<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 15:29:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 15:29:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لانگ کووڈ کا سامنا 65 سال سے کم عمر افراد کو بھی ہوسکتا ہے، تحقیق
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1159265/</link>
      <description>&lt;p&gt;کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے شکار زیادہ  افراد صحتیاب ہوجاتے ہیں، تاہم بیشتر کو طویل المعیاد بنیادوں پر مختلف پیچیدگیوں کا سامنا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;صحتیابی کے بعد ان افراد کو متعدد علامات کا سامنا ہوتا ہے جس کے لیے لانگ کووڈ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1149579' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اب ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ لانگ کووڈ کا سامنا کرنے والے ضروری نہیں کہ معمر ہوں بلکہ 65 سال سے کم عمر مریضوں میں بھی اس کا خطرہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پری پرنٹ سرور  &lt;a href="https://www.medrxiv.org/content/10.1101/2021.04.25.21255923v1"&gt;medRxiv&lt;/a&gt; میں  شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ لانگ کووڈ کا سامنا کرنے والے زیادہ تر افراد کو تھکاوٹ، سانس لینے میں مشکلات، سینے میں درد، کھانسی، ذہنی تشویش، ڈپریشن اور تناؤ جیسی علامات کا سامنا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح یادداشت کی کمزوری اور توجہ مرکوز کرنے میں  مشکلات کا سامنا بھی ہوتا ہے اور اس کا سامنا کئی ہفتوں یا مہینوں تک ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق 57 ہزار سے زیادہ کووڈ کے مریضوں کو شامل کیا گیا تھا جن میں پی سی آر ٹیسٹ سے وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں کمپیوٹیشنل ماڈل کی مدد لی گئی اور لانگ کووڈ کی علامات کو مریضوں میں بیماری کی تشخیص کے 2 یا اس سے زیادہ مہینوں بعد ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعدازاں 6 ماہ بعد بھی کچھ مریضوں میں علامات کا جائزہ لیا گیا اور 57 ہزار مریضوں میں سے 11 ہزار 400 میں وائرس کی موجودگی کو دریافت کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے ان افراد میں 3 سے 6 ماہ بعد اور 6 سے 9 ماہ بعد نئی علامات کو کووڈ کے نیگیٹو اور مثبت ٹیسٹوں والے افراد میں دریافت کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;3 سے 6 ماہ کے دوران 65 سال سے کم عمر افراد میں بال جھڑنے کا امکان ساڑھے 3 گنا زیادہ دریافت ہوا جبکہ 65 سال سے زائد عمر کی خواتین میں یہ امکان 4 گنا زیادہ تھا جبکہ 6 سے 9 ماہ کے دوران خطرے میں اضافہ نہیں  دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;3 سے 6 ماہ کے دوران سینے میں تکلیف کا سامنا ہونے کا امکان 65 سال کی عمر کے 35 فیصد افراد میں دیگر سے ڈھائی گنا زیادہ دریافت کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح 3 سے 6 ماہ کے دوران 65 سال سے کم عمر مریضوں میں پیشاب سے پروٹین کی زیادہ مقدار کے اخراج کا امکان 2.6 گنا زیادہ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;6 سے 9 ماہ کے عرصے میں کووڈ کا سامنا کرنے والے 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں ناخنوں کے امراض کو بھی دریافت کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی عرصے میں 65 سال یا اس سے زائد عمر کی خواتین میں ذہنی تشویش اور سر چکرانے جیسے مسائل کا خطرہ دوگنا بڑھ جاتا ہے جبکہ کم عمر خواتین کو مخصوص ایام کے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1145955' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/11/5faa85a7620f2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/11/5faa85a7620f2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2020/11/5faa85a7620f2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2020/11/5faa85a7620f2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مجموعی طور پر دونوں ٹائم پیریڈ میں 65 سال سے  کم عمر خواتین میں لانگ کووڈ کی علامات کا خطرہ ڈھائی گنا زیادہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کے خیال میں کووڈ کے نتیجے میں جسم میں پیدا ہونے والا ورم ممکنہ طور پر لانگ کووڈ کی مختلف علامات کا باعث بنتا ہے جبکہ متعدد کیسز میں بیماری سے گردوں کو بھی نقصان پہنچنے اس کا باعث بنا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ تحقیق ایسے افراد پر کی گئی تھی جو کووڈ کے نتیجے میں زیادہ بیمار نہیں ہوئے تھے اور ہسپتال میں داخل نہیں ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اب محققین کی جانب سے ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے مریضوں پر تحقیق کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے شکار زیادہ  افراد صحتیاب ہوجاتے ہیں، تاہم بیشتر کو طویل المعیاد بنیادوں پر مختلف پیچیدگیوں کا سامنا ہوتا ہے۔</p>

