<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 12:21:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 12:21:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈونلڈ ٹرمپ نے گوگل، فیس بک و ٹوئٹر کے خلاف مقدمہ دائر کردیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1163790/</link>
      <description>&lt;p&gt;سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انٹرنیٹ و سوشل میڈیا کمپنیوں گوگل، فیس بک اور ٹوئٹر اور ان کے سربراہان کے خلاف قانونی مقدمات دائر کردیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تینوں انٹرنیٹ و ٹیکنالوجی کمپنیوں نے سابق امریکی صدر کے اکاؤنٹس کو بند کر رکھا ہے، جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے اب ان کے خلاف عدالت میں درخواستیں دائر کردیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبر رساں ادارے &lt;a href="https://www.reuters.com/world/us/trump-says-he-is-suing-facebook-twitter-google-claiming-bias-2021-07-07/"&gt;&lt;strong&gt;’رائٹرز‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست فلوریڈا کے شہر میامی کی عدالت میں گوگل، ٹوئٹر اور فیس بک کے خلاف آزادیِ اظہار پر قدغن لگانے کے الزامات کے تحت کارروائی کی درخواستیں دیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ سابق امریکی صدر نے تینوں کمپنیوں سمیت ان کے سربراہان یا چیف ایگزیکٹو افسران کے خلاف بھی شخصی کارروائی کے لیے درخواستیں جمع کروائیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ہی عدالت میں تین مختلف درخواستیں دائر کیں اور ہر ایک درخواست میں انہوں نے کمپنی اور اس کے سربراہ کو فریق بنایا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی درخواست میں امریکی قانون کے حوالے دیتے ہوئے گوگل، ٹوئٹر اور فیس بک پر آزادی اظہار پر قدغن لگانے کے الزامات عائد کیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست میں امریکی آئین میں دی گئی ’فریڈم آف اسپیچ‘ کی آزادی کا ذکر کیا گیا ہے اور ساتھ ہی دعویٰ کیا گیا کہ تینوں کمپنیوں نے آزادیِ اظہار پر پابندی لگائی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/01/5ff978f314c48.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/01/5ff978f314c48.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/01/5ff978f314c48.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/01/5ff978f314c48.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="یوٹیوب، ٹوئٹر اور فیس بک نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اکاؤنٹ بند کردیے تھے&amp;mdash;فائل فوٹو: اے ایف پی" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;یوٹیوب، ٹوئٹر اور فیس بک نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اکاؤنٹ بند کردیے تھے—فائل فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپنی درخواست میں ڈونلڈ ٹرمپ نے تینوں کمپنیوں اور اس کے سربراہوں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، انہوں نے کسی ہرجانے کا دعویٰ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے درخواست میں گوگل، ٹوئٹر اور فیس بک کے خلاف قانونی کارروائی کے مطالبے کا مطلب ہے کہ وہ باقی صارفین کی بھی نمائندگی کریں گے اور عدالت کو بتائیں گے کہ کس طرح مذکورہ پلیٹ فارم صارفین کی آواز کو دباتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1151092"&gt;&lt;strong&gt;فیس بک نے عہدہ صدارت کے اختتام تک ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاؤنٹ بلاک کردیا&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے درخواست دائر کیے جانے فوری بعد ٹوئٹر کے ترجمان نے مذکورہ معاملے پر بات کرنے سے معذرت کی جب کہ فیس بک اور گوگل نے بھی رائٹرز کی درخواست پر فوری جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ابھی یہ واضح نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست پر عدالت میں کب تک سماعت ہوگی اور ان کی درخواست کے تناظر میں سوشل میڈیا سائٹس کے خلاف کس طرح کی کارروائی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ 2016 سے 2021 کے جنوری تک امریکا کے 45 ویں صدر رہے تھے اور انہوں نے اپنے دور میں سوشل میڈیا و ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف سخت ضوابط بھی بنائے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ ٹوئٹر، فیس بک اور یوٹیوب پر غلط معلومات پر مبنی مواد شیئر کرتے رہتے تھے، جس پر تینوں کمپنیاں انہیں انتباہ بھی جاری کرتی رہی تھیں مگر وہ ان کے نوٹسز کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تینوں کمپنیوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ صدارت مکمل ہونے کے بعد ان کے اکاؤنٹس ترتیب وار بند کرنا شروع کیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ابتدائی طور پر ٹوئٹر نے جنوری 2021 کے آغاز میں ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاؤنٹ ہمیشہ کے لیے بند کردیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے بعد فیس بک نے بھی جنوری میں عارضی طور پر ان کا اکاؤنٹ بند کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد گزشتہ ماہ جون میں ہی فیس بک نے اعلان کیا کہ سابق صدر کا اکاؤنٹ دو سال تک معطل رہے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح یوٹیوب نے بھی جنوری 2021 کے آخر میں ڈونلڈ ٹرمپ کا چینل غیر معینہ مدت تک بند کردیا تھا اور وہ 20 جنوری 2021 کو ان کی عہدہ صدارت کی مدت مکمل ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/06/60bb6e0f96029.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60bb6e0f96029.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60bb6e0f96029.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60bb6e0f96029.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="سابق امریکی صدر پر غلط معلومات پھیلانے کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں&amp;mdash;فائل فوٹو: اے ایف پی" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;سابق امریکی صدر پر غلط معلومات پھیلانے کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انٹرنیٹ و سوشل میڈیا کمپنیوں گوگل، فیس بک اور ٹوئٹر اور ان کے سربراہان کے خلاف قانونی مقدمات دائر کردیے۔</p>

