<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 23:04:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 23:04:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پہلی بار سری لنکن راہبوں کا دورہ پاکستان اور اس کے ممکنہ اثرات
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1158702/</link>
      <description>&lt;p&gt;ہمارے دادا جی گوکہ اَن پڑھ تھے مگر اکثر بڑے پتے کی بات کیا کرتے تھے۔ جیسے ایک روز ان کا کہنا تھا کہ ہمارا سوات بتوں کی پوجا کرنے والوں کے لیے بالکل ویسا ہے جیسے ہم مسلمانوں کے لیے مکہ مکرمہ ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آج ٹھیک 30 سے 32 سال بعد دادا جی کی اس کہی ہوئی بات پر سری لنکا سے آئے ہوئے بدھ مت مذہب کے ایک وفد کے بزرگ راہب 'ڈاکٹر ولپولے پائنندانا' (Dr. Walpole Piyanandana)  نے یہ کہتے ہوئے مہرِ تصدیق ثبت کردی کہ بدھ مت کے 2 فرقوں 'مہایانا' اور 'وجریانا' کا آغاز سوات کی سرزمین سے ہوا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈاکٹر ولپولے  نے بتایا کہ 'سوات پوری دنیا کے بدھ مت پیروکاروں کے لیے انتہائی اہم ہے۔ یہاں سے بدھ مت کے 2 فرقوں مہایانا اور وجریانا کا نہ صرف آغاز ہوا بلکہ اس علاقے سے شہنشاہ اشوکا نے پیغام رسانوں کو 18 مختلف ممالک میں بدھ مت کی ترویج کے لیے بھیجا۔ اس کے علاوہ شہنشاہ اشوکا  نے یہاں کثیر تعداد میں خانقاہیں اور رہائش گاہیں بھی تعمیر کروائیں'۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بزرگ راہب  نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے اس نکتے پر زور دیا کہ بدھ مت کے پیروکار پاکستان بالعموم اور سوات بالخصوص آنا چاہتے ہیں۔ ان کے لیے اگر حکومتِ پاکستان آسانیاں پیدا کرے، تو یہ بہت زبردست کام ہوگا۔ وہ کہتے ہیں کہ 'یہاں پوری دنیا، مثلاً سری لنکا، ویتنام، کمبوڈیا، کوریا، چین، تبت، بھوٹان، نیپال حتیٰ کہ امریکا سے بدھ مت کے پیروکار آنا چاہتے ہیں اور اپنی مذہبی رسومات ادا کرنا چاہتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/04/6085595c07b96.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/04/6085595c07b96.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/04/6085595c07b96.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/04/6085595c07b96.jpg 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="سیدو شریف خانقاہ جہاں سری لنکن راہبوں  نے اپنی مذہبی رسومات ادا کیں&amp;mdash;تصویر امجد علی سحاب" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;سیدو شریف خانقاہ جہاں سری لنکن راہبوں  نے اپنی مذہبی رسومات ادا کیں—تصویر امجد علی سحاب&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/04/608559659b483.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/04/608559659b483.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/04/608559659b483.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/04/608559659b483.jpg 5472w' sizes='(min-width: 992px)  5472px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="مقاماتِ آثارِ قدیمہ کے انچارج سوات، راہبوں کو خانقاہ کے بارے میں تفصیلات بتا رہے ہیں&amp;mdash;تصویر امجد علی سحاب" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;مقاماتِ آثارِ قدیمہ کے انچارج سوات، راہبوں کو خانقاہ کے بارے میں تفصیلات بتا رہے ہیں—تصویر امجد علی سحاب&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/04/6085596421fc2.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/04/6085596421fc2.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/04/6085596421fc2.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/04/6085596421fc2.jpg 5307w' sizes='(min-width: 992px)  5307px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="راہب، سیدو شریف سٹوپا تک رسائی حاصل کرنے کے لیے سیڑھیاں چڑھ رہے ہیں&amp;mdash;تصویر امجد علی سحاب" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;راہب، سیدو شریف سٹوپا تک رسائی حاصل کرنے کے لیے سیڑھیاں چڑھ رہے ہیں—تصویر امجد علی سحاب&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈاکٹر ولپولے پائنندانا' کے مطابق بدھ مت کے 3 فرقے ہیں: مہایانا' (Mahayana Buddhism)، 'وَجریانا' (Vajrayana Buddhism) اور 'تِھراوادا (Theravada Buddhism)۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈاکٹر ولپولے پائنندانا' کا کہنا تھا کہ 'ہمارا یہ وفد جو آج پاکستان آیا ہے، یہ مستقبل قریب میں ایک طرح سے سری لنکا اور پاکستان کے درمیان بہت بڑے پُل کا کردار ادا کرے گا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سری لنکا کے بدھ مت راہبان کے دورہ سوات کی جھلکیاں:&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سری لنکا سے تعلق رکھنے والے بدھ مت کے راہبان  نے سوات کا دورہ کیا۔ اس موقعے پر انہوں نے اپنی مرکزی عبادت گاہ سیدو شریف خانقاہ اور اسٹوپا میں اپنی مذہبی رسومات ادا کیں اور دعا مانگی۔ اس موقعے پر بدھ راہبوں  نے زرد رنگ کے 2، 3 اقسام کا کپڑا پہن رکھا تھا، جس میں زرد رنگ، سرخ مائل زرد رنگاور کلیجی رنگ شامل تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے وفد کے ساتھ آئے ہوئے ایک پاکستانی گائیڈ  نے بتایا کہ ان کے کپڑوں میں موجود مختلف رنگوں کا فلسفہ بڑا دلچسپ ہے۔ 'جس طرح بہار کی آمد ہوتی ہے، تو پتے ہرے ہوتے ہیں۔ وقتِ خزاں یہ زرد پڑ جاتے ہیں اور آخر میں کلیجی رنگ بدلتے ہی جھڑ جاتے ہیں۔ انسانوں کا بھی یہی حال ہے۔ جوانی اور بڑھاپے کے اسٹیج سے گزر کر آخر موت کو گلے لگا لیتے ہیں'۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سری لنکا سے آنے والا 16 رکنی وفد 11 راہبوں اور سرکاری عملے کے 5 افراد پر مشتمل تھا۔ وفد جیسے ہی اپنی مرکزی عبادت گاہ پہنچا، تو فرطِ مسرت سے ان کی آنکھیں نم تھیں۔ انہوں  نے اوّل اسٹوپا کے گرد چکر لگائے اور بعد میں اپنی مذہبی رسومات ادا کیں۔ آخر میں یہ سلسلہ دعائیہ تقریب پر ختم ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سوات پہنچنے کے بعد راہبوں  نے شنگردار اسٹوپا، بت کڑہ 1 اور جہان آباد بدھا کا بھی دورہ کیا اور وہاں بھی اپنی مذہبی رسومات ادا کیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/04/6085596527286.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/04/6085596527286.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/04/6085596527286.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/04/6085596527286.jpg 5384w' sizes='(min-width: 992px)  5384px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="راہب، اسٹوپا کے گرد طواف کر رہے ہیں&amp;mdash;تصویر امجد علی سحاب" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;راہب، اسٹوپا کے گرد طواف کر رہے ہیں—تصویر امجد علی سحاب&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/04/60855962355ad.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/04/60855962355ad.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/04/60855962355ad.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/04/60855962355ad.jpg 5365w' sizes='(min-width: 992px)  5365px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="راہب اپنی مذہبی رسومات ادا کر رہے ہیں&amp;mdash;تصویر امجد علی سحاب" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;راہب اپنی مذہبی رسومات ادا کر رہے ہیں—تصویر امجد علی سحاب&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/04/6085595e83267.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/04/6085595e83267.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/04/6085595e83267.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/04/6085595e83267.jpg 5467w' sizes='(min-width: 992px)  5467px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="راہب اپنی مذہبی رسومات میں منہمک ہیں&amp;mdash;تصویر امجد علی سحاب" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;راہب اپنی مذہبی رسومات میں منہمک ہیں—تصویر امجد علی سحاب&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وفد  نے 'سوات میوزیم' کا بطورِ خاص دورہ کیا۔ دراصل 'سوات میوزیم' میں ایک بڑا پتھر رکھا گیا ہے، اور بدھ مت کے عقیدت مندوں کے مطابق وہ پاؤں کے نشان درحقیقت گوتم بدھ کے نقشِ پا ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈاکٹر ولپولے پائنندانا کے بقول وہ بہت پہلے سے اس کوشش میں تھے کہ یہاں آکر مقدس مذہبی مقامات کا دیدار کا موقع نصیب ہوجائے۔ 'عالمی میڈیا میں پاکستان کا ایسا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ یہاں آنے کا سوچ کر بھی لوگ جھرجھری محسوس کرتے ہیں۔ میڈیا پر دکھایا جاتا تھا کہ پاکستان میں لوگ بدھ مت کے ماننے والوں کا گلا کاٹتے ہیں۔ یوں ہمیں خاندان والوں کی طرف سے اجازت نہیں ملتی تھی۔ مگر جیسے ہی ہم یہاں آئے اور پاکستان کے عوام کا بالعموم اور سوات کے مہمان نواز عوام کا بالخصوص دوستانہ رویہ دیکھا، تو میں متاثر ہوئے بنا رہ نہیں پایا۔ چھوٹے بڑے ہمیں ماتھے پر ہاتھ رکھ کر اور دُور سے ہاتھ ہلا ہلا کر ویلکم کہتے رہے'۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈاکٹر ولپولے پائنندانا  نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اب بڑی تعداد میں سری لنکا سے لوگ عبادت کے لیے آئیں گے۔ 'یہ وفد پاکستان اور سری لنکا کے بیچ پُل کا کردار ادا کرے گا'۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دنیا بھر میں بدھ مت ماننے والوں کی تعداد ایک اندازے کے مطابق 53 کروڑ 50 لاکھ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے ایک کلومیٹر دُور 'بت کڑہ 1' دنیا بھر کے بدھ مت ماننے والوں کی مرکزی عبادت گاہ ہے، جو بت کڑہ سیدو شریف میں واقع ہے۔ اس کے علاوہ بت کڑہ 2، سیدو شریف اسٹوپا، شنگردار اسٹوپا، جہان آباد بدھا، وہاڑا (Double Dome Structure) سمیت اہم مقدس مقامات بھی سوات کے ماتھے کا جھومر ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/04/608559629f12b.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/04/608559629f12b.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/04/608559629f12b.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/04/608559629f12b.jpg 5456w' sizes='(min-width: 992px)  5456px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="مقاماتِ آثارِ قدیمہ کے انچارج سوات راہبوں کو اسٹوپا کے بارے میں بتا رہے ہیں&amp;mdash;تصویر امجد علی سحاب" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;مقاماتِ آثارِ قدیمہ کے انچارج سوات راہبوں کو اسٹوپا کے بارے میں بتا رہے ہیں—تصویر امجد علی سحاب&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/04/60855961636b7.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/04/60855961636b7.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/04/60855961636b7.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/04/60855961636b7.jpg 2257w' sizes='(min-width: 992px)  2257px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="ڈاکٹر ولپولے پائنندانا میڈیا سے بات چیت کررہے ہیں&amp;mdash;تصویر امجد علی سحاب" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ڈاکٹر ولپولے پائنندانا میڈیا سے بات چیت کررہے ہیں—تصویر امجد علی سحاب&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/04/60855963c3c6a.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/04/60855963c3c6a.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/04/60855963c3c6a.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/04/60855963c3c6a.jpg 1764w' sizes='(min-width: 992px)  1764px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="وہ پتھر جس پر بدھ مت مذہب ماننے والوں کے عقیدے کے مطابق گوتم بدھ کے پاؤں کے نشان ہیں&amp;mdash;تصویر امجد علی سحاب" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;وہ پتھر جس پر بدھ مت مذہب ماننے والوں کے عقیدے کے مطابق گوتم بدھ کے پاؤں کے نشان ہیں—تصویر امجد علی سحاب&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سوات میں سیاحت سے وابستہ حلقوں کا ماننا ہے کہ مذہبی سیاحت معیشت کو سہارا دے سکتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں اب بھی 40 فیصد سے زیادہ آثار زمین کے اندر دبے پڑے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سری لنکن وفد  نے جہاں اپنی مذہبی رسومات ادا کیں، کتب میں اس جگہ کو 'سیدو شریف اسٹوپا' لکھا گیا ہے۔ اس حوالے سے تاریخی کتب میں درج ہے کہ یہ بدھ مت کی ایک اہم خانقاہ ہے۔ اطالوی آثارِ قدیمہ کے ماہرین اس مقدس عبادت گاہ کو پہلی صدی سے چوتھی صدی عیسوی تک کی تعمیر مانتے ہیں۔ خانقاہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ نچلی سطح پر مرکزی اسٹوپا ہے جس کے ارد گرد چھوٹے اسٹوپے اور وہاڑے ہیں جبکہ بالائی سطح پر خانقاہ کے آثار موجود ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ مستطیل شکل میں بنی ہوئی خانقاہ ہے جہاں مشرقی اور مغربی اطراف میں 2 منزلہ کمرے تھے جبکہ وسطی صحن چاروں اطراف سے کمروں سے گھرا ہوا ہے۔ بدھ مت کی اس مقدس عبادت گاہ کو بدھ مت سے قبل رہنے والی قوم نے قبرستان کے اوپر بنایا گیا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اطالوی آثارِ قدیمہ کے ماہر ڈاکٹر فیسنا  نے یہاں پر ابتدائی گندھارا فنِ تعمیر کی تقویم کا تعین کیا ہے۔ اطالوی ماہرین کے مطابق مرکزی اسٹوپا کے چاروں طرف سرخ رنگ کے عظیم الشان ستون بنائے گئے تھے۔ بدھ مت کے پیروکار جب بھی سوات آتے ہیں یہاں پر اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/6  w-full  media--right    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/urdu/users/1864.jpg?r=1880082112"  alt="" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			 امجد علی سحابؔ روزنامہ آزادی اسلام آباد اور باخبر سوات ڈاٹ کام کے ایڈیٹر ہیں۔ اردو بطور مضمون پڑھاتے ہیں، اس کے ساتھ فری لانس صحافی بھی ہیں۔ نئی دنیائیں کھوجنے کے ساتھ ساتھ تاریخ و تاریخی مقامات میں دلچسپی بھی رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ہمارے دادا جی گوکہ اَن پڑھ تھے مگر اکثر بڑے پتے کی بات کیا کرتے تھے۔ جیسے ایک روز ان کا کہنا تھا کہ ہمارا سوات بتوں کی پوجا کرنے والوں کے لیے بالکل ویسا ہے جیسے ہم مسلمانوں کے لیے مکہ مکرمہ ہے۔ </p>