<p>صحتیابی کے بعد ان افراد کو متعدد علامات کا سامنا ہوتا ہے جس کے لیے لانگ کووڈ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1149579' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اب ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ لانگ کووڈ کا سامنا کرنے والے ضروری نہیں کہ معمر ہوں بلکہ 65 سال سے کم عمر مریضوں میں بھی اس کا خطرہ ہوتا ہے۔</p>

<p>پری پرنٹ سرور  <a href="https://www.medrxiv.org/content/10.1101/2021.04.25.21255923v1">medRxiv</a> میں  شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ لانگ کووڈ کا سامنا کرنے والے زیادہ تر افراد کو تھکاوٹ، سانس لینے میں مشکلات، سینے میں درد، کھانسی، ذہنی تشویش، ڈپریشن اور تناؤ جیسی علامات کا سامنا ہوتا ہے۔</p>

<p>اسی طرح یادداشت کی کمزوری اور توجہ مرکوز کرنے میں  مشکلات کا سامنا بھی ہوتا ہے اور اس کا سامنا کئی ہفتوں یا مہینوں تک ہوسکتا ہے۔</p>

<p>اس تحقیق 57 ہزار سے زیادہ کووڈ کے مریضوں کو شامل کیا گیا تھا جن میں پی سی آر ٹیسٹ سے وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔</p>

<p>تحقیق میں کمپیوٹیشنل ماڈل کی مدد لی گئی اور لانگ کووڈ کی علامات کو مریضوں میں بیماری کی تشخیص کے 2 یا اس سے زیادہ مہینوں بعد ریکارڈ کیا گیا۔</p>

<p>بعدازاں 6 ماہ بعد بھی کچھ مریضوں میں علامات کا جائزہ لیا گیا اور 57 ہزار مریضوں میں سے 11 ہزار 400 میں وائرس کی موجودگی کو دریافت کیا گیا۔</p>

<p>محققین نے ان افراد میں 3 سے 6 ماہ بعد اور 6 سے 9 ماہ بعد نئی علامات کو کووڈ کے نیگیٹو اور مثبت ٹیسٹوں والے افراد میں دریافت کیا۔</p>

<p>3 سے 6 ماہ کے دوران 65 سال سے کم عمر افراد میں بال جھڑنے کا امکان ساڑھے 3 گنا زیادہ دریافت ہوا جبکہ 65 سال سے زائد عمر کی خواتین میں یہ امکان 4 گنا زیادہ تھا جبکہ 6 سے 9 ماہ کے دوران خطرے میں اضافہ نہیں  دیکھا گیا۔</p>

<p>3 سے 6 ماہ کے دوران سینے میں تکلیف کا سامنا ہونے کا امکان 65 سال کی عمر کے 35 فیصد افراد میں دیگر سے ڈھائی گنا زیادہ دریافت کیا گیا۔</p>

<p>اسی طرح 3 سے 6 ماہ کے دوران 65 سال سے کم عمر مریضوں میں پیشاب سے پروٹین کی زیادہ مقدار کے اخراج کا امکان 2.6 گنا زیادہ ہوسکتا ہے۔</p>

<p>6 سے 9 ماہ کے عرصے میں کووڈ کا سامنا کرنے والے 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں ناخنوں کے امراض کو بھی دریافت کیا گیا۔</p>

<p>اسی عرصے میں 65 سال یا اس سے زائد عمر کی خواتین میں ذہنی تشویش اور سر چکرانے جیسے مسائل کا خطرہ دوگنا بڑھ جاتا ہے جبکہ کم عمر خواتین کو مخصوص ایام کے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1145955' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/11/5faa85a7620f2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/11/5faa85a7620f2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2020/11/5faa85a7620f2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2020/11/5faa85a7620f2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>مجموعی طور پر دونوں ٹائم پیریڈ میں 65 سال سے  کم عمر خواتین میں لانگ کووڈ کی علامات کا خطرہ ڈھائی گنا زیادہ ہوتا ہے۔</p>

<p>محققین کے خیال میں کووڈ کے نتیجے میں جسم میں پیدا ہونے والا ورم ممکنہ طور پر لانگ کووڈ کی مختلف علامات کا باعث بنتا ہے جبکہ متعدد کیسز میں بیماری سے گردوں کو بھی نقصان پہنچنے اس کا باعث بنا۔</p>

<p>یہ تحقیق ایسے افراد پر کی گئی تھی جو کووڈ کے نتیجے میں زیادہ بیمار نہیں ہوئے تھے اور ہسپتال میں داخل نہیں ہوئے تھے۔</p>

<p>اب محققین کی جانب سے ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے مریضوں پر تحقیق کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1159265</guid>
      <pubDate>Mon, 03 May 2021 23:12:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/05/60903c62cf42c.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/05/60903c62cf42c.png"/>
        <media:title>— شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
