<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 23:02:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 23:02:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان سپر لیگ سیزن 6 کے دوسرے دن کیا کچھ انہونا ہوا؟
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1154473/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کامیابی سے اپنا سفر طے کرتے ہوئے چھٹے سال میں داخل ہوگئی ہے۔ سیزن 6 کے دوسرے دن 2 میچ کھیلے گئے، یعنی پہلا مقابلہ لاہور قلندرز اور پشاور زلمی کے مابین ہوا جبکہ دوسرے میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ اور ملتان سلطانز مد مقابل تھے۔ ان دونوں مقابلوں کا ایک جائزہ قارئین کی خدمت میں پیش خدمت ہے&lt;/p&gt;

&lt;div style="background-color: green;"&gt;
&lt;font size="10"&gt;&lt;p style="color: #FFFFFF; text-align: center"&gt;لاہور قلندرز بمقابلہ پشاور زلمی&lt;/font&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;

&lt;p&gt;پی ایس ایل کے سیزن 6 کے دوسرے میچ میں لاہور قلندرز کا مقابلہ پشاور زلمی سے تھا۔ اس میچ میں لاہور قلندرز  نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='60335672aab30'&gt;پشاور زلمی کا ناقص آغاز&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;پشاور زلمی کی بیٹنگ کا آغاز نہایت خراب تھا اور صرف 46 رنز پر اس کے 4 کھلاڑی پویلین لوٹ گئے تھے۔ امام الحق تو میچ کی پہلی ہی گیند پر پویلین لوٹ گئے جبکہ دیگر کھلاڑی بشمول تجربہ کار شعیب ملک اور کامران اکمل بھی کوئی قابلِ ذکر کارکردگی پیش نہیں کرسکے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/thePSLt20/status/1363415367113179140"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس آغاز کے بعد کسی قابلِ ذکر اسکور تک پہنچنا مشکل تھا لیکن تجربہ کار روی بوپارہ اور شرفین روتھرفورڈ کے مابین ہونے والی 66 رنز کے شراکت  نے زلمی کی اننگز کو سہارا دیا اور ان کو مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 140 رنز تک پہنچنے میں مدد فراہم کی۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='60335672aab4e'&gt;شاہین آفریدی اور راشد خان کی شاندار باؤلنگ&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;پشاور زلمی کو 140 رنز کے کم اسکور تک محدود کرنے میں شاہین شاہ آفریدی اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے تجربہ کار لیگ اسپنر راشد خان  نے کلیدی کردار ادا کیا۔ شاہین شاہ آفریدی  نے میچ کے پہلی ہی اوور میں امام الحق کو آؤٹ کرکے ابتدائی اوورز میں وکٹ لینے کی اپنی روایت کو برقرار رکھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شاہین آفریدی  نے اپنے مقررہ اوورز میں صرف 14 رنز دے کر 3 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ پاکستان سپر لیگ میں اپنا پہلا میچ کھیلنے والے راشد خان  نے بھی شاہین آفریدی کا خوب ساتھ دیا اور اپنے 4 اوورز میں صرف 14 رنز دیے۔ راشد خان کے باؤلنگ اسپیل کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی باؤلنگ پر بننے والے سارے رنز صرف سنگل رنز کی شکل میں بنے۔ ان دونوں کھلاڑیوں  نے مشترکہ طور پر جو 8 اوورز کروائے ان میں مخالف ٹیم صرف 28 رنز ہی بناسکی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/thePSLt20/status/1363438252359835652"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='60335672aab66'&gt;ہدف کے تعاقب میں لاہور قلندرز لڑکھڑا گئی&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;لاہور قلندرز ایک آسان ہدف کے تعاقب میں لڑ کھڑا گئی۔ ان کے اوپنرز  نے 29 رنز کا آغاز فراہم کیا لیکن پھر وقفے وقفے سے ان کی وکٹیں گرتی رہیں اور جب ثاقب محمود  نے مسلسل 2 گیندوں پر سمیت پٹیل اور ڈیوڈ ویزے کو پویلین کی راہ دکھائی تو اس ٹورنامنٹ میں اپنی روایت کے مطابق ایک مرتبہ پھر لاہور اپنے پہلے میچ میں شکست کے قریب جاتا دکھائی دیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;h3 id='60335672aab7c'&gt;راشد خان اور محمد حفیظ کی روایت شکن شراکت&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;جس وقت راشد خان کھیلنے آئے تو میچ ایک نازک موڑ پر تھا۔ ان کی ٹیم 5 وکٹیں کھو چکی تھی اور اس کو جیت کے لیے 27 گیندوں پر 31 رنز کی ضرورت تھی اور ثاقب محمود مسلسل 2 گیندوں پر 2 وکٹیں حاصل کرکے ہیٹ ترک پر تھے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس صورتحال میں راشد خان  نے اپنے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے محمد حفیظ کے ساتھ 31 رنز کی شراکت قائم کرکے اپنی ٹیم کو فتح دلوادی۔ اس شراکت میں راشد خان  نے صرف 15 گیندوں پر 27 رنز بنائے۔ پاکستان سپر لیگ میں اپنے پہلے ہی میچ میں راشد خان  نے گیند اور بلے کے ساتھ اپنی ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کرکے اپنی اہمیت اجاگر کرلی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/thePSLt20/status/1363470750418567173"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='60335672aab92'&gt;لاہور قلندرز کی روایت شکن فتح&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;پاکستان سپر لیگ اپنے چھٹے سال میں داخل ہوگئی ہے۔ اس موجودہ ٹورنامنٹ سے پہلے جو 5 سیزنز کھیلے جاچکے ہیں ان تمام میں لاہور قلندرز  نے شکست کے ساتھ آغاز کیا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قلندرز کو ان کے اوّلین میچ میں 2016ء میں کراچی نے، 2017ء میں کوئٹہ  نے، 2018ء اور 2020ء میں ملتان سلطانز  نے جبکہ 2019 میں اسلام آباد یونائیٹڈ  نے شکست دی تھی۔ لیکن اس چھٹے ایڈیشن میں لاہور قلندرز  نے بلآخر اپنا ابتدائی میچ ہارنے کی روایت توڑ کر ٹورنامنٹ کا مثبت آغاز کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;div style="background-color: green;"&gt;
&lt;font size="10"&gt;&lt;p style="color: #FFFFFF; text-align: center"&gt;اسلام آباد یونائیٹڈ بمقابلہ ملتان سلطانز&lt;/font&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;

