<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 04:04:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 04:04:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کورونا کی قسم ڈیلٹا بہت تیزی سے کیوں پھیلتی ہے؟ جواب سامنے آگیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1164784/</link>
      <description>&lt;p&gt;کورونا وائرس کی نئی قسم ڈیلٹا سے متاثر افراد ممکنہ طور پر ہزاروں گنا زیادہ وائرل ذرات ہوتے ہیں اور بیماری کی تشخیص سارس کوو 2 کی اصل قسم کے مقابلے میں 2 دن پہلے ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ دعویٰ چین میں ہونے والی ایک ابتدائی &lt;a href="https://virological.org/t/viral-infection-and-transmission-in-a-large-well-traced-outbreak-caused-by-the-delta-sars-cov-2-variant/724"&gt;تحقیق&lt;/a&gt; میں سامنے آیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1149579' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے اور اس میں چین کے چند کیسز کا تجزیہ کیا گیا تھا، تاہم اگر ان کی تصدیق ہوتی ہے تو اس سے وضاحت ہوسکے گی کہ آخر ڈیلٹا قسم اتنی زیادہ متعدی کیوں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سو سے زیادہ ممالک تک پھیل جانے والی کورونا کی یہ قسم وائرس کی اوریجنل قسم سے دگنا زیادہ جبکہ ایلفا قسم سے 60 فیصد زیادہ متعدی تصور کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ تو واضح تھا کہ ڈیلٹا بہت تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھنے والی قسم ہے مگر محققین کو یہ علم نہیں تھا کہ ایسا کیوں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس بارے میں جاننے کے لیے چین کے ماہرین نے تحقیق شروع کی جس میں 21 مئی کو چین میں ڈیلٹا کے پہلے مقامی کیس کا جائزہ لیا گیا کہ ڈیلٹا قسم کیسے اس سے پھیلی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گوانگ ڈونگ اور دیگر مقامی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کی جانب سے ڈیلٹا سے متاثر افراد اور ان کے قریب رہنے والوں کی نگرانی اور اسکریننگ کی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مریضوں کے قریبی افراد کو آئسولیٹ کرکے ان کے روزانہ پی سی آر ٹیسٹ کیے گئے اور اس طرح پہلے مقامی کیس کے بعد مزید 167 مقامی کیسز کو شناخت کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ڈیٹا کا موازنہ چین میں وبا کے آغاز کے ڈیٹا سے کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے دریافت کیا کہ کسی مریض میں پی سی آر ٹیسٹ سے بیماری کی تشخیص کا اوسط وقت (یعنی وائرس کی اتنی مقدار کی موجودگی جو ٹیسٹ کو مثبت بنانے کے لیے کافی ہوتی ہے) وبا کے آغاز 5.61 دن تھا جبکہ ڈیلٹا قسم کے مریضوں میں 3.71 دن۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق کا سب سے چونکا دینے والا پہلو یہ تھا کہ ڈیلٹا قسم کو جسم میں وائرل لوڈ کی تعداد کو بڑھانے کے لیے کتنا وقت درکار ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کا کہنا تھا کہ کہ ہم جانتے ہیں کہ لوگوں کا بیماری کا شکار ہونے کے بعد ایک ایسے وقت سے گزرتے ہیں جب علامات ظاہر نہیں ہوتیں اور وائرس کی قمدار اتنی کم ہوتی ہے کہ اسے پکڑا نہیں جاسکتا، یہ وائرل لوڈ بتدریج پکڑے جانے کی سطح پر پہنچتا ہے اور متعدی بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ یہ جاننا کہ ایک فرد کب وائرسز کو آگے پھیلا سکتا ہے، بیماری کی روک تھام کی حکمت عملیوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے، مگر ڈیلٹا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے بہت برق رفتاری سے کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ وقت بہت کم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ پی سی آر ٹیسٹوں میں ڈیلٹا کے مریضوں میں وائرل لوڈ وائرس کی اصل قسم کے مریضوں کے مقابلے میں 1260 گنا زیادہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ نئی قسم بہت تیزی سے جسم کے اندر اپنی نقول بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1149579' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیلٹا کے مریض بیماری کے ابتدائی مرحلے میں بہت زیادہ متعدی ہوتے ہیں، یعنی وہ وائرل ذرات کا زیادہ اخراج کرتے ہیں اور لوگوں میں ان کی منتقلی کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم نقول بنانے کی تیز ترین شرح سے بھی مکمل وضاحت نہیں ہوتی کہ ڈیلٹا تیزی سے پھیلنے میں اتنا کامیاب کیوں ہے اور اب بھی متعدد سوالات کے جواب جاننا باقی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق کے نتائج پری پرنٹ سرور وائرلوجیکل میں شائع ہوئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کورونا وائرس کی نئی قسم ڈیلٹا سے متاثر افراد ممکنہ طور پر ہزاروں گنا زیادہ وائرل ذرات ہوتے ہیں اور بیماری کی تشخیص سارس کوو 2 کی اصل قسم کے مقابلے میں 2 دن پہلے ہوسکتی ہے۔</p>

