<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 20:13:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 20:13:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیس بک نے آسٹریلیا میں خبر رساں اداروں کے مواد پر پابندی لگادی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1154251/</link>
      <description>&lt;p&gt;عام طور پر دنیا کے کئی ممالک متنازع پالیسیوں کی وجہ سے فیس بک پر پابندی عائد کرتے آئے ہیں تاہم اب پہلی بار فیس بک نے آسٹریلیا کے خبر رساں اداروں کے مواد کو سوشل سائٹ پر شیئر کرنے پر پابندی عائد کردی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلیا کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں پر عام لوگ خبروں اور معلومات کے انحصار کے لیے فیس بک کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلیا کے خبر رساں اداروں، نیوز آؤٹ لیٹس اور ٹی وی چینلز سمیت ہر طرح کے نشریاتی اداروں کے فیس بک پر پیجز موجود ہیں، جہاں پر ان کے لاکھوں و کروڑوں فالوورز ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلوی نشریاتی ادارے فیس بک کے ذریعے بھی اپنے قارئین یا ناظرین تک مواد کی ترسیل کرتے آئے تھے تاہم 17 فروری سے فیس بک نے آسٹریلیا میں ہر طرح کے نشریاتی مواد پر پابندی عائد کردی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس &lt;a href="https://apnews.com/article/facebook-blocks-australians-news-access-8557e9b4890b002921aa4f0738b13ea7"&gt;&lt;strong&gt;(اے پی)&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق آسٹریلوی حکومت کے مجوزہ قانون کے رد عمل میں فیس بک نے 17 فروری سے نشریاتی اداروں کے مواد کی شیئرنگ پر پابندی عائد کردی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/02/602e3ea50f0bf.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/02/602e3ea50f0bf.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/02/602e3ea50f0bf.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/02/602e3ea50f0bf.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="آسٹریلوی شہری دوسرے ممالک کی خبروں کے لنکس بھی شیئر نہیں کر سکیں گے&amp;mdash;فوٹو: اے پی" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;آسٹریلوی شہری دوسرے ممالک کی خبروں کے لنکس بھی شیئر نہیں کر سکیں گے—فوٹو: اے پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نئی پابندی کے تحت اب کوئی بھی آسٹریلوی صحافتی ادارہ اپنا کسی طرح کا مواد فیس بک پر شیئر نہیں کر سکے گا اور نہ ہی عام افراد کو نیوز ویب سائٹس، ٹی وی چینلز اور ریڈیو سمیت دیگر طرح کے نشریاتی اداروں کے لنکس یا مواد شیئر کرنے کی اجازت ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہی نہیں بلکہ فیس بک کی پابندیوں کے باعث عام آسٹریلوی شہری دیگر ممالک کی ویب سائٹس، اخبارات، ٹی وی چینلز و ریڈیوز کی خبریں یا مواد بھی شیئر نہیں کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح دیگر ممالک میں بیٹھے لوگ بھی آسٹریلوی خبر رساں اور نشریاتی اداروں کے مواد کو فیس بک پر شیئر نہیں کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اے پی کے مطابق فیس بک کی جانب سے عائد کردہ نئی پابندی کا اطلاق 17 فروری سے ہوگیا ہے اور اس ضمن میں فیس بک انتظامیہ نے بھی اپنی &lt;a href="https://about.fb.com/news/2021/02/changes-to-sharing-and-viewing-news-on-facebook-in-australia/"&gt;&lt;strong&gt;بلاگ پوسٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں تصدیق کی جب کہ آسٹریلوی حکومت کے عہدیداروں نے بھی تصدیق کی کہ 17 فروری سے فیس بک کی جانب سے پابندی عائد کردی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='602e47d795081'&gt;فیس بک نے پابندیاں کیوں لگائیں؟&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;فیس بک نے مذکورہ پابندیاں آسٹریلوی حکومت کی جانب سے منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے ایک &lt;a href="https://www.abc.net.au/news/2020-12-08/news-bargaining-code-google-facebook-explainer/12961680"&gt;&lt;strong&gt;مجوزہ قانون&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; سے اختلافات کے بعد لگائیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلوی حکومت نے پارلیمنٹ گزشتہ برس دسمبر میں ایک مجوزہ بل پیش کیا تھا، جس میں فیس بک اور گوگل سمیت دیگر امریکی انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو آسٹریلوی نشریاتی و خبر رساں اداروں کو پیسے دینے کا پابند کیا جانا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ بل کے مطابق فیس بک اور گوگل سمیت دیگر ٹیکنالوجی کمپنیاں ہر طرح کے آسٹریلوی نشریاتی و خبر رساں اداروں کو کچھ نہ کچھ رقم فراہم کریں گی، کیوں کہ انٹرنیٹ کمپنیوں کی وجہ سے میڈیا کی کمائی میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مجوزہ بل کے مطابق فیس بک اور گوگل کی وجہ سے آسٹریلوی میڈیا کی اشتہارات کی مد میں ہونے والی کمائی کم ہوگئی، اس وجہ سے انٹرنیٹ کمپنیاں میڈیا اداروں کو رقم فراہم کریں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلوی حکومت کے مجوزہ بل پر ابتدا سے ہی فیس بک اور گوگل نے اعتراض کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ایسے قوانین کو نہیں مانیں گے جب کہ حکومت نے بھی اپنے مؤقف پر ڈٹی رہی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فیس بک کے برعکس گوگل نے آسٹریلوی حکومت کی شرائط کو مان لیا تھا اور اس نے قوانین کی منظوری سے قبل ہی آسٹریلوی میڈیا سے مذاکرات شروع کردیے تھے تاہم فیس بک نے شرائط کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا مواد کو شیئر کرنے پر پابندی لگادی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عام طور پر دنیا کے کئی ممالک متنازع پالیسیوں کی وجہ سے فیس بک پر پابندی عائد کرتے آئے ہیں تاہم اب پہلی بار فیس بک نے آسٹریلیا کے خبر رساں اداروں کے مواد کو سوشل سائٹ پر شیئر کرنے پر پابندی عائد کردی۔</p>