<p>آج ٹھیک 30 سے 32 سال بعد دادا جی کی اس کہی ہوئی بات پر سری لنکا سے آئے ہوئے بدھ مت مذہب کے ایک وفد کے بزرگ راہب 'ڈاکٹر ولپولے پائنندانا' (Dr. Walpole Piyanandana)  نے یہ کہتے ہوئے مہرِ تصدیق ثبت کردی کہ بدھ مت کے 2 فرقوں 'مہایانا' اور 'وجریانا' کا آغاز سوات کی سرزمین سے ہوا ہے۔</p>

<p>ڈاکٹر ولپولے  نے بتایا کہ 'سوات پوری دنیا کے بدھ مت پیروکاروں کے لیے انتہائی اہم ہے۔ یہاں سے بدھ مت کے 2 فرقوں مہایانا اور وجریانا کا نہ صرف آغاز ہوا بلکہ اس علاقے سے شہنشاہ اشوکا نے پیغام رسانوں کو 18 مختلف ممالک میں بدھ مت کی ترویج کے لیے بھیجا۔ اس کے علاوہ شہنشاہ اشوکا  نے یہاں کثیر تعداد میں خانقاہیں اور رہائش گاہیں بھی تعمیر کروائیں'۔</p>

<p>بزرگ راہب  نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے اس نکتے پر زور دیا کہ بدھ مت کے پیروکار پاکستان بالعموم اور سوات بالخصوص آنا چاہتے ہیں۔ ان کے لیے اگر حکومتِ پاکستان آسانیاں پیدا کرے، تو یہ بہت زبردست کام ہوگا۔ وہ کہتے ہیں کہ 'یہاں پوری دنیا، مثلاً سری لنکا، ویتنام، کمبوڈیا، کوریا، چین، تبت، بھوٹان، نیپال حتیٰ کہ امریکا سے بدھ مت کے پیروکار آنا چاہتے ہیں اور اپنی مذہبی رسومات ادا کرنا چاہتے ہیں‘۔</p>

<figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/04/6085595c07b96.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/04/6085595c07b96.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/04/6085595c07b96.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/04/6085595c07b96.jpg 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="سیدو شریف خانقاہ جہاں سری لنکن راہبوں  نے اپنی مذہبی رسومات ادا کیں&mdash;تصویر امجد علی سحاب" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">سیدو شریف خانقاہ جہاں سری لنکن راہبوں  نے اپنی مذہبی رسومات ادا کیں—تصویر امجد علی سحاب</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/04/608559659b483.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/04/608559659b483.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/04/608559659b483.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/04/608559659b483.jpg 5472w' sizes='(min-width: 992px)  5472px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="مقاماتِ آثارِ قدیمہ کے انچارج سوات، راہبوں کو خانقاہ کے بارے میں تفصیلات بتا رہے ہیں&mdash;تصویر امجد علی سحاب" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">مقاماتِ آثارِ قدیمہ کے انچارج سوات، راہبوں کو خانقاہ کے بارے میں تفصیلات بتا رہے ہیں—تصویر امجد علی سحاب</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/04/6085596421fc2.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/04/6085596421fc2.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/04/6085596421fc2.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/04/6085596421fc2.jpg 5307w' sizes='(min-width: 992px)  5307px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="راہب، سیدو شریف سٹوپا تک رسائی حاصل کرنے کے لیے سیڑھیاں چڑھ رہے ہیں&mdash;تصویر امجد علی سحاب" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">راہب، سیدو شریف سٹوپا تک رسائی حاصل کرنے کے لیے سیڑھیاں چڑھ رہے ہیں—تصویر امجد علی سحاب</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>ڈاکٹر ولپولے پائنندانا' کے مطابق بدھ مت کے 3 فرقے ہیں: مہایانا' (Mahayana Buddhism)، 'وَجریانا' (Vajrayana Buddhism) اور 'تِھراوادا (Theravada Buddhism)۔</p>

<p>ڈاکٹر ولپولے پائنندانا' کا کہنا تھا کہ 'ہمارا یہ وفد جو آج پاکستان آیا ہے، یہ مستقبل قریب میں ایک طرح سے سری لنکا اور پاکستان کے درمیان بہت بڑے پُل کا کردار ادا کرے گا‘۔</p>

<p><strong>سری لنکا کے بدھ مت راہبان کے دورہ سوات کی جھلکیاں:</strong></p>

<p>سری لنکا سے تعلق رکھنے والے بدھ مت کے راہبان  نے سوات کا دورہ کیا۔ اس موقعے پر انہوں نے اپنی مرکزی عبادت گاہ سیدو شریف خانقاہ اور اسٹوپا میں اپنی مذہبی رسومات ادا کیں اور دعا مانگی۔ اس موقعے پر بدھ راہبوں  نے زرد رنگ کے 2، 3 اقسام کا کپڑا پہن رکھا تھا، جس میں زرد رنگ، سرخ مائل زرد رنگاور کلیجی رنگ شامل تھا۔</p>

<p>اس حوالے سے وفد کے ساتھ آئے ہوئے ایک پاکستانی گائیڈ  نے بتایا کہ ان کے کپڑوں میں موجود مختلف رنگوں کا فلسفہ بڑا دلچسپ ہے۔ 'جس طرح بہار کی آمد ہوتی ہے، تو پتے ہرے ہوتے ہیں۔ وقتِ خزاں یہ زرد پڑ جاتے ہیں اور آخر میں کلیجی رنگ بدلتے ہی جھڑ جاتے ہیں۔ انسانوں کا بھی یہی حال ہے۔ جوانی اور بڑھاپے کے اسٹیج سے گزر کر آخر موت کو گلے لگا لیتے ہیں'۔</p>

<p>سری لنکا سے آنے والا 16 رکنی وفد 11 راہبوں اور سرکاری عملے کے 5 افراد پر مشتمل تھا۔ وفد جیسے ہی اپنی مرکزی عبادت گاہ پہنچا، تو فرطِ مسرت سے ان کی آنکھیں نم تھیں۔ انہوں  نے اوّل اسٹوپا کے گرد چکر لگائے اور بعد میں اپنی مذہبی رسومات ادا کیں۔ آخر میں یہ سلسلہ دعائیہ تقریب پر ختم ہوا۔</p>