<p>تینوں انٹرنیٹ و ٹیکنالوجی کمپنیوں نے سابق امریکی صدر کے اکاؤنٹس کو بند کر رکھا ہے، جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے اب ان کے خلاف عدالت میں درخواستیں دائر کردیں۔</p>

<p>خبر رساں ادارے <a href="https://www.reuters.com/world/us/trump-says-he-is-suing-facebook-twitter-google-claiming-bias-2021-07-07/"><strong>’رائٹرز‘</strong></a> کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست فلوریڈا کے شہر میامی کی عدالت میں گوگل، ٹوئٹر اور فیس بک کے خلاف آزادیِ اظہار پر قدغن لگانے کے الزامات کے تحت کارروائی کی درخواستیں دیں۔</p>

<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ سابق امریکی صدر نے تینوں کمپنیوں سمیت ان کے سربراہان یا چیف ایگزیکٹو افسران کے خلاف بھی شخصی کارروائی کے لیے درخواستیں جمع کروائیں۔</p>

<p>ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ہی عدالت میں تین مختلف درخواستیں دائر کیں اور ہر ایک درخواست میں انہوں نے کمپنی اور اس کے سربراہ کو فریق بنایا۔</p>

<p>ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی درخواست میں امریکی قانون کے حوالے دیتے ہوئے گوگل، ٹوئٹر اور فیس بک پر آزادی اظہار پر قدغن لگانے کے الزامات عائد کیے۔</p>

<p>درخواست میں امریکی آئین میں دی گئی ’فریڈم آف اسپیچ‘ کی آزادی کا ذکر کیا گیا ہے اور ساتھ ہی دعویٰ کیا گیا کہ تینوں کمپنیوں نے آزادیِ اظہار پر پابندی لگائی۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/01/5ff978f314c48.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/01/5ff978f314c48.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/01/5ff978f314c48.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/01/5ff978f314c48.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="یوٹیوب، ٹوئٹر اور فیس بک نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اکاؤنٹ بند کردیے تھے&mdash;فائل فوٹو: اے ایف پی" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">یوٹیوب، ٹوئٹر اور فیس بک نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اکاؤنٹ بند کردیے تھے—فائل فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اپنی درخواست میں ڈونلڈ ٹرمپ نے تینوں کمپنیوں اور اس کے سربراہوں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، انہوں نے کسی ہرجانے کا دعویٰ نہیں کیا۔</p>

<p>ماہرین کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے درخواست میں گوگل، ٹوئٹر اور فیس بک کے خلاف قانونی کارروائی کے مطالبے کا مطلب ہے کہ وہ باقی صارفین کی بھی نمائندگی کریں گے اور عدالت کو بتائیں گے کہ کس طرح مذکورہ پلیٹ فارم صارفین کی آواز کو دباتے ہیں۔</p>

<p>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1151092"><strong>فیس بک نے عہدہ صدارت کے اختتام تک ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاؤنٹ بلاک کردیا</strong></a></p>

<p>ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے درخواست دائر کیے جانے فوری بعد ٹوئٹر کے ترجمان نے مذکورہ معاملے پر بات کرنے سے معذرت کی جب کہ فیس بک اور گوگل نے بھی رائٹرز کی درخواست پر فوری جواب نہیں دیا۔</p>

<p>ابھی یہ واضح نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست پر عدالت میں کب تک سماعت ہوگی اور ان کی درخواست کے تناظر میں سوشل میڈیا سائٹس کے خلاف کس طرح کی کارروائی کی جائے گی۔</p>

<p>خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ 2016 سے 2021 کے جنوری تک امریکا کے 45 ویں صدر رہے تھے اور انہوں نے اپنے دور میں سوشل میڈیا و ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف سخت ضوابط بھی بنائے تھے۔</p>

<p>ڈونلڈ ٹرمپ ٹوئٹر، فیس بک اور یوٹیوب پر غلط معلومات پر مبنی مواد شیئر کرتے رہتے تھے، جس پر تینوں کمپنیاں انہیں انتباہ بھی جاری کرتی رہی تھیں مگر وہ ان کے نوٹسز کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔</p>

<p>تینوں کمپنیوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ صدارت مکمل ہونے کے بعد ان کے اکاؤنٹس ترتیب وار بند کرنا شروع کیے۔</p>

<p>ابتدائی طور پر ٹوئٹر نے جنوری 2021 کے آغاز میں ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاؤنٹ ہمیشہ کے لیے بند کردیا تھا۔</p>

<p>اس کے بعد فیس بک نے بھی جنوری میں عارضی طور پر ان کا اکاؤنٹ بند کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد گزشتہ ماہ جون میں ہی فیس بک نے اعلان کیا کہ سابق صدر کا اکاؤنٹ دو سال تک معطل رہے گا۔</p>

<p>اسی طرح یوٹیوب نے بھی جنوری 2021 کے آخر میں ڈونلڈ ٹرمپ کا چینل غیر معینہ مدت تک بند کردیا تھا اور وہ 20 جنوری 2021 کو ان کی عہدہ صدارت کی مدت مکمل ہوئی تھی۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/06/60bb6e0f96029.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60bb6e0f96029.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60bb6e0f96029.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60bb6e0f96029.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="سابق امریکی صدر پر غلط معلومات پھیلانے کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں&mdash;فائل فوٹو: اے ایف پی" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">سابق امریکی صدر پر غلط معلومات پھیلانے کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1163790</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Jul 2021 16:20:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/07/60e8282bcf4cb.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/07/60e8282bcf4cb.jpg"/>
        <media:title>ڈونلڈ ٹرمپ نے تینوں کمپنیوں کے خلاف الگ الگ درخواستیں دیں—فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
