<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 06:35:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 06:35:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں نئی گاڑیوں کی درآمدات میں 196 فیصد اضافہ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1153921/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی: رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں مکمل بلٹ اپ (سی بی یو) کاروں کی درآمدات میں 196 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 9 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں، جس ساتھ ہی آٹو سیکٹر میں شکوک و شبہات بڑھ گئے ہیں کہ آیا مارکیٹ کے حالیہ امیدواروں کی طرف سے نئی گاڑیوں کی درآمدات بڑھ رہی ہیں یا استعمال شدہ گاڑیوں کی آمد میں اضافہ ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے آٹو سیکٹر کے اسٹیک ہولڈرز نے مختلف رائے پیش کی، جہاں کچھ نے خدشات کا اظہار کیا کہ نئے آنے والوں (اینٹرینٹس) کی جانب سے مراعاتی ڈیوٹی کے تحت 100 یونٹس کی سہولت کا غلط استعمال کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1607256/import-of-new-cars-surges-three-times-in-1hfy21"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں بتایا گیا کہ پاکستان آٹوموٹو مینوفکچررز ایسوسی ایشن (پاما) نے بھی نئے امیدواروں کو فراہم کردہ مراعات پر انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بوڈ (ای ڈی پی) سے وضاحت مانگ لی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ادھر آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشنز (اے پی ایم ڈی اے) کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد نے تخمینہ کاری کے ماڈل کسٹمز کلیٹریٹ کے درآمدای اعداد شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جولائی سے دسمبر 2020 میں 16 ہزار 126 یونٹس نئی اور استعمال شدہ گاڑیاں آئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1152503/"&gt;جولائی سے دسمبر تک آٹو سیکٹر کے درآمدی بل میں 193 فیصد تک اضافہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سب سے زیادہ شیئر 1000  سی سی تک استعمال شدہ کاروں کا رہا جو 6 ہزار 840 یونٹس تک تھا، جس کے بعد 1301 سے 1500 سی سی تک 2 ہزار 838، 1601 سے 1800 سی سی تک 698 یونٹس درآمد کیے گئے جبکہ 425 جیپس بھی درآمد ہوئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مزید یہ کہ مالی سال 21 کی پہلی ششماہی کے دوران ذاتی بیگیج کے تحت وینز کی درآمدات 502 یونٹس اور 36 یونٹس رہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ نیو وہیکل کٹیگری کے تحت ایک ہزار سی سی تک کی کاروں کے 2 ہزار 532 یونٹس درآمد کیے گئے، جس کے بعد 1301 سے 1500 سی سی کے تحت ایک ہزار 520 یونٹس، 1601 سے 1800 سی سی میں 132 یونٹس اور 42 جیپس (4x4) درآمد کی گئیں، یوں مجموعی درآمدی یونٹس 4 ہزار 236 رہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ جولائی سے دسمبر 21-2020 کے دوران نئی وینز اور پک اپس کی درآمدات 310 اور 22 یونٹس رہی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایچ ایم شہزاد کا کہنا تھا کہ جولائی سے دسمبر 2020 کے دوران نئی گاڑیوں کی درآمدات نے مالی سال 19 اورمالی سال 20 کے درمیان نئی گاڑیوں کے مجموعی مالی سال کے اعداد و شمار کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ آٹو پالیسی 21-2016 کے تحت نئے امیدواروں کو مراعاتی ڈیوٹی ریجیم کے تحت 100 یونٹس کی درآمدات کی اجازت ہے تاکہ وہ مارکیٹ کو پہلے ٹیسٹ کریں اور صارفین ردعمل کا جائزہ لیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت کو نئے امیدواروں کی سرگرمیوں کا نوٹس لینا چاہیے کیونکہ یہ مقامی اسمبلی پر توجہ دینے کے بجائے زیادہ گاڑیاں درآمد کر رہے ہیں جس سے غیرملکی زرمبادلہ خالی ہورہا ہے، ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ زیادہ طلب کی وجہ سے ان کے پاس بکنگ کے بھی بہت زیادہ آرڈرز ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ موجودہ اسمبلرز بھی قیمتوں کے ساتھ تباہی کھیل رہے ہیں، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پاک