<p>سوات پہنچنے کے بعد راہبوں  نے شنگردار اسٹوپا، بت کڑہ 1 اور جہان آباد بدھا کا بھی دورہ کیا اور وہاں بھی اپنی مذہبی رسومات ادا کیں۔</p>

<figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/04/6085596527286.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/04/6085596527286.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/04/6085596527286.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/04/6085596527286.jpg 5384w' sizes='(min-width: 992px)  5384px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="راہب، اسٹوپا کے گرد طواف کر رہے ہیں&mdash;تصویر امجد علی سحاب" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">راہب، اسٹوپا کے گرد طواف کر رہے ہیں—تصویر امجد علی سحاب</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/04/60855962355ad.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/04/60855962355ad.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/04/60855962355ad.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/04/60855962355ad.jpg 5365w' sizes='(min-width: 992px)  5365px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="راہب اپنی مذہبی رسومات ادا کر رہے ہیں&mdash;تصویر امجد علی سحاب" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">راہب اپنی مذہبی رسومات ادا کر رہے ہیں—تصویر امجد علی سحاب</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/04/6085595e83267.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/04/6085595e83267.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/04/6085595e83267.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/04/6085595e83267.jpg 5467w' sizes='(min-width: 992px)  5467px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="راہب اپنی مذہبی رسومات میں منہمک ہیں&mdash;تصویر امجد علی سحاب" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">راہب اپنی مذہبی رسومات میں منہمک ہیں—تصویر امجد علی سحاب</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>وفد  نے 'سوات میوزیم' کا بطورِ خاص دورہ کیا۔ دراصل 'سوات میوزیم' میں ایک بڑا پتھر رکھا گیا ہے، اور بدھ مت کے عقیدت مندوں کے مطابق وہ پاؤں کے نشان درحقیقت گوتم بدھ کے نقشِ پا ہیں۔</p>

<p>ڈاکٹر ولپولے پائنندانا کے بقول وہ بہت پہلے سے اس کوشش میں تھے کہ یہاں آکر مقدس مذہبی مقامات کا دیدار کا موقع نصیب ہوجائے۔ 'عالمی میڈیا میں پاکستان کا ایسا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ یہاں آنے کا سوچ کر بھی لوگ جھرجھری محسوس کرتے ہیں۔ میڈیا پر دکھایا جاتا تھا کہ پاکستان میں لوگ بدھ مت کے ماننے والوں کا گلا کاٹتے ہیں۔ یوں ہمیں خاندان والوں کی طرف سے اجازت نہیں ملتی تھی۔ مگر جیسے ہی ہم یہاں آئے اور پاکستان کے عوام کا بالعموم اور سوات کے مہمان نواز عوام کا بالخصوص دوستانہ رویہ دیکھا، تو میں متاثر ہوئے بنا رہ نہیں پایا۔ چھوٹے بڑے ہمیں ماتھے پر ہاتھ رکھ کر اور دُور سے ہاتھ ہلا ہلا کر ویلکم کہتے رہے'۔</p>

<p>ڈاکٹر ولپولے پائنندانا  نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اب بڑی تعداد میں سری لنکا سے لوگ عبادت کے لیے آئیں گے۔ 'یہ وفد پاکستان اور سری لنکا کے بیچ پُل کا کردار ادا کرے گا'۔</p>

<p>دنیا بھر میں بدھ مت ماننے والوں کی تعداد ایک اندازے کے مطابق 53 کروڑ 50 لاکھ ہے۔</p>

<p>سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے ایک کلومیٹر دُور 'بت کڑہ 1' دنیا بھر کے بدھ مت ماننے والوں کی مرکزی عبادت گاہ ہے، جو بت کڑہ سیدو شریف میں واقع ہے۔ اس کے علاوہ بت کڑہ 2، سیدو شریف اسٹوپا، شنگردار اسٹوپا، جہان آباد بدھا، وہاڑا (Double Dome Structure) سمیت اہم مقدس مقامات بھی سوات کے ماتھے کا جھومر ہیں۔</p>

<figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/04/608559629f12b.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/04/608559629f12b.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/04/608559629f12b.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/04/608559629f12b.jpg 5456w' sizes='(min-width: 992px)  5456px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="مقاماتِ آثارِ قدیمہ کے انچارج سوات راہبوں کو اسٹوپا کے بارے میں بتا رہے ہیں&mdash;تصویر امجد علی سحاب" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">مقاماتِ آثارِ قدیمہ کے انچارج سوات راہبوں کو اسٹوپا کے بارے میں بتا رہے ہیں—تصویر امجد علی سحاب</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/04/60855961636b7.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/04/60855961636b7.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/04/60855961636b7.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/04/60855961636b7.jpg 2257w' sizes='(min-width: 992px)  2257px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="ڈاکٹر ولپولے پائنندانا میڈیا سے بات چیت کررہے ہیں&mdash;تصویر امجد علی سحاب" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ڈاکٹر ولپولے پائنندانا میڈیا سے بات چیت کررہے ہیں—تصویر امجد علی سحاب</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/04/60855963c3c6a.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/04/60855963c3c6a.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/04/60855963c3c6a.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/04/60855963c3c6a.jpg 1764w' sizes='(min-width: 992px)  1764px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="وہ پتھر جس پر بدھ مت مذہب ماننے والوں کے عقیدے کے مطابق گوتم بدھ کے پاؤں کے نشان ہیں&mdash;تصویر امجد علی سحاب" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">وہ پتھر جس پر بدھ مت مذہب ماننے والوں کے عقیدے کے مطابق گوتم بدھ کے پاؤں کے نشان ہیں—تصویر امجد علی سحاب</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>سوات میں سیاحت سے وابستہ حلقوں کا ماننا ہے کہ مذہبی سیاحت معیشت کو سہارا دے سکتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں اب بھی 40 فیصد سے زیادہ آثار زمین کے اندر دبے پڑے ہیں۔ </p>

<p>سری لنکن وفد  نے جہاں اپنی مذہبی رسومات ادا کیں، کتب میں اس جگہ کو 'سیدو شریف اسٹوپا' لکھا گیا ہے۔ اس حوالے سے تاریخی کتب میں درج ہے کہ یہ بدھ مت کی ایک اہم خانقاہ ہے۔ اطالوی آثارِ قدیمہ کے ماہرین اس مقدس عبادت گاہ کو پہلی صدی سے چوتھی صدی عیسوی تک کی تعمیر مانتے ہیں۔ خانقاہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ نچلی سطح پر مرکزی اسٹوپا ہے جس کے ارد گرد چھوٹے اسٹوپے اور وہاڑے ہیں جبکہ بالائی سطح پر خانقاہ کے آثار موجود ہیں۔</p>

<p>یہ مستطیل شکل میں بنی ہوئی خانقاہ ہے جہاں مشرقی اور مغربی اطراف میں 2 منزلہ کمرے تھے جبکہ وسطی صحن چاروں اطراف سے کمروں سے گھرا ہوا ہے۔ بدھ مت کی اس مقدس عبادت گاہ کو بدھ مت سے قبل رہنے والی قوم نے قبرستان کے اوپر بنایا گیا ہے۔ </p>

<p>اطالوی آثارِ قدیمہ کے ماہر ڈاکٹر فیسنا  نے یہاں پر ابتدائی گندھارا فنِ تعمیر کی تقویم کا تعین کیا ہے۔ اطالوی ماہرین کے مطابق مرکزی اسٹوپا کے چاروں طرف سرخ رنگ کے عظیم الشان ستون بنائے گئے تھے۔ بدھ مت کے پیروکار جب بھی سوات آتے ہیں یہاں پر اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔</p>

<hr />

<figure class='media  sm:w-1/6  w-full  media--right    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/urdu/users/1864.jpg?r=1880082112"  alt="" /></picture></div>
				
			</figure>
<p>			 امجد علی سحابؔ روزنامہ آزادی اسلام آباد اور باخبر سوات ڈاٹ کام کے ایڈیٹر ہیں۔ اردو بطور مضمون پڑھاتے ہیں، اس کے ساتھ فری لانس صحافی بھی ہیں۔ نئی دنیائیں کھوجنے کے ساتھ ساتھ تاریخ و تاریخی مقامات میں دلچسپی بھی رکھتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1158702</guid>
      <pubDate>Mon, 26 Apr 2021 17:06:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امجد علی سحاب)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/04/60855f77db098.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="3280" width="5467">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/04/60855f77db098.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