&lt;p&gt;اسلام آباد یونائیٹڈ اور ملتان سلطانز کے مابین اتوار کی شام کو کھیلے جانے والے اس میچ میں اسلام آباد  نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا۔ اس میچ کا احوال درج ذیل ہے&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='60335672aaba6'&gt;محمد رضوان کی فارم جاری ہے&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;ملتان سلطانز  نے محمد رضوان کی موجودہ فارم کو دیکھتے ہوئے کپتان بنانے کا فیصلہ کیا اور رضوان نے بطور اوپنر ہی بیٹنگ کرنے کو ترجیح دی، جو بالکل ٹھیک ثابت ہوئی۔ ٹی20 کرکٹ میں اوپنر کی پوزیشن رضوان کے لیے بہت سودمند رہی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس میچ میں بھی انہوں  نے شاندار بیٹنگ کی اور 71 رنز کی زبردست اننگز کھیلی۔ ویسے تو رضوان کی اننگ بہت شاندار تھی اور ان کی اس اننگ کے باعث ہی ملتان کو ایک شاندار آغاز ملا لیکن یہ بات تو شاید ہی کسی کو سمجھ آئی کہ جب رضوان وکٹ پر اچھی طرح سیٹ ہوگئے، تو پھر بعد میں سنبھل کر وہ کیوں کھیلنا شروع ہوئے؟ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/thePSLt20/status/1363500543482626048"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;31 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد اگلے 21 رنز بنانے کے لیے انہوں نے 22 گیندوں کا سہارا لیا۔ جب شاداب خان 15واں اوور کروانے آئے تو عام خیال یہی تھا کہ رضوان اس اوور سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے، مگر حیران کن طور پر اس اوور میں کوئی ایک بھی بڑا شاٹ نظر نہیں آیا۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='60335672aabba'&gt;اننگ کا غیر تسلی بخش اختتام&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;پی ایس ایل کے چھٹے سیزن میں جو ابتدائی 2 میچ کھیلے گئے کھیلے گئے تھے، ان میں پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیمیں تھوڑا سا پریشان نظر آئیں، اور شاید اسی پریشانی کو دیکھتے ہوئے اسلام آباد نے ٹاس جیت کر ملتان کو بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لیکن اسلام آباد کی امیدوں کے برخلاف ملتان نے شاندار آغاز لیا اور ابتدائی 11 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 92 رنز بنا لیے۔ اس موقع پر ایسا لگ رہا تھا کہ اب ملتان ایک بڑے اسکور تک رسائی حاصل کر لے گا لیکن ایسا نہیں ہوسکا کیونکہ آخری 9 اوورز میں صرف 58 رنز ہی بن سکے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امید سے کم ہونے والے اسکور میں کچھ ملتان کے غلط فیصلوں کا بھی کردار ہے۔ مثال کے طور پر جب آپ کے پاس کارلوس بریتھویٹ جیسا جارحانہ بلے باز موجود ہے تو ان سے پہلے صہیب مقصود اور خوشدل شاہ کا بیٹنگ کے لیے آنا کم از کم میرے نزدیک تو درست فیصلہ نہیں تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='60335672aabce'&gt;حسن علی کی کارکردگی&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;حسن علی فٹنس مسائل سے نمٹنے کے بعد ایک مرتبہ پھر کرکٹ میں واپس آچکے ہیں، بلکہ ان کی واپسی کافی اچھے انداز میں ہوئی ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں میں حسن علی  نے ڈومیسٹک اور بین الاقوامی کرکٹ میں مسلسل متاثرکن کارکردگی پیش کی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پی ایس ایل کے ابتدائی 5 ایڈیشنز میں وہ پشاور زلمی کا حصہ تھے لیکن اس مرتبہ وہ اسلام آباد یونائیٹڈ کا حصہ ہیں۔ حسن  نے اپنے مقررہ اوورز میں صرف 16 رنز دے کر ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ انہوں  نے اپنے اوورز میں صرف ایک چوکا کھایا۔ شاید انہی کی اس کارکردگی کی وجہ سے سلطانز اس ہدف تک نہیں پہنچ سکے جس کی وہ امید رکھتے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='60335672aabe2'&gt;اسلام آباد یونائیٹڈ کا غیر تسلی بخش آغاز&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;اسلام آباد یونائیٹڈ  نے جیت کے لیے درکار 151 رنز کا تعاقب شروع کیا تو ان کی بیٹنگ اس ہدف کے تعاقب میں لڑ کھڑا گئی۔ یونائیٹڈ کا بیٹنگ آرڈر بھی تھوڑا عجیب ہے جس میں 3 غیر مستقل مزاج کھلاڑی حسین طلعت، آصف علی اور افتخار احمد ایک دوسرے کے بعد کھیلنے آتے ہیں اور ایک ایک کرکے پویلین لوٹ جاتے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/thePSLt20/status/1363532929788379137"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک نسبتاً کم اسکور کا تعاقب کرتے ہوئے اسلام آباد کے 6 کھلاڑی صرف 74 رنز پر ہمت ہار گئے تھے اور اس موقع پر شکست یقینی نظر آ رہی تھیکے اسکور پر آؤٹ ہو گئے تھے اور شکست کے اثار نظر آ رہے تھے لیکن 7ویں نمبر پر بیٹنگ کرنے کے لیے آنے والے لیوس گریگری نے مشکل حالات کے باوجود اپنے ذہن اور جذبات پر قابو رکھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کو پہلے فہیم اشرف اور پھر ظفر گوہر کا ساتھ میسر آیا۔ گریگری  نے صرف 31 گیندوں پر 49 رنز بناکر اپنی ٹیم کو ایک غیر یقینی فتح سے ہمکنار کروا دیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اننگز کا 19واں اوور تجربہ کار سہیل تنویر  نے کر وایا لیکن وہ گریکری کے سامنے بے بس نظر آئے اور انہوں  نے 19 رنز دے کر شاہد آفریدی کی ساری محنت پر پانی پھیر دیا۔ گریگری کو آل راؤنڈ کارکردگی پیش کرنے اور اپنی ٹیم کی جیت میں کلیدی کردار نبھانے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='60335672aabf5'&gt;شاہد آفریدی کا جادو&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;شاہد آفریدی اس میچ میں بیٹنگ میں تو کچھ نہیں کرسکے لیکن باؤلنگ اور فیلڈنگ سے انہوں  نے اپنی ٹیم کو جیت کی راہ پر گامزن کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انہوں نے اپنے پہلے ہی اوور میں ایلکس ہیلز کی وکٹ حاصل کی جبکہ اگلے اوور میں آصف علی کو بھی پویلین واپس بھیج دیا اور پھر جس برق رفتاری سے 40 سال کے اس کھلاڑی  نے ڈائرکٹ ہٹ کی بدولت افتخار کو رن آؤٹ کیا وہ کمال کا منظر تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/thePSLt20/status/1363529941497782272"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/thePSLt20/status/1363535170574290945"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='60335672aac08'&gt;ٹاس کا کردار&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;اب تک کھیلے جانے والے تینوں میچوں میں ٹاس کا کردار اہم رہا ہے۔ یعنی ان تمام میچوں میں ٹاس جیتنے والی ٹیم نے مخالف ٹیم کو بیٹنگ کی دعوت دی اور کم اسکور پر محدود کرکے میچ جیت لیے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں ہدف کا دفاع ہمیشہ سے ہی مشکل رہا ہے اور شاید اس اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے میچوں میں win the toss win the match کی روایت برقرار رہے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کامیابی سے اپنا سفر طے کرتے ہوئے چھٹے سال میں داخل ہوگئی ہے۔ سیزن 6 کے دوسرے دن 2 میچ کھیلے گئے، یعنی پہلا مقابلہ لاہور قلندرز اور پشاور زلمی کے مابین ہوا جبکہ دوسرے میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ اور ملتان سلطانز مد مقابل تھے۔ ان دونوں مقابلوں کا ایک جائزہ قارئین کی خدمت میں پیش خدمت ہے</p>

