<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Balochistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 03:02:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 22 Jun 2026 03:02:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بدعنوانی کا الزام، نیب نے ہلالِ احمر کے عہدیداران کے خلاف ریفرنس دائر کردیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1158209/</link>
      <description>&lt;p&gt;کوئٹہ: قومی احتساب بیورو (نیب) بلوچستان نے ہلالِ احمر میں کروڑوں روپے کے گھپلے کی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ریفرنس میں ہلالِ احمر کے سابق چیئرمین اور سابق سیکریٹری کو نامزد کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1618878/red-crescent-officials-face-nab-corruption-reference"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق ملزمان پر قدرتی آفات اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مختص کردہ فنڈز کے غلط استعمال کا الزام ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1149821"&gt;بلوچستان کے دو سابق وزرائے اعلیٰ کے خلاف نیب تحقیقات کی منظوری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جن ملزمان کے خلاف ریفرنس فائل کیا گیا ان میں ہلالِ احمر بلوچستان کے سابق چیئرمین شبیر احمد اور سابق سیکریٹری جہانزیب رئیسانی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیب بلوچستان نے ہلاِلِ احمر میں کروڑوں روپے کی مبینہ خرد برد کی شکایات ملنے پر نوٹس لیا تھا اور تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیب حکام نے دعویٰ کیا کہ قدرتی آفات اور عوام کے فلاح و بہبود کے لیے مختص فنڈز کے استعمال میں بڑے پیمانے پر بد عنوانی کی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیب کی جانب سے موصول ہونے والے دستاویزات کے مطابق ملزمان اپنے ملازموں کے نام پر رینٹ اے کار سروس اور پیٹرول کے استعمال، دفتر کی تزئین و آرائش سے متعلق سوالات کا کوئی جواب نہیں دے سکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1158158/"&gt;گوادر اراضی اسکینڈل، نیب نے 6 ملزمان کےخلاف ریفرنس دائر کردیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہلالِ احمر کے ملزم چیئرمین نے مبینہ طور پر سیاسی بنیادوں ہر بھرتیاں کیں جن کے پاس ایسی کسی تنظیم میں کام کرنے کا کوئی تجربہ یا صلاحیت نہیں تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب سیکریٹری جہانزیب رئیسانی مبینہ طور پر محکمہ تعلیم کے سابق گھوسٹ ملازم تھے جن پر اس سے قبل بھی بدعنوانی کے الزامات عائد ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیب نے شواہد کی روشنی میں ملزمان کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کردیے جس پر انہوں  نے بلوچستان ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیب پراسیکیٹر کا کہنا تھا کہ تفتیشی افسر نے جسٹس کامران ملاخیل اور روزی خان بریچ پر مشتمل بینچ کے سامنے اپنے دلائل پیش کیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چنانچہ عدالت نے شواہد کو کافی قرار دیتے ہوئے ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کردی جس کے بعد انہیں گرفتار کرلیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعدازاں تفتیش مکمل کرنے کے بعد احتساب عدالت میں ریفرنس بھی دائر کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 18 اپریل 2021 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کوئٹہ: قومی احتساب بیورو (نیب) بلوچستان نے ہلالِ احمر میں کروڑوں روپے کے گھپلے کی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کردیا۔</p>

<p>ریفرنس میں ہلالِ احمر کے سابق چیئرمین اور سابق سیکریٹری کو نامزد کیا گیا ہے۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1618878/red-crescent-officials-face-nab-corruption-reference">رپورٹ</a></strong> کے مطابق ملزمان پر قدرتی آفات اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مختص کردہ فنڈز کے غلط استعمال کا الزام ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1149821">بلوچستان کے دو سابق وزرائے اعلیٰ کے خلاف نیب تحقیقات کی منظوری</a></strong></p>

<p>جن ملزمان کے خلاف ریفرنس فائل کیا گیا ان میں ہلالِ احمر بلوچستان کے سابق چیئرمین شبیر احمد اور سابق سیکریٹری جہانزیب رئیسانی شامل ہیں۔</p>

<p>نیب بلوچستان نے ہلاِلِ احمر میں کروڑوں روپے کی مبینہ خرد برد کی شکایات ملنے پر نوٹس لیا تھا اور تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔</p>

<p>نیب حکام نے دعویٰ کیا کہ قدرتی آفات اور عوام کے فلاح و بہبود کے لیے مختص فنڈز کے استعمال میں بڑے پیمانے پر بد عنوانی کی گئی۔</p>

<p>نیب کی جانب سے موصول ہونے والے دستاویزات کے مطابق ملزمان اپنے ملازموں کے نام پر رینٹ اے کار سروس اور پیٹرول کے استعمال، دفتر کی تزئین و آرائش سے متعلق سوالات کا کوئی جواب نہیں دے سکے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1158158/">گوادر اراضی اسکینڈل، نیب نے 6 ملزمان کےخلاف ریفرنس دائر کردیا</a></strong> </p>

<p>ہلالِ احمر کے ملزم چیئرمین نے مبینہ طور پر سیاسی بنیادوں ہر بھرتیاں کیں جن کے پاس ایسی کسی تنظیم میں کام کرنے کا کوئی تجربہ یا صلاحیت نہیں تھیں۔</p>

<p>دوسری جانب سیکریٹری جہانزیب رئیسانی مبینہ طور پر محکمہ تعلیم کے سابق گھوسٹ ملازم تھے جن پر اس سے قبل بھی بدعنوانی کے الزامات عائد ہوچکے ہیں۔</p>

<p>نیب نے شواہد کی روشنی میں ملزمان کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کردیے جس پر انہوں  نے بلوچستان ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا۔</p>

<p>نیب پراسیکیٹر کا کہنا تھا کہ تفتیشی افسر نے جسٹس کامران ملاخیل اور روزی خان بریچ پر مشتمل بینچ کے سامنے اپنے دلائل پیش کیے۔</p>

<p>چنانچہ عدالت نے شواہد کو کافی قرار دیتے ہوئے ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کردی جس کے بعد انہیں گرفتار کرلیا گیا۔</p>

<p>بعدازاں تفتیش مکمل کرنے کے بعد احتساب عدالت میں ریفرنس بھی دائر کردیا گیا ہے۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 18 اپریل 2021 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1158209</guid>
      <pubDate>Sun, 18 Apr 2021 17:10:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلیم شاہد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/04/607c114e5a2f4.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/04/607c114e5a2f4.jpg"/>
        <media:title>ہلالِ احمر کے ملزم چیئرمین نے مبینہ طور پر سیاسی بنیادوں ہر بھرتیاں کیں—فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
