<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 06:24:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 06:24:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آسٹریلوی حکومت نے گھٹنے ٹیک دیے، فیس بک صحافتی مواد کو شائع کرے گا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1154587/</link>
      <description>&lt;p&gt;آسٹریلوی حکومت نے دنیا کی سب سے بڑی ویب سائٹ فیس بک کے آگے گھٹنے ٹیکتے ہوئے سوشل سائٹ انتظامیہ کو اپنے مجوزہ قوانین میں تبدیلیاں کرنے کی یقین دہانی کرادی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکومتی یقین دہانی کے بعد فیس بک انتظامیہ نے بھی آسٹریلیا میں سوشل ویب سائٹ پر خبر رساں اداروں کے مواد کو شائع کرنے کا اعلان کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبر رساں ادارے &lt;a href="https://www.reuters.com/article/us-australia-media/facebook-refriends-australia-after-changes-to-media-laws-idUSKBN2AN07E"&gt;&lt;strong&gt;’رائٹرز‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق آسٹریلوی حکومت اور فیس بک کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد دونوں فریقین نے اعلان کیا ہے کہ جلد آسٹریلیا میں فیس بک پر خبر رساں اداروں کے مواد کی اشاعت کا دوبارہ آغاز ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فیس بک نے 17 فروری سے آسٹریلیا میں ہر طرح کے خبر رساں اداروں اور نشریاتی اداروں کے مواد کی اشاعت اور شیئرنگ پر پابندی عائد کردی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پابندیوں کے اطلاق سے آسٹریلوی صارفین فیس بک پر کسی بھی نیوز ویب سائٹ، ٹی وی چینل، اخبار، میگزین یا ریڈیو اسٹیشن کا ہر طرح کا مواد شیئر کرنے یا اسے سائٹ پر تلاش کرنے سے محروم ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جب کہ دیگر ممالک کے افراد کو بھی آسٹریلوی نشریاتی و خبر رساں اداروں کے مواد کو فیس بک پر شیئر کرنے کی اجازت نہیں تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہی پابندیوں کی وجہ سے آسٹریلیا کے بیشتر لوگ حالات حاضرہ، تعلیم اور صحت سے متعلق بروقت معلومات حاصل کرنے سے قاصر رہ گئے تھے، کیوں کہ آسٹریلیا میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد خبروں کے لیے فیس بک کا استعمال کرتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فیس بک نے آسٹریلیا میں صحافتی مواد پر پابندیاں آسٹریلوی حکومت کے نئے مجوزہ قوانین کے بعد لگائی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='6034eaedeb7eb'&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1154251/"&gt;فیس بک نے آسٹریلیا میں خبر رساں اداروں کے مواد پر پابندی لگادی&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;نئے قوانین میں فیس بک اور گوگل سمیت دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ خبر رساں اور نشریاتی اداروں کو پیسے فراہم کریں گے، کیوں کہ ٹیکنالوجی ویب سائٹس کی وجہ سے صحافتی اداروں کی کمائی میں کمی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم فیس بک نے ایسے قوانین کو مسترد کرتے ہوئے نشریاتی و خبر رساں اداروں کو پیسے دینے سے انکار کرتے ہوئے آسٹریلیا میں صحافتی مواد کی اشاعت اور شیئرنگ پر پابندی عائد کردی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں آسٹریلوی حکومت نے فیس بک کے آگے گھٹنے ٹیک دیے اور وہ اپنے مجوزہ قوانین میں تبدیلیوں کے لیے تیار ہوگئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلیا کے وزیر خزانہ اور اطلاعات کے وزیر نے تصدیق کی کہ فیس بک کے مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں اور جلد فیس بک خبر رساں اداروں کے مواد کی اشاعت کو بحال کردے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب فیس بک انتظامیہ نے بھی تصدیق کی کہ آسٹریلوی حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں اور جلد ہی صحافتی مواد کی اشاعت کو بحال کردیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فیس بک اور آسٹریلوی حکومت کے درمیان مذاکرات میں یہ طے پایا ہے کہ حکومت ان تجاویز کو واپس لے گی جس میں فیس بک جیسی کمپنیوں سے مواد کی شیئرنگ کے عوض پیسوں کا مطالبہ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فیس بک کا کہنا تھا کہ اگر وہ آسٹریلوی قوانین کو تسلیم کرتے ہوئے نیوز مواد کی شیئرنگ اور اشاعت پر پیسے دے گی تو دنیا بھر کے ممالک اس طرح کا قانون لے آئیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آسٹریلوی حکومت نے دنیا کی سب سے بڑی ویب سائٹ فیس بک کے آگے گھٹنے ٹیکتے ہوئے سوشل سائٹ انتظامیہ کو اپنے مجوزہ قوانین میں تبدیلیاں کرنے کی یقین دہانی کرادی۔</p>