<div style="background-color: green;">
<font size="10"><p style="color: #FFFFFF; text-align: center">لاہور قلندرز بمقابلہ پشاور زلمی</font></p></div>

<p>پی ایس ایل کے سیزن 6 کے دوسرے میچ میں لاہور قلندرز کا مقابلہ پشاور زلمی سے تھا۔ اس میچ میں لاہور قلندرز  نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا۔</p>

<h3 id='60335672aab30'>پشاور زلمی کا ناقص آغاز</h3>

<p>پشاور زلمی کی بیٹنگ کا آغاز نہایت خراب تھا اور صرف 46 رنز پر اس کے 4 کھلاڑی پویلین لوٹ گئے تھے۔ امام الحق تو میچ کی پہلی ہی گیند پر پویلین لوٹ گئے جبکہ دیگر کھلاڑی بشمول تجربہ کار شعیب ملک اور کامران اکمل بھی کوئی قابلِ ذکر کارکردگی پیش نہیں کرسکے۔ </p>

<figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/thePSLt20/status/1363415367113179140"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس آغاز کے بعد کسی قابلِ ذکر اسکور تک پہنچنا مشکل تھا لیکن تجربہ کار روی بوپارہ اور شرفین روتھرفورڈ کے مابین ہونے والی 66 رنز کے شراکت  نے زلمی کی اننگز کو سہارا دیا اور ان کو مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 140 رنز تک پہنچنے میں مدد فراہم کی۔</p>

<h3 id='60335672aab4e'>شاہین آفریدی اور راشد خان کی شاندار باؤلنگ</h3>

<p>پشاور زلمی کو 140 رنز کے کم اسکور تک محدود کرنے میں شاہین شاہ آفریدی اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے تجربہ کار لیگ اسپنر راشد خان  نے کلیدی کردار ادا کیا۔ شاہین شاہ آفریدی  نے میچ کے پہلی ہی اوور میں امام الحق کو آؤٹ کرکے ابتدائی اوورز میں وکٹ لینے کی اپنی روایت کو برقرار رکھا۔ </p>