<p>آسٹریلیا کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں پر عام لوگ خبروں اور معلومات کے انحصار کے لیے فیس بک کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔</p>

<p>آسٹریلیا کے خبر رساں اداروں، نیوز آؤٹ لیٹس اور ٹی وی چینلز سمیت ہر طرح کے نشریاتی اداروں کے فیس بک پر پیجز موجود ہیں، جہاں پر ان کے لاکھوں و کروڑوں فالوورز ہیں۔</p>

<p>آسٹریلوی نشریاتی ادارے فیس بک کے ذریعے بھی اپنے قارئین یا ناظرین تک مواد کی ترسیل کرتے آئے تھے تاہم 17 فروری سے فیس بک نے آسٹریلیا میں ہر طرح کے نشریاتی مواد پر پابندی عائد کردی۔</p>

<p>خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس <a href="https://apnews.com/article/facebook-blocks-australians-news-access-8557e9b4890b002921aa4f0738b13ea7"><strong>(اے پی)</strong></a> کے مطابق آسٹریلوی حکومت کے مجوزہ قانون کے رد عمل میں فیس بک نے 17 فروری سے نشریاتی اداروں کے مواد کی شیئرنگ پر پابندی عائد کردی۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/02/602e3ea50f0bf.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/02/602e3ea50f0bf.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/02/602e3ea50f0bf.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/02/602e3ea50f0bf.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="آسٹریلوی شہری دوسرے ممالک کی خبروں کے لنکس بھی شیئر نہیں کر سکیں گے&mdash;فوٹو: اے پی" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">آسٹریلوی شہری دوسرے ممالک کی خبروں کے لنکس بھی شیئر نہیں کر سکیں گے—فوٹو: اے پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>نئی پابندی کے تحت اب کوئی بھی آسٹریلوی صحافتی ادارہ اپنا کسی طرح کا مواد فیس بک پر شیئر نہیں کر سکے گا اور نہ ہی عام افراد کو نیوز ویب سائٹس، ٹی وی چینلز اور ریڈیو سمیت دیگر طرح کے نشریاتی اداروں کے لنکس یا مواد شیئر کرنے کی اجازت ہوگی۔</p>