<p>حکومتی یقین دہانی کے بعد فیس بک انتظامیہ نے بھی آسٹریلیا میں سوشل ویب سائٹ پر خبر رساں اداروں کے مواد کو شائع کرنے کا اعلان کردیا۔</p>

<p>خبر رساں ادارے <a href="https://www.reuters.com/article/us-australia-media/facebook-refriends-australia-after-changes-to-media-laws-idUSKBN2AN07E"><strong>’رائٹرز‘</strong></a> کے مطابق آسٹریلوی حکومت اور فیس بک کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد دونوں فریقین نے اعلان کیا ہے کہ جلد آسٹریلیا میں فیس بک پر خبر رساں اداروں کے مواد کی اشاعت کا دوبارہ آغاز ہوگا۔</p>

<p>فیس بک نے 17 فروری سے آسٹریلیا میں ہر طرح کے خبر رساں اداروں اور نشریاتی اداروں کے مواد کی اشاعت اور شیئرنگ پر پابندی عائد کردی تھی۔</p>

<p>پابندیوں کے اطلاق سے آسٹریلوی صارفین فیس بک پر کسی بھی نیوز ویب سائٹ، ٹی وی چینل، اخبار، میگزین یا ریڈیو اسٹیشن کا ہر طرح کا مواد شیئر کرنے یا اسے سائٹ پر تلاش کرنے سے محروم ہوگئے تھے۔</p>

<p>جب کہ دیگر ممالک کے افراد کو بھی آسٹریلوی نشریاتی و خبر رساں اداروں کے مواد کو فیس بک پر شیئر کرنے کی اجازت نہیں تھی۔</p>

<p>انہی پابندیوں کی وجہ سے آسٹریلیا کے بیشتر لوگ حالات حاضرہ، تعلیم اور صحت سے متعلق بروقت معلومات حاصل کرنے سے قاصر رہ گئے تھے، کیوں کہ آسٹریلیا میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد خبروں کے لیے فیس بک کا استعمال کرتی ہے۔</p>

<p>فیس بک نے آسٹریلیا میں صحافتی مواد پر پابندیاں آسٹریلوی حکومت کے نئے مجوزہ قوانین کے بعد لگائی تھی۔</p>

<h6 id='6034eaedeb7eb'>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1154251/">فیس بک نے آسٹریلیا میں خبر رساں اداروں کے مواد پر پابندی لگادی</a></h6>

<p>نئے قوانین میں فیس بک اور گوگل سمیت دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ خبر رساں اور نشریاتی اداروں کو پیسے فراہم کریں گے، کیوں کہ ٹیکنالوجی ویب سائٹس کی وجہ سے صحافتی اداروں کی کمائی میں کمی ہوئی ہے۔</p>

<p>تاہم فیس بک نے ایسے قوانین کو مسترد کرتے ہوئے نشریاتی و خبر رساں اداروں کو پیسے دینے سے انکار کرتے ہوئے آسٹریلیا میں صحافتی مواد کی اشاعت اور شیئرنگ پر پابندی عائد کردی تھی۔</p>

<p>مگر ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں آسٹریلوی حکومت نے فیس بک کے آگے گھٹنے ٹیک دیے اور وہ اپنے مجوزہ قوانین میں تبدیلیوں کے لیے تیار ہوگئی۔</p>

<p>خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلیا کے وزیر خزانہ اور اطلاعات کے وزیر نے تصدیق کی کہ فیس بک کے مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں اور جلد فیس بک خبر رساں اداروں کے مواد کی اشاعت کو بحال کردے گا۔</p>

<p>دوسری جانب فیس بک انتظامیہ نے بھی تصدیق کی کہ آسٹریلوی حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں اور جلد ہی صحافتی مواد کی اشاعت کو بحال کردیا جائے گا۔</p>

<p>فیس بک اور آسٹریلوی حکومت کے درمیان مذاکرات میں یہ طے پایا ہے کہ حکومت ان تجاویز کو واپس لے گی جس میں فیس بک جیسی کمپنیوں سے مواد کی شیئرنگ کے عوض پیسوں کا مطالبہ کیا گیا تھا۔</p>

<p>فیس بک کا کہنا تھا کہ اگر وہ آسٹریلوی قوانین کو تسلیم کرتے ہوئے نیوز مواد کی شیئرنگ اور اشاعت پر پیسے دے گی تو دنیا بھر کے ممالک اس طرح کا قانون لے آئیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1154587</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Feb 2021 16:45:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/02/6034e71b83e50.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/02/6034e71b83e50.jpg"/>
        <media:title>حکومت اور فیس بک کے درمیان معاہدہ طے پاگیا—فائل فوٹو: ای پی اے
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
