<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 20:04:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 20:04:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میشا شفیع جنسی ہراسانی سے متعلق کوئی گواہ پیش نہ کر سکیں، ایف آئی اے
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1156908/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے لاہور سینٹرل کی خصوصی عدالت میں گلوکارہ میشا شفیع سمیت دیگر 9 افراد کے خلاف پیش کیے گئے چالان کی کاپی ڈان نیوز نے حاصل کرلی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف آئی اے کی جانب سے خصوصی ٹرائل عدالت میں پیش کیے گئے حتمی چالان میں 9 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نامزد کی جانے والی شخصیات میں گلوکارہ میشا شفیع، عفت عمر، ماہم جاوید، لینا غنی، حسیمس زمان، فریحہ ایوب، سید فیضان رضا، حمنہ رضا اور علی گل پیر شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف آئی اے نے ابتدائی طور پر خصوصی عدالت میں دسمبر 2020 میں عبوری چالان پیش کیا تھا بعد ازاں وفاقی تحقیقاتی ادارے نے میشا شفیع سمیت تمام افراد کے خلاف حتمی چالان بھی پیش کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف آئی اے کی جانب سے پیش کیے گئے چالان میں بتایا گیا کہ میشا شفیع گلوکار علی ظفر پر لگائے گئے جنسی ہراسانی کے واقعے سے متعلق کوئی بھی گواہ پیش نہ کر سکی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='6061a7717acc4'&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1149286/"&gt;علی ظفر کے خلاف مہم چلانے کا کیس: تحقیقات میں میشا شفیع مجرم قرار&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;چالان میں بتایا گیا کہ ایف آئی اے کی جانب سے طلب کیے جانے پر گلوکارہ نے پیش ہوکر بیان ریکارڈ کروایا تھا مگر وہ کسی بھی گواہ کو پیش کرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چالان کے مطابق میشا شفیع نے بتایا کہ انہوں نے جنسی ہراسانی سے متعلق مفاد عامہ کی خاطر ٹوئٹ کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/12/5fd9b0d12909d.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/12/5fd9b0d12909d.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/12/5fd9b0d12909d.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/12/5fd9b0d12909d.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="ماضی میں دونوں گلوکار ایک ساتھ پرفارمنسز بھی کرتے رہے ہیں&amp;mdash;فائل فوٹو: انسٹاگرام" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ماضی میں دونوں گلوکار ایک ساتھ پرفارمنسز بھی کرتے رہے ہیں—فائل فوٹو: انسٹاگرام&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چالان میں بتایا گیا کہ ملزمہ حمنہ رضا طلبی کے باوجود ایف آئی اے کے سامنے پیش نہیں ہوئی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خصوصی عدالت میں پیش کیے گئے چالان کے ساتھ تمام نامزد 9 ملزمان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی منسلک کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چالان میں ٹرائل کورٹ سے میشا شفیع، حمنہ رضا اور ماہم جاوید سمیت 9 ہی نامزد ملزمان کے خلاف ٹرائل شروع کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='6061a7717ad6d'&gt;مزید پڑھیں&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1149421"&gt;: علی ظفر کے خلاف مہم چلانے کا کیس: میشا شفیع سمیت دیگر کیخلاف چالان منظور&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ ابتدائی طور پر ایف آئی اے نے 16 دسمبر 2020 کو عدالت میں چالان جمع کروایا تھا، جس میں میشا شفیع سمیت تمام ملزمان کو علی ظفر کے خلاف جھوٹی مہم چلانے کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ کیس سے متعلق علی ظفر نے نومبر 2018 میں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں شکایت درج کروائی تھی جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس ان کے خلاف 'توہین آمیز اور دھمکی آمیز مواد' پوسٹس کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f73007459546.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f73007459546.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f73007459546.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f73007459546.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="ایف آئی اے کی جانب سے چالان پیش کیے جانے پر مذکورہ کیس کی متعدد سماعتیں بھی ہوچکیں&amp;mdash;فائل فوٹو: فیس بک/ انسٹاگرام" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ایف آئی اے کی جانب سے چالان پیش کیے جانے پر مذکورہ کیس کی متعدد سماعتیں بھی ہوچکیں—فائل فوٹو: فیس بک/ انسٹاگرام&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علی ظفر نے الزام لگایا تھا کہ اپریل 2018 میں میشا شفیع کی جانب سے جنسی ہراسانی کے الزام سے ہفتوں قبل کئی جعلی اکاؤنٹس نے گلوکار کے خلاف مذموم مہم کا آغاز کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف آئی اے نے علی ظفر کی درخواست پر سائبر کرائم کی تفتیش کرنے کے بعد ستمبر 2020 میں میشا شفیع، عفت عمر اور دیگر نامزد 9 افراد کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا، جس پر تقریبا تمام ملزمان نے گرفتاری سے بچنے کے لیے قبل از ضمانت حاصل کرلی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف آئی اے کی جانب سے عدالت میں رپورٹ جمع کروائے جانے کے بعد تاحال باضابطہ طور پر ملزمان کے خلاف ٹرائل شروع نہیں ہوا اور متعدد ملزمان طلبی کے باوجود عدالت پیش نہیں ہوسکے۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='6061a7717ad9f'&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1149887"&gt;ایف آئی اے سے میشا شفیع سے متعلق حتمی رپورٹ طلب&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;اب اسی کیس کی اگلی سماعت 10 اپریل کو ہوگی، جس میں ممکنہ طور پر عدالت اپنا فیصلہ سنائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ کیس میشا شفیع اور علی ظفر کے درمیان ہتک عزت کے کیس سے مختلف ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میشا شفیع اور علی ظفر کے درمیان ہتک عزت کا کیس بھی گزشتہ دو سال سے زیر سماعت اور تاحال اس کا بھی کوئی فیصلہ نہیں آ سکا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علی ظفر اور میشا شفیع کے خلاف قانونی جنگ کا اس وقت ہوا تھا جب کہ اپریل 2018 میں میشا شفیع نے ساتھی گلوکار پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا، جسے علی ظفر نے مسترد کردیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں علی ظفر نے جھوٹا الزام لگانے پر میشا شفیع کے خلاف ایک ارب ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا، جس کی سماعتیں جاری ہیں اور پھر علی ظفر نے ہی میشا شفیع سمیت دیگر 9 ملزمان کے خلاف سوشل میڈیا پر جھوٹی مہم چلانے پر ایف آئی اے میں سائبر کرائم کی شکایت کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/12/5fe37b10239ba.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/12/5fe37b10239ba.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/12/5fe37b10239ba.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/12/5fe37b10239ba.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="میشا شفیع نے اپریل 2018 میں علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا&amp;mdash;فائل فوٹو: فیس بک" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;میشا شفیع نے اپریل 2018 میں علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا—فائل فوٹو: فیس بک&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے لاہور سینٹرل کی خصوصی عدالت میں گلوکارہ میشا شفیع سمیت دیگر 9 افراد کے خلاف پیش کیے گئے چالان کی کاپی ڈان نیوز نے حاصل کرلی۔</p>