<p>شاہین آفریدی  نے اپنے مقررہ اوورز میں صرف 14 رنز دے کر 3 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ پاکستان سپر لیگ میں اپنا پہلا میچ کھیلنے والے راشد خان  نے بھی شاہین آفریدی کا خوب ساتھ دیا اور اپنے 4 اوورز میں صرف 14 رنز دیے۔ راشد خان کے باؤلنگ اسپیل کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی باؤلنگ پر بننے والے سارے رنز صرف سنگل رنز کی شکل میں بنے۔ ان دونوں کھلاڑیوں  نے مشترکہ طور پر جو 8 اوورز کروائے ان میں مخالف ٹیم صرف 28 رنز ہی بناسکی۔</p>

<figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/thePSLt20/status/1363438252359835652"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<h3 id='60335672aab66'>ہدف کے تعاقب میں لاہور قلندرز لڑکھڑا گئی</h3>

<p>لاہور قلندرز ایک آسان ہدف کے تعاقب میں لڑ کھڑا گئی۔ ان کے اوپنرز  نے 29 رنز کا آغاز فراہم کیا لیکن پھر وقفے وقفے سے ان کی وکٹیں گرتی رہیں اور جب ثاقب محمود  نے مسلسل 2 گیندوں پر سمیت پٹیل اور ڈیوڈ ویزے کو پویلین کی راہ دکھائی تو اس ٹورنامنٹ میں اپنی روایت کے مطابق ایک مرتبہ پھر لاہور اپنے پہلے میچ میں شکست کے قریب جاتا دکھائی دیا۔ </p>

<h3 id='60335672aab7c'>راشد خان اور محمد حفیظ کی روایت شکن شراکت</h3>

<p>جس وقت راشد خان کھیلنے آئے تو میچ ایک نازک موڑ پر تھا۔ ان کی ٹیم 5 وکٹیں کھو چکی تھی اور اس کو جیت کے لیے 27 گیندوں پر 31 رنز کی ضرورت تھی اور ثاقب محمود مسلسل 2 گیندوں پر 2 وکٹیں حاصل کرکے ہیٹ ترک پر تھے۔ </p>

<p>اس صورتحال میں راشد خان  نے اپنے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے محمد حفیظ کے ساتھ 31 رنز کی شراکت قائم کرکے اپنی ٹیم کو فتح دلوادی۔ اس شراکت میں راشد خان  نے صرف 15 گیندوں پر 27 رنز بنائے۔ پاکستان سپر لیگ میں اپنے پہلے ہی میچ میں راشد خان  نے گیند اور بلے کے ساتھ اپنی ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کرکے اپنی اہمیت اجاگر کرلی۔</p>

<figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/thePSLt20/status/1363470750418567173"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<h3 id='60335672aab92'>لاہور قلندرز کی روایت شکن فتح</h3>

<p>پاکستان سپر لیگ اپنے چھٹے سال میں داخل ہوگئی ہے۔ اس موجودہ ٹورنامنٹ سے پہلے جو 5 سیزنز کھیلے جاچکے ہیں ان تمام میں لاہور قلندرز  نے شکست کے ساتھ آغاز کیا تھا۔ </p>

<p>قلندرز کو ان کے اوّلین میچ میں 2016ء میں کراچی نے، 2017ء میں کوئٹہ  نے، 2018ء اور 2020ء میں ملتان سلطانز  نے جبکہ 2019 میں اسلام آباد یونائیٹڈ  نے شکست دی تھی۔ لیکن اس چھٹے ایڈیشن میں لاہور قلندرز  نے بلآخر اپنا ابتدائی میچ ہارنے کی روایت توڑ کر ٹورنامنٹ کا مثبت آغاز کیا ہے۔</p>

<div style="background-color: green;">
<font size="10"><p style="color: #FFFFFF; text-align: center">اسلام آباد یونائیٹڈ بمقابلہ ملتان سلطانز</font></p></div>

