<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 06:25:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 06:25:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں آزادیِ اظہار کی صورتحال بدتر ہوگئی، رپورٹ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1157142/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان میں آزادی اظہار، میڈیا ایڈوکیسی، صحافیوں کے حقوق اور ڈیجیٹل رائٹس کے لیے کام کرنے والی تنظیم کی جانب سے کرائی گئی حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان میں 2020 میں آزادی اظہار کی صورتحال مزید بدتر ہوگئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.digitalrightsmonitor.pk/wp-content/uploads/2021/03/Pakistan-FOE-Report2020.pdf"&gt;&lt;strong&gt;’پاکستان فریڈم آف ایکسپریشن رپورٹ 2020‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں کہا گیا کہ کورونا کی وبا کے باعث جہاں گزشتہ برس صحافیوں اور آزادی اظہار رائے کے لیے کام کرنے والے ارکان اور اداروں کو مشکلات پیش آئیں، وہیں حکومتی قوانین نے بھی آزادی اظہار رائے کے پیمانے کو مزید نیچے کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں صحافیوں اور آزادی اظہار کے لیے کام کرنے والے کارکنان کے قانونی تحفظات، آزادی صحافت، ڈیجیٹل اظہار رائے، اجتماعیت، سیاسی و سماجی ماحول، اور اظہار رائے کے معاملات مزید بد تر ہوگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیقاتی رپورٹ میں ملک میں آزادی اظہار، ڈیجیٹل رائٹس، قانونی تحفظات، آزادی صحافت، سیاسی و سماجی تحفظ سمیت 6 شعبوں کی کارکردگی کو دیکھا گیا اور اس ضمن میں سروے کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='6065dee5a6350'&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1114843"&gt;میڈیا سنسرشپ کی کوششوں پر صحافیوں کا اظہار تشویش&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;سروے کے بعد مذکورہ 6 ہی شعبوں میں ملکی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے آزادی اظہار کے حوالے سے پاکستان کو نمبرز دیے گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مجموعی طور پر پاکستان نے آزادی اظہار کے معاملے پر 100 میں سے صرف 30 نمبر ہی حاصل کیے، کیوں کہ ملک میں ڈیجیٹل رائٹس، آزادی صحافت، قانونی تحفظات سمیت سیاسی و سماجی تحفظ جیسے معاملات کا فقدان دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے نتائج میڈیا، سیاست، انسانی حقوق، قانون، اور تدریس کے شعبوں سے وابستہ ماہرین سے سروے کیے جانے کے بعد اخذ کیے گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سروے میں شامل زیادہ تر افراد نے آزادی صحافت، ڈیجیٹل رائٹس، قانونی تحفظات اور سیاسی و سماجی تحفظ سمیت کسی شعبے کو مکمل یعنی 100 نمبر نہیں دیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں سال 2020 میں حکومتی اداروں کی جانب سے آزادی اظہار پر قدغن لگانے کے لیے بنائے گئے قوانین کا ذکر بھی کیا گیا اور بتایا گیا کہ پاکستان میں پیمرا اور پی ٹی اے نے اظہار رائے اور آن لائن مواد پر اکثر اوقات صوابدیدی قدغن لگائی اور سوشل میڈیا، تفریحی پروگراموں، اور سیاسی اور سماجی امور پر خبروں اور تبصروں کے خلاف اقدامات اٹھائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ برس صحافی جسمانی، قانونی اور ڈیجیٹل دھمکیوں کی زد میں رہے جبکہ ان کے تحفظ کے حوالے سے کوئی قانون سازی بھی نہ کی جا سکی۔ &lt;/p&gt;

&lt;h6 id='6065dee5a63dd'&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1152972"&gt;پاکستان میں 2020 میں دس صحافی قتل، متعدد گرفتار ہوئے، سی پی این ای&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ گزشتہ برس خواتین صحافیوں کو خاص طور پر سوشل میڈیا پر منظم حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال میڈیا سے تعلق رکھنے والے آٹھ افراد قتل ہوئے، 36 صحافیوں کو کام کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا، 10 کو حراست میں لیا گیا، اور 23 کے  قریب صحافیوں کو رپورٹنگ یا ان کے آن لائن اظہار رائے کے حوالے سے عارضی طور پر حبس بےجا میں رکھا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں حکومت کو کچھ تجاویز بھی دی گئی ہیں، جن میں سے حکومت کو صحافیوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی تجویز بھی دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ رپورٹ کو میڈیا میٹرس فار ڈیموکریسی (ایم ایم ایف ڈی)، پاکستان پریس فاؤنڈیشن (پی پی ایف) سینٹر فار پیس اینڈ ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو (سی پی ڈی) اور یورپین یونین (ای یو) نے مشترکہ طور پر رپورٹ شائع کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان میں آزادی اظہار، میڈیا ایڈوکیسی، صحافیوں کے حقوق اور ڈیجیٹل رائٹس کے لیے کام کرنے والی تنظیم کی جانب سے کرائی گئی حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان میں 2020 میں آزادی اظہار کی صورتحال مزید بدتر ہوگئی۔</p>