<p>یہی نہیں بلکہ فیس بک کی پابندیوں کے باعث عام آسٹریلوی شہری دیگر ممالک کی ویب سائٹس، اخبارات، ٹی وی چینلز و ریڈیوز کی خبریں یا مواد بھی شیئر نہیں کر سکیں گے۔</p>

<p>اسی طرح دیگر ممالک میں بیٹھے لوگ بھی آسٹریلوی خبر رساں اور نشریاتی اداروں کے مواد کو فیس بک پر شیئر نہیں کر سکیں گے۔</p>

<p>اے پی کے مطابق فیس بک کی جانب سے عائد کردہ نئی پابندی کا اطلاق 17 فروری سے ہوگیا ہے اور اس ضمن میں فیس بک انتظامیہ نے بھی اپنی <a href="https://about.fb.com/news/2021/02/changes-to-sharing-and-viewing-news-on-facebook-in-australia/"><strong>بلاگ پوسٹ</strong></a> میں تصدیق کی جب کہ آسٹریلوی حکومت کے عہدیداروں نے بھی تصدیق کی کہ 17 فروری سے فیس بک کی جانب سے پابندی عائد کردی گئی۔</p>

<h3 id='602e47d795081'>فیس بک نے پابندیاں کیوں لگائیں؟</h3>

<p>فیس بک نے مذکورہ پابندیاں آسٹریلوی حکومت کی جانب سے منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے ایک <a href="https://www.abc.net.au/news/2020-12-08/news-bargaining-code-google-facebook-explainer/12961680"><strong>مجوزہ قانون</strong></a> سے اختلافات کے بعد لگائیں۔</p>

<p>آسٹریلوی حکومت نے پارلیمنٹ گزشتہ برس دسمبر میں ایک مجوزہ بل پیش کیا تھا، جس میں فیس بک اور گوگل سمیت دیگر امریکی انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو آسٹریلوی نشریاتی و خبر رساں اداروں کو پیسے دینے کا پابند کیا جانا تھا۔</p>

<p>مذکورہ بل کے مطابق فیس بک اور گوگل سمیت دیگر ٹیکنالوجی کمپنیاں ہر طرح کے آسٹریلوی نشریاتی و خبر رساں اداروں کو کچھ نہ کچھ رقم فراہم کریں گی، کیوں کہ انٹرنیٹ کمپنیوں کی وجہ سے میڈیا کی کمائی میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔</p>

<p>مجوزہ بل کے مطابق فیس بک اور گوگل کی وجہ سے آسٹریلوی میڈیا کی اشتہارات کی مد میں ہونے والی کمائی کم ہوگئی، اس وجہ سے انٹرنیٹ کمپنیاں میڈیا اداروں کو رقم فراہم کریں گی۔</p>

<p>آسٹریلوی حکومت کے مجوزہ بل پر ابتدا سے ہی فیس بک اور گوگل نے اعتراض کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ایسے قوانین کو نہیں مانیں گے جب کہ حکومت نے بھی اپنے مؤقف پر ڈٹی رہی تھی۔</p>

<p>فیس بک کے برعکس گوگل نے آسٹریلوی حکومت کی شرائط کو مان لیا تھا اور اس نے قوانین کی منظوری سے قبل ہی آسٹریلوی میڈیا سے مذاکرات شروع کردیے تھے تاہم فیس بک نے شرائط کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا مواد کو شیئر کرنے پر پابندی لگادی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1154251</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Feb 2021 15:56:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/02/602e3e569de0d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/02/602e3e569de0d.jpg"/>
        <media:title>اب فیس بک آسٹریلوی میڈیا کے لنکس شیئر نہیں کیے جا سکیں گے—اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
