<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 22:05:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 22:05:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سال 2020: غیر واضح پالیسز کے باعث ملک میں انٹرنیٹ کی آزادی متاثر ہوئی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1158885/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: پاکستان میں 2020 کے دوران انٹرنیٹ کی آزادی متاثر ہوئی ہے، جس کی وجہ حکومت کی جانب سے سیاسی، سماجی اور کلچرل ویب سائٹس کو بلاک کرنے میں اضافے کا رجحان اور رابطے کی پابندی اور غلط معلومات کے حوالے سے سائبر کرام قانون کے غلط استعمال سے متعلق غیر واضح پالیسی پر عمل درآمد کرنا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع ہونے والی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1620705/internet-freedom-declined-in-pakistan-in-2020-says-report"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یہ معلومات انسٹیٹیوٹ فار ریسرچ، ایڈوکیسی اینڈ ڈپارٹمنٹ (آئی آر اے ڈے اے) کی جانب سے جاری کی گئی ‘اینول پاکستان میڈیا لیگل ریویو 2020’ نامی رپورٹ میں فراہم کی گئی ہیں، جو 3 مئی کو ورلڈ پریس فریڈم ڈے کے موقع کی مناسبت سے جاری کی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1114011"&gt;پاکستان انٹرنیٹ آزادی نہ رکھنے والے بدترین ممالک میں شامل، رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کا عنوان ‘پاکستان کے آن لائن عوامی مقام میں بڑھتا ہوا خوف اور نفرت’ رکھا گیا ہے جس میں بتایا گیا کہ ‘2020 میں مذکورہ تمام وجوہات کی وجہ سے آزادی اظہار رائے کے حوالے سے پاکستان میں پہلے سے موجود غیر دوستانہ ماحول، معلومات تک رسائی کی آزادی اور ڈیجیٹل رائٹس کی صورت حال ابتر ہوئی ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئی آر اے ڈی اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد آفتاب عالم کا کہنا تھا کہ میڈیا لیگل ریویو 2020 اس مرتبہ مرحوم آئی اے رحمٰن کو منسوب کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کو انٹرنیٹ پالیسیز اور قوانین میں رجعت کے باعث، خاص طور پر آن لائن مواد کے حوالے سے، ڈیجیٹل رائٹس، آزادیِ اظہار رائے اور معلومات تک رسائی پر عمل درآمد کے حوالے سے ناکامیوں کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ‘اس کے نتیجے میں سینسر شپ، نفرت انگیز تقاریر، ڈیجیٹل نگرانی اور رازداری کی خلاف ورزی اور آن لائن غلط معلومات اور غلط اطلاعات میں اضافہ ہوا’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;2020 میں ملک میں میڈیا سے متعلق متعارف کروائے گئے قوانین حکومت کے جارحانہ اقدامات کا مظہر ہیں جس میں حکومت، میڈیا کے شعبے کو قانون کے دائرے میں لانے اور آزادی اظہار رائے کی حد بندی کے لیے حکام کے دائر اختیار کو وسیع کرنا چاہتی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ اقدامات نہ صرف میڈیا اور معلومات فراہم کرنے والوں، جن میں صحافی اور آن لائن شہری بھی شامل ہیں، کے ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعتوں، سول سوسائٹی کی مہمات اور دیگر رہنماؤں پر بھی اثر انداز ہونے کے لیے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بہر حال رپورٹ میں یہ بات شامل کی گئی ہے کہ حکومت کی جانب سے برداشت کو کم کرتے ہوئے قانونی طریقہ کار اختیار کیے گئے جس کے لیے انٹر نیٹ کو کنٹرول کرنے کے اقدامات اٹھائے گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1158347"&gt;انٹرنیٹ سے متعلق عالمی درجہ بندی میں پاکستان تنزلی کا شکار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ سائبر کرائم قانون کو مبینہ طور پر صحافیوں، رائے قائم کرنے والوں اور سوشل میڈیا ایکٹوزم کی آزادی اظہار رائے کو دبانے کے لیے استعمال کیا گیا، پریوینٹیشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا) 2016 کے تحت صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کی ایک بڑی تعداد کو نشانہ بنایا گیا، متعدد صحافیوں کو آن لائن/سوشل میڈیا سرگرمیوں اور پوسٹس پر تحقیقات، گرفتایاریوں اور اغوا کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ‘2020 کے دوران پیکا کے تحت صحافیوں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے رضاکاروں کے خلاف کارروائی کے 13 واقعات رپورٹ ہوئے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے یا تو صحافیوں اور آن لائن معلومات دینے والوں کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا گیا اور یا سائبر کرائم قانون کے تحت ان کے خلاف مقدامات قائم کیے گئے، جن میں سے کم سے کم 2 کو ان کی آن لائن مبینہ طور پر غیر قانونی سرگرمیوں پر گرفتار کیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: پاکستان میں 2020 کے دوران انٹرنیٹ کی آزادی متاثر ہوئی ہے، جس کی وجہ حکومت کی جانب سے سیاسی، سماجی اور کلچرل ویب سائٹس کو بلاک کرنے میں اضافے کا رجحان اور رابطے کی پابندی اور غلط معلومات کے حوالے سے سائبر کرام قانون کے غلط استعمال سے متعلق غیر واضح پالیسی پر عمل درآمد کرنا ہے۔</p>