سوزوکی موٹر کمپنی لمیٹیڈ کی جانب سے سوزوکی اے پی وی درآمدی گاڑی کی قیمت میں 11 لاکھ روپے کے اضافے پر حکومت نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوران گفتگو انہوں نے جولائی سے دسمبر 2020 کے دوران استعمال شدہ کاروں کی درآمدات کی بحالی سے عدم اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ گاڑیوں کی پرانی شپمنٹس جو عالمی وبا اور کنٹینرز کے مسائل کی وجہ سے جاپان میں پھنس گئی تھیں وہ اب آرہی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ گزشتہ 2 برسوں میں مجموعی درآمدات کے تناظر میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات ابھی بھی بہت کم ہے۔
پاکستان ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق 20-2019 کے درمیان گاڑیوں کی مجموعی درآمدات میں 55 فیصد کی واضح کمی ہوئی تھی اور یہ 19-2018 کی 22 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 9 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایچ ایم شہزاد نے حکومت پر زور دیا کہ آیا وہ استعمال شدہ کاروں کی تجارتی درآمدات کی اجازت دے یا ان کاروں پر 3 سال کی مدت ختم کرکے اسے 5 سالوں تک بڑھایا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ مقامی صنعت کاروں کی ایڈوانس بکنگ پر بینکوں میں جمع کروائی گئی صارفین کی رقم سے بھاری سود کما کر پیسے بنا رہی ہے جبکہ گاڑیاں 4 سے 5 ماہ میں ڈیلور کی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اے پی ایم ڈی اے کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ جنوری 2019 میں حکومت کی جانب سے لیے گئے فیصلے کے بعد استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات دباؤ میں ہے کیونکہ اس کے تحت نئی/استعمال شدہ گاڑی کو آیا ذاتی بیگیج یا تحفہ اسکیم کے تحت درآمد کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور ڈیوٹی اور ٹیکسز کی ادائیگی خود پاکستانی شہریوں کی جانب سے انتظام کیے گئے غیرملکی زرمبادلہ سے یا مقامی وصول کنندہ کی جانب سے غیرملکی ترسیلات زر کو مقامی کرنسی میں تبدیلی کے بینک انکیشمنٹ سرٹیفکیٹ کی مدد سے ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب ریگل آٹو موبائل کے سی ای او سہیل عثمان کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنی نے آٹو ڈیولپمنٹ پالیسی 2021-2016 کے تحت مراعات کے مطابق گلوری ایس یو وی 1.5 اور گلوری 1.8 کے 100، 100 یونٹس درآمد کیے تھے جبکہ کمپنی نے تقریباً 20 پرنس 800 سی سی درآمد کی تھی کیونکہ ’ہم مقامی اسمبلی پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1117263"&gt;آٹو انڈسٹری کے تحفظات نظرانداز، حکومت الیکٹرک گاڑیوں کی پالیسی فعال کرنے کیلئے کوشاں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہماری کمپنی نے ڈیڑھ سال سے کم عرصے میں 2 ہزار 500 سے زیادہ پرنس گاڑیاں رولڈ آؤٹ کیں جبکہ دسمبر 2020 میں اپنی لانچنگ کے بعد سے ہم 350 گلوری ایس یو وی اسمبلڈ کرچکے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سہیل عثمان کا کہنا تھا کہ پلانٹ ایک سنگل 8 گھنٹے کی شفٹ میں 5 ہزار گاڑیوں کو اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن اس وقت ہم 3500 سے 4000 ینوٹس پر چلا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ میں یقینی طور پر نئی گاڑیوں کی درآمدات کے بڑھنے پر فکر مند ہوں کیونکہ یہ غیرملکی زرمبادلہ کے نقصان کا باعث بنے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ادھر ماسٹرز موٹرز میں موجود ذرائع کا کہنا تھا کہ کمپنی نے آلسون گاڑی کی مقامی اسمبلی متعارف کروانے سے سے قبل سی بی یو کی شکل میں اس کے 50 سے بھی کم یونٹس درآمد کیے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی: رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں مکمل بلٹ اپ (سی بی یو) کاروں کی درآمدات میں 196 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 9 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں، جس ساتھ ہی آٹو سیکٹر میں شکوک و شبہات بڑھ گئے ہیں کہ آیا مارکیٹ کے حالیہ امیدواروں کی طرف سے نئی گاڑیوں کی درآمدات بڑھ رہی ہیں یا استعمال شدہ گاڑیوں کی آمد میں اضافہ ہورہا ہے۔</p>

