<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Amazing</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 19:13:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 19:13:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یورپ میں تھری ڈی پرنٹڈ گھر میں قیام کرنے والا پہلا جوڑا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1159253/</link>
      <description>&lt;p&gt;یورپ میں پہلی بار تھری ڈی پرنٹر سے &lt;a href="https://www.theguardian.com/technology/2021/apr/30/dutch-couple-move-into-europe-first-fully-3d-printed-house-eindhoven"&gt;مکمل گھر&lt;/a&gt; تیار کیا گیا ہے جس میں ایک جوڑے نے رہائش اختیار کی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈچ جوڑے ایلائز لیوٹز اور ہیری ڈیکر اس تھری ڈی پرنٹر سے تیار کردہ گھر میں منتقل ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ گھر دیکھنے میں کسی گلیشیئر کی طرح کا ہے جو یورپ کی پہلی قانونی رہائش پذیر تھری ڈی پرنٹڈ جائیداد ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کی بوجھ اٹھانے والی دیواریں تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی سے تیار کی گئی ہیں اور پورا گھر ہی جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر اس میں داخلی دروازے کو چابی سے کھولنے کا آپشن موجود نہیں بلکہ دروازے کو ایک ایپ سے کھولا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایلائز لیوٹز نے بتایا کہ اس گھر میں کسی بنکر جیسا احساس ہوتا ہے، یعنی محفوظ ہونے کا جبکہ یہ خوبصورت بھی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-5/8  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60cb46ee0e13b.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60cb46ee0e13b.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60cb46ee0e13b.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60cb46ee0e13b.jpg 1908w' sizes='(min-width: 992px)  1908px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس طرح کی ساخت کا گھر روایتی طریقہ کار سے تعمیر کرنا بہت مشکل اور مہنگا ہوتا ہے مگر تھری ڈی پرنٹنگ سے لاگت کافی کم ہوجاتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسے ایک تعمیراتی کمپنی سینٹ گوبن ویبر بی میکس نے تعمیر کیا ہے جو 94 اسکوائر میٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس گھر کی تھری ڈی پرنٹنگ کے لیے ایک بڑے روبوٹک آرم اور نوزل کو استعمال کیا گیا، جن میں ایک مخصوص سیمنٹ شامل کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں اسٹرکچر کو آرکیٹیکٹ ڈیزائن کے بعد پرنٹ کردیا گیا اور ایک کے بعد ایک لیئر کا اضافہ کرکے دیواروں کو مضبوط بنایا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل دنیا کی پہلی تھری ڈی پرنٹڈ اپارٹمنٹ بلڈنگ چین میں 2016 میں تعمیر کی گئی تھی جس کے لیے 45 دن کا عرصہ لگا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یورپ میں پہلی بار تھری ڈی پرنٹر سے <a href="https://www.theguardian.com/technology/2021/apr/30/dutch-couple-move-into-europe-first-fully-3d-printed-house-eindhoven">مکمل گھر</a> تیار کیا گیا ہے جس میں ایک جوڑے نے رہائش اختیار کی ہے۔</p>

<p>ڈچ جوڑے ایلائز لیوٹز اور ہیری ڈیکر اس تھری ڈی پرنٹر سے تیار کردہ گھر میں منتقل ہوئے ہیں۔</p>

<p>یہ گھر دیکھنے میں کسی گلیشیئر کی طرح کا ہے جو یورپ کی پہلی قانونی رہائش پذیر تھری ڈی پرنٹڈ جائیداد ہے۔</p>

<p>اس کی بوجھ اٹھانے والی دیواریں تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی سے تیار کی گئی ہیں اور پورا گھر ہی جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔</p>

<p>مگر اس میں داخلی دروازے کو چابی سے کھولنے کا آپشن موجود نہیں بلکہ دروازے کو ایک ایپ سے کھولا جاتا ہے۔</p>

<p>ایلائز لیوٹز نے بتایا کہ اس گھر میں کسی بنکر جیسا احساس ہوتا ہے، یعنی محفوظ ہونے کا جبکہ یہ خوبصورت بھی ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-5/8  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60cb46ee0e13b.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60cb46ee0e13b.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60cb46ee0e13b.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60cb46ee0e13b.jpg 1908w' sizes='(min-width: 992px)  1908px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="" /></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس طرح کی ساخت کا گھر روایتی طریقہ کار سے تعمیر کرنا بہت مشکل اور مہنگا ہوتا ہے مگر تھری ڈی پرنٹنگ سے لاگت کافی کم ہوجاتی ہے۔</p>

<p>اسے ایک تعمیراتی کمپنی سینٹ گوبن ویبر بی میکس نے تعمیر کیا ہے جو 94 اسکوائر میٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔</p>

<p>اس گھر کی تھری ڈی پرنٹنگ کے لیے ایک بڑے روبوٹک آرم اور نوزل کو استعمال کیا گیا، جن میں ایک مخصوص سیمنٹ شامل کیا گیا۔</p>

<p>بعد ازاں اسٹرکچر کو آرکیٹیکٹ ڈیزائن کے بعد پرنٹ کردیا گیا اور ایک کے بعد ایک لیئر کا اضافہ کرکے دیواروں کو مضبوط بنایا گیا۔</p>

<p>اس سے قبل دنیا کی پہلی تھری ڈی پرنٹڈ اپارٹمنٹ بلڈنگ چین میں 2016 میں تعمیر کی گئی تھی جس کے لیے 45 دن کا عرصہ لگا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Amazing</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1159253</guid>
      <pubDate>Thu, 17 Jun 2021 17:59:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/05/608ff9d39f680.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/05/608ff9d39f680.jpg"/>
        <media:title>— فوٹو بشکریہ دی گارجین
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