<p>ایف آئی اے کی جانب سے خصوصی ٹرائل عدالت میں پیش کیے گئے حتمی چالان میں 9 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔</p>

<p>نامزد کی جانے والی شخصیات میں گلوکارہ میشا شفیع، عفت عمر، ماہم جاوید، لینا غنی، حسیمس زمان، فریحہ ایوب، سید فیضان رضا، حمنہ رضا اور علی گل پیر شامل ہیں۔</p>

<p>ایف آئی اے نے ابتدائی طور پر خصوصی عدالت میں دسمبر 2020 میں عبوری چالان پیش کیا تھا بعد ازاں وفاقی تحقیقاتی ادارے نے میشا شفیع سمیت تمام افراد کے خلاف حتمی چالان بھی پیش کیا تھا۔</p>

<p>ایف آئی اے کی جانب سے پیش کیے گئے چالان میں بتایا گیا کہ میشا شفیع گلوکار علی ظفر پر لگائے گئے جنسی ہراسانی کے واقعے سے متعلق کوئی بھی گواہ پیش نہ کر سکی تھیں۔</p>

<h6 id='6061a7717acc4'>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1149286/">علی ظفر کے خلاف مہم چلانے کا کیس: تحقیقات میں میشا شفیع مجرم قرار</a></h6>

<p>چالان میں بتایا گیا کہ ایف آئی اے کی جانب سے طلب کیے جانے پر گلوکارہ نے پیش ہوکر بیان ریکارڈ کروایا تھا مگر وہ کسی بھی گواہ کو پیش کرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔</p>

<p>چالان کے مطابق میشا شفیع نے بتایا کہ انہوں نے جنسی ہراسانی سے متعلق مفاد عامہ کی خاطر ٹوئٹ کی تھی۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/12/5fd9b0d12909d.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/12/5fd9b0d12909d.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/12/5fd9b0d12909d.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/12/5fd9b0d12909d.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="ماضی میں دونوں گلوکار ایک ساتھ پرفارمنسز بھی کرتے رہے ہیں&mdash;فائل فوٹو: انسٹاگرام" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ماضی میں دونوں گلوکار ایک ساتھ پرفارمنسز بھی کرتے رہے ہیں—فائل فوٹو: انسٹاگرام</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>چالان میں بتایا گیا کہ ملزمہ حمنہ رضا طلبی کے باوجود ایف آئی اے کے سامنے پیش نہیں ہوئی تھیں۔</p>

