<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 11:16:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 11:16:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کووڈ کو شکست دینے والے افراد میں ایک اور طویل المعیاد مسئلے کا انکشاف
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1165428/</link>
      <description>&lt;p&gt;کووڈ کو شکست دینے والے افراد میں یادداشت کے مسائل عام ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بات ناروے میں ہونے والی ایک طبی &lt;a href="https://medicalxpress.com/news/2021-08-patients-memory-problems-mild-covid-.html"&gt;تحقیق&lt;/a&gt; میں سامنے آئی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1149579' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اوسلو یونیورسٹی ہاسپٹل کی اس تحقیق میں 13 ہزار سے زیادہ افراد کو شامل کیا گیا تھا جن میں کووڈ کے شک پر یکم فروری سے 15 اپریل سے 2020 کے دوران ٹیسٹ ہوئے تھے، جبکہ عام آبادی سے بغیر ایسے افراد کو منتخب کیا گیا جن کے ٹیسٹ نہیں ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جن افراد کے کووڈ مثبت آئے تھے ان میں بیماری کی شدت معمولی تھی اور ہسپتال بھی داخل نہیں ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان افراد سے بیماری کو شکست دینے کے 8 ماہ بعد آن لائن سوالنامے بھروائے گئے جن میں ان سے یادداشت کے مسائل اور صحت سے متعلق معیار زندگی کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کووڈ گروپ میں شامل 11 فیصد افراد نے بیماری کے 8 ماہ بعد یادداشت کے مسائل کو رپورٹ کیا، کووڈ سے محفوظ گروپ میں یہ شرح 4 فیصد اور بغیر ٹیسٹ والے افراد میں یہ شرح 2 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں دوسرے گروپ کے مقابلے میں کووڈ سے متاثر افراد میں کووڈ کے مرض اور 8 ماہ بعد یادداشت کے مسائل کے تعلق کا مشاہدہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کووڈ سے متاثر افراد میں سے 41 فیصد نے ایک سال پہلے کے مقابلے میں صحت میں خرابی کو رپورٹ کیا جبکہ 12 فیصد نے توجہ مرکوز کرنے کے مسائل کے بارے میں بتایا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کووڈ کو شکست دینے کے بعد یادداشت کے مسائل کا سامنا کرنے والے 82 فیصد افراد نے صحت کی خرابی کو بھی رپورٹ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے بتایا کہ نتائج اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ ہمیں اس خیال پر نظرثانی کی جانی چاہیے کہ کووڈ 19 ایک ممولی مرض ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایسے بھی سوالات ابھرتے ہیں کہ کیا گھر میں علاج کی حکمت عملیاں طویل المعیاد نتائج کے لیے کس حد تک مثالی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جاما نیٹ ورک اوپن میں شائع ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ نتائج اس وقت سامنے آئے ہیں جب &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1165170"&gt;&lt;strong&gt;جولائی 2021 میں مختلف تحقیقی رپورٹس&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں بتایا گیا تھا کہ کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 یادداشت کی کمزوری اور دماغی تنزلی کا باعث بن سکتی ہے اور ممکنہ طور پر الزائمر امراض کی جانب سفر تیز ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ تحقیقی رپورٹس الزائمر ایسوسی ایشن کی بین الاقوامی کانفرنس میں پیش کی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1149579' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ کورونا وائرس سے دماغی افعال پر دیرپا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں بالخصوص بزرگ افراد میں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم الزائمر ایسوسی ایشن کی نائب صدر ہیتھر ایم سنائیڈر کا کہنا تھا کہ اگرچہ تحقیقی نتائج دماغ پر کووڈ کے اثرات کو سمجھنے کی جانب پیشرفت ہے، مگر اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر آپ کووڈ سے متاثر ہوتے ہیں تو ضروری نہیں کہ ڈیمینشیا یا الزائمر کا خطرہ بڑھ جائے، ہم ابھی بھی کووڈ اور دماغی امراض کے درمیان تعلق کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کووڈ کو شکست دینے والے افراد میں یادداشت کے مسائل عام ہوتے ہیں۔</p>

