<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech - Mobilephones</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 13:42:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 13:42:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گوگل کی اینڈرائیڈ ڈیوائسز میں کووڈ ویکسین کارڈ اسٹور کرنے کی سپورٹ متعارف
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1163266/</link>
      <description>&lt;p&gt;مستقبل قریب میں ہوسکتا ہے کہ آپ اپنے کووڈ ویکسینیشن ریکارڈ کو اینڈرائیڈ ڈیوائس میں محفوظ کرسکیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گوگل نے &lt;a href="https://developers.google.com/pay/passes"&gt;اے پی آئی فار پاسز&lt;/a&gt; کو اپ ڈیٹ کرکے اس ریکارڈ کو محفوظ کرنے کی صلاحیت کا اضافہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;30 جون کو ایک بلاگ پوسٹ میں گوگل نے یہ اعلان کیا تاہم اس کا مطلب یہ نہیں آپ ابھی اپنے ویکسنیشن کارڈ کو اپ لوڈ کرسکیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ اپ ڈیٹڈ اے پی آئی یا اپلیکیشن پروگرامنگ انٹرفیس دنیا بھر کے حکومتی اداروں اور طبی اداروں کے ڈویلپرز کو ویکسنیشن کارڈز یا کووڈ ٹیسٹ نتائج کے ڈیجیٹل ورژنز تیار کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گوگل نے بتایا کہ ایک بار جب کوئی صارف کووڈ کارڈ کا ڈیجیٹل ورژن اپنی ڈیوائس میں محفوظ کرے گا تو وہ ڈیوائس کی ہوم اسکرین پر ایک شارٹ کٹ کے ذریعے اس تک رسائی حاصل کرسکے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمپنی نے بتایا کہ اگر انٹرنیٹ سروس دستیاب نہ بھی ہو یا ایسے خطے میں ہوں جہاں انٹرنیٹ سروس زیادہ اچھی نہیں تو بھی اس ریکارڈ تک رسائی صارفین کو حاصل ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عام طور پر پاسز اے پی آئی کو گوگل پے والٹ کے صارفین کی جانب سے بورڈنگ پاسز، لائلٹی کارڈز، گفٹ کارڈز، ٹکٹوں اور دیگر محفوظ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر اس اپ ڈیٹ کے بعد گوگل پے ایپ استعمال نہ کرنے والے افراد بھی اپنے ڈیجیٹل کووڈ کارڈ کو ڈیوائس میں اسٹور کرسکیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چونکہ گوگل کی جانب سے کارڈ کی کاپی اپنے پاس نہیں رکھی جائے گی تو صارفین کو مختلف ڈیوائسز میں کووڈ کارڈ کو محفوٖظ کرنے کے لیے حکومتی ادارے یا دیگر سے اسے ڈائون لوڈ کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کاردز میں ادارے یا حکومتی لوگو سب سے اوپر ہوگا، جس کے بعد صارف کا نام، تاریخ پیدائش اور دیگر متعلقہ تفصیلات جیسے کس کمپنی کی ویکسین یا ٹیسٹ ہے وغیرہ۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس اپ ڈیٹڈ اے پی آئی کو سب سے پہلے امریکا میں متعارف کرایا جارہا ہے اور جلد دیگر ممالک میں بھی اسے پیش کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مستقبل قریب میں ہوسکتا ہے کہ آپ اپنے کووڈ ویکسینیشن ریکارڈ کو اینڈرائیڈ ڈیوائس میں محفوظ کرسکیں۔</p>

<p>گوگل نے <a href="https://developers.google.com/pay/passes">اے پی آئی فار پاسز</a> کو اپ ڈیٹ کرکے اس ریکارڈ کو محفوظ کرنے کی صلاحیت کا اضافہ کیا ہے۔</p>

<p>30 جون کو ایک بلاگ پوسٹ میں گوگل نے یہ اعلان کیا تاہم اس کا مطلب یہ نہیں آپ ابھی اپنے ویکسنیشن کارڈ کو اپ لوڈ کرسکیں گے۔</p>

<p>یہ اپ ڈیٹڈ اے پی آئی یا اپلیکیشن پروگرامنگ انٹرفیس دنیا بھر کے حکومتی اداروں اور طبی اداروں کے ڈویلپرز کو ویکسنیشن کارڈز یا کووڈ ٹیسٹ نتائج کے ڈیجیٹل ورژنز تیار کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔</p>

<p>گوگل نے بتایا کہ ایک بار جب کوئی صارف کووڈ کارڈ کا ڈیجیٹل ورژن اپنی ڈیوائس میں محفوظ کرے گا تو وہ ڈیوائس کی ہوم اسکرین پر ایک شارٹ کٹ کے ذریعے اس تک رسائی حاصل کرسکے گا۔</p>

<p>کمپنی نے بتایا کہ اگر انٹرنیٹ سروس دستیاب نہ بھی ہو یا ایسے خطے میں ہوں جہاں انٹرنیٹ سروس زیادہ اچھی نہیں تو بھی اس ریکارڈ تک رسائی صارفین کو حاصل ہوگی۔</p>

<p>عام طور پر پاسز اے پی آئی کو گوگل پے والٹ کے صارفین کی جانب سے بورڈنگ پاسز، لائلٹی کارڈز، گفٹ کارڈز، ٹکٹوں اور دیگر محفوظ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔</p>

<p>مگر اس اپ ڈیٹ کے بعد گوگل پے ایپ استعمال نہ کرنے والے افراد بھی اپنے ڈیجیٹل کووڈ کارڈ کو ڈیوائس میں اسٹور کرسکیں گے۔</p>

<p>چونکہ گوگل کی جانب سے کارڈ کی کاپی اپنے پاس نہیں رکھی جائے گی تو صارفین کو مختلف ڈیوائسز میں کووڈ کارڈ کو محفوٖظ کرنے کے لیے حکومتی ادارے یا دیگر سے اسے ڈائون لوڈ کرنا ہوگا۔</p>

<p>ان کاردز میں ادارے یا حکومتی لوگو سب سے اوپر ہوگا، جس کے بعد صارف کا نام، تاریخ پیدائش اور دیگر متعلقہ تفصیلات جیسے کس کمپنی کی ویکسین یا ٹیسٹ ہے وغیرہ۔</p>

<p>اس اپ ڈیٹڈ اے پی آئی کو سب سے پہلے امریکا میں متعارف کرایا جارہا ہے اور جلد دیگر ممالک میں بھی اسے پیش کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1163266</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Jul 2021 18:33:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/07/60df14a751ead.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/07/60df14a751ead.jpg"/>
        <media:title>— فوٹو بشکریہ گوگل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
