<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 00:41:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 22 Jun 2026 00:41:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کووڈ ویکسین کی ایک خوراک وائرس کے پھیلاؤ میں نمایاں کمی لانے کیلئے کافی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1158910/</link>
      <description>&lt;p&gt;کووڈ 19 ویکسین کی ایک خوراک ہی وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ نمایاں حد تک کم کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی &lt;a href="https://www.theguardian.com/uk-news/2021/apr/28/single-dose-of-covid-vaccine-can-nearly-halve-transmission-of-virus-study-finds"&gt;تحقیق&lt;/a&gt; میں سامنے آئی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1149579' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پبلک ہیلتھ انگلینڈ کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ ویکسینز سے کورونا وائرس کی وبا کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے کیونکہ ویکسین استعمال کرنے والے افراد سے وائرس کا دیگر تک پھیلنے کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ فائزر/بائیو این ٹیک یا ایسٹرازینیکا ویکسین کی ایک خوراک استعمال کرنے کے 3 ہفتے بعد کوئی فرد کورونا سے متاثر ہوتا ہے تو اس سے یہ بیماری گھر کے اندر دیگر تک منتقل ہونے کا خطرہ 38 سے 49 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں بتایا گیا کہ ہر عمر کے افراد میں تحفظ کی شرح ویکسینیشن کے 14 دن بعد لگ بھگ یکساں ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کی جانب سے اب یہ جانچ پڑتال کی جائے گی کہ ویکسین کی 2 خوراکوں سے وائرس کو آگے پھیلانے کا خطرہ کس حد تک گھٹ جاتا ہے جبکہ عوامی مقامات پر بھی اس خطرے کی شرح کو دیکھا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ گھروں کی طرح عوامی مقامات پر بھی وائرس کے پھیلاؤ کی شرح میں کمی کے نتائج کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس میں 57 ہزار افراد کو شامل کیا گیا تھا جو ان 24 ہزار گھرانوں میں شامل تھے جن کے کم از کم ایک فرد کو ویکسین استعمال کرائی جاچکی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس گروپ کے نتائج کا موازنہ 10 لاکھ کے قریب ایسے افراد سے کیا گیا جن کو ویکسین اب تک فراہم نہیں کی جاسکی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق میں شامل زیادہ تر افراد کی عمریں 60 سال سے کم تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کے کہنا تھا کہ نتائج بہت حوصلہ افزا ہیں مگر یہ بھی عندیہ ملتا ہے کہ ویکسنیشن کے باوجود لوگوں کو احتیاطی تدابیر یعنی ہاتھوں کی اچھی صفائی اور سماجی دوری کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1145955' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/11/5faa85a7620f2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/11/5faa85a7620f2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2020/11/5faa85a7620f2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2020/11/5faa85a7620f2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;برطانوی وزیر صحت میٹ ہینکوک نے اسے بہترین خبر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم پہلے سے جانتے ہیں کہ ویکسین سے زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں اور یہ نئی تحقیق حقیقی دنیا کے ڈیٹا پر مشتمل اب تک کی سب سے جامع تحقیق ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ویکسین سے جان لیوا وائرس کے پھیلاؤ کو بھی روکا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ فائزر یا ایسٹرا زینیکا ویکسین کی ایک خوراک کورونا کا شکار ہونے کا خطرہ دوتہائی حد تک کم کرتی ہے اور 74 فیصد تک علامات والی بیماری سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح فائزر ویکسین کی 2 خوراکوں کو استعمال کرنے سے مجموعی کیسز کی شرح میں 70 فیصد جبکہ علامات والے کیسز کی شرح میں 90 فیصد تک کمی آتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علامات والے کیسز میں ہی وائرس کے ایک سے دوسرے فرد تک پھیلنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کووڈ 19 ویکسین کی ایک خوراک ہی وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ نمایاں حد تک کم کرسکتی ہے۔</p>

