<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 09:48:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 09:48:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مساجد حملوں پر بننے والی فلم میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم کو دکھایا جائے، جیسنڈا آرڈرن
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1162020/</link>
      <description>&lt;p&gt;نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے کہا ہے کہ مساجد پر حملوں کے تناظر میں بننے والی کسی بھی فلم میں انہیں یا کسی اور کردار کو دکھانے کے بجائے مسلمانوں پر ڈھائے گئے ظلم کو دکھایا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جیسنڈا آرڈرن نے یہ بیان کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر 2019 میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے پس منظر میں نیوزی لینڈ کی فلم ساز کی جانب سے فلم بنائے جانے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فلم ساز اینڈریو نکولو نے حال ہی میں مساجد پر حملوں کے تناظر میں ’دی آر اس‘ فلم بنانے کا اعلان کیا تھا، جس کی مرکزی کہانی مسلمانوں کے ساتھ ظلم کے بجائے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کی جانب سے مذکورہ واقعے کے بعد کیے جانے والے اقدامات کے گرد گھومتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فلم کا نام بھی جیسنڈا آرڈرن کی مذکورہ حملوں کے بعد مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے کی گئی تقریر سے لیا گیا ہے جب کہ فلم میں صرف ان کی کاوشیں ہی دکھائی جائیں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فلم میں جیسنڈا آرڈرن کا کردار آسٹریلوی اداکارہ روز بیرن ادا کریں گی، تاہم فلم کی ٹیم نے واضح نہیں کیا ہے کہ کب تک اس کی شوٹنگ شروع کی جائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1161899/"&gt;&lt;strong&gt;نیوزی لینڈ: مساجد پر حملے کے تناظر میں فلم بنائے جانے پر مسلمان ناراض&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فلم کے اعلان کے بعد نیوزی لینڈ کے مسلمانوں نے فلم کی کہانی پر اعتراض کرتے ہوئے ناراضگی کا اظہار کیا اور ٹوئٹر پر 10 جون کے بعد  ’دی آر اس شٹ ڈاؤن‘ کا ٹرینڈ بھی ٹاپ پر رہا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ اعلان کے بعد نیشنل اسلامک ایسوسی ایشن نے بھی مذکورہ فلم کے اعلان کے بعد آن لائن پلیٹ فارم &lt;a href="https://www.change.org/p/filmnation-entertainment-shut-down-they-are-us-movie-which-side-lines-victims-of-the-march-15th-terrorist-attack"&gt;&lt;strong&gt;’چینج ڈاٹ او آر جی‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; پر آن لائن پٹیشن بھی شروع کی تھی اور مسلمانوں نے فلم کو نہ بنانے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ابتدائی طور پر نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے فلم کے اعلان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا مگر مسلمانوں کی تنقید کے بعد اب انہوں نے فلم کے موضوع اور کہانی کو غلط قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/06/60c7229e3aa16.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60c7229e3aa16.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60c7229e3aa16.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60c7229e3aa16.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="فلم میں جیسنڈا آرڈرن کا کردار آسٹریلوی اداکارہ روز بیرن ادا کرتی دکھائی دیں گی&amp;mdash;فائل فوٹو: اے پی" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;فلم میں جیسنڈا آرڈرن کا کردار آسٹریلوی اداکارہ روز بیرن ادا کرتی دکھائی دیں گی—فائل فوٹو: اے پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ’ایجنسی فرانس پریس‘ &lt;a href="https://images.dawn.com/news/1187812/new-zealand-pm-jacinda-ardern-says-christchurch-mosque-attacks-film-focuses-on-wrong-subject"&gt;&lt;strong&gt;(اے ایف پی)&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق جیسنڈا آرڈرن نے ’دی آر اس‘ کی مجوزہ کہانی کو غلط قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ مساجد پر حملوں کے تناظر میں بننے والی کسی بھی فلم کی کہانی مسلمانوں کے ساتھ ظلم کے گرد ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جیسنڈا آرڈرن نے نیوزی لینڈ کے اخبار کو انٹرویو میں کہا کہ کرائسٹ چرچ کی مساجد پر حملوں کا واقعہ اب بھی یہاں کے عوام کے لیے خوفناک ہے اور اسے لوگ تاحال مکمل طور پر سمجھ بھی نہیں سکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مذکورہ دہشت گردانہ واقعے میں درجنوں مسلمان خاندان متاثر ہوئے، 51 افراد شہید جب کہ 40 سے زائد زخمی ہوئے اور فلم میں ان واقعات کو ہی دکھایا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جیسنڈا آرڈرن نے یہ بھی واضح کیا کہ مذکورہ فلم کے حوالے سے ان سے کوئی بھی مشاورت نہیں کی گئی اور نہ ان کی خواہش ہے کہ فلم میں انہیں دکھایا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جیسنڈا آرڈرن کے مطابق مساجد پر حملوں کے تناظر میں بننے والی کسی بھی فلم کی کہانی متاثر مسلمانوں کے گرد ہونی چاہیے اور ان کے ساتھ ظلم و ستم کو ہی دکھایا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اے ایف پی کے مطابق جیسنڈا آرڈرن کے بیان کے بعد فلم کے متعدد پروڈیوسرز میں سے ایک خاتون پروڈیوسر نے خود کو فلم سے علیحدہ کرتے ہوئے مسلمان کمیونٹی اور وزیر اعظم سے معذرت کرلی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اعلان کردہ فلم کے متعدد پروڈیوسرز میں مسلمان پروڈیوسر بھی شامل ہیں، تاہم اب خیال کیا جا رہاہے کہ فلم پر تنقید کے بعد ممکنہ طور پر اس کی کہانی تبدیل کردی جائے گی یا پھر اسے بنانے کا اعلان ہی واپس لے لیا جائے گا، تاہم اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ نیوزی لینڈ کی مساجد پر 15 مارچ 2019 کو &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1099506"&gt;&lt;strong&gt;دہشت گردی کے حملوں میں 51 نمازی شہید&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; جب کہ 50 زخمی ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حملوں کے بعد دہشت گرد بیرنٹن ٹیرنٹ کو گرفتار کرکے ان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ چلایا گیا تھا اور اسے اگست 2020 میں مرتے دم تک قید کی سزا سنائی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے کہا ہے کہ مساجد پر حملوں کے تناظر میں بننے والی کسی بھی فلم میں انہیں یا کسی اور کردار کو دکھانے کے بجائے مسلمانوں پر ڈھائے گئے ظلم کو دکھایا جانا چاہیے۔</p>