<p>اسلام آباد یونائیٹڈ اور ملتان سلطانز کے مابین اتوار کی شام کو کھیلے جانے والے اس میچ میں اسلام آباد  نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا۔ اس میچ کا احوال درج ذیل ہے</p>

<h3 id='60335672aaba6'>محمد رضوان کی فارم جاری ہے</h3>

<p>ملتان سلطانز  نے محمد رضوان کی موجودہ فارم کو دیکھتے ہوئے کپتان بنانے کا فیصلہ کیا اور رضوان نے بطور اوپنر ہی بیٹنگ کرنے کو ترجیح دی، جو بالکل ٹھیک ثابت ہوئی۔ ٹی20 کرکٹ میں اوپنر کی پوزیشن رضوان کے لیے بہت سودمند رہی ہے۔ </p>

<p>اس میچ میں بھی انہوں  نے شاندار بیٹنگ کی اور 71 رنز کی زبردست اننگز کھیلی۔ ویسے تو رضوان کی اننگ بہت شاندار تھی اور ان کی اس اننگ کے باعث ہی ملتان کو ایک شاندار آغاز ملا لیکن یہ بات تو شاید ہی کسی کو سمجھ آئی کہ جب رضوان وکٹ پر اچھی طرح سیٹ ہوگئے، تو پھر بعد میں سنبھل کر وہ کیوں کھیلنا شروع ہوئے؟ </p>

<figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/thePSLt20/status/1363500543482626048"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>31 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد اگلے 21 رنز بنانے کے لیے انہوں نے 22 گیندوں کا سہارا لیا۔ جب شاداب خان 15واں اوور کروانے آئے تو عام خیال یہی تھا کہ رضوان اس اوور سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے، مگر حیران کن طور پر اس اوور میں کوئی ایک بھی بڑا شاٹ نظر نہیں آیا۔</p>

<h3 id='60335672aabba'>اننگ کا غیر تسلی بخش اختتام</h3>

<p>پی ایس ایل کے چھٹے سیزن میں جو ابتدائی 2 میچ کھیلے گئے کھیلے گئے تھے، ان میں پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیمیں تھوڑا سا پریشان نظر آئیں، اور شاید اسی پریشانی کو دیکھتے ہوئے اسلام آباد نے ٹاس جیت کر ملتان کو بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔ </p>

<p>لیکن اسلام آباد کی امیدوں کے برخلاف ملتان نے شاندار آغاز لیا اور ابتدائی 11 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 92 رنز بنا لیے۔ اس موقع پر ایسا لگ رہا تھا کہ اب ملتان ایک بڑے اسکور تک رسائی حاصل کر لے گا لیکن ایسا نہیں ہوسکا کیونکہ آخری 9 اوورز میں صرف 58 رنز ہی بن سکے۔ </p>

<p>امید سے کم ہونے والے اسکور میں کچھ ملتان کے غلط فیصلوں کا بھی کردار ہے۔ مثال کے طور پر جب آپ کے پاس کارلوس بریتھویٹ جیسا جارحانہ بلے باز موجود ہے تو ان سے پہلے صہیب مقصود اور خوشدل شاہ کا بیٹنگ کے لیے آنا کم از کم میرے نزدیک تو درست فیصلہ نہیں تھا۔</p>

<h3 id='60335672aabce'>حسن علی کی کارکردگی</h3>

<p>حسن علی فٹنس مسائل سے نمٹنے کے بعد ایک مرتبہ پھر کرکٹ میں واپس آچکے ہیں، بلکہ ان کی واپسی کافی اچھے انداز میں ہوئی ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں میں حسن علی  نے ڈومیسٹک اور بین الاقوامی کرکٹ میں مسلسل متاثرکن کارکردگی پیش کی ہے۔ </p>

