<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Apr 2026 16:40:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Apr 2026 16:40:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مریخ پر موجود چینی خلائی مشن کی نئی تصاویر
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1161875/</link>
      <description>&lt;p&gt;چین کے خلائی ادارے نے مریخ پر لینڈ ہونے والے روور زورونگ کی نئی تصاویر جاری کردی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چائنا مینڈ اسپیس ایجنسی (سی ایم ایس اے) کی جانب سے دوسری بار مریخ کی سطح پر موجود روور کی تصاویر جاری کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نئی تصاویر ابتدائی فوٹوز کے مقابلے میں زیادہ اچھی اور تفصیلی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان تصاویر میں مریخ کے اس حصے کا 360 ویو بھی شامل ہے جہاں یہ روور لینڈ ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک اور تصویر میں لینڈنگ کے مقام کو دکھایا گیا ہے جو نسبتاً سپاٹ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/06/60c397cdec9d7.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60c397cdec9d7.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60c397cdec9d7.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60c397cdec9d7.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="فوٹو بشکریہ سی ایم ایس اے" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;فوٹو بشکریہ سی ایم ایس اے&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تصویر میں ریت کے ٹیلے بھی دکھائی دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک اور تصویر سے پتا چلتا ہے کہ یہ روور سولر پینلز سے اپنی بیٹریاں چارج کرنے کے بعد لینڈنگ پلیٹ فارم سے نکلنے کے قابل ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ تصویر لینڈنگ کے مقام سے 20 فٹ دور سے لی گئی ہے اور اس میں روور سے بننے والے نشانات کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تصویر میں چینی پرچم بھی لینڈنگ پلیٹ فارم میں جھلک دکھا رہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/06/60c397ce1faa3.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60c397ce1faa3.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60c397ce1faa3.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60c397ce1faa3.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="فوٹو بشکریہ سی ایم ایس اے" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;فوٹو بشکریہ سی ایم ایس اے&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تیان ون 1 مشن کے روور نے مریخ پر 15 مئی کو تاریخ ساز لینڈنگ کی تھی اور امریکا کے بعد چین ایسا کرنے والا دوسرا ملک بن گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آخری تصویر کے لیے روور نے جنوب میں 30 فٹ دور جاکر ایک کیمرا سطح پر گرایا اور واپس جاکر لینڈنگ پلیٹ فارم کے ساتھ سیلفی لی جو سب سے اوپر دیکھی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چینی روور مریخ کے حصے یوٹوپیا پلانٹیا میں کھوج کرے گا اور اپنے آلات سے خطے کے موسم اور دیگر عناصر پر تحقیق کرے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ چین نے جولائی 2020 میں اپنے مشن کو مریخ پر روانہ کیا تھا اور لگ بھگ 7 ماہ بعد وہ سرخ سیارے کے مدار میں داخل ہونے میں کامیاب ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;5 ٹن کا تیان وین 1 مارس آربٹر، ایک لینڈر، سولر پاور روور پر مشتمل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کا آربٹر مریخ کے مدار سے اس کا تجزیہ ہائی ریزولوشن کیمرے، ایک اسپیکٹرو میٹر، میگنٹومیٹر اور آئس میپنگ راڈار انسٹرومنٹ کی مدد سے کرے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آربٹر لینڈ کرنے والے روور سے بھی رابطے میں رہے گا جو اپنی طرز کی ایک متاثر کن کامیابی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1154344/"&gt;&lt;strong&gt;فروری 2021 میں پرسیورینس روور روبوٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; سرخ سیارے پر مائیکربیل (microbial) زندگی کے آثار کی تلاش میں محفوظ طریقے سے ایک وسیع گڑھے میں پہنچا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چین کے خلائی ادارے نے مریخ پر لینڈ ہونے والے روور زورونگ کی نئی تصاویر جاری کردی ہیں۔</p>