<p>ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے آٹو سیکٹر کے اسٹیک ہولڈرز نے مختلف رائے پیش کی، جہاں کچھ نے خدشات کا اظہار کیا کہ نئے آنے والوں (اینٹرینٹس) کی جانب سے مراعاتی ڈیوٹی کے تحت 100 یونٹس کی سہولت کا غلط استعمال کیا جارہا ہے۔</p>

<p>اس حوالے سے ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1607256/import-of-new-cars-surges-three-times-in-1hfy21"><strong>رپورٹ</strong></a> میں بتایا گیا کہ پاکستان آٹوموٹو مینوفکچررز ایسوسی ایشن (پاما) نے بھی نئے امیدواروں کو فراہم کردہ مراعات پر انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بوڈ (ای ڈی پی) سے وضاحت مانگ لی ہے۔</p>

<p>ادھر آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشنز (اے پی ایم ڈی اے) کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد نے تخمینہ کاری کے ماڈل کسٹمز کلیٹریٹ کے درآمدای اعداد شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جولائی سے دسمبر 2020 میں 16 ہزار 126 یونٹس نئی اور استعمال شدہ گاڑیاں آئیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1152503/">جولائی سے دسمبر تک آٹو سیکٹر کے درآمدی بل میں 193 فیصد تک اضافہ</a></strong></p>

<p>سب سے زیادہ شیئر 1000  سی سی تک استعمال شدہ کاروں کا رہا جو 6 ہزار 840 یونٹس تک تھا، جس کے بعد 1301 سے 1500 سی سی تک 2 ہزار 838، 1601 سے 1800 سی سی تک 698 یونٹس درآمد کیے گئے جبکہ 425 جیپس بھی درآمد ہوئیں۔</p>

<p>مزید یہ کہ مالی سال 21 کی پہلی ششماہی کے دوران ذاتی بیگیج کے تحت وینز کی درآمدات 502 یونٹس اور 36 یونٹس رہیں۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ نیو وہیکل کٹیگری کے تحت ایک ہزار سی سی تک کی کاروں کے 2 ہزار 532 یونٹس درآمد کیے گئے، جس کے بعد 1301 سے 1500 سی سی کے تحت ایک ہزار 520 یونٹس، 1601 سے 1800 سی سی میں 132 یونٹس اور 42 جیپس (4x4) درآمد کی گئیں، یوں مجموعی درآمدی یونٹس 4 ہزار 236 رہے۔</p>

<p>اس کے علاوہ جولائی سے دسمبر 21-2020 کے دوران نئی وینز اور پک اپس کی درآمدات 310 اور 22 یونٹس رہی۔</p>

<p>ایچ ایم شہزاد کا کہنا تھا کہ جولائی سے دسمبر 2020 کے دوران نئی گاڑیوں کی درآمدات نے مالی سال 19 اورمالی سال 20 کے درمیان نئی گاڑیوں کے مجموعی مالی سال کے اعداد و شمار کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔</p>

<p>واضح رہے کہ آٹو پالیسی 21-2016 کے تحت نئے امیدواروں کو مراعاتی ڈیوٹی ریجیم کے تحت 100 یونٹس کی درآمدات کی اجازت ہے تاکہ وہ مارکیٹ کو پہلے ٹیسٹ کریں اور صارفین ردعمل کا جائزہ لیں۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ حکومت کو نئے امیدواروں کی سرگرمیوں کا نوٹس لینا چاہیے کیونکہ یہ مقامی اسمبلی پر توجہ دینے کے بجائے زیادہ گاڑیاں درآمد کر رہے ہیں جس سے غیرملکی زرمبادلہ خالی ہورہا ہے، ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ زیادہ طلب کی وجہ سے ان کے پاس بکنگ کے بھی بہت زیادہ آرڈرز ہیں۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ موجودہ اسمبلرز بھی قیمتوں کے ساتھ تباہی کھیل رہے ہیں، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پاک سوزوکی موٹر کمپنی لمیٹیڈ کی جانب سے سوزوکی اے پی وی درآمدی گاڑی کی قیمت میں 11 لاکھ روپے کے اضافے پر حکومت نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔</p>

