<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 11:12:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 11:12:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انسانی جینز کووڈ کی شدت میں کردار ادا کرتے ہیں، تحقیق
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1163939/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایک فرد کووڈ 19 کا شکار ہوتا ہے اور حیران کن طور پر کسی قسم کی علامات کو محسوس نہیں کرتا، جبکہ دوسرے فرد کو اس بیماری کے باعث کئی دن تک ہسپتال میں گزارنے پڑتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لاکھوں افراد کے لیے یہ بیماری اب تک جان لیوا ثابت ہوچکی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1160985' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تو آخر یہ وائرس مختلف لوگوں پر مختلف اثرات کیوں مرتب کرتا ہے، یہ وہ سوال ہے جس کا جواب وبا کے آغاز سے تلاش کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بیماری کی شدت بڑھنے والے متعدد عناصر کی اب تک نشاندہی ہوچکی ہے، جیسے عمر، جنس، طرز زندگی وغیرہ۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر اب ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جینز بھی اس حوالے سے کردار کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر ہونے والی اس &lt;a href="https://www.nature.com/articles/s41586-021-03767-x"&gt;تحقیق&lt;/a&gt; کے نتائج طبی جریدے جرنل نیچر میں شائع ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں انسانی جینوم میں 13 ایسے مقامات کو دریافت کیا گیا جو ممکنہ طور پر کووڈ سے متاثر ہونے اورشدت بڑھانے سے منسلک ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ دریافت 19 ممالک میں کووڈ 19 کے لگ بھگ 50 ہزار مریضوں کے جینز پر ہونے و۳الی 46 تحقیقی رپورٹس کے تجزیے میں ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ انسانی جینوم پر ہونے والی اپنی طرز کے چند بڑے تحقیقی کاموں میں سے ایک ہے جس کا آغاز مارچ 2020 میں ہوا تھا اور اب اس کے نتائج سامنے آنا شروع ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ابھی کووڈ 19 اور انسانی جینیاتی ساخت کے حوالے سے بہت کچھ جاننا باقی ہے مگر تحقیق میں کچھ اہم نتائج سامنے آئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں مشرقی ایشیائی یا جنوبی ایشیائی افراد میں 2 لوکیشنز کو یورپی افراد کے مقابلے میں زیادہ عام دریافت کیا گیا، اس سے مستقبل قریب میں یہ وضاحت کرنے میں مدد مل سکے گی کہ کچھ گروپس کووڈ سے دیگر کے مقابلے میں زیادہ متاثر کیوں ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ جینز کا ایک دوسرے سے ملنا کووڈ کی سنگین شدت اور دیگر امراض کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مثال کے طور پر ایک جین ڈی پی پی 9 کووڈ 19 کی سنگین شدت سے منسلک کیا گیا ہے جس کو پہلے پھیپھڑوں کے کینسر اور پھیپھڑوں کے دیگر امراض کا حصہ بھی بتایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح ٹی وائے کے 2 نامی جین جو کچھ آٹو امیون امراض پر اثرانداز ہوتا ہے، کو بھی کووڈ 19 کی سنگین شدت کا باعث دریافت کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک اور جینیاتی مقام اے بی او تھا جو کسی فرد میں خون کے گروپ کا تعین کرتا ہے اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ وہ بیماری سے متاثر ہونے کا خطرہ 9 سے 12 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے ان تحقیقی رپورٹس کو تقویت ملتی ہے جن میں خون کے مخصوص گروپس اور کووڈ 19 سے متاثر ہونے کے خطرے کے درمیان تعلق کا ذکر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کا کہنا تھا کہ صرف وائرل جینوم نہیں بلکہ انسانی جینوم بھی اہمیت رکھتا ہے، یہ واضح ہے کہ جینز کووڈ کی شدت میں ایک کردار ادا کرتے ہیں اور یہ خطرہ بڑھانے والے متعدد عناصر میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1149579' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق پر ابھی بھی کام جاری ہے اور بہت کچھ دریافت کیا جانا باقی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اب محققین یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ آخر کووڈ کو شکست دینے والے کچھ افراد مہینوں تک طویل المعیاد علامات کا سامنا کیوں کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیقی ٹیم کو یہ بھی توقع ہے کہ ان کے کام سے بیماری کے علاج کے لیے ادویات کے اہداف کی نشاندہی میں مدد مل سکے گی اور کووڈ کے خلاف مزید طریقہ علاج کے لیے راستہ کھل سکے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایک فرد کووڈ 19 کا شکار ہوتا ہے اور حیران کن طور پر کسی قسم کی علامات کو محسوس نہیں کرتا، جبکہ دوسرے فرد کو اس بیماری کے باعث کئی دن تک ہسپتال میں گزارنے پڑتے ہیں۔</p>