<p><a href="https://www.digitalrightsmonitor.pk/wp-content/uploads/2021/03/Pakistan-FOE-Report2020.pdf"><strong>’پاکستان فریڈم آف ایکسپریشن رپورٹ 2020‘</strong></a> میں کہا گیا کہ کورونا کی وبا کے باعث جہاں گزشتہ برس صحافیوں اور آزادی اظہار رائے کے لیے کام کرنے والے ارکان اور اداروں کو مشکلات پیش آئیں، وہیں حکومتی قوانین نے بھی آزادی اظہار رائے کے پیمانے کو مزید نیچے کردیا۔</p>

<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں صحافیوں اور آزادی اظہار کے لیے کام کرنے والے کارکنان کے قانونی تحفظات، آزادی صحافت، ڈیجیٹل اظہار رائے، اجتماعیت، سیاسی و سماجی ماحول، اور اظہار رائے کے معاملات مزید بد تر ہوگئے۔</p>

<p>تحقیقاتی رپورٹ میں ملک میں آزادی اظہار، ڈیجیٹل رائٹس، قانونی تحفظات، آزادی صحافت، سیاسی و سماجی تحفظ سمیت 6 شعبوں کی کارکردگی کو دیکھا گیا اور اس ضمن میں سروے کیا گیا۔</p>

<h6 id='6065dee5a6350'>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1114843">میڈیا سنسرشپ کی کوششوں پر صحافیوں کا اظہار تشویش</a></h6>

<p>سروے کے بعد مذکورہ 6 ہی شعبوں میں ملکی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے آزادی اظہار کے حوالے سے پاکستان کو نمبرز دیے گئے۔</p>

<p>مجموعی طور پر پاکستان نے آزادی اظہار کے معاملے پر 100 میں سے صرف 30 نمبر ہی حاصل کیے، کیوں کہ ملک میں ڈیجیٹل رائٹس، آزادی صحافت، قانونی تحفظات سمیت سیاسی و سماجی تحفظ جیسے معاملات کا فقدان دیکھا گیا۔</p>

<p>رپورٹ کے نتائج میڈیا، سیاست، انسانی حقوق، قانون، اور تدریس کے شعبوں سے وابستہ ماہرین سے سروے کیے جانے کے بعد اخذ کیے گئے۔</p>

<p>سروے میں شامل زیادہ تر افراد نے آزادی صحافت، ڈیجیٹل رائٹس، قانونی تحفظات اور سیاسی و سماجی تحفظ سمیت کسی شعبے کو مکمل یعنی 100 نمبر نہیں دیے۔</p>

<p>رپورٹ میں سال 2020 میں حکومتی اداروں کی جانب سے آزادی اظہار پر قدغن لگانے کے لیے بنائے گئے قوانین کا ذکر بھی کیا گیا اور بتایا گیا کہ پاکستان میں پیمرا اور پی ٹی اے نے اظہار رائے اور آن لائن مواد پر اکثر اوقات صوابدیدی قدغن لگائی اور سوشل میڈیا، تفریحی پروگراموں، اور سیاسی اور سماجی امور پر خبروں اور تبصروں کے خلاف اقدامات اٹھائے۔</p>

<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ برس صحافی جسمانی، قانونی اور ڈیجیٹل دھمکیوں کی زد میں رہے جبکہ ان کے تحفظ کے حوالے سے کوئی قانون سازی بھی نہ کی جا سکی۔ </p>

<h6 id='6065dee5a63dd'>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1152972">پاکستان میں 2020 میں دس صحافی قتل، متعدد گرفتار ہوئے، سی پی این ای</a></h6>

<p>رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ گزشتہ برس خواتین صحافیوں کو خاص طور پر سوشل میڈیا پر منظم حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ </p>

<p>رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال میڈیا سے تعلق رکھنے والے آٹھ افراد قتل ہوئے، 36 صحافیوں کو کام کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا، 10 کو حراست میں لیا گیا، اور 23 کے  قریب صحافیوں کو رپورٹنگ یا ان کے آن لائن اظہار رائے کے حوالے سے عارضی طور پر حبس بےجا میں رکھا گیا۔</p>

<p>رپورٹ میں حکومت کو کچھ تجاویز بھی دی گئی ہیں، جن میں سے حکومت کو صحافیوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی تجویز بھی دی گئی ہے۔</p>

<p>مذکورہ رپورٹ کو میڈیا میٹرس فار ڈیموکریسی (ایم ایم ایف ڈی)، پاکستان پریس فاؤنڈیشن (پی پی ایف) سینٹر فار پیس اینڈ ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو (سی پی ڈی) اور یورپین یونین (ای یو) نے مشترکہ طور پر رپورٹ شائع کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1157142</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Apr 2021 19:55:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/04/6065c6ab0f716.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/04/6065c6ab0f716.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/04/6065c6c015b6e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/04/6065c6c015b6e.jpg"/>
        <media:title>پاکستان کو 100 میں سے 30 نمبر ملے—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
