<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 00:43:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 00:43:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وفاق، خیبر پختونخوا کی 25ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستیں مسترد کرنے کی استدعا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1157903/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: وفاقی اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں نے 25 ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر سوال اٹھادیے ہیں جس کے تحت 31 مئی 2018 کو فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1617918/federal-kp-govts-seek-dismissal-of-pleas-challenging-25th-amendment"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے درخواستوں پر سماعت کی تو ایڈیشنل اٹارنی جنرل سہیل محمود نے یہ اعتراض اٹھایا کہ یہ درخواستیں آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت سپریم کورٹ کے اصل دائرہ اختیار کے تحت دائر نہیں کی جاسکتیں لہذا ان کو فوراً مسترد کردیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1157359/"&gt;خیبر پختونخوا: انضمام شدہ علاقوں کے طلبہ 2 سال بعد بھی وظیفہ اسکیم سے محروم&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواستوں کو سابق فاٹا کی ملک برادری کے متعدد افراد بالخصوص ملک انور اللہ خان نے اپنے وکیل وسیم سجاد کے ذریعے دائر کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سینئر وکیل خواجہ حارث احمد جو ملک برادری کے متعدد افراد کی نمائندگی کررہے تھے، نے حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کا جواب پیش کرنے کے لیے وقت طلب کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست گزاروں کی شکایت یہ تھی کہ فاٹا کے عوام 25 ویں آئینی ترمیم کی بنیاد پر انضمام کے اقدام پر عدم اعتماد اور غم و غصے کا شکار ہے جس کی وجہ فاٹا کے عوام سے قائداعظم محمد علی جناح کا ایک وعدہ ہے جس کی وجہ سے انہوں نے رضاکارانہ طور پر پاکستان کا حصہ بننے پر اتفاق کیا تھا اور اس کے علاوہ ترمیم لانے سے قبل ان سے مشورہ نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی کوئی جرگہ یا رائے شماری آئین کے آرٹیکل 247 (6) کے تحت کرائی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1079174"&gt;قومی اسمبلی: فاٹا انضمام سے متعلق 31ویں آئینی ترمیم کا بل بھاری اکثریت سے منظور&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم وفاقی حکومت نے استدلال کیا کہ کسی بھی تشریح کو استعمال کرکے یا بنیادی حقوق کے دائرہ کار کو وسیع کرکے اور لبرل انداز میں اس کی ترجمانی کرنے سے مشورے ریفرنڈم یا جرگوں کو بنیادی حقوق کے معنی میں نہیں لایا جاسکتا جیسا کہ آئین کے چیپٹر ایک کے حصہ دوئم میں تصور کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: وفاقی اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں نے 25 ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر سوال اٹھادیے ہیں جس کے تحت 31 مئی 2018 کو فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کردیا گیا تھا۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1617918/federal-kp-govts-seek-dismissal-of-pleas-challenging-25th-amendment"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے درخواستوں پر سماعت کی تو ایڈیشنل اٹارنی جنرل سہیل محمود نے یہ اعتراض اٹھایا کہ یہ درخواستیں آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت سپریم کورٹ کے اصل دائرہ اختیار کے تحت دائر نہیں کی جاسکتیں لہذا ان کو فوراً مسترد کردیا جانا چاہیے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1157359/">خیبر پختونخوا: انضمام شدہ علاقوں کے طلبہ 2 سال بعد بھی وظیفہ اسکیم سے محروم</a></strong></p>

<p>درخواستوں کو سابق فاٹا کی ملک برادری کے متعدد افراد بالخصوص ملک انور اللہ خان نے اپنے وکیل وسیم سجاد کے ذریعے دائر کیا تھا۔</p>

<p>سینئر وکیل خواجہ حارث احمد جو ملک برادری کے متعدد افراد کی نمائندگی کررہے تھے، نے حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کا جواب پیش کرنے کے لیے وقت طلب کیا۔</p>

<p>درخواست گزاروں کی شکایت یہ تھی کہ فاٹا کے عوام 25 ویں آئینی ترمیم کی بنیاد پر انضمام کے اقدام پر عدم اعتماد اور غم و غصے کا شکار ہے جس کی وجہ فاٹا کے عوام سے قائداعظم محمد علی جناح کا ایک وعدہ ہے جس کی وجہ سے انہوں نے رضاکارانہ طور پر پاکستان کا حصہ بننے پر اتفاق کیا تھا اور اس کے علاوہ ترمیم لانے سے قبل ان سے مشورہ نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی کوئی جرگہ یا رائے شماری آئین کے آرٹیکل 247 (6) کے تحت کرائی گئی تھی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1079174">قومی اسمبلی: فاٹا انضمام سے متعلق 31ویں آئینی ترمیم کا بل بھاری اکثریت سے منظور</a></strong></p>

<p>تاہم وفاقی حکومت نے استدلال کیا کہ کسی بھی تشریح کو استعمال کرکے یا بنیادی حقوق کے دائرہ کار کو وسیع کرکے اور لبرل انداز میں اس کی ترجمانی کرنے سے مشورے ریفرنڈم یا جرگوں کو بنیادی حقوق کے معنی میں نہیں لایا جاسکتا جیسا کہ آئین کے چیپٹر ایک کے حصہ دوئم میں تصور کیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1157903</guid>
      <pubDate>Tue, 13 Apr 2021 15:48:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ناصر اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/04/60754a7a77dee.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/04/60754a7a77dee.jpg"/>
        <media:title>یہ درخواستیں آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کے تحت دائر نہیں کی جاسکتی ہیں، وفاق، کے پی حکومتوں کا موقف - فائل فوٹو:سپریم کورٹ ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