<p>لاکھوں افراد کے لیے یہ بیماری اب تک جان لیوا ثابت ہوچکی ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1160985' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>تو آخر یہ وائرس مختلف لوگوں پر مختلف اثرات کیوں مرتب کرتا ہے، یہ وہ سوال ہے جس کا جواب وبا کے آغاز سے تلاش کیا جارہا ہے۔</p>

<p>بیماری کی شدت بڑھنے والے متعدد عناصر کی اب تک نشاندہی ہوچکی ہے، جیسے عمر، جنس، طرز زندگی وغیرہ۔</p>

<p>مگر اب ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جینز بھی اس حوالے سے کردار کرتے ہیں۔</p>

<p>بین الاقوامی سطح پر ہونے والی اس <a href="https://www.nature.com/articles/s41586-021-03767-x">تحقیق</a> کے نتائج طبی جریدے جرنل نیچر میں شائع ہوئے۔</p>

<p>تحقیق میں انسانی جینوم میں 13 ایسے مقامات کو دریافت کیا گیا جو ممکنہ طور پر کووڈ سے متاثر ہونے اورشدت بڑھانے سے منسلک ہیں۔</p>

<p>یہ دریافت 19 ممالک میں کووڈ 19 کے لگ بھگ 50 ہزار مریضوں کے جینز پر ہونے و۳الی 46 تحقیقی رپورٹس کے تجزیے میں ہوا۔</p>

<p>یہ انسانی جینوم پر ہونے والی اپنی طرز کے چند بڑے تحقیقی کاموں میں سے ایک ہے جس کا آغاز مارچ 2020 میں ہوا تھا اور اب اس کے نتائج سامنے آنا شروع ہوئے ہیں۔</p>

<p>ابھی کووڈ 19 اور انسانی جینیاتی ساخت کے حوالے سے بہت کچھ جاننا باقی ہے مگر تحقیق میں کچھ اہم نتائج سامنے آئے ہیں۔</p>

<p>تحقیق میں مشرقی ایشیائی یا جنوبی ایشیائی افراد میں 2 لوکیشنز کو یورپی افراد کے مقابلے میں زیادہ عام دریافت کیا گیا، اس سے مستقبل قریب میں یہ وضاحت کرنے میں مدد مل سکے گی کہ کچھ گروپس کووڈ سے دیگر کے مقابلے میں زیادہ متاثر کیوں ہوتے ہیں۔</p>

<p>تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ جینز کا ایک دوسرے سے ملنا کووڈ کی سنگین شدت اور دیگر امراض کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔</p>

<p>مثال کے طور پر ایک جین ڈی پی پی 9 کووڈ 19 کی سنگین شدت سے منسلک کیا گیا ہے جس کو پہلے پھیپھڑوں کے کینسر اور پھیپھڑوں کے دیگر امراض کا حصہ بھی بتایا گیا تھا۔</p>

<p>اسی طرح ٹی وائے کے 2 نامی جین جو کچھ آٹو امیون امراض پر اثرانداز ہوتا ہے، کو بھی کووڈ 19 کی سنگین شدت کا باعث دریافت کیا گیا۔</p>

<p>ایک اور جینیاتی مقام اے بی او تھا جو کسی فرد میں خون کے گروپ کا تعین کرتا ہے اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ وہ بیماری سے متاثر ہونے کا خطرہ 9 سے 12 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔</p>

<p>اس سے ان تحقیقی رپورٹس کو تقویت ملتی ہے جن میں خون کے مخصوص گروپس اور کووڈ 19 سے متاثر ہونے کے خطرے کے درمیان تعلق کا ذکر کیا گیا ہے۔</p>

<p>محققین کا کہنا تھا کہ صرف وائرل جینوم نہیں بلکہ انسانی جینوم بھی اہمیت رکھتا ہے، یہ واضح ہے کہ جینز کووڈ کی شدت میں ایک کردار ادا کرتے ہیں اور یہ خطرہ بڑھانے والے متعدد عناصر میں سے ایک ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1149579' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس تحقیق پر ابھی بھی کام جاری ہے اور بہت کچھ دریافت کیا جانا باقی ہے۔</p>

<p>اب محققین یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ آخر کووڈ کو شکست دینے والے کچھ افراد مہینوں تک طویل المعیاد علامات کا سامنا کیوں کرتے ہیں۔</p>

<p>تحقیقی ٹیم کو یہ بھی توقع ہے کہ ان کے کام سے بیماری کے علاج کے لیے ادویات کے اہداف کی نشاندہی میں مدد مل سکے گی اور کووڈ کے خلاف مزید طریقہ علاج کے لیے راستہ کھل سکے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1163939</guid>
      <pubDate>Sun, 11 Jul 2021 22:56:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/07/60eb2fd6d5ddc.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/07/60eb2fd6d5ddc.jpg"/>
        <media:title>یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