<p>یہ بات ناروے میں ہونے والی ایک طبی <a href="https://medicalxpress.com/news/2021-08-patients-memory-problems-mild-covid-.html">تحقیق</a> میں سامنے آئی۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1149579' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اوسلو یونیورسٹی ہاسپٹل کی اس تحقیق میں 13 ہزار سے زیادہ افراد کو شامل کیا گیا تھا جن میں کووڈ کے شک پر یکم فروری سے 15 اپریل سے 2020 کے دوران ٹیسٹ ہوئے تھے، جبکہ عام آبادی سے بغیر ایسے افراد کو منتخب کیا گیا جن کے ٹیسٹ نہیں ہوئے تھے۔</p>

<p>جن افراد کے کووڈ مثبت آئے تھے ان میں بیماری کی شدت معمولی تھی اور ہسپتال بھی داخل نہیں ہوئے۔</p>

<p>ان افراد سے بیماری کو شکست دینے کے 8 ماہ بعد آن لائن سوالنامے بھروائے گئے جن میں ان سے یادداشت کے مسائل اور صحت سے متعلق معیار زندگی کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔</p>

<p>تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کووڈ گروپ میں شامل 11 فیصد افراد نے بیماری کے 8 ماہ بعد یادداشت کے مسائل کو رپورٹ کیا، کووڈ سے محفوظ گروپ میں یہ شرح 4 فیصد اور بغیر ٹیسٹ والے افراد میں یہ شرح 2 فیصد تھی۔</p>

<p>تحقیق میں دوسرے گروپ کے مقابلے میں کووڈ سے متاثر افراد میں کووڈ کے مرض اور 8 ماہ بعد یادداشت کے مسائل کے تعلق کا مشاہدہ کیا گیا۔</p>

<p>کووڈ سے متاثر افراد میں سے 41 فیصد نے ایک سال پہلے کے مقابلے میں صحت میں خرابی کو رپورٹ کیا جبکہ 12 فیصد نے توجہ مرکوز کرنے کے مسائل کے بارے میں بتایا۔</p>

<p>کووڈ کو شکست دینے کے بعد یادداشت کے مسائل کا سامنا کرنے والے 82 فیصد افراد نے صحت کی خرابی کو بھی رپورٹ کیا۔</p>

<p>محققین نے بتایا کہ نتائج اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ ہمیں اس خیال پر نظرثانی کی جانی چاہیے کہ کووڈ 19 ایک ممولی مرض ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ایسے بھی سوالات ابھرتے ہیں کہ کیا گھر میں علاج کی حکمت عملیاں طویل المعیاد نتائج کے لیے کس حد تک مثالی ہیں۔</p>

<p>اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جاما نیٹ ورک اوپن میں شائع ہوئے۔</p>

<p>یہ نتائج اس وقت سامنے آئے ہیں جب <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1165170"><strong>جولائی 2021 میں مختلف تحقیقی رپورٹس</strong></a> میں بتایا گیا تھا کہ کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 یادداشت کی کمزوری اور دماغی تنزلی کا باعث بن سکتی ہے اور ممکنہ طور پر الزائمر امراض کی جانب سفر تیز ہوسکتا ہے۔</p>

<p>یہ تحقیقی رپورٹس الزائمر ایسوسی ایشن کی بین الاقوامی کانفرنس میں پیش کی گئی تھیں۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1149579' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ان نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ کورونا وائرس سے دماغی افعال پر دیرپا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں بالخصوص بزرگ افراد میں۔</p>

<p>تاہم الزائمر ایسوسی ایشن کی نائب صدر ہیتھر ایم سنائیڈر کا کہنا تھا کہ اگرچہ تحقیقی نتائج دماغ پر کووڈ کے اثرات کو سمجھنے کی جانب پیشرفت ہے، مگر اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ اگر آپ کووڈ سے متاثر ہوتے ہیں تو ضروری نہیں کہ ڈیمینشیا یا الزائمر کا خطرہ بڑھ جائے، ہم ابھی بھی کووڈ اور دماغی امراض کے درمیان تعلق کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1165428</guid>
      <pubDate>Mon, 02 Aug 2021 23:19:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/08/610836c79507f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/08/610836c79507f.jpg"/>
        <media:title>یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
