<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 11:01:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 11:01:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>واٹس ایپ کی ملکیت رکھنے والے مارک زکربرگ خود سگنل ایپ استعمال کرتے ہیں؟
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1157492/</link>
      <description>&lt;p&gt;حال ہی میں میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1157316/"&gt;&lt;strong&gt;50 کروڑ سے زیادہ فیس بک صارفین کا ذاتی ڈیٹا&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; ایک ہیکنگ فورم پر دستیاب ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس وقت یہ بھی انکشاف کیا گیا تھا کہ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کی ذاتی تفصیلات بھی اس ڈیٹا میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ ڈیٹا 2019 میں ایک سیکیورٹی خامی کے نتیجے میں ہیکرز کے ہاتھ لگا تھا اور اب ایک سیکیورٹی محقق ڈیو والکر نے &lt;a href="https://www.androidauthority.com/mark-zuckerberg-signal-1215333/"&gt;دعویٰ&lt;/a&gt; کیا ہے کہ مارک زکربرگ فیس بک کی زیرملکیت واٹس ایپ کی مخالف میسجنگ ایپ سگنل کا استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے یہ دعویٰ اس ڈیٹا میں موجود مارک زکربرگ کے فون نمبر کو استعمال کرتے ہوئے کیا اور اس کا ایک اسکرین پوسٹ بھی ٹوئٹر پر شیئر کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/Daviey/status/1378646544719753216"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ ممکن ہے کہ فیس بک کے بانی کی جانب سے سگنل کو اس لیے استعمال کیا جاتا ہو تاکہ وہ مخالف ایپ کو چیک کرسکیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر یہ بھی امکان ہے کہ مارک زکربرگ کی جانب سے واٹس ایپ کی مخالف ایپ کا استعمال اس کے محفوظ ہونے کی وجہ سے کیا جاتا ہو۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ سگنل کے ڈیٹا کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جاتی ہے اور اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے سیکیورٹی، فیچرز اور دیگر پہلوؤں کو ڈیزائن کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈیو والکر نے یہ بھی بتایا کہ مارک زکربرگ کا مبینہ اکاؤنٹ 5 اپریل سے بند ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ مارک زکربرگ بظاہر ٹیلیگرام پر نہیں، تاہم اس میسجنگ ایپ میں صارف کو یہ سہولت فراہم کی گئی ہے کہ وہاں فون نمبر سے صارف کو تلاش نہ کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب اس رپورٹ کے مطابق سگنل نے بھی مارک زکربرگ پر طنز کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سگنل کی جانب سے ایک ٹوئٹ میں کہا گیا 'واٹس ایپ کے ٹرمز آف سروس قبول کرنے کی 15 مئی کی ڈیڈلائن قریب آگی ہے، تو مارک زکربرگ مثال قائم کرنے میں سبقت لے گئے ہیں'۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/signalapp/status/1379284279163686913?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1379284279163686913%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https://tech.hindustantimes.com/mobile/news/researcher-claims-mark-zuckerberg-uses-signal-app-tweets-he-is-leading-by-example-71617710458101.html"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ٹوئٹ میں واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیسی کا حوالہ دیا گیا ہے جس کا اطلاق پہلے فروری میں ہونا تھا مگر صارفین کے شدید ردعمل کے بعد اسے 15 مئی تک ملتوی کردیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب اینڈرائیڈ اتھارٹی کی جانب سے رابطہ کرنے پر فیس بک کے ایک نمائندے نے اس پر بات کرنے سے انکار کردیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>حال ہی میں میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1157316/"><strong>50 کروڑ سے زیادہ فیس بک صارفین کا ذاتی ڈیٹا</strong></a> ایک ہیکنگ فورم پر دستیاب ہے۔</p>

<p>اس وقت یہ بھی انکشاف کیا گیا تھا کہ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کی ذاتی تفصیلات بھی اس ڈیٹا میں شامل ہے۔</p>

<p>یہ ڈیٹا 2019 میں ایک سیکیورٹی خامی کے نتیجے میں ہیکرز کے ہاتھ لگا تھا اور اب ایک سیکیورٹی محقق ڈیو والکر نے <a href="https://www.androidauthority.com/mark-zuckerberg-signal-1215333/">دعویٰ</a> کیا ہے کہ مارک زکربرگ فیس بک کی زیرملکیت واٹس ایپ کی مخالف میسجنگ ایپ سگنل کا استعمال کرتے ہیں۔</p>

<p>انہوں نے یہ دعویٰ اس ڈیٹا میں موجود مارک زکربرگ کے فون نمبر کو استعمال کرتے ہوئے کیا اور اس کا ایک اسکرین پوسٹ بھی ٹوئٹر پر شیئر کیا۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/Daviey/status/1378646544719753216"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>یہ ممکن ہے کہ فیس بک کے بانی کی جانب سے سگنل کو اس لیے استعمال کیا جاتا ہو تاکہ وہ مخالف ایپ کو چیک کرسکیں گے۔</p>

<p>مگر یہ بھی امکان ہے کہ مارک زکربرگ کی جانب سے واٹس ایپ کی مخالف ایپ کا استعمال اس کے محفوظ ہونے کی وجہ سے کیا جاتا ہو۔</p>

<p>یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ سگنل کے ڈیٹا کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جاتی ہے اور اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے سیکیورٹی، فیچرز اور دیگر پہلوؤں کو ڈیزائن کیا گیا۔</p>

<p>ڈیو والکر نے یہ بھی بتایا کہ مارک زکربرگ کا مبینہ اکاؤنٹ 5 اپریل سے بند ہے۔</p>

<p>انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ مارک زکربرگ بظاہر ٹیلیگرام پر نہیں، تاہم اس میسجنگ ایپ میں صارف کو یہ سہولت فراہم کی گئی ہے کہ وہاں فون نمبر سے صارف کو تلاش نہ کیا جاسکے۔</p>

<p>دوسری جانب اس رپورٹ کے مطابق سگنل نے بھی مارک زکربرگ پر طنز کیا ہے۔</p>

<p>سگنل کی جانب سے ایک ٹوئٹ میں کہا گیا 'واٹس ایپ کے ٹرمز آف سروس قبول کرنے کی 15 مئی کی ڈیڈلائن قریب آگی ہے، تو مارک زکربرگ مثال قائم کرنے میں سبقت لے گئے ہیں'۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/signalapp/status/1379284279163686913?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1379284279163686913%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https://tech.hindustantimes.com/mobile/news/researcher-claims-mark-zuckerberg-uses-signal-app-tweets-he-is-leading-by-example-71617710458101.html"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس ٹوئٹ میں واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیسی کا حوالہ دیا گیا ہے جس کا اطلاق پہلے فروری میں ہونا تھا مگر صارفین کے شدید ردعمل کے بعد اسے 15 مئی تک ملتوی کردیا گیا۔</p>

<p>دوسری جانب اینڈرائیڈ اتھارٹی کی جانب سے رابطہ کرنے پر فیس بک کے ایک نمائندے نے اس پر بات کرنے سے انکار کردیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1157492</guid>
      <pubDate>Tue, 06 Apr 2021 20:12:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/04/606c79a8a525c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/04/606c79a8a525c.jpg"/>
        <media:title>— شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