<p>پی ایس ایل کے ابتدائی 5 ایڈیشنز میں وہ پشاور زلمی کا حصہ تھے لیکن اس مرتبہ وہ اسلام آباد یونائیٹڈ کا حصہ ہیں۔ حسن  نے اپنے مقررہ اوورز میں صرف 16 رنز دے کر ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ انہوں  نے اپنے اوورز میں صرف ایک چوکا کھایا۔ شاید انہی کی اس کارکردگی کی وجہ سے سلطانز اس ہدف تک نہیں پہنچ سکے جس کی وہ امید رکھتے تھے۔</p>

<h3 id='60335672aabe2'>اسلام آباد یونائیٹڈ کا غیر تسلی بخش آغاز</h3>

<p>اسلام آباد یونائیٹڈ  نے جیت کے لیے درکار 151 رنز کا تعاقب شروع کیا تو ان کی بیٹنگ اس ہدف کے تعاقب میں لڑ کھڑا گئی۔ یونائیٹڈ کا بیٹنگ آرڈر بھی تھوڑا عجیب ہے جس میں 3 غیر مستقل مزاج کھلاڑی حسین طلعت، آصف علی اور افتخار احمد ایک دوسرے کے بعد کھیلنے آتے ہیں اور ایک ایک کرکے پویلین لوٹ جاتے ہیں۔ </p>

<figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/thePSLt20/status/1363532929788379137"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ایک نسبتاً کم اسکور کا تعاقب کرتے ہوئے اسلام آباد کے 6 کھلاڑی صرف 74 رنز پر ہمت ہار گئے تھے اور اس موقع پر شکست یقینی نظر آ رہی تھیکے اسکور پر آؤٹ ہو گئے تھے اور شکست کے اثار نظر آ رہے تھے لیکن 7ویں نمبر پر بیٹنگ کرنے کے لیے آنے والے لیوس گریگری نے مشکل حالات کے باوجود اپنے ذہن اور جذبات پر قابو رکھا۔ </p>

<p>ان کو پہلے فہیم اشرف اور پھر ظفر گوہر کا ساتھ میسر آیا۔ گریگری  نے صرف 31 گیندوں پر 49 رنز بناکر اپنی ٹیم کو ایک غیر یقینی فتح سے ہمکنار کروا دیا۔ </p>

<p>اننگز کا 19واں اوور تجربہ کار سہیل تنویر  نے کر وایا لیکن وہ گریکری کے سامنے بے بس نظر آئے اور انہوں  نے 19 رنز دے کر شاہد آفریدی کی ساری محنت پر پانی پھیر دیا۔ گریگری کو آل راؤنڈ کارکردگی پیش کرنے اور اپنی ٹیم کی جیت میں کلیدی کردار نبھانے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔</p>

<h3 id='60335672aabf5'>شاہد آفریدی کا جادو</h3>

<p>شاہد آفریدی اس میچ میں بیٹنگ میں تو کچھ نہیں کرسکے لیکن باؤلنگ اور فیلڈنگ سے انہوں  نے اپنی ٹیم کو جیت کی راہ پر گامزن کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انہوں نے اپنے پہلے ہی اوور میں ایلکس ہیلز کی وکٹ حاصل کی جبکہ اگلے اوور میں آصف علی کو بھی پویلین واپس بھیج دیا اور پھر جس برق رفتاری سے 40 سال کے اس کھلاڑی  نے ڈائرکٹ ہٹ کی بدولت افتخار کو رن آؤٹ کیا وہ کمال کا منظر تھا۔ </p>

<figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/thePSLt20/status/1363529941497782272"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/thePSLt20/status/1363535170574290945"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<h3 id='60335672aac08'>ٹاس کا کردار</h3>

<p>اب تک کھیلے جانے والے تینوں میچوں میں ٹاس کا کردار اہم رہا ہے۔ یعنی ان تمام میچوں میں ٹاس جیتنے والی ٹیم نے مخالف ٹیم کو بیٹنگ کی دعوت دی اور کم اسکور پر محدود کرکے میچ جیت لیے۔ </p>

<p>کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں ہدف کا دفاع ہمیشہ سے ہی مشکل رہا ہے اور شاید اس اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے میچوں میں win the toss win the match کی روایت برقرار رہے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1154473</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Feb 2021 12:00:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خرم ضیاء خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/02/6033547cb3b58.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/02/6033547cb3b58.png"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
