<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Amazing</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 12:21:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 12:21:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئس لینڈ میں ہفتے میں صرف 4 دن کام کے ٹرائلز کی 'زبردست کامیابی'
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1163547/</link>
      <description>&lt;p&gt;کیا ایک ہفتے میں 4 دن کام اور3 دن چھٹی پر مبنی ورکنگ ویک کو اپنانا پسند کریں گے؟&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یورپی ملک آئس لینڈ میں اب حوالے سے کئی سال سے جاری 2 ٹرائلز کے &lt;a href="https://www.bloomberg.com/news/articles/2021-07-06/iceland-cuts-working-hours-with-no-productivity-loss-same-pay"&gt;نتائج&lt;/a&gt; سامنے آئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان ٹرائلز کے مطابق اسی تنخواہ میں کم گھنٹوں تک کام کرنا ورکرز کی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئس لینڈ میں برطانیہ سے تعلق رکھنے والے تھنک ٹینک آٹونوموی اور آئس لینڈ کی ایسوسی ایشن فار سسٹین ایبل ڈیموکریسی کی جانب سے ان ٹرائلز پر ایک رپورٹ جاری کی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان ٹرائلز میں لوگوں کے کام کے اوقات کو کم کیا گیا تھا جس دوران ان کی تعمیری صلاحیتوں یا سروس لیول میں کوئی نقصان نہیں ہوا جبکہ ملازمین کو کم تناؤ کا سامنا ہوا اور کام و زندگی کا توازن بہتر ہوگیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق کام کا دورانیہ کام کرکے لوگوں کی کام کی صلاحیت اور سروس لیول کو مستحکم رکھنے کے لیے کافی غور کیا گیا تھا کہ ٹاسکس کو کیسے مکمل کیا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس مقصد کے لیے میٹنگز کے وقت کو کم کیا گیا یا ان کو ای میلز سے بدل دیا گیا، غیرضروری کاموں کی کٹوتی اور شفٹوں کا انتظام بدلا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;2015 سے 2019 تک جاری رہنے والے ٹرائلز کے دوران آئس لینڈ کے کام کرنے قابل افراد کی ایک فیصد سے زیادہ تعداد (ڈھائی ہزار ورکرز) کو شامل کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان افراد کے ہفتہ وار کام کا دورانیہ 40 ہفتوں سے کم کرکے 35 کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نتائج سے ثابت ہوا کہ ان افراد کا ذہنی اطمینان ڈرامائی حد تک بڑھ گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس وقت سے آئس لینڈ کی کام کرنے کے قابل آبادی کے 86 فیصد حصے کے کام کا وقت کم کیا گیا ہے یا اس حوالے سے مذاکرات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئس لینڈ کے پاس واقع ملک فن لینڈ میں بھی وزیراعظم کی جانب سے 4 ڈے ورکنگ ویک کی تجویز پیش کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ملازمین کو اس سہولت سے اپنی صلاحٰتوں کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی، تاہم فی الحال وہاں اس قسم کی کسی پالیسی پر کام نہیں کیا جارہا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیوزی لینڈ سے جرمنی تک عالمی سطح پر 4 روزہ کاروباری ہفتے کے خیال کو کافی مقبولیت حاصل ہوئی ہے، کیونکہ اس کے حامی حلقوں کا ماننا ہے کہ اس سے لوگوں کی ذہنی صحت بہتر، پیداواری صلاحیتوں میں اضافہ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے لڑنے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس خیال کو کورونا وائرس کی وبا کے دوران بھی نمایاں اہمیت ملی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کیا ایک ہفتے میں 4 دن کام اور3 دن چھٹی پر مبنی ورکنگ ویک کو اپنانا پسند کریں گے؟</p>

<p>یورپی ملک آئس لینڈ میں اب حوالے سے کئی سال سے جاری 2 ٹرائلز کے <a href="https://www.bloomberg.com/news/articles/2021-07-06/iceland-cuts-working-hours-with-no-productivity-loss-same-pay">نتائج</a> سامنے آئے ہیں۔</p>

<p>ان ٹرائلز کے مطابق اسی تنخواہ میں کم گھنٹوں تک کام کرنا ورکرز کی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔</p>

<p>آئس لینڈ میں برطانیہ سے تعلق رکھنے والے تھنک ٹینک آٹونوموی اور آئس لینڈ کی ایسوسی ایشن فار سسٹین ایبل ڈیموکریسی کی جانب سے ان ٹرائلز پر ایک رپورٹ جاری کی گئی۔</p>

<p>ان ٹرائلز میں لوگوں کے کام کے اوقات کو کم کیا گیا تھا جس دوران ان کی تعمیری صلاحیتوں یا سروس لیول میں کوئی نقصان نہیں ہوا جبکہ ملازمین کو کم تناؤ کا سامنا ہوا اور کام و زندگی کا توازن بہتر ہوگیا۔</p>

<p>رپورٹ کے مطابق کام کا دورانیہ کام کرکے لوگوں کی کام کی صلاحیت اور سروس لیول کو مستحکم رکھنے کے لیے کافی غور کیا گیا تھا کہ ٹاسکس کو کیسے مکمل کیا جائے۔</p>

<p>اس مقصد کے لیے میٹنگز کے وقت کو کم کیا گیا یا ان کو ای میلز سے بدل دیا گیا، غیرضروری کاموں کی کٹوتی اور شفٹوں کا انتظام بدلا گیا۔</p>

<p>2015 سے 2019 تک جاری رہنے والے ٹرائلز کے دوران آئس لینڈ کے کام کرنے قابل افراد کی ایک فیصد سے زیادہ تعداد (ڈھائی ہزار ورکرز) کو شامل کیا گیا تھا۔</p>

<p>ان افراد کے ہفتہ وار کام کا دورانیہ 40 ہفتوں سے کم کرکے 35 کیا گیا۔</p>

<p>نتائج سے ثابت ہوا کہ ان افراد کا ذہنی اطمینان ڈرامائی حد تک بڑھ گیا۔</p>

<p>اس وقت سے آئس لینڈ کی کام کرنے کے قابل آبادی کے 86 فیصد حصے کے کام کا وقت کم کیا گیا ہے یا اس حوالے سے مذاکرات جاری ہیں۔</p>

<p>آئس لینڈ کے پاس واقع ملک فن لینڈ میں بھی وزیراعظم کی جانب سے 4 ڈے ورکنگ ویک کی تجویز پیش کی گئی ہے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ملازمین کو اس سہولت سے اپنی صلاحٰتوں کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی، تاہم فی الحال وہاں اس قسم کی کسی پالیسی پر کام نہیں کیا جارہا۔</p>

<p>نیوزی لینڈ سے جرمنی تک عالمی سطح پر 4 روزہ کاروباری ہفتے کے خیال کو کافی مقبولیت حاصل ہوئی ہے، کیونکہ اس کے حامی حلقوں کا ماننا ہے کہ اس سے لوگوں کی ذہنی صحت بہتر، پیداواری صلاحیتوں میں اضافہ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے لڑنے میں مدد ملے گی۔</p>

<p>اس خیال کو کورونا وائرس کی وبا کے دوران بھی نمایاں اہمیت ملی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Amazing</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1163547</guid>
      <pubDate>Tue, 06 Jul 2021 17:49:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/07/60e45011dce1e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/07/60e45011dce1e.jpg"/>
        <media:title>— شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