<p>ڈان اخبار میں شائع ہونے والی <a href="https://www.dawn.com/news/1620705/internet-freedom-declined-in-pakistan-in-2020-says-report"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق یہ معلومات انسٹیٹیوٹ فار ریسرچ، ایڈوکیسی اینڈ ڈپارٹمنٹ (آئی آر اے ڈے اے) کی جانب سے جاری کی گئی ‘اینول پاکستان میڈیا لیگل ریویو 2020’ نامی رپورٹ میں فراہم کی گئی ہیں، جو 3 مئی کو ورلڈ پریس فریڈم ڈے کے موقع کی مناسبت سے جاری کی گئی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1114011">پاکستان انٹرنیٹ آزادی نہ رکھنے والے بدترین ممالک میں شامل، رپورٹ</a></strong></p>

<p>رپورٹ کا عنوان ‘پاکستان کے آن لائن عوامی مقام میں بڑھتا ہوا خوف اور نفرت’ رکھا گیا ہے جس میں بتایا گیا کہ ‘2020 میں مذکورہ تمام وجوہات کی وجہ سے آزادی اظہار رائے کے حوالے سے پاکستان میں پہلے سے موجود غیر دوستانہ ماحول، معلومات تک رسائی کی آزادی اور ڈیجیٹل رائٹس کی صورت حال ابتر ہوئی ہے’۔</p>

<p>آئی آر اے ڈی اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد آفتاب عالم کا کہنا تھا کہ میڈیا لیگل ریویو 2020 اس مرتبہ مرحوم آئی اے رحمٰن کو منسوب کیا جا رہا ہے۔</p>

<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کو انٹرنیٹ پالیسیز اور قوانین میں رجعت کے باعث، خاص طور پر آن لائن مواد کے حوالے سے، ڈیجیٹل رائٹس، آزادیِ اظہار رائے اور معلومات تک رسائی پر عمل درآمد کے حوالے سے ناکامیوں کا سامنا ہے۔</p>

<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ‘اس کے نتیجے میں سینسر شپ، نفرت انگیز تقاریر، ڈیجیٹل نگرانی اور رازداری کی خلاف ورزی اور آن لائن غلط معلومات اور غلط اطلاعات میں اضافہ ہوا’۔</p>

<p>2020 میں ملک میں میڈیا سے متعلق متعارف کروائے گئے قوانین حکومت کے جارحانہ اقدامات کا مظہر ہیں جس میں حکومت، میڈیا کے شعبے کو قانون کے دائرے میں لانے اور آزادی اظہار رائے کی حد بندی کے لیے حکام کے دائر اختیار کو وسیع کرنا چاہتی تھی۔</p>

<p>یہ اقدامات نہ صرف میڈیا اور معلومات فراہم کرنے والوں، جن میں صحافی اور آن لائن شہری بھی شامل ہیں، کے ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعتوں، سول سوسائٹی کی مہمات اور دیگر رہنماؤں پر بھی اثر انداز ہونے کے لیے تھے۔</p>

<p>بہر حال رپورٹ میں یہ بات شامل کی گئی ہے کہ حکومت کی جانب سے برداشت کو کم کرتے ہوئے قانونی طریقہ کار اختیار کیے گئے جس کے لیے انٹر نیٹ کو کنٹرول کرنے کے اقدامات اٹھائے گئے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1158347">انٹرنیٹ سے متعلق عالمی درجہ بندی میں پاکستان تنزلی کا شکار</a></strong></p>

<p>رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ سائبر کرائم قانون کو مبینہ طور پر صحافیوں، رائے قائم کرنے والوں اور سوشل میڈیا ایکٹوزم کی آزادی اظہار رائے کو دبانے کے لیے استعمال کیا گیا، پریوینٹیشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا) 2016 کے تحت صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کی ایک بڑی تعداد کو نشانہ بنایا گیا، متعدد صحافیوں کو آن لائن/سوشل میڈیا سرگرمیوں اور پوسٹس پر تحقیقات، گرفتایاریوں اور اغوا کا سامنا کرنا پڑا۔</p>

<p>رپورٹ کے مطابق ‘2020 کے دوران پیکا کے تحت صحافیوں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے رضاکاروں کے خلاف کارروائی کے 13 واقعات رپورٹ ہوئے’۔</p>

<p>وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے یا تو صحافیوں اور آن لائن معلومات دینے والوں کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا گیا اور یا سائبر کرائم قانون کے تحت ان کے خلاف مقدامات قائم کیے گئے، جن میں سے کم سے کم 2 کو ان کی آن لائن مبینہ طور پر غیر قانونی سرگرمیوں پر گرفتار کیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1158885</guid>
      <pubDate>Wed, 28 Apr 2021 12:45:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (قلب علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/04/60890e59dce2f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="460" width="768">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/04/60890e59dce2f.jpg"/>
        <media:title>رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2020 کے دوران انٹرنیٹ کی آزادی متاثر ہوئی ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