<p>یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی <a href="https://www.theguardian.com/uk-news/2021/apr/28/single-dose-of-covid-vaccine-can-nearly-halve-transmission-of-virus-study-finds">تحقیق</a> میں سامنے آئی۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1149579' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>پبلک ہیلتھ انگلینڈ کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ ویکسینز سے کورونا وائرس کی وبا کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے کیونکہ ویکسین استعمال کرنے والے افراد سے وائرس کا دیگر تک پھیلنے کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔</p>

<p>تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ فائزر/بائیو این ٹیک یا ایسٹرازینیکا ویکسین کی ایک خوراک استعمال کرنے کے 3 ہفتے بعد کوئی فرد کورونا سے متاثر ہوتا ہے تو اس سے یہ بیماری گھر کے اندر دیگر تک منتقل ہونے کا خطرہ 38 سے 49 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔</p>

<p>تحقیق میں بتایا گیا کہ ہر عمر کے افراد میں تحفظ کی شرح ویکسینیشن کے 14 دن بعد لگ بھگ یکساں ہوتی ہے۔</p>

<p>محققین کی جانب سے اب یہ جانچ پڑتال کی جائے گی کہ ویکسین کی 2 خوراکوں سے وائرس کو آگے پھیلانے کا خطرہ کس حد تک گھٹ جاتا ہے جبکہ عوامی مقامات پر بھی اس خطرے کی شرح کو دیکھا جائے گا۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ گھروں کی طرح عوامی مقامات پر بھی وائرس کے پھیلاؤ کی شرح میں کمی کے نتائج کی توقع ہے۔</p>

<p>اس تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے۔</p>

<p>اس میں 57 ہزار افراد کو شامل کیا گیا تھا جو ان 24 ہزار گھرانوں میں شامل تھے جن کے کم از کم ایک فرد کو ویکسین استعمال کرائی جاچکی ہے۔</p>

<p>اس گروپ کے نتائج کا موازنہ 10 لاکھ کے قریب ایسے افراد سے کیا گیا جن کو ویکسین اب تک فراہم نہیں کی جاسکی۔</p>

<p>اس تحقیق میں شامل زیادہ تر افراد کی عمریں 60 سال سے کم تھیں۔</p>

<p>محققین کے کہنا تھا کہ نتائج بہت حوصلہ افزا ہیں مگر یہ بھی عندیہ ملتا ہے کہ ویکسنیشن کے باوجود لوگوں کو احتیاطی تدابیر یعنی ہاتھوں کی اچھی صفائی اور سماجی دوری کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1145955' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/11/5faa85a7620f2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/11/5faa85a7620f2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2020/11/5faa85a7620f2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2020/11/5faa85a7620f2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>برطانوی وزیر صحت میٹ ہینکوک نے اسے بہترین خبر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم پہلے سے جانتے ہیں کہ ویکسین سے زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں اور یہ نئی تحقیق حقیقی دنیا کے ڈیٹا پر مشتمل اب تک کی سب سے جامع تحقیق ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ویکسین سے جان لیوا وائرس کے پھیلاؤ کو بھی روکا جاسکتا ہے۔</p>

<p>اس سے قبل تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ فائزر یا ایسٹرا زینیکا ویکسین کی ایک خوراک کورونا کا شکار ہونے کا خطرہ دوتہائی حد تک کم کرتی ہے اور 74 فیصد تک علامات والی بیماری سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔</p>

<p>اسی طرح فائزر ویکسین کی 2 خوراکوں کو استعمال کرنے سے مجموعی کیسز کی شرح میں 70 فیصد جبکہ علامات والے کیسز کی شرح میں 90 فیصد تک کمی آتی ہے۔</p>

<p>علامات والے کیسز میں ہی وائرس کے ایک سے دوسرے فرد تک پھیلنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1158910</guid>
      <pubDate>Wed, 28 Apr 2021 17:15:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/04/608951856a09f.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/04/608951856a09f.png"/>
        <media:title>— شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