<p>یہ دعویٰ چین میں ہونے والی ایک ابتدائی <a href="https://virological.org/t/viral-infection-and-transmission-in-a-large-well-traced-outbreak-caused-by-the-delta-sars-cov-2-variant/724">تحقیق</a> میں سامنے آیا۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1149579' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے اور اس میں چین کے چند کیسز کا تجزیہ کیا گیا تھا، تاہم اگر ان کی تصدیق ہوتی ہے تو اس سے وضاحت ہوسکے گی کہ آخر ڈیلٹا قسم اتنی زیادہ متعدی کیوں ہے۔</p>

<p>سو سے زیادہ ممالک تک پھیل جانے والی کورونا کی یہ قسم وائرس کی اوریجنل قسم سے دگنا زیادہ جبکہ ایلفا قسم سے 60 فیصد زیادہ متعدی تصور کی جاتی ہے۔</p>

<p>یہ تو واضح تھا کہ ڈیلٹا بہت تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھنے والی قسم ہے مگر محققین کو یہ علم نہیں تھا کہ ایسا کیوں ہے۔</p>

<p>اس بارے میں جاننے کے لیے چین کے ماہرین نے تحقیق شروع کی جس میں 21 مئی کو چین میں ڈیلٹا کے پہلے مقامی کیس کا جائزہ لیا گیا کہ ڈیلٹا قسم کیسے اس سے پھیلی۔</p>

<p>گوانگ ڈونگ اور دیگر مقامی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کی جانب سے ڈیلٹا سے متاثر افراد اور ان کے قریب رہنے والوں کی نگرانی اور اسکریننگ کی گئی۔</p>

<p>مریضوں کے قریبی افراد کو آئسولیٹ کرکے ان کے روزانہ پی سی آر ٹیسٹ کیے گئے اور اس طرح پہلے مقامی کیس کے بعد مزید 167 مقامی کیسز کو شناخت کیا گیا۔</p>

<p>اس ڈیٹا کا موازنہ چین میں وبا کے آغاز کے ڈیٹا سے کیا گیا۔</p>

<p>محققین نے دریافت کیا کہ کسی مریض میں پی سی آر ٹیسٹ سے بیماری کی تشخیص کا اوسط وقت (یعنی وائرس کی اتنی مقدار کی موجودگی جو ٹیسٹ کو مثبت بنانے کے لیے کافی ہوتی ہے) وبا کے آغاز 5.61 دن تھا جبکہ ڈیلٹا قسم کے مریضوں میں 3.71 دن۔</p>

<p>تحقیق کا سب سے چونکا دینے والا پہلو یہ تھا کہ ڈیلٹا قسم کو جسم میں وائرل لوڈ کی تعداد کو بڑھانے کے لیے کتنا وقت درکار ہوتا ہے۔</p>

<p>محققین کا کہنا تھا کہ کہ ہم جانتے ہیں کہ لوگوں کا بیماری کا شکار ہونے کے بعد ایک ایسے وقت سے گزرتے ہیں جب علامات ظاہر نہیں ہوتیں اور وائرس کی قمدار اتنی کم ہوتی ہے کہ اسے پکڑا نہیں جاسکتا، یہ وائرل لوڈ بتدریج پکڑے جانے کی سطح پر پہنچتا ہے اور متعدی بن جاتا ہے۔</p>

<p>انہوں نے بتایا کہ یہ جاننا کہ ایک فرد کب وائرسز کو آگے پھیلا سکتا ہے، بیماری کی روک تھام کی حکمت عملیوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے، مگر ڈیلٹا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے بہت برق رفتاری سے کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ وقت بہت کم ہوتا ہے۔</p>

<p>محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ پی سی آر ٹیسٹوں میں ڈیلٹا کے مریضوں میں وائرل لوڈ وائرس کی اصل قسم کے مریضوں کے مقابلے میں 1260 گنا زیادہ ہوتا ہے۔</p>

<p>اس سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ نئی قسم بہت تیزی سے جسم کے اندر اپنی نقول بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1149579' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>انہوں نے بتایا کہ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیلٹا کے مریض بیماری کے ابتدائی مرحلے میں بہت زیادہ متعدی ہوتے ہیں، یعنی وہ وائرل ذرات کا زیادہ اخراج کرتے ہیں اور لوگوں میں ان کی منتقلی کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔</p>

<p>تاہم نقول بنانے کی تیز ترین شرح سے بھی مکمل وضاحت نہیں ہوتی کہ ڈیلٹا تیزی سے پھیلنے میں اتنا کامیاب کیوں ہے اور اب بھی متعدد سوالات کے جواب جاننا باقی ہے۔</p>

<p>اس تحقیق کے نتائج پری پرنٹ سرور وائرلوجیکل میں شائع ہوئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1164784</guid>
      <pubDate>Sat, 24 Jul 2021 23:47:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/07/60fc5f815adac.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/07/60fc5f815adac.jpg"/>
        <media:title>یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