<p>جیسنڈا آرڈرن نے یہ بیان کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر 2019 میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے پس منظر میں نیوزی لینڈ کی فلم ساز کی جانب سے فلم بنائے جانے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔</p>

<p>فلم ساز اینڈریو نکولو نے حال ہی میں مساجد پر حملوں کے تناظر میں ’دی آر اس‘ فلم بنانے کا اعلان کیا تھا، جس کی مرکزی کہانی مسلمانوں کے ساتھ ظلم کے بجائے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کی جانب سے مذکورہ واقعے کے بعد کیے جانے والے اقدامات کے گرد گھومتی ہے۔</p>

<p>فلم کا نام بھی جیسنڈا آرڈرن کی مذکورہ حملوں کے بعد مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے کی گئی تقریر سے لیا گیا ہے جب کہ فلم میں صرف ان کی کاوشیں ہی دکھائی جائیں گی۔</p>

<p>فلم میں جیسنڈا آرڈرن کا کردار آسٹریلوی اداکارہ روز بیرن ادا کریں گی، تاہم فلم کی ٹیم نے واضح نہیں کیا ہے کہ کب تک اس کی شوٹنگ شروع کی جائے گی۔</p>

<p>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1161899/"><strong>نیوزی لینڈ: مساجد پر حملے کے تناظر میں فلم بنائے جانے پر مسلمان ناراض</strong></a></p>

<p>فلم کے اعلان کے بعد نیوزی لینڈ کے مسلمانوں نے فلم کی کہانی پر اعتراض کرتے ہوئے ناراضگی کا اظہار کیا اور ٹوئٹر پر 10 جون کے بعد  ’دی آر اس شٹ ڈاؤن‘ کا ٹرینڈ بھی ٹاپ پر رہا۔</p>

<p>مذکورہ اعلان کے بعد نیشنل اسلامک ایسوسی ایشن نے بھی مذکورہ فلم کے اعلان کے بعد آن لائن پلیٹ فارم <a href="https://www.change.org/p/filmnation-entertainment-shut-down-they-are-us-movie-which-side-lines-victims-of-the-march-15th-terrorist-attack"><strong>’چینج ڈاٹ او آر جی‘</strong></a> پر آن لائن پٹیشن بھی شروع کی تھی اور مسلمانوں نے فلم کو نہ بنانے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔</p>

