا مگر برطانوی شہزادی نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی کہ فیصلے کا خلاصہ ان کے حق میں دے کر مقدمے کو باضابطہ ٹرائل سے قبل ہی ختم کردیا جائے۔</p>

<h6 id='60268f16e89af'># مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1129134/">میگھن مارکل و برطانوی اخبار کے درمیان مقدمہ، عدالت کے اخبار کے حق میں ریمارکس</a></h6>

<p>اور اب لندن ہائی کورٹ کے جج مارک واربی نے میگھن مارکل کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ برطانوی اخبار نے شہزادی کا ذاتی خط لکھ کر برطانوی اشاعت کے قوانین کی خلاف ورزی کی۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/04/5ea6d13b437ee.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5ea6d13b437ee.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5ea6d13b437ee.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5ea6d13b437ee.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="مذکورہ کیس کی ابتدائی سماعتوں میں عدالت نے برطانوی اخبار کے حق میں ریمارکس دیے تھے&mdash;فائل فوٹو: اے ایف پی" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">مذکورہ کیس کی ابتدائی سماعتوں میں عدالت نے برطانوی اخبار کے حق میں ریمارکس دیے تھے—فائل فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس <a href="https://apnews.com/article/meghan-markle-privacy-lawsuit-fa0f447e403e0df077ea60af7ba0f071"><strong>(اے پی)</strong></a> کے مطابق 11 فروری کو جج مارک واربی نے میگھن مارکل کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ اخبار نے ایک بیٹی کی جانب سے والد کو لکھے گئے خط کو شائع کرکے ان کی پرائیویسی پر حملہ کیا۔</p>

<p>جج نے میگھن مارکل کے حق میں خلاصہ دیتے ہوئے کہا کہ خط کی اشاعت سے برطانوی اشاعتی قوانین کی خلاف ورزی بھی ہوئی۔</p>

<h6 id='60268f16e89d6'>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1152051/">میگھن مارکل برطانوی اخبار کے خلاف مقدمہ ختم کرانے کی خواہاں</a></h6>

<p>عدالت کی جانب سے اپنے حق میں فیصلہ دیے جانے پر میگھن مارکل نے خوشی کا اظہار کیا جب کہ برطانوی اخبار کی انتظامیہ نے اس پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ممکنہ طور پر وہ فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرے گی۔</p>

<p>مذکورہ کیس فوجداری نہیں بلکہ سول تھا، جس وجہ سے کسی کو مجرم قرار نہیں دیا گیا اور نہ ہی کسی کو سزا سنائی گئی۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/03/5e67633e3bbe1.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/03/5e67633e3bbe1.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/03/5e67633e3bbe1.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/03/5e67633e3bbe1.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="گزشتہ ماہ میگھن مارکل نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ان کے حق میں فیصلہ دے کر کیس ختم کیا جائے&mdash;فوٹو: رائٹرز" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">گزشتہ ماہ میگھن مارکل نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ان کے حق میں فیصلہ دے کر کیس ختم کیا جائے—فوٹو: رائٹرز</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1153832</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Feb 2021 19:22:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/02/60267ce9b6ed9.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/02/60267ce9b6ed9.jpg"/>
        <media:title>میگھن مارکل نے عدالتی فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
