<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 14:24:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 14:24:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>توند کی چربی کووڈ 19 کی شدت کا خطرہ بڑھانے کا باعث قرار
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1159842/</link>
      <description>&lt;p&gt;توند کی چربی کو گھلانا بہت مشکل ہوتا ہے اور جن افراد کا پیٹ باہر نکلا ہوا ہوتا ہے ان یں کووڈ 19 کی سنگین شت کا امکان 75 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بات ایک نئی طبی &lt;a href="https://medicalxpress.com/news/2021-05-fat-waist-important-obesity-severity.html"&gt;تحقیق&lt;/a&gt; میں سامنے آئی جس میں بتایا گیا کہ توند کے حامل کووڈ کے مریضوں کی زیادہ نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1149579' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اٹلی میں ہونے والی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پیٹ اور کمر کے ارگرد اضافی چربی کووڈ 19 کے مریضوں میں سنگین پیچیدگیوں کا خطرہ جسم کی مجموعی چربی کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درحقیقت توند کی چربی صرف کووڈ کو ہی سنگین نہیں بناتی بلکہ سابقہ تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ یہ اضافی چربی ذیابیطس ٹائپ ٹو، ہائی بلڈ پریشر اور دل کی شریانوں کے امراض کی شدت بھی بڑھا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے پہلے تحقیقی رپورٹس میں موٹاپے اور کووڈ 19 کی سنگین شدت کے درمیان تعلق دریافت کیا گیا تھا، تاہم توند اور کووڈ کی شدت پر زیادہ کام نہیں ہوا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس نئی تحقیق میں موٹاپے کے ساتھ ساتھ پیٹ اور کمر کے پھیلاؤ اور جسمانی وزن کی جانچ پڑتال مختلف طریقوں سے کی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس مقصد کے لیے کووڈ 19 کے ہسپتال میں زیرعلاج 219 مریضوں کو تحقیق کا حصہ بناکر سینے کے ایکسرے (سی ایکس آر) سے بیماری کی شدت کو جانا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سی ایکس آر اسکور کو پھیپھڑوں کے 3 زونز میں تقسیم کیا گیا اور زیادہ شدت کے لیے 8 اسکور رکھا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ توند کے حامل کووڈ کے مریضوں میں سی ایکس آر اسکور اوسطاً 9 رہا جبکہ موٹاپے کے شکار افراد (جن کی توند نہیں نکلتی) میں یہ اسکور 6 رہا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1145955' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/11/5faa85a7620f2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/11/5faa85a7620f2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2020/11/5faa85a7620f2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2020/11/5faa85a7620f2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں بتایا گیا کہ توند کے حامل افراد میں پھیپھڑوں کے دمہ اور آکسیجن کی کمی کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے بتایا کہ توند سے کووڈ 19 کے مریضوں میں بیماری کی سنگین شدت کی پیشگوئی کی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں ایسے مریضوں کے علاج کے لیے پیٹ اور کمر کے پھیلاؤ کی جانچ پڑتال کرکے ان کی باریک بینی سے مانیٹرنگ کی جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>توند کی چربی کو گھلانا بہت مشکل ہوتا ہے اور جن افراد کا پیٹ باہر نکلا ہوا ہوتا ہے ان یں کووڈ 19 کی سنگین شت کا امکان 75 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔</p>

<p>یہ بات ایک نئی طبی <a href="https://medicalxpress.com/news/2021-05-fat-waist-important-obesity-severity.html">تحقیق</a> میں سامنے آئی جس میں بتایا گیا کہ توند کے حامل کووڈ کے مریضوں کی زیادہ نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1149579' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اٹلی میں ہونے والی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پیٹ اور کمر کے ارگرد اضافی چربی کووڈ 19 کے مریضوں میں سنگین پیچیدگیوں کا خطرہ جسم کی مجموعی چربی کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔</p>

<p>درحقیقت توند کی چربی صرف کووڈ کو ہی سنگین نہیں بناتی بلکہ سابقہ تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ یہ اضافی چربی ذیابیطس ٹائپ ٹو، ہائی بلڈ پریشر اور دل کی شریانوں کے امراض کی شدت بھی بڑھا سکتی ہے۔</p>

<p>اس سے پہلے تحقیقی رپورٹس میں موٹاپے اور کووڈ 19 کی سنگین شدت کے درمیان تعلق دریافت کیا گیا تھا، تاہم توند اور کووڈ کی شدت پر زیادہ کام نہیں ہوا تھا۔</p>

<p>اس نئی تحقیق میں موٹاپے کے ساتھ ساتھ پیٹ اور کمر کے پھیلاؤ اور جسمانی وزن کی جانچ پڑتال مختلف طریقوں سے کی گئی۔</p>

<p>اس مقصد کے لیے کووڈ 19 کے ہسپتال میں زیرعلاج 219 مریضوں کو تحقیق کا حصہ بناکر سینے کے ایکسرے (سی ایکس آر) سے بیماری کی شدت کو جانا گیا۔</p>

<p>سی ایکس آر اسکور کو پھیپھڑوں کے 3 زونز میں تقسیم کیا گیا اور زیادہ شدت کے لیے 8 اسکور رکھا گیا۔</p>

<p>تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ توند کے حامل کووڈ کے مریضوں میں سی ایکس آر اسکور اوسطاً 9 رہا جبکہ موٹاپے کے شکار افراد (جن کی توند نہیں نکلتی) میں یہ اسکور 6 رہا۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1145955' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/11/5faa85a7620f2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/11/5faa85a7620f2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2020/11/5faa85a7620f2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2020/11/5faa85a7620f2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>تحقیق میں بتایا گیا کہ توند کے حامل افراد میں پھیپھڑوں کے دمہ اور آکسیجن کی کمی کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔</p>

<p>محققین نے بتایا کہ توند سے کووڈ 19 کے مریضوں میں بیماری کی سنگین شدت کی پیشگوئی کی جاسکتی ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں ایسے مریضوں کے علاج کے لیے پیٹ اور کمر کے پھیلاؤ کی جانچ پڑتال کرکے ان کی باریک بینی سے مانیٹرنگ کی جانی چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1159842</guid>
      <pubDate>Tue, 11 May 2021 23:57:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/05/609ad348d7a24.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/05/609ad348d7a24.jpg"/>
        <media:title>— شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