<p>چائنا مینڈ اسپیس ایجنسی (سی ایم ایس اے) کی جانب سے دوسری بار مریخ کی سطح پر موجود روور کی تصاویر جاری کی گئی ہیں۔</p>

<p>نئی تصاویر ابتدائی فوٹوز کے مقابلے میں زیادہ اچھی اور تفصیلی ہیں۔</p>

<p>ان تصاویر میں مریخ کے اس حصے کا 360 ویو بھی شامل ہے جہاں یہ روور لینڈ ہوا۔</p>

<p>ایک اور تصویر میں لینڈنگ کے مقام کو دکھایا گیا ہے جو نسبتاً سپاٹ ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/06/60c397cdec9d7.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60c397cdec9d7.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60c397cdec9d7.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60c397cdec9d7.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="فوٹو بشکریہ سی ایم ایس اے" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">فوٹو بشکریہ سی ایم ایس اے</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس تصویر میں ریت کے ٹیلے بھی دکھائی دے رہے ہیں۔</p>

<p>ایک اور تصویر سے پتا چلتا ہے کہ یہ روور سولر پینلز سے اپنی بیٹریاں چارج کرنے کے بعد لینڈنگ پلیٹ فارم سے نکلنے کے قابل ہوگیا ہے۔</p>

<p>یہ تصویر لینڈنگ کے مقام سے 20 فٹ دور سے لی گئی ہے اور اس میں روور سے بننے والے نشانات کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔</p>

<p>اس تصویر میں چینی پرچم بھی لینڈنگ پلیٹ فارم میں جھلک دکھا رہا ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/06/60c397ce1faa3.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60c397ce1faa3.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60c397ce1faa3.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60c397ce1faa3.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="فوٹو بشکریہ سی ایم ایس اے" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">فوٹو بشکریہ سی ایم ایس اے</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>تیان ون 1 مشن کے روور نے مریخ پر 15 مئی کو تاریخ ساز لینڈنگ کی تھی اور امریکا کے بعد چین ایسا کرنے والا دوسرا ملک بن گیا تھا۔</p>

<p>آخری تصویر کے لیے روور نے جنوب میں 30 فٹ دور جاکر ایک کیمرا سطح پر گرایا اور واپس جاکر لینڈنگ پلیٹ فارم کے ساتھ سیلفی لی جو سب سے اوپر دیکھی جاسکتی ہے۔</p>

<p>چینی روور مریخ کے حصے یوٹوپیا پلانٹیا میں کھوج کرے گا اور اپنے آلات سے خطے کے موسم اور دیگر عناصر پر تحقیق کرے گا۔</p>

<p>خیال رہے کہ چین نے جولائی 2020 میں اپنے مشن کو مریخ پر روانہ کیا تھا اور لگ بھگ 7 ماہ بعد وہ سرخ سیارے کے مدار میں داخل ہونے میں کامیاب ہوا۔</p>

<p>5 ٹن کا تیان وین 1 مارس آربٹر، ایک لینڈر، سولر پاور روور پر مشتمل ہے۔</p>

<p>اس کا آربٹر مریخ کے مدار سے اس کا تجزیہ ہائی ریزولوشن کیمرے، ایک اسپیکٹرو میٹر، میگنٹومیٹر اور آئس میپنگ راڈار انسٹرومنٹ کی مدد سے کرے گا۔</p>

<p>آربٹر لینڈ کرنے والے روور سے بھی رابطے میں رہے گا جو اپنی طرز کی ایک متاثر کن کامیابی ہے۔</p>

<p>اس سے قبل <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1154344/"><strong>فروری 2021 میں پرسیورینس روور روبوٹ</strong></a> سرخ سیارے پر مائیکربیل (microbial) زندگی کے آثار کی تلاش میں محفوظ طریقے سے ایک وسیع گڑھے میں پہنچا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1161875</guid>
      <pubDate>Fri, 11 Jun 2021 22:12:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/06/60c397cf16f46.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/06/60c397cf16f46.png"/>
        <media:title>— فوٹو بشکریہ سی ایم ایس اے
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
