<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 12:28:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 12:28:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹوئٹر آڈیو چیٹ روم کا فیچر اب زیادہ صارفین کو دستیاب
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1159335/</link>
      <description>&lt;p&gt;سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے اپنے آڈیو چیٹ روم کے فیچر کو عام صارفین کے لیے پیش کردیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم ٹوئٹر اسپیسز کو وہی صارف استعمال کرسکیں گے جن کے فالوورز کی تعداد 600 یا اس سے زیادہ ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کلب ہاؤس سوشل میڈیا ایپ سے ملتے جلتے اس فیچر میں ٹوئٹر صارفین آڈیو چیٹ رومز تشکیل دے سکیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس فیچر کی آزمائش 2020 میں شروع ہوئی تھی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹوئٹر اسیسز میں صارف یا تو اپنا آڈیو روم تشکیل دے سکتا ہے یا دیگر افراد کے بنائے ہوئے رومز میں شمولیت اختیار کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;روم کو تشکیل دینے والے کے پاس اس میں شمولیت اختیار کرنے والے افراد کو میوٹ یا باہر نکالنے کا اختیار حاصل ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/TwitterSpaces/status/1389270063807598594"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ورچوئل رومز کے اسپیکرز اسپیس کے اندر ٹوئٹس کو پن بھی کرسکیں گے جبکہ کیپشنز ٹرن آن کرسکیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمپنی کے مطاب تمام صارفین تک اس فیچر کی رسائی میں وقت لگے گا تاہم 600 فالوورز والے افراد اس کو استعمال کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسپیسز کی توسیع کے ساتھ ٹوئٹر کی جانب سے ٹکٹڈ اسپیسز فیچر پر بھی کام کیا جارہا ہے جس کے تحت صارفین زیادہ خاص ایونٹس کی میزبانی کرسکیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق ان ایونٹس کے میزبانوں کے پاس اختیار ہوگا کہ ایک ٹکٹ کی مالیت کیا ہو اور کتنے ٹکٹ دستیاب ہوں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس آمدنی کا زیادہ تر حصہ صارف کے پاس ہی جائے گا اور کچھ حصہ ٹوئٹر کے پاس جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے اپنے آڈیو چیٹ روم کے فیچر کو عام صارفین کے لیے پیش کردیا ہے۔</p>

<p>تاہم ٹوئٹر اسپیسز کو وہی صارف استعمال کرسکیں گے جن کے فالوورز کی تعداد 600 یا اس سے زیادہ ہوگی۔</p>

<p>کلب ہاؤس سوشل میڈیا ایپ سے ملتے جلتے اس فیچر میں ٹوئٹر صارفین آڈیو چیٹ رومز تشکیل دے سکیں گے۔</p>

<p>اس فیچر کی آزمائش 2020 میں شروع ہوئی تھی۔ </p>

<p>ٹوئٹر اسیسز میں صارف یا تو اپنا آڈیو روم تشکیل دے سکتا ہے یا دیگر افراد کے بنائے ہوئے رومز میں شمولیت اختیار کرسکتا ہے۔</p>

<p>روم کو تشکیل دینے والے کے پاس اس میں شمولیت اختیار کرنے والے افراد کو میوٹ یا باہر نکالنے کا اختیار حاصل ہوگا۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/TwitterSpaces/status/1389270063807598594"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ورچوئل رومز کے اسپیکرز اسپیس کے اندر ٹوئٹس کو پن بھی کرسکیں گے جبکہ کیپشنز ٹرن آن کرسکیں گے۔</p>

<p>کمپنی کے مطاب تمام صارفین تک اس فیچر کی رسائی میں وقت لگے گا تاہم 600 فالوورز والے افراد اس کو استعمال کرسکتے ہیں۔</p>

<p>اسپیسز کی توسیع کے ساتھ ٹوئٹر کی جانب سے ٹکٹڈ اسپیسز فیچر پر بھی کام کیا جارہا ہے جس کے تحت صارفین زیادہ خاص ایونٹس کی میزبانی کرسکیں گے۔</p>

<p>کمپنی کے مطابق ان ایونٹس کے میزبانوں کے پاس اختیار ہوگا کہ ایک ٹکٹ کی مالیت کیا ہو اور کتنے ٹکٹ دستیاب ہوں گے۔</p>

<p>اس آمدنی کا زیادہ تر حصہ صارف کے پاس ہی جائے گا اور کچھ حصہ ٹوئٹر کے پاس جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1159335</guid>
      <pubDate>Tue, 04 May 2021 19:43:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/05/60915cea5524f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/05/60915cea5524f.jpg"/>
        <media:title>— اے ایف پی فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
