<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 20:36:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 20:36:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کووڈ سے مسلسل 10 ماہ تک متاثر رہنے والا مریض
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1162744/</link>
      <description>&lt;p&gt;دنیا میں کووڈ 19 سے اب تک سب سے زیادہ عرصے تک متاثر رہنے والے شخص میں 290 دن تک کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا اور وہ بیماری کے باعث 7 بار ہسپتال میں زیرعلاج رہ چکا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 72 سالہ ڈیو اسمتھ نے &lt;a href="https://www.bbc.co.uk/news/av/uk-57586965"&gt;بی بی سی&lt;/a&gt; کو بتایا کہ اب تک 43 بار اس کا کووڈ ٹیسٹ مثبت آچکا ہے اور ایک بار تو وہ مسلسل 5 گھنٹے تک کھانستا رہا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1160985' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کی بیماری کو اب تک طویل ترین متحرک کووڈ کیس قرار دیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس عرصے کے دوران ڈیو اسمتھ کا وزن 63 کلو سے زیادہ کم ہوچکا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اتنے زیادہ ٹیسٹ مثبت رہنے کے بعد وہ ہار ماننے اور مرنے کے لیے تیار تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اہوں نے اپنی اہلیہ کو بھی کہا 'مجھے جانے دو، میں خلا میں معل ہوں، مگر حال بہت خراب ہے'۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ان کی اہلیہ نے 5 بار تدفین کے انتظامات پر بھی کام شروع کردیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کی اہلیہ لنڈا نے بتایا کہ انہیں بھی لگتا تھا کہ ان کا شوہر کورونا کے باعث ہلاک ہوجائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ڈیو اسمتھ میں بیماری کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہے کہ ماضی میں خون کے سرطان کی وجہ سے انہیں کیموتھراپی دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا علاج دوا ساز کمپنی ری جینرون کی تیار کردہ اینٹی وائرل ادویات سے کیا گیا اور اب سائنسدانوں کی جانب سے تحقیق کی جارہی ہے تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ وائرس میں کس طرح میوٹیشنز ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس اینٹی وائرل کاک تیل کے نتیجے میں وہ اب کورونا کو شکست دینے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1149579' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل جون 2021 کے شروع میں ایک کیس کی رپورٹ سامنے آئی تھی جو ایچ آئی وی سے متاثر 36 سالہ کاتون کا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس خاتون میں کورونا وائرس 216 دن سے موجود تھا اور اس عرصے میں وائرس میں 30 سے زیادہ میوٹیشنز ہوئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈیو اسمتھ برطانیہ میں کورونا وائرس کی پہلی لہر کے دوران کووڈ کا شکار ہوئے تھے اور لانگ کووڈ کے بیشتر مریضوں کے برعکس جن کو علامات کو تو سامنا تھا، مگر وائرس جسم سے کلیئر ہوچکا تھا، ڈیو اسمتھ کو جب سے ہی مسلسل بیماری کا سامنا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دنیا میں کووڈ 19 سے اب تک سب سے زیادہ عرصے تک متاثر رہنے والے شخص میں 290 دن تک کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا اور وہ بیماری کے باعث 7 بار ہسپتال میں زیرعلاج رہ چکا ہے۔</p>

<p>برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 72 سالہ ڈیو اسمتھ نے <a href="https://www.bbc.co.uk/news/av/uk-57586965">بی بی سی</a> کو بتایا کہ اب تک 43 بار اس کا کووڈ ٹیسٹ مثبت آچکا ہے اور ایک بار تو وہ مسلسل 5 گھنٹے تک کھانستا رہا تھا۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1160985' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس کی بیماری کو اب تک طویل ترین متحرک کووڈ کیس قرار دیا جارہا ہے۔</p>

<p>اس عرصے کے دوران ڈیو اسمتھ کا وزن 63 کلو سے زیادہ کم ہوچکا ہے۔</p>

<p>انہوں نے بتایا کہ اتنے زیادہ ٹیسٹ مثبت رہنے کے بعد وہ ہار ماننے اور مرنے کے لیے تیار تھے۔</p>

<p>اہوں نے اپنی اہلیہ کو بھی کہا 'مجھے جانے دو، میں خلا میں معل ہوں، مگر حال بہت خراب ہے'۔</p>

<p>انہوں نے بتایا کہ ان کی اہلیہ نے 5 بار تدفین کے انتظامات پر بھی کام شروع کردیا تھا۔</p>

<p>ان کی اہلیہ لنڈا نے بتایا کہ انہیں بھی لگتا تھا کہ ان کا شوہر کورونا کے باعث ہلاک ہوجائے گا۔</p>

<p>رپورٹ کے مطابق ڈیو اسمتھ میں بیماری کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہے کہ ماضی میں خون کے سرطان کی وجہ سے انہیں کیموتھراپی دی گئی تھی۔</p>

<p>ان کا علاج دوا ساز کمپنی ری جینرون کی تیار کردہ اینٹی وائرل ادویات سے کیا گیا اور اب سائنسدانوں کی جانب سے تحقیق کی جارہی ہے تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ وائرس میں کس طرح میوٹیشنز ہوتی ہیں۔</p>

<p>اس اینٹی وائرل کاک تیل کے نتیجے میں وہ اب کورونا کو شکست دینے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1149579' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس سے قبل جون 2021 کے شروع میں ایک کیس کی رپورٹ سامنے آئی تھی جو ایچ آئی وی سے متاثر 36 سالہ کاتون کا تھا۔</p>

<p>اس خاتون میں کورونا وائرس 216 دن سے موجود تھا اور اس عرصے میں وائرس میں 30 سے زیادہ میوٹیشنز ہوئیں۔</p>

<p>ڈیو اسمتھ برطانیہ میں کورونا وائرس کی پہلی لہر کے دوران کووڈ کا شکار ہوئے تھے اور لانگ کووڈ کے بیشتر مریضوں کے برعکس جن کو علامات کو تو سامنا تھا، مگر وائرس جسم سے کلیئر ہوچکا تھا، ڈیو اسمتھ کو جب سے ہی مسلسل بیماری کا سامنا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1162744</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Jun 2021 22:40:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/06/60d4c19ee599b.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/06/60d4c19ee599b.jpg"/>
        <media:title>ڈیو اسمتھ — فوٹو بشکریہ بی بی سی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