<p>دوران گفتگو انہوں نے جولائی سے دسمبر 2020 کے دوران استعمال شدہ کاروں کی درآمدات کی بحالی سے عدم اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ گاڑیوں کی پرانی شپمنٹس جو عالمی وبا اور کنٹینرز کے مسائل کی وجہ سے جاپان میں پھنس گئی تھیں وہ اب آرہی ہیں۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ گزشتہ 2 برسوں میں مجموعی درآمدات کے تناظر میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات ابھی بھی بہت کم ہے۔
پاکستان ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق 20-2019 کے درمیان گاڑیوں کی مجموعی درآمدات میں 55 فیصد کی واضح کمی ہوئی تھی اور یہ 19-2018 کی 22 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 9 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہی تھی۔</p>

<p>ایچ ایم شہزاد نے حکومت پر زور دیا کہ آیا وہ استعمال شدہ کاروں کی تجارتی درآمدات کی اجازت دے یا ان کاروں پر 3 سال کی مدت ختم کرکے اسے 5 سالوں تک بڑھایا جائے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ مقامی صنعت کاروں کی ایڈوانس بکنگ پر بینکوں میں جمع کروائی گئی صارفین کی رقم سے بھاری سود کما کر پیسے بنا رہی ہے جبکہ گاڑیاں 4 سے 5 ماہ میں ڈیلور کی جاتی ہیں۔</p>

<p>اے پی ایم ڈی اے کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ جنوری 2019 میں حکومت کی جانب سے لیے گئے فیصلے کے بعد استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات دباؤ میں ہے کیونکہ اس کے تحت نئی/استعمال شدہ گاڑی کو آیا ذاتی بیگیج یا تحفہ اسکیم کے تحت درآمد کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور ڈیوٹی اور ٹیکسز کی ادائیگی خود پاکستانی شہریوں کی جانب سے انتظام کیے گئے غیرملکی زرمبادلہ سے یا مقامی وصول کنندہ کی جانب سے غیرملکی ترسیلات زر کو مقامی کرنسی میں تبدیلی کے بینک انکیشمنٹ سرٹیفکیٹ کی مدد سے ہوگی۔</p>

<p>دوسری جانب ریگل آٹو موبائل کے سی ای او سہیل عثمان کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنی نے آٹو ڈیولپمنٹ پالیسی 2021-2016 کے تحت مراعات کے مطابق گلوری ایس یو وی 1.5 اور گلوری 1.8 کے 100، 100 یونٹس درآمد کیے تھے جبکہ کمپنی نے تقریباً 20 پرنس 800 سی سی درآمد کی تھی کیونکہ ’ہم مقامی اسمبلی پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں‘۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1117263">آٹو انڈسٹری کے تحفظات نظرانداز، حکومت الیکٹرک گاڑیوں کی پالیسی فعال کرنے کیلئے کوشاں</a></strong></p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ہماری کمپنی نے ڈیڑھ سال سے کم عرصے میں 2 ہزار 500 سے زیادہ پرنس گاڑیاں رولڈ آؤٹ کیں جبکہ دسمبر 2020 میں اپنی لانچنگ کے بعد سے ہم 350 گلوری ایس یو وی اسمبلڈ کرچکے ہیں۔</p>

<p>سہیل عثمان کا کہنا تھا کہ پلانٹ ایک سنگل 8 گھنٹے کی شفٹ میں 5 ہزار گاڑیوں کو اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن اس وقت ہم 3500 سے 4000 ینوٹس پر چلا رہے ہیں۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ میں یقینی طور پر نئی گاڑیوں کی درآمدات کے بڑھنے پر فکر مند ہوں کیونکہ یہ غیرملکی زرمبادلہ کے نقصان کا باعث بنے گا۔</p>

<p>ادھر ماسٹرز موٹرز میں موجود ذرائع کا کہنا تھا کہ کمپنی نے آلسون گاڑی کی مقامی اسمبلی متعارف کروانے سے سے قبل سی بی یو کی شکل میں اس کے 50 سے بھی کم یونٹس درآمد کیے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1153921</guid>
      <pubDate>Sun, 14 Feb 2021 11:05:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عامر شفاعت خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/02/6028babe24518.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/02/6028babe24518.jpg"/>
        <media:title>متعد استعمال شدہ گاڑیاں بندرگاہ پر کھڑی ہوئی ہیں—فائل فوٹو: فہیم صدیقی / وائٹ اسٹار
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