<p>ابتدائی طور پر نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے فلم کے اعلان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا مگر مسلمانوں کی تنقید کے بعد اب انہوں نے فلم کے موضوع اور کہانی کو غلط قرار دیا ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/06/60c7229e3aa16.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60c7229e3aa16.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60c7229e3aa16.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60c7229e3aa16.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="فلم میں جیسنڈا آرڈرن کا کردار آسٹریلوی اداکارہ روز بیرن ادا کرتی دکھائی دیں گی&mdash;فائل فوٹو: اے پی" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">فلم میں جیسنڈا آرڈرن کا کردار آسٹریلوی اداکارہ روز بیرن ادا کرتی دکھائی دیں گی—فائل فوٹو: اے پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>خبر رساں ادارے ’ایجنسی فرانس پریس‘ <a href="https://images.dawn.com/news/1187812/new-zealand-pm-jacinda-ardern-says-christchurch-mosque-attacks-film-focuses-on-wrong-subject"><strong>(اے ایف پی)</strong></a> کے مطابق جیسنڈا آرڈرن نے ’دی آر اس‘ کی مجوزہ کہانی کو غلط قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ مساجد پر حملوں کے تناظر میں بننے والی کسی بھی فلم کی کہانی مسلمانوں کے ساتھ ظلم کے گرد ہونی چاہیے۔</p>

<p>جیسنڈا آرڈرن نے نیوزی لینڈ کے اخبار کو انٹرویو میں کہا کہ کرائسٹ چرچ کی مساجد پر حملوں کا واقعہ اب بھی یہاں کے عوام کے لیے خوفناک ہے اور اسے لوگ تاحال مکمل طور پر سمجھ بھی نہیں سکے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ مذکورہ دہشت گردانہ واقعے میں درجنوں مسلمان خاندان متاثر ہوئے، 51 افراد شہید جب کہ 40 سے زائد زخمی ہوئے اور فلم میں ان واقعات کو ہی دکھایا جانا چاہیے۔</p>

<p>جیسنڈا آرڈرن نے یہ بھی واضح کیا کہ مذکورہ فلم کے حوالے سے ان سے کوئی بھی مشاورت نہیں کی گئی اور نہ ان کی خواہش ہے کہ فلم میں انہیں دکھایا جانا چاہیے۔</p>

<p>جیسنڈا آرڈرن کے مطابق مساجد پر حملوں کے تناظر میں بننے والی کسی بھی فلم کی کہانی متاثر مسلمانوں کے گرد ہونی چاہیے اور ان کے ساتھ ظلم و ستم کو ہی دکھایا جانا چاہیے۔</p>

<p>اے ایف پی کے مطابق جیسنڈا آرڈرن کے بیان کے بعد فلم کے متعدد پروڈیوسرز میں سے ایک خاتون پروڈیوسر نے خود کو فلم سے علیحدہ کرتے ہوئے مسلمان کمیونٹی اور وزیر اعظم سے معذرت کرلی۔</p>

<p>اعلان کردہ فلم کے متعدد پروڈیوسرز میں مسلمان پروڈیوسر بھی شامل ہیں، تاہم اب خیال کیا جا رہاہے کہ فلم پر تنقید کے بعد ممکنہ طور پر اس کی کہانی تبدیل کردی جائے گی یا پھر اسے بنانے کا اعلان ہی واپس لے لیا جائے گا، تاہم اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔</p>

<p>خیال رہے کہ نیوزی لینڈ کی مساجد پر 15 مارچ 2019 کو <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1099506"><strong>دہشت گردی کے حملوں میں 51 نمازی شہید</strong></a> جب کہ 50 زخمی ہوگئے تھے۔</p>

<p>حملوں کے بعد دہشت گرد بیرنٹن ٹیرنٹ کو گرفتار کرکے ان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ چلایا گیا تھا اور اسے اگست 2020 میں مرتے دم تک قید کی سزا سنائی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1162020</guid>
      <pubDate>Mon, 14 Jun 2021 14:53:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/06/60c72217ad90e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/06/60c72217ad90e.jpg"/>
        <media:title>فلم کے حوالے سے کوئی مشورہ نہیں کیا گیا، جیسنڈا آرڈرن
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
