<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 15:11:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 15:11:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>الیکٹرانک ووٹنگ، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو حق رائے دہی دینے کا آرڈیننس چیلنج
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1161275/</link>
      <description>&lt;p&gt;الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی خریداری اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو حق رائے دہی دینے کا آرڈیننس اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مسلم لیگ (ن) کے رہنما و رکن قومی اسمبلی محسن شاہنواز رانجھا نے عمر گیلانی ایڈووکیٹ کے ذریعے صدارتی آرڈیننس عدالت عالیہ میں چیلنج کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لیگی رہنما نے درخواست میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان کو پرنسپل سیکریٹری کے ذریعے، سیکریٹری الیکشن کمیشن اور سیکریٹری قانون و انصاف کو فریق بناتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق 9 مئی کو حکومت نے ایک صفحے پر مشتمل آرڈیننس جاری کیا اور اہم نوعیت کی قانون سازی سے متعلق عوام یا عوامی نمائندوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ 24 ستمبر 2018 سے اب تک حکومت 54 سے زائد صدارتی آرڈیننسز جاری کرچکی ہے، حکومت نے آرڈیننس جاری کرنا معمول بنا لیا ہے، آرڈیننس جاری کرکے عوامی نمائندوں کو قانون سازی کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1159631"&gt;الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی خریداری کیلئے آرڈیننس جاری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ آرڈیننس جاری کرنے کا صدر کا اختیار ہنگامی صورت کے لیے ہے، ہنگامی صورتحال کے بغیر صدارتی آرڈیننس جاری کرنا پارلیمنٹ کو بے توقیر کرنے کے مترادف ہے جبکہ پی ایم ڈی سی کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ واضح کرچکی ہے کہ کن حالات میں صدارتی آرڈیننس جاری ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محسن شاہنواز رانجھا نے عدالت سے استدعا کی کہ الیکٹرانک ووٹنگ اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو آرڈیننس کے ذریعے ووٹ دینے کا حق غیر آئینی و غیر قانونی اور آرڈیننس کالعدم قرار دیا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ مئی کے اوائل میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ایک صدارتی آرڈیننس کی منظوری دی تھی جس کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کی خریداری کا پابند ہوگا اور آئندہ انتخابات میں بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنا حق رائے دہی کا استعمال کرنے کے اہل ہوں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کے انتخابی اصلاحات کے معاملے پر اپوزیشن کو شامل کرنے کے لیے کابینہ کے اراکین کی ایک کمیٹی تشکیل دینے کے محض دو روز بعد ہی صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت انتخابات (دوسری ترمیم) آرڈیننس 2021 کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1159229"&gt;وفاقی حکومت کا انتخابی اصلاحات متعارف کروانے کا فیصلہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آرڈیننس کے ذریعے صدر نے الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 94 (1) اور سیکشن 103 میں دو ترامیم پیش کیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دفعہ 94 (1) میں کی گئی ترمیم کے مطابق کمیشن (ای سی پی)، نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) یا کسی اور اتھارٹی اور ایجنسی کی تکنیکی مدد سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو عام انتخابات کے دوران اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے کے اہل بنائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ترمیم شدہ دفعہ 103 میں کہا گیا کہ کمیشن (ای سی پی) عام انتخابات میں ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں (ای وی ایم) خریدے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی خریداری اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو حق رائے دہی دینے کا آرڈیننس اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔</p>

<p>مسلم لیگ (ن) کے رہنما و رکن قومی اسمبلی محسن شاہنواز رانجھا نے عمر گیلانی ایڈووکیٹ کے ذریعے صدارتی آرڈیننس عدالت عالیہ میں چیلنج کیا۔</p>

<p>لیگی رہنما نے درخواست میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان کو پرنسپل سیکریٹری کے ذریعے، سیکریٹری الیکشن کمیشن اور سیکریٹری قانون و انصاف کو فریق بناتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق 9 مئی کو حکومت نے ایک صفحے پر مشتمل آرڈیننس جاری کیا اور اہم نوعیت کی قانون سازی سے متعلق عوام یا عوامی نمائندوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ 24 ستمبر 2018 سے اب تک حکومت 54 سے زائد صدارتی آرڈیننسز جاری کرچکی ہے، حکومت نے آرڈیننس جاری کرنا معمول بنا لیا ہے، آرڈیننس جاری کرکے عوامی نمائندوں کو قانون سازی کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1159631">الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی خریداری کیلئے آرڈیننس جاری</a></strong></p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ آرڈیننس جاری کرنے کا صدر کا اختیار ہنگامی صورت کے لیے ہے، ہنگامی صورتحال کے بغیر صدارتی آرڈیننس جاری کرنا پارلیمنٹ کو بے توقیر کرنے کے مترادف ہے جبکہ پی ایم ڈی سی کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ واضح کرچکی ہے کہ کن حالات میں صدارتی آرڈیننس جاری ہوسکتا ہے۔</p>

<p>محسن شاہنواز رانجھا نے عدالت سے استدعا کی کہ الیکٹرانک ووٹنگ اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو آرڈیننس کے ذریعے ووٹ دینے کا حق غیر آئینی و غیر قانونی اور آرڈیننس کالعدم قرار دیا جائے۔</p>

<p>خیال رہے کہ مئی کے اوائل میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ایک صدارتی آرڈیننس کی منظوری دی تھی جس کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کی خریداری کا پابند ہوگا اور آئندہ انتخابات میں بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنا حق رائے دہی کا استعمال کرنے کے اہل ہوں گے۔</p>

<p>قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کے انتخابی اصلاحات کے معاملے پر اپوزیشن کو شامل کرنے کے لیے کابینہ کے اراکین کی ایک کمیٹی تشکیل دینے کے محض دو روز بعد ہی صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت انتخابات (دوسری ترمیم) آرڈیننس 2021 کا اعلان کیا تھا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1159229">وفاقی حکومت کا انتخابی اصلاحات متعارف کروانے کا فیصلہ</a></strong></p>

<p>آرڈیننس کے ذریعے صدر نے الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 94 (1) اور سیکشن 103 میں دو ترامیم پیش کیں۔</p>

<p>دفعہ 94 (1) میں کی گئی ترمیم کے مطابق کمیشن (ای سی پی)، نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) یا کسی اور اتھارٹی اور ایجنسی کی تکنیکی مدد سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو عام انتخابات کے دوران اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے کے اہل بنائے گا۔</p>

<p>ترمیم شدہ دفعہ 103 میں کہا گیا کہ کمیشن (ای سی پی) عام انتخابات میں ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں (ای وی ایم) خریدے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1161275</guid>
      <pubDate>Thu, 03 Jun 2021 16:51:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر نصیرویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/06/60b8ba0097a7d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/06/60b8ba0097a7d.jpg"/>
        <media:title>درخواست میں آرڈیننس کالعددم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے — فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