<p>خصوصی عدالت میں پیش کیے گئے چالان کے ساتھ تمام نامزد 9 ملزمان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی منسلک کی گئی ہیں۔</p>

<p>چالان میں ٹرائل کورٹ سے میشا شفیع، حمنہ رضا اور ماہم جاوید سمیت 9 ہی نامزد ملزمان کے خلاف ٹرائل شروع کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔</p>

<h6 id='6061a7717ad6d'>مزید پڑھیں<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1149421">: علی ظفر کے خلاف مہم چلانے کا کیس: میشا شفیع سمیت دیگر کیخلاف چالان منظور</a></h6>

<p>واضح رہے کہ ابتدائی طور پر ایف آئی اے نے 16 دسمبر 2020 کو عدالت میں چالان جمع کروایا تھا، جس میں میشا شفیع سمیت تمام ملزمان کو علی ظفر کے خلاف جھوٹی مہم چلانے کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔</p>

<p>مذکورہ کیس سے متعلق علی ظفر نے نومبر 2018 میں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں شکایت درج کروائی تھی جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس ان کے خلاف 'توہین آمیز اور دھمکی آمیز مواد' پوسٹس کررہے ہیں۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f73007459546.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f73007459546.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f73007459546.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f73007459546.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="ایف آئی اے کی جانب سے چالان پیش کیے جانے پر مذکورہ کیس کی متعدد سماعتیں بھی ہوچکیں&mdash;فائل فوٹو: فیس بک/ انسٹاگرام" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ایف آئی اے کی جانب سے چالان پیش کیے جانے پر مذکورہ کیس کی متعدد سماعتیں بھی ہوچکیں—فائل فوٹو: فیس بک/ انسٹاگرام</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>علی ظفر نے الزام لگایا تھا کہ اپریل 2018 میں میشا شفیع کی جانب سے جنسی ہراسانی کے الزام سے ہفتوں قبل کئی جعلی اکاؤنٹس نے گلوکار کے خلاف مذموم مہم کا آغاز کیا تھا۔</p>

<p>ایف آئی اے نے علی ظفر کی درخواست پر سائبر کرائم کی تفتیش کرنے کے بعد ستمبر 2020 میں میشا شفیع، عفت عمر اور دیگر نامزد 9 افراد کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا، جس پر تقریبا تمام ملزمان نے گرفتاری سے بچنے کے لیے قبل از ضمانت حاصل کرلی تھی۔</p>

<p>ایف آئی اے کی جانب سے عدالت میں رپورٹ جمع کروائے جانے کے بعد تاحال باضابطہ طور پر ملزمان کے خلاف ٹرائل شروع نہیں ہوا اور متعدد ملزمان طلبی کے باوجود عدالت پیش نہیں ہوسکے۔</p>

<h6 id='6061a7717ad9f'>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1149887">ایف آئی اے سے میشا شفیع سے متعلق حتمی رپورٹ طلب</a></h6>

<p>اب اسی کیس کی اگلی سماعت 10 اپریل کو ہوگی، جس میں ممکنہ طور پر عدالت اپنا فیصلہ سنائے گی۔</p>

<p>یہ کیس میشا شفیع اور علی ظفر کے درمیان ہتک عزت کے کیس سے مختلف ہے۔</p>

<p>میشا شفیع اور علی ظفر کے درمیان ہتک عزت کا کیس بھی گزشتہ دو سال سے زیر سماعت اور تاحال اس کا بھی کوئی فیصلہ نہیں آ سکا۔</p>

<p>علی ظفر اور میشا شفیع کے خلاف قانونی جنگ کا اس وقت ہوا تھا جب کہ اپریل 2018 میں میشا شفیع نے ساتھی گلوکار پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا، جسے علی ظفر نے مسترد کردیا تھا۔</p>

<p>بعد ازاں علی ظفر نے جھوٹا الزام لگانے پر میشا شفیع کے خلاف ایک ارب ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا، جس کی سماعتیں جاری ہیں اور پھر علی ظفر نے ہی میشا شفیع سمیت دیگر 9 ملزمان کے خلاف سوشل میڈیا پر جھوٹی مہم چلانے پر ایف آئی اے میں سائبر کرائم کی شکایت کی تھی۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/12/5fe37b10239ba.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/12/5fe37b10239ba.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/12/5fe37b10239ba.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/12/5fe37b10239ba.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="میشا شفیع نے اپریل 2018 میں علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا&mdash;فائل فوٹو: فیس بک" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">میشا شفیع نے اپریل 2018 میں علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا—فائل فوٹو: فیس بک</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1156908</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Mar 2021 15:09:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسکرانا بلال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/03/60618068c82f2.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/03/60618068c82f2.jpg"/>
        <media:title>دونوں کے درمیان ڈھائی سال سے قانونی جنگ جاری ہے—فائل فوٹو: فیس بک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